TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5718 - باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟ - The book of drinks - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 14 in this chapter
باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَنْصُورًا،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ نُبَاتَةَ،‏‏‏‏ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى بَعْضِ عُمَّالِهِ:‏‏‏‏ أَنِ ارْزُقْ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الطِّلَاءِ مَا ذَهَبَ ثُلُثَاهُ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ .
It was narrated that Suwiad bin Ghafalah said: Umar bin Al-Khattab wrote to some of his workers saying: 'Give to the Muslims thickened grape juice when two thirds of it have gone and one-third is left.'
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے کسی عامل ( گورنر ) کو لکھا: مسلمانوں کو وہ طلاء پینے دو جس کے دو حصے جل گئے ہوں اور ایک حصہ باقی ہو ۱؎۔
5718
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 5715 In-book reference : Book 51, Hadith 177 English translation : Vol. 6, Book 51, Hadith 5718
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5715
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۱۰۴۶۱)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : انگور کا رس دو تہائی جل گیا ہو اور ایک تہائی رہ جائے تو اس کو طلا کہتے ہیں، یہ حلال ہے۔

Related Chapters

355
1
باب: کون سا رس (شیرہ) پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟
Sunnan Nisai
2
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
3
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
4
اس چیز کا بیان کہ اِس رخصت کے بعد کون سے کتے پالنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز
Musnad Ahmad
5
باب: کون سی نبیذ پینی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔
Sunnan Nisai
6
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Food Until It has Been Acquired
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Is Not Allowed For Slaughtering
باب: جن جانوروں کی قربانی ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What has been Related About It is Not Lawful To Intimidate A Muslim
باب: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ڈرانا دھمکانا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
9
بَاب من لَا تحل لَهُ الْمَسْأَلَة وَمن تحل لَهُ
سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز
Mishkat
10
مردار کے چمڑے اور پٹھے سے استفادہ کرنے کے ناجائز ہونے کا بیان اور عدم جواز اور جواز پر دلالت کرنے والی احادیث میں جمع و تطبیق کا بیان
Musnad Ahmad
11
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
12
میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
Musnad Ahmad
13
معتکف کے لیے جائز اور ناجائز امور کا بیان
Musnad Ahmad
14
منیٰ میں نمازوں کو قصر کرکے ادا کرنے اور ان دنوں میں روزہ کے ناجائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
15
اس چیز کا بیان کہ کس کی شہادت پر حکم لگانا جائز ہے اور کس کی شہادت پر ناجائز
Musnad Ahmad
16
ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان
Musnad Ahmad
17
نبیذ کی ناجائز صورتوں اور مٹکے کی نبیذ کابیان
Musnad Ahmad
18
دم اور تعویذ اور جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان جائز صورتوں کا بیان
Musnad Ahmad
19
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
Musnad Ahmad
20
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
21
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
22
خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
Musnad Ahmad
23
تعریف کی ناجائز صورتیں
Musnad Ahmad
24
(48) CHAPTER. Whosoever left some optional things simply for the fear that some people may not be able to understand them and may fall into something more difficult.
اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت ( یعنی ناجائز ) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں
Sahih Bukhari
25
(73) CHAPTER. If somebody imposes conditions in selling which are forbidden (in) or are against the Islamic Law.
اگر کسی نے بیع میں ناجائز شرطیں لگائیں ( تو اس کا کیا حکم ہے )
Sahih Bukhari
26
(1) CHAPTER. The conditions permissible on embracing Islam, and in contracts and transactions.
اسلام میں داخل ہوتے وقت اور معاملات بیع و شراء میں کون سی شرطیں لگانا جائز ہے ؟
Sahih Bukhari
27
(17) CHAPTER. Al-Mukatab (i.e., the slave who is given the writing of emancipation for a certain sum) and about the invalidity of those conditions which contradict Allah's Laws.
مکاتب کا بیان اور جو شرطیں ناجائز اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
28
(3) CHAPTER. To provide one's family with food sufficient for one year in advance. And how one should spend on his dependants.
مرد کا اپنی بچوں کے لیے ایک سال کا خرچ جمع کرناجائز ہے اور جورو بچوں پر کیوں کر خرچ کرے اس کا بیان ۔
Sahih Bukhari
29
(9) CHAPTER. (One can drink) date-syrup as long as it does not intoxicate (not fermented).
