TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4567 - باب: جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔ - The book of financial transactions - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 6 in this chapter
باب: جَو کے بدلے جَو بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدَةَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ وَكَانَ بَدْرِيًّا وَكَانَ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ أَنْ لَا يَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ،‏‏‏‏ أَنَّ عُبَادَةَ قَامَ خَطِيبًا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّهَا النَّاسُ،‏‏‏‏ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ بُيُوعًا لَا أَدْرِي مَا هِيَ أَلَا إِنَّ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا،‏‏‏‏ وَإِنَّ الْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا،‏‏‏‏ وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْفِضَّةِ بِالذَّهَبِ يَدًا بِيَدٍ،‏‏‏‏ وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا،‏‏‏‏ وَلَا تَصْلُحُ النَّسِيئَةُ أَلَا إِنَّ الْبُرَّ بِالْبُرِّ،‏‏‏‏ وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ مُدْيًا بِمُدْيٍ،‏‏‏‏ وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْحِنْطَةِ يَدًا بِيَدٍ،‏‏‏‏ وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا،‏‏‏‏ وَلَا يَصْلُحُ نَسِيئَةً أَلَا وَإِنَّ التَّمْرَ بِالتَّمْرِ مُدْيًا بِمُدْيٍ،‏‏‏‏ حَتَّى ذَكَرَ الْمِلْحَ مُدًّا بِمُدٍّ،‏‏‏‏ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى .
It was narrated from 'Ubdah bin As-Samit-who had been present at Badar and had given his pledge to the Prophet swearing not to fear the blame of any blamer for the sake of Allah that 'Ubadah stood up to deliver a speech and said: O people, you have invented kinds of transactions, I do not know what they are, but make sure it is gold for gold, of the same weight, or silver for silver, of the same weight. There is nothing wrong with selling silver for gold, hand to hand, giving more silver than gold, but no credit is allowed. When you sell wheat for wheat and barley for barley, it should be measure for measure, but there is nothing wrong with selling barley for wheat, hand to hand, giving more barley than wheat, but no credit is allowed. And when you sell dates for dates, it should be measure for measure And he mentioned salt, measure for measure, and whoever gives more or asks for more has engaged in Riba.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (وہ بدری صحابی ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے) کہ وہ خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! تم نے خرید و فروخت سے متعلق بعض ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں؟ سنو! سونا سونے کے بدلے، برابر برابر وزن کا ہو، ڈلا ہو یا سکہ، چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر وزن ڈالا ہو یا سکہ، اور کوئی حرج نہیں ( یعنی ) چاندی کو سونے سے نقدا نقد بیچنے میں جب کہ چاندی زیادہ ہو، البتہ اس میں «نسیئہ» ( ادھار ) درست نہیں، سنو! گیہوں گیہوں کے بدلے، اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر ہو، البتہ جَو گیہوں کے بدلے نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں جب جَو زیادہ ہو لیکن «نسیئہ» ( ادھار ) درست نہیں، سنو! کھجور کھجور کے بدلے برابر برابر ہو یہاں تک کہ انہوں نے ذکر کیا کہ نمک ( نمک کے بدلے ) برابر برابر ہو، جس نے زیادہ دیا، یا زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سود لیا۔
4567
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4563 In-book reference : Book 44, Hadith 115 English translation : Vol. 5, Book 44, Hadith 4567
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4563
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة ۱۵ (البیوع ۳۶) (۱۵۸۷)، سنن ابی داود/البیوع ۱۲ (۳۳۴۹)، سنن الترمذی/البیوع ۲۳ (۱۲۴۰)، (تحفة الأشراف: ۵۰۸۹)، مسند احمد (۵/۳۱۴، ۳۲۰)

Related Chapters

142
1
CHAPTER: Concession Allowing That.
باب: جانور کے بدلے جانور کو ادھار بیچنے کے جواز کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
2
CHAPTER: Regarding Fresh Dates For Dried Dates.
