TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5629 - باب: کدو کی تونبی اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔ - The book of drinks - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 6 in this chapter
باب: کدو کی تونبی اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ وَحَمَّادٌ،‏‏‏‏ وَسُلَيْمَانُ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ .
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah [SAW] forbade Ad-Dubba' (gourds) and Al-Muzaffat.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔
5629
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 5626 In-book reference : Book 51, Hadith 88 English translation : Vol. 6, Book 51, Hadith 5629
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5626
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الٔلشربة ۸ (۵۵۹۵)، صحیح مسلم/الٔرشربة ۶ (۱۹۹۵)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۸۹، ۱۵۹۵۵، ۱۵۹۳۶)، مسند احمد ۶/۱۱۵۱۵، ۲۷۸)

Related Chapters

139
1
باب: کدو کی تونبی سبز روغنی گھڑا اور لکڑی کے برتن میں بنی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
باب: کدو کی تونبی لاکھ کے برتن اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
باب: کدو کی تونبی لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
باب: کدو کی تونبی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About It Is Disliked To Prepare Nabidh In Ad-Dubba', An-Naqir, And An-Hantam
باب: تونبی، مٹکا (سبز رنگ کے برتن) اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
6
Chapter: The prohibition of making Nabidh in Al-Muzaffat, Ad-Dubba' (Gourds), Al-Hantam and An-Naqir; This has been abrogated and now it is permitted, so long as it does not become intoxicating
روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے
Sahih Muslim
7
Chapter: What Has Been Related Permitting That Nabidh Be Prepared Ibn Containers
باب: مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
9
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
10
(7) CHAPTER. To prepare non-alcoholic drinks in bowls or Taur (a bowl made of stone, cooper or wood).
برتنوں اور پتھر کے پیالوں میں نبیذ بھگونا جائز ہے
Sahih Bukhari
11
(8) CHAPTER. The Prophet re-allowed the use of (certain kinds of) bowl and containers after he had forbidden their use.
ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگو نے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا
Sahih Bukhari
12
Chapter: Drinking Nabidh and covering vessels
نبیذ پینا اور برتنوں کوڈھک کررکھنا
Sahih Muslim
13
شراب کے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
14
مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت
Sunnan Ibn e Maja
15
مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
16
باب: تازہ اور ادھ کچی کھجور کے مخلوط مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
باب: کچی اور ادھ کچی کھجور کے مخلوط مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
باب: ادھ کچی اور تازہ کھجوروں سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: ادھ کچی اور سوکھی کھجور کے سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: سوکھی کھجور اور کشمش (سوکھے انگور) سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
باب: تازہ کھجور اور کشمش سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
باب: ادھ کچی کھجور اور کشمش سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جس برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اس کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
باب: مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: روغنی برتنوں کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
باب: سابقہ مذکور برتنوں کے استعمال کے ممنوع ہونے کے دلائل کا بیان کہ ممانعت تادیبی نہیں بلکہ حتمی تھی۔
Sunnan Nisai
27
باب: ممنوع برتنوں کی شرح و تفسیر۔
Sunnan Nisai
28
(19)Chapter: What Has Been Related That When One Of You Awakens From His Sleep, Then Let Him Not Put His Hand Into Vessel Until He Washes it.
باب: جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے
Jam e Tirmazi
29
(46)Chapter: What Has Been Related About A Man And A Woman Performing Wudu From One Vessel
باب: مرد اور عورت دونوں کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Using The Containers Of The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے برتن استعمال کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Eating From Utensils Of The Disbelievers
باب: کفار و مشرکین کے برتنوں میں کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Covering The Vessels, And Extinguishing The Torches And Fires Prior To Sleeping
باب: سوتے وقت برتن ڈھانپنے اور چراغ اور آگ کے بجھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Drink From Gold And Silver Vessels
باب: سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Breathing Into The Vessel
باب: پیتے وقت برتن میں سانس لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Breath Into The Vessel
باب: پیتے وقت برتن میں سانس لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Shunning (The Muslim) Being Disliked
باب: مسلمان سے ترک تعلق اور اس سے بےرخی برتنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: حوض کوثر کے برتنوں کے وصف کا بیان
Jam e Tirmazi
38
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
Mishkat
39
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
Mishkat
40
بَاب تَغْطِيَة الْأَوَانِي وَغَيرهَا
برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان
Mishkat
41
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
43
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
Musnad Ahmad
44
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
Musnad Ahmad
45
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
Musnad Ahmad
46
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
Musnad Ahmad
47
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
48
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,792
Sahih Muslim
2486
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى -، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقِيلَ: هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ»
A'isha reported that (once) the Messenger of Allah (may peace be upon him, ) was presented with beef. It was said (by someone) that it had been given to Barira as Sadaqa. Upon this he (the Prophet) said: It is a Sadaqa for her and a gift for us.
اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گائے کا گو شت پیش کیا گیا اور بتا یا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بطور صدقہ دیا گیا تھا تو آپ نے فر ما یا : " وہ اس کے لیے صدقہ اورہما رے لیے ہدیہ ہے ۔
Sahih Muslim
2579
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْنَا لَهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ أَوْ مِنْ أَمْلَكِكُمْ لِإِرْبِهِ شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ.
Aswad reported: I and Masruq went to 'A'isha (Allah be pleased with her) and asked. her if the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) embraced (his wives) while fasting. She said: Yes; but he had the greatest control over his desire among you: or he was one of those who had control over his desire.