کھجور کا شربت یعنی نبیذ جب تک نشہ آور نہ ہو پینا جائز ہے
Sahih Bukhari
30
(20) CHAPTER. To drink water from a basin by putting one's mouth in it.
حوض سے منہ لگا کر پانی پینا جائز ہے
Sahih Bukhari
31
(15) CHAPTER. To perform the operation of cupping to treating unilateral or bilateral headache.
آدھے سر کے درد یاپورے سر کے درد میں پچھنا لگواناجائز ہے
Sahih Bukhari
32
Chapter: The permissibility of eating Rabbit
خرگوش کھاناجائز ہے
Sahih Muslim
33
Chapter: It is permissible to take someone else to the house of one who you are certain will approve of that and will not mind. It is recommended to gather to eat
اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے
Sahih Muslim
34
CHAPTER: The Places In Which Prayer Is Not Allowed.
باب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: Actions During The Prayer.
باب: نماز میں کون سا کام جائز اور درست ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: What Has Been Related Regarding What Is Allowed For A Testor To Give From His Wealth.
باب: وصیت کرنے والے کے لیے جو چیز ناجائز ہے اس کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: Harshness In Takin Jizyah.
باب: جزیہ کے وصول کرنے میں ظلم کرنا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding Woman Giving Without Her Husband’s Permission.
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا کسی کو کچھ دے دینا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: Regarding the Judges judge when he is mistaken.
باب: اگر قاضی غلط فیصلہ کر دے تو جس کا اس میں فائدہ ہے اس کے لیے اس سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: Regarding the disliked remedies.
باب: ناجائز اور مکروہ دواؤں کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: What Has Been Reported About The Gold Ring.
باب: مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھی کا پہننا ناجائز ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
42
غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
43
حرام اور ناجائز چیزوں کی خرید و فروخت حلال نہیں ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
44
تین صورتوں کے علاوہ مسلمان کا قتل حرام اور ناجائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
45
وارث کے لیے وصیت ناجائز ہے
Sunnan Ibn e Maja
46
محرم کو کون سا جانور قتل کرنا جائز ہے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
47
باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
Sunnan Nisai
48
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
(102)Chapter: What Has Been Related About Dislike For Engaging In Sexual Intercourse With A Menstruating Woman
باب: حائضہ سے جماع کے جائز نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Talking After The Two Rak'ah (Before) Fajr
باب: فجر کی دونوں رکعتوں کے بعد گفتگو کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,852
Sahih Muslim
1515
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، كِلَاهُمَا عَنِ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ
This hadith has been transmitted by Taimi with the same chain of narrators.
عتمر بن سلیمان اور جریر دونوں نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی ۔
Sahih Muslim
2771
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا حَصِيرٌ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ، فَدَنَوْا مِنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ، أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ، ثُمَّ أُتِيتُ، فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ فَاعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ: «وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتَهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ» فَأَصْبَحَ مِنْ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَجَبِينُهُ وَرَوْثَةُ أَنْفِهِ فِيهِمَا الطِّينُ وَالْمَاءُ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed i'tikaf (confined himself for devotion and prayer) in the first ten (days) of Ramadan; he then observed i'tikaf in the middle ten (days) in a Turkish tent with a mat hanging at its door. He (the Holy Prophet) took hold of that mat and placed it in the nook of the tent. He then put his head out and talked with people and they came near him, and he (the Holy Prophet) said: I observed i'tikaf in the first ten (nights and days) in order to seek that night (Lailat-ul-Qadr). I then observed i'tikaf in the middle ten days. Then (an angel) was sent to me and I was told that this (night) is among the last ten (nights). He who among you likes to observe i'tikaf should do so; and the people observed it along with him, and he (the Holy Prophet) said: That (Lailat-ul-Qadr) was shown to me on an odd (night) and I (saw in the dream) that I was prostrating in the morning in clay and water. So in the morning of the twenty-first night when he (the Holy Prophet) got up for dawn (prayer). there was a rainfall and the mosque dripped, and I saw clay and water. When he came out after completing the morning prayer (I saw) that his forehead and the tip of his nose had (traces) of clay and water, and that was the twenty-first night among the last ten (nights).