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
3
بیع صرف (سونے چاندی کو سونے چاندی کے بدلے نقد بیچنے) کا بیان اور نقداً کمی و بیشی کر کے نہ بیچی جانے والی چیزوں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
سونے کو چاندی کے بدلے بیچنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
5
«رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
6
بیع مزابنہ (یعنی درخت کے اوپر کچے پھل کو سوکھے پھل کے بدلے بیچنے) اور بیع محاقلہ (یعنی غلہ کے بدلے زمین دینے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
7
حیوان کو حیوان کے بدلے ادھار بیچنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
8
باب: اناج کے ڈھیر کو اناج کے ڈھیر کے بدلے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
9
باب: اناج کے بدلے کھڑی کھیتی (فصل) بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
10
باب: کھجور کے بدلے کھجور کمی زیادتی کے ساتھ بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
11
باب: کھجور کے بدلے کھجور بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
12
باب: گیہوں کے بدلے گیہوں بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
باب: سونا کے بدلے سونا بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
باب: سونا اور نگینے جڑے ہار کو سونے کے بدلے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
باب: سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
باب: ایک شخص ایک مدت تک کے لیے ادھار اناج (غلہ) خرید لے اور بیچنے والا قیمت کے بدلے کوئی چیز گروی رکھ لے۔
Sunnan Nisai
17
باب: ذی روح کو ذی روح کے بدلے ادھار بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
باب: ذی روح کو ذی روح کے بدلے کمی زیادتی کے ساتھ نقد بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
Chapter: What Has Been related About The Sale Of A Mudabbar
باب: مدبر غلام کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Fruits Until They Began To Blossom
باب: پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھل کو بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Habalil-Habalah
باب: حمل کے حمل کو بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Wala' And To Confer It
باب: میراث ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Barter Animals For Animals On Credit
باب: جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About That Wheat Is To Be Exchanged For Wheat, Kind For Kind, And That An Increase In It Is Disliked
باب: گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچنے اور اس کے اندر کمی و بیشی کے درست نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About Purchasing Date-Palms After Pollination And A Slave That Has Property
باب: پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت کو بیچنے کا اور ایسے غلام کو بیچنے کا بیان جس کے پاس مال ہو
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition For The Muslim To Give Wine To The Dhimmi When Bartering With Him
باب: مسلمان ذمی کو شراب بیچنے کے لیے دے یہ منع ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About When The Buyer And Seller Disagree
باب: بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدنے والے) کے اختلاف کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Selling Surplus Water
باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Selling Skins Of Dead Animals And Idols
باب: مردار کی کھالوں اور بتوں کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About: The Muslim Is Not Killed For The Disbeliever
باب: مسلمان کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Praising For Good
باب: احسان کے بدلے تعریف کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What has been Related About The Prohibition From Selling The Wala' And From Conferring it
باب: ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
باب: قیامت کے دن حساب اور بدلے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
تدبیر اور کسی ضرورت کے پیش نظر مُدَبّر غلام کو بیچنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
37
ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
Musnad Ahmad
38
سونے کے عوض ایسی چیز بیچنے کابیان کہ جس میں سونا بھی ہو اور اس کے علاوہ کوئی چیز بھی ہو
Musnad Ahmad
39
اس چیز کا بیان کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیے جانے کا مسئلہ
Musnad Ahmad
40
مرد کو عورت کے بدلے اور عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے اور بھاری آلے سے قتل کرنے اور قاتل کو اسی انداز میں قتل کرنے کا بیان، جس میں اس نے کیا ہو
Musnad Ahmad
41
والدین کو اولاد کے بدلے میں قتل نہ کرنے اور ایک مقتول کے قصاص میں دو افراد کو قتل کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
42
مومنوں کی آزمائش اور ان کو جہنم سے بچانے کے لیے ان کے بدلے کافروں کو جہنم میں ڈالنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
(19) CHAPTER. If both the seller and buyer explain the good and bad points of the transaction and hide nothing and give sincere advice (then they are blessed in their bargain).
جب خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں صاف صاف بیان کر دیں اور ایک دوسرے کی بہتری چاہیں
Sahih Bukhari
44
(21) CHAPTER. What is said about the meat seller and the butcher.
گوشت بیچنے والے اور قصاب کا بیان
Sahih Bukhari
45
(22) CHAPTER. What is said regarding the loss (of blessing) if one tells lies or hides the facts in a deal.
بیچنے میں جھوٹ بولنے اور عیب کو چھپانے سے برکت ختم ہو جاتی ہے ۔
Sahih Bukhari
46
(38) CHAPTER. (What is said) about the perfume seller and the selling of musk.
عطر بیچنے والے اور مشک بیچنے کا بیان
Sahih Bukhari
47
(44) CHAPTER. Both the buyer and the seller have the option to cancel or confirm the bargain, unless they separate.
جب تک خریدنے اور بیچنے والے جدا نہ ہوں انہیں اختیار باقی رہتا ہے
Sahih Bukhari
48
(51) CHAPTER. Weighing or measuring goods is to be done by the seller or the giver.