محمد بن مثنی ، ابو عاصم ، ابن عون ، ابراہیم ، اسود ، فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں آئے تو ہم نے آپ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کی حالت میں اپنی کسی زوجہ سے بغل گیر ہوجایا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا ہاں لیکن آپ تو تم میں سب سے زیادہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے والے تھے یا فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو آپ کی طرح اپنے جذبات قابو میں رکھ سکے ابو عاصم راوی کو شک ہے ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے )
Sahih Muslim
2836
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنَ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: «كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ»
A'isha (Allah be pleased with her) said: I still seem to see the glistening of the perfume where the hair was parted on Allah's Messeinger's ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) head while he was in the state of Ihram.
حکم نے کہا : میں نے ابرا ہیم کو اسود سے حدیث بیان کرتے سنا انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں ( مانگ ) میں کوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرا م باندھا ہوا ہے ۔
Sahih Muslim
3228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ، إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً، فَقَالَ: «عَقْرَى حَلْقَى، إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا» ثُمَّ قَالَ لَهَا: «أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَانْفِرِي»،
A'isha (Allah be pleased with her) reported: When Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) decided to march (for return journey), he found Safiyyah at the door of her tent, sad and downcast. He remarked. Barren, shaven-head, you are going to detain us, and then said: Did you perform Tawaf Ifada on the Day of Nahr? She replied in the affirmative, whereupon he said: Then march on.
حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روانگی کا رادہ کیا تو اچا نک ( دیکھا کہ ) حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر دل گیراور پر یشان کھڑی تھیں آپ نے فر ما یا : " تمھا را نہ کو ئی بال نہ بچہ ! ( پھر بھی ) تم ہمیں ( یہیں ) روکنے والی ہو ۔ پھر آپ نے ان سے پو چھا : " کیا تم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟انھوں نے جواب دیا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : " تو ( پھر ) چلو ۔ ( یعنی ان کے پاس جا کر ان سے بھی پو چھا اور تصدیق کی )
Sahih Muslim
4377
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ: التَّارِكُ الْإِسْلَامَ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ - أَوِ الْجَمَاعَةَ شَكَّ فِيهِ أَحْمَدُ - وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، قَالَ الْأَعْمَشُ، فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ، فَحَدَّثَنِي عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.
Abdullah (b. Mas'ud) reported: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) stood up and said: By Him besides Whom there is no god but He, the blood of a Muslim who bears the testimony that there is no god but Allah, and I am His Messenger, may be lawfully shed only in case of three persons: the one who abandons Islam, and deserts the community [Ahmad, one of the narrators, is doubtful whether the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used the word li'l-jama'ah or al-jama'ah), and the married adulterer, and life for life.
سفیان نے اعمش سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ( خطاب کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! کسی مسلمان آدمی کا خون ، جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ، حلال نہیں سوائے تین انسانوں کے : اسلام کو چھوڑنے والا جو جماعت سے الگ ہونے والا یا جماعت کو چھوڑنے والا ہو ، شادی شدہ زانی اور جان کے بدلے جان ( قصاص میں قتل ہونے والا
Sunnan Nisai
2719
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الطَّبَرَانِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُلَيْمَانُ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ .
It was narrated that 'Aishah said: We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) thinking that it was for nothing other than Hajj.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔
Sunnan Nisai
5551
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ مَرَّةً أُخْرَى وَالنَّقِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ بِالزَّبِيبِ، ‏‏‏‏‏‏وَالزَّهْوُ بِالتَّمْرِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah [SAW] forbade Ad-Dubba', Al-Muzaffat, - and on one occasion he added: An-Naqir, - and (he forbade) mixing At-Tamr (dried dates) with raisins, and Az-Zahuw with At-Tamr.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن دوسری بار اتنا زیادہ کیا، لکڑی کے برتن سے، اور کھجور کو انگور کے ساتھ اور کچی کھجور کو پکی کھجور کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔
Jam e Tirmazi
116
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ ضَافَ عَائِشَةَ ضَيْفٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَبِهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا فِي الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ:‏‏‏‏ يُجْزِئُهُ الْفَرْكُ وَإِنْ لَمْ يُغْسَلْ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ.
Hammam bin AI-Harith narrated: Aishah had a guest to whom she lent a yellow wrap for him to sleep in. He had a wet dream, and was too embarrassed to send it to her while the traces of the wet dream were present on it. So he submerged it (washing it) in water, then he sent it to her. Aishah said, Why did he ruin our garment? It would have been sufficient for him to scrape it off with his fingers. Sometimes I would scrape it off of the garment of Allah's Messenger with my fingers.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے ( اوڑھنے کے لیے ) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہو گیا، ایسے ہی بھیجنے میں کہ اس میں احتلام کا اثر ہے اسے شرم محسوس ہوئی، چنانچہ اس نے اسے پانی سے دھو کر بھیجا، تو عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، بس اتنا کافی تھا، بسا اوقات میں اپنی انگلیوں سے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ کپڑے پر منی ۱؎ لگ جائے تو اسے کھرچ دینا کافی ہے، گرچہ دھویا نہ جائے۔
Jam e Tirmazi
132
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مِنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي أَنْ أَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَمَيْمُونَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق.
Aishah narrated that: When I would menstruate, Allah's Messenger ordered me to wear a waist wrap, then he would fondle me.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جب حیض آتا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مجھے تہ بند باندھنے کا حکم دیتے پھر مجھ سے چمٹتے اور بوس و کنار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام و تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