ہم سے عمارہ بن غزیہ انصاری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن ابرا ہیم سے سنا وہ ابو سلمہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ترکی خیمے کے اندر جس کے دروازے پر چٹائی تھی ، رمضا ن کے پہلے عشرے میں اعتکا ف کیا ، پھر درمیانے عشرے میں اعتکاف کیا ۔ کہا : تو آپ نے چتا ئی کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر خیمے کے ایک کونے میں کیا ، پھر اپنا سر مبا رک خیمے سے باہر نکا ل کر لو گوں سے گفتگو فر ما ئی ، لوگ آپ کے قریب ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" میں نے اس شب ( قدر ) کوتلاش کرنے کے لیے پہلے عشرے کا اعتکاف کیا ، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اتکاف کیا ، پھر میرے پاس ( بخاری حدیث : 813میں ہے : جبریل ؑ کی آمد ہو ئی تو مجھ سے کہا گیا : وہ آخری دس راتوں میں ہے تو اب تم میں سے جو اعتکاف کرنا چا ہے وہ اعتکاف کر لے ، "" لوگوں نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا ۔ آپ نے فر مایا : "" اور مجھے وہ ایک طاق رات دکھا ئی گئی اور یہ کہ میں اس ( رات ) کی صبح مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کی صبح کی ، اور آپ نے ( اس میں ) صبح تک قیام کیا تھا پھر بارش ہو ئی تو مسجد ( کی چھت ) ٹپک پڑی ، میں نے مٹی اور پانی دیکھا اس کے بعد جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک کے کنارے دونوں میں مٹی اور پانی ( کے نشانات ) موجود تھے اور یہ آخری عشرے میں اکیسویں کی رات تھی ۔
Sunnan Nisai
2569
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَلَّا، ‏‏‏‏‏‏آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بِالْإِسْلَامِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَقُولَ:‏‏‏‏ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَتَخَلَّيْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ مُشْرِكٍ بَعْدَمَا أَسْلَمَ عَمَلًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ .
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said: I said: 'O Prophet of Allah! I did not come to you until I had sworn more that this many times' - the number of fingers on his hands - 'that I would never come to you or follow your religion. I am a man who does not know anything except that which Allah and His Messenger teach me. I ask you by the face of Allah, the Mighty and Sublime, with what has your Lord sent you to us? He said: 'With Islam.' I said: What are the signs of Islam? He said; To say: I submit my face to Allah and give up Shirk, and, to establish the Salah and to pay Zakah. Each Muslim is sacred and inviolable to his fellow Muslim; they support one another. Allah does not accept my deed from an idolater after he becomes a Muslim, until he departs from the idolaters and joins the Muslims. '
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایک بے عقل اور ناسمجھ انسان ہوں ( اب بھی کچھ نہیں سمجھتا ) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: اللہ نے آپ کو ہمارے پاس کیا چیزیں دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام دے کر“، میں نے عرض کیا: ”اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟“ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ہے کہ تم کہو: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک کر لیا ہے، اور تم نماز قائم کرو، زکاۃ دو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۱؎۔ ہر ایک دوسرے کا بھائی و مددگار ہے، اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل اس کے بعد کہ وہ اسلام لے آیا ہو قبول نہیں کرتا، یا وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے ۲؎۔
Sunnan Nisai
3489
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَ مَا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقَيْهَا فِي الْقَمَرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ إِسْحَاق فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ الْمُرْسَلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الْمُسْنَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ.
Ikrimah said: A man came to the Prophet of Allah and said: 'O Prophet of Allah,' and that he had declared Zihar to his wife, then he had intercourse with her before he did what he had to do. He said: 'What made you do that?' He said: 'O Prophet of Allah! I saw the whiteness of her calves in the moonlight.' The Prophet said: 'Keep away until you have done what you have to do.' (One of the narrators) Ishaq said in his Hadith: Keep away from her until you have done what you have to do. The wording is that of Muhammad.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں ( تو بے قابو ہو گیا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے ( یعنی کفارہ دے دو ) “۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی حدیث میں «فاعتزل» کے بجائے «فاعتزلہا» بیان کیا ہے اور یہ «فاعتزل» لفظ محمد کی روایت میں ہے۔ امام ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ مرسل حدیث مسند کے مقابل میں زیادہ صحیح اور اولیٰ ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۱؎۔
Sunnan Nisai
5141
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مَنْصُورًا، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رِبْعِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ امْرَأَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ،‏‏‏‏ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ .
