أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ طَرَفَةَ، عَنْ جَدِّهِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ، أَنَّهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ .
It was narrated from 'Arafah bin As'ad that:
His nose was cut off at the battle of Al-Kulab during the Jahiliyyah, so he wore a nose made of silver, but it began to rot, so the Prophet [SAW] told him to wear a nose made of gold.
عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جنگ کلاب کے دن ان کی ناک کٹ گئی، تو انہوں نے چاندی کی ناک بنوا لی، پھر اس میں بدبو آ گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کا حکم دیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الخاتم ۷ (۴۲۳۲، ۴۲۳۳)، سنن الترمذی/اللباس ۳۱ (۱۷۷۰)، (تحفة الأشراف: ۹۸۹۵)، مسند احمد (۵/۱۳، ۲۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کلاب ایک چشمے یا کنویں کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں اس کے پاس ایک عظیم جنگ لڑی گئی تھی۔ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے بوقت حاجت سونے کی ناک بنوانے اور دانتوں کو سونے کے تار سے باندھنے کو مباح قرار دیا ہے۔
5164
Sahih