ناپ تول کرنے والے کی مزدوری بیچنے والے پر اور دینے والے پر ہے ( خریدار پر نہیں )
Sahih Bukhari
49
(76) CHAPTER. Selling of barley for barley.
جوکے بدلے جو کی بیع کرنا
Sahih Bukhari
50
(78) CHAPTER. Selling of silver for silver.
چاندی کو چاندی کے بدلے میں بیچنا
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

27
Sahih Muslim
4463
وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ: أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ، وَلَا نَزْنِيَ، وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا، وَلَا يَعْضَهَ بَعْضُنَا بَعْضًا، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ، وَمَنْ أَتَى مِنْكُمْ حَدًّا، فَأُقِيمَ عَلَيْهِ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللهُ عَلَيْهِ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ
Ubida b. as-Samit reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) took (a pledge) from us as he took from the women that we will not associate anything with Allah and we will not steal, and we will not commit adultery, and we will not kill our children, and we will not bring calumny upon one another. And he who amongst you fulfils (this pledge), his reward rests with Allah, and he upon whom amongst you is imposed the prescribed punishment and that is carried out, that is his expiation (for that sin), and he whose (sins) were covered by Allah, his matter rests with Allah. He may punish him if He likes or may forgive him if He so likes.
ابو اشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ( اسی طرح ) عہد لیا جس طرح آپ نے عورتوں سے عہد لیا تھا : ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ، چوری نہ کریں گے ، زنا نہ کریں گے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے اور ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے : " تم میں سے جس نے ایفا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ایسا کام کیا جس پر حد ہے اور اس کو حد لگا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہو گی ، اور جس کا اللہ نے پردہ رکھا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے
Sunnan Abu Dawood
3349
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ،‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ:‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهَا وَعَيْنُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مُدْيٌ بِمُدْيٍ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ أَرْبَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا نَسِيئَةً فَلَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏بِإِسْنَادِهِ.
Narrated Ubadah ibn as-Samit: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: Gold is to be paid for with gold, raw and coined, silver with silver, raw and coined (in equal weight), wheat with wheat in equal measure, barley with barley in equal measure, dates with dates in equal measure, salt by salt with equal measure; if anyone gives more or asks more, he has dealt in usury. But there is no harm in selling gold for silver and silver (for gold), in unequal weight, payment being made on the spot. Do not sell them if they are to be paid for later. There is no harm in selling wheat for barley and barley (for wheat) in unequal measure, payment being made on the spot. If the payment is to be made later, then do not sell them. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Saeed bin Abi 'Arubah, Hisham al-Dastawa'i and Qatadah from Muslim bin Yasar through his chain.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
3350
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ، ‏‏‏‏‏‏فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ.
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ubadah bin al-Samit through a different chain of transmitters with some alternation. This version adds: He said: If these classes differ, sell as you wish if payment is made on the spot.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے ( قسم مختلف ہو جائے ) تو جس طرح چاہو بیچو ( مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں ) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔
Sunnan Nisai
4568
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،‏‏‏‏ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ،‏‏‏‏ عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ،‏‏‏‏ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ تِبْرُهُ وَعَيْنُهُ وَزْنًا بِوَزْنٍ،‏‏‏‏ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ،‏‏‏‏ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ،‏‏‏‏ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ،‏‏‏‏ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ،‏‏‏‏ مِثْلًا بِمِثْلٍ،‏‏‏‏ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى ،‏‏‏‏ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ يَعْقُوبَ،‏‏‏‏ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ.
It was narrated that 'Ubadah bin As-Samit said: The messenger of Allah said: 'Gold for gold, of equal measure; silver for silver, of equal measure; salt for salt, dates for dates wheat for wheat, barley for barley, like for like. Whoever gives more or takes more has engaged in Riba. ' (Sahih) The wording is that of Muhammad Yaqub did not mention - Wheat for wheat .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، ڈلا ہو یا سکہ، برابر برابر ہو، چاندی چاندی کے بدلے ڈالا ہو یا سکہ، برابر برابر ہو، نمک نمک کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، گیہوں گیہوں کے بدلے اور جَو جَو کے بدلے برابر برابر اور یکساں ہو، لہٰذا جو زیادہ دے یا زیادہ کا مطالبہ کرے تو اس نے سود لیا“۔ یہ الفاظ محمد بن المثنیٰ کے ہیں، ابراہیم بن یعقوب نے ”جَو جَو کے بدلے“ کا ذکر نہیں کیا۔
Jam e Tirmazi
496
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَأَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَّلَ وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا . قَالَ مَحْمُودٌ:‏‏‏‏ قَالَ وَكِيعٌ:‏‏‏‏ اغْتَسَلَ هُوَ وَغَسَّلَ امْرَأَتَهُ. قَالَ:‏‏‏‏ وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي غَسَلَ رَأْسَهُ وَاغْتَسَلَ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ اسْمُهُ شَرَاحِيلُ بْنُ آدَةَ. وَأَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْقَصَّابُ الْكُوفِيُّ.