It was narrated from Rib'i, from his wife, that the sister of Hudhaifah said: The Messenger of Allah [SAW] addressed us and said: 'O women, do you not have any silver to wear for adornment? For there is no woman among you who wears gold and shows it, but she will be punished because of it.'
حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن کہتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! کیا تم چاندی کا زیور نہیں بنا سکتیں، دیکھو، تم میں سے جو عورت دکھانے کے لیے سونے کا زیور پہنے گی اسے عذاب ہو گا“۔
Jam e Tirmazi
169
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمُرُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُمَا . وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ وَأَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُعْفِيٍّ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ قَيْسٌ أَوْ ابْنُ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي السَّمَرِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَرِهَ قَوْمٌ مِنْهُمُ السَّمَرَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ إِذَا كَانَ فِي مَعْنَى الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ مِنَ الْحَوَائِجِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْثَرُ الْحَدِيثِ عَلَى الرُّخْصَةِ قَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ .
Umar bin Al-Khattab narrated: Allah's Messenger would talk during the night with Abu Bakr about matters concerning the Muslims while I was with them.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسلمانوں کے بعض معاملات میں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ رات میں گفتگو کرتے اور میں ان دونوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، اوس بن حذیفہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم نے عشاء کے بعد بات کرنے کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے عشاء کے بعد بات کرنے کو مکروہ جانا ہے اور کچھ لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ یہ کوئی علمی گفتگو ہو یا کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو ۱؎ اور اکثر احادیث رخصت کے بیان میں ہیں، نیز نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بات صرف وہ کر سکتا ہے جو نماز عشاء کا منتظر ہو یا مسافر ہو“۔
Jam e Tirmazi
1029
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٍ كَانَ لِعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَتُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ . وقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ مِائَةٌ فَمَا فَوْقَهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
Aishah narrated that: The Prophet said: No one among the Muslim dies, and Salat is performed for him by a community of Muslims reaching one hundred, and they intercede (supplicate) for him, except that their intercession for him is accepted. In his narration, 'Ali bin Hujr said: One hundred or more than that.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان مر جائے اور مسلمانوں کی ایک جماعت جس کی تعداد سو کو پہنچتی ہو اس کی نماز جنازہ پڑھے اور اس کے لیے شفاعت کرے تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے“ ۱؎۔ علی بن حجر نے اپنی حدیث میں کہا: «مائة فما فوقها» ”سویا اس سے زائد لوگ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، مرفوع نہیں کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1548
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ أَنَّ جَيْشًا مِنْ جُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ أَمِيرَهُمْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَاصَرُوا قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ دَعُونِي أَدْعُهُمْ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَاهُمْ سَلْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُمْ:‏‏‏‏ إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ فَارِسِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏تَرَوْنَ الْعَرَبَ يُطِيعُونَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَكُمْ مِثْلُ الَّذِي لَنَا وَعَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا دِينَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏تَرَكْنَاكُمْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعْطُونَا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَطَنَ إِلَيْهِمْ بِالْفَارِسِيَّةِ:‏‏‏‏ وَأَنْتُمْ غَيْرُ مَحْمُودِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَبَيْتُمْ، ‏‏‏‏‏‏نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ مَا نَحْنُ بِالَّذِي نُعْطِي الْجِزْيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنَّا نُقَاتِلُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَى مِثْلِ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ انْهَدُوا إِلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَنَهَدْنَا إِلَيْهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَفَتَحْنَا ذَلِكَ الْقَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ سَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ‏‏‏‏‏‏وسَمِعْت مُحَمَّدًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمَانُ مَاتَ قَبْلَ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَوْا أَنْ يُدْعَوْا قَبْلَ الْقِتَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ تُقُدِّمَ إِلَيْهِمْ فِي الدَّعْوَةِ فَحَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏يَكُونُ ذَلِكَ أَهْيَبَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ لَا دَعْوَةَ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ لَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ أَحَدًا يُدْعَى، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ لَا يُقَاتَلُ الْعَدُوُّ حَتَّى يُدْعَوْا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَعْجَلُوا عَنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ بَلَغَتْهُمُ الدَّعْوَةُ.
Narrated Abu Al-Bakhtari: An Army from the armies of the Muslims, whose commander was Salman Al-Farisi, besieged one of the Persian castles. They said: 'O Abu 'Abdullah! Should we charge them?' He said: 'Leave me to call them (to Islam) as I heard the Messenger of Allah (ﷺ) call them.' So Salman went to them and said: 'I am only a man from among you, a Persian, and you see that the Arabs obey me. If you become Muslims then you will have the likes of what we have, and from you will be required that which is required from us. If you refuse, and keep your religion, then we will leave you to it, and you will give us the Jizyah from your hands while you are submissive.' He said to them in Persian: 'And you are other than praiseworthy and if you refuse then we will equally resist you.' They said: 'We will not give you the Jizyah, we will fight you instead.' So they said: 'O Abu 'Abdullah! Should we charge them?' He said: 'No.' He said: So for three days he called them to the same (things), and then he said: 'Charge them.' He said: So we charged them, and we conquered the castle.
ابوالبختری سعید بن فیروز سے روایت ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے جس کے امیر سلمان فارسی تھے، فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا، لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں ان کافروں کو اسلام کی دعوت اسی طرح دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دعوت دیتے ہوئے سنا ہے ۱؎، چنانچہ سلمان فارسی رضی الله عنہ ان کے پاس گئے، اور کافروں سے کہا: میں تمہاری ہی قوم فارس کا رہنے والا ایک آدمی ہوں، تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں، اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہمارے اوپر ہیں، اور اگر تم اپنے دین ہی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ہم اسی پر تم کو چھوڑ دیں گے، اور تم ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو ۲؎، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے اس بات کو فارسی زبان میں بھی بیان کیا، اور یہ بھی کہا: تم قابل تعریف لوگ نہیں ہو، اور اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے ( حق پر ) جنگ کریں گے، ان لوگوں نے جواب دیا: ہم وہ نہیں ہیں کہ جزیہ دیں، بلکہ تم سے جنگ کریں گے، مسلمانوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے تین دن تک اسی طرح ان کو اسلام کی دعوت دی، پھر مسلمانوں سے کہا: ان پر حملہ کرو، ہم لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمان فارسی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اس کو صرف عطاء بن سائب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل ( امام بخاری ) کو کہتے ہوئے سنا: ابوالبختری نے سلمان کو نہیں پایا ہے، اس لیے کہ انہوں نے علی کو نہیں پایا ہے، اور سلمان کی وفات علی سے پہلے ہوئی ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، نعمان بن مقرن، ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کی یہی رائے ہے کہ قتال سے پہلے کافروں کو دعوت دی جائے گی، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے کہ اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دے دی جائے تو بہتر ہے، یہ ان کے لیے خوف کا باعث ہو گا، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس دور میں دعوت کی ضرورت نہیں ہے، امام احمد کہتے ہیں: میں اس زمانے میں کسی کو دعوت دئیے جانے کے لائق نہیں سمجھتا، ۵- امام شافعی کہتے ہیں: دعوت سے پہلے دشمنوں سے جنگ نہ شروع کی جائے، ہاں اگر کفار خود جنگ میں پہل کر بیٹھیں تو اس صورت میں اگر دعوت نہ دی گئی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہے۔
Jam e Tirmazi
3067
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah: When (the following) was revealed: It is those who believe and confuse not their belief with Zulm (wrong) (6:82) - That bothered some Muslims, so they said: 'O Messenger of Allah! Which of us has not wronged himself?' He said: 'It is not that, it is only Shirk, have you not heard what Luqman said to his son: O my son! Do not commit Shirk with Allah. Verily Shirk is a tremendous Zulm (wrong) (31:13).'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم ( شرک ) کی آمیزش نہ کی“ ( الأنعام ۸۲ ) ، نازل ہوئی تو مسلمانوں پر یہ بات گراں گزری، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں کون ایسا ہے جس سے اپنی ذات کے حق میں ظلم و زیادتی نہ ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( تم غلط سمجھے ) ایسی بات نہیں ہے، اس ظلم سے مراد صرف شرک ہے، کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کیا نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا تھا: «يا بني لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اے میرے بیٹے! شرک نہ کر، شرک بہت بڑا گناہ ہے“ ( لقمان: ۱۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