Aws bin Aws narrated: Allah's Messenger said to me: 'Whoever performs Ghusl on Friday, and bathes completely, and goes early, arriving early, gets close and listens and is silent, there will be for him in every step he take the reward of a year of fasting and standing (in prayer).'
اوس بن اوس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور غسل کرایا، اور سویرے پہنچا، شروع سے خطبہ میں شریک رہا، امام کے قریب بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اسے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور رات کے قیام کا ثواب ملے گا“۔ وکیع کہتے ہیں: اس کا معنی ہے کہ اس نے خود غسل کیا اور اپنی عورت کو بھی غسل کرایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اوس بن اوس کی حدیث حسن ہے، ۲- عبداللہ بن مبارک نے اس حدیث کے سلسلہ میں کہا ہے کہ «من غسل واغتسل» کے معنی ہیں: جس نے اپنا سر دھویا اور غسل کیا، ۳- اس باب میں ابوبکر، عمران بن حصین، سلمان، ابوذر، ابوسعید، ابن عمر، اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1255
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَخَرَزٌ فَفَصَلْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفْصَلَ . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى 12:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَرَوْا أَنْ يُبَاعَ السَّيْفُ مُحَلًّى، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مِنْطَقَةٌ مُفَضَّضَةٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مِثْلُ هَذَا بِدَرَاهِمَ حَتَّى يُمَيَّزَ وَيُفْصَلَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ ابْنِ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.
Narrated Fadalah bin 'Ubaidah: On the Day of Khaibar I purchased a necklace that contained gold and jewels for twelve Dinar. I separated it and found that it was worth more than twelve Dinar. I mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: 'Do not sell it until it is separated.'
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، جس میں سونے اور جواہرات جڑے ہوئے تھے، میں نے انہیں ( توڑ کر ) جدا جدا کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ ملے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ( سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار ) نہ بیچے جائیں جب تک انہیں جدا جدا نہ کر لیا جائے“۔ اسی طرح مؤلف نے قتیبہ سے اسی سند سے حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ چاندی جڑی ہوئی تلوار یا کمر بند یا اسی جیسی دوسرے چیزوں کو درہم سے فروخت کرنا درست نہیں سمجھتے ہیں، جب تک کہ ان سے چاندی الگ نہ کر لی جائے۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے۔
Jam e Tirmazi
1409
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ،‏‏‏‏ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ،‏‏‏‏ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ،‏‏‏‏ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ،‏‏‏‏ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ شَرَاحِيلُ بْنُ آدَةَ.
Narrated Shaddad bin Aws: that the Prophet (ﷺ) said: Indeed Allah has decreed Ihsan in everything. So when you kill, then do the killing well, and when you slaughter, then do the slaughtering well. Let one of you sharpen his blade, and let him comfort his animal (before slaughtering).
شداد بن اوس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم قتل ۱؎ کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تمہارے ہر آدمی کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
2516
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ،‏‏‏‏ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، قَالَ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي، ‏‏‏‏‏‏قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ،‏‏‏‏ الْمَعْنَى وَاحِدٌ،‏‏‏‏ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ،‏‏‏‏ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ:‏‏‏‏ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ibn 'Abbas narrated: I was behind the Prophet(s.a.w) one day when he said: 'O boy! I will teach you a statement: Be mindful of Allah and He will protect you. Be mindful of Allah and you will find Him before you. When you ask, ask Allah, and when you seek aid, seek Allah's aid. Know that if the entire creation were to gather together to do something to benefit you- you would never get any benefit except that Allah had written for you. And if they were to gather to do something to harm you- you would never be harmed except that Allah had written for you. The pens are lifted and the pages are dried.'
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: ”اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور ( تقدیر کے ) صحیفے خشک ہو گئے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3152
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ الْجَزَرِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا سورة الكهف آية 82، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ .
Narrated Abu Ad-Darda: that regarding Allah's saying: And there was under it a treasure belonging to them (18:82) - the Prophet (ﷺ) said: Gold and silver.
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وكان تحته كنز لهما» ”ان دونوں یتیم بچوں کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن تھا“ ( الکہف: ۸۲ ) ، کے بارے میں فرمایا: ”کنز سے مراد سونا چاندی ہے“۔