TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat Yousuf - سورة يوسف | Verse 68 Translations

Every available translation of Surat Yousuf, verse 68, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.

وَ لَمَّا دَخَلُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَمَرَہُمۡ اَبُوۡہُمۡ ؕ مَا کَانَ یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ اِلَّا حَاجَۃً فِیۡ نَفۡسِ یَعۡقُوۡبَ قَضٰہَا ؕ وَ اِنَّہٗ لَذُوۡ عِلۡمٍ لِّمَا عَلَّمۡنٰہُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۶۸﴾  2
And when they entered from where their father had ordered them, it did not avail them against Allah at all except [it was] a need within the soul of Jacob, which he satisfied. And indeed, he was a possessor of knowledge because of what We had taught him, but most of the people do not know.
جب وہ انہیں راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا گئے ۔ کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کر دی ہے وہ اس سے انہیں ذرا بھی بچا لے ۔ مگر یعقوب ( علیہ السلام ) کے دل میں ایک خیال ( پیدا ہوا ) جسے اس نے پورا کر لیا بلاشبہ وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
Bookmark
Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

Info
وَلَمَّا
اور جب
دَخَلُوۡا
وہ داخل ہوئے
مِنۡ حَیۡثُ
جہاں سے
اَمَرَہُمۡ
حکم دیا تھا انہیں
اَبُوۡہُمۡ
ان کے والد نے
مَا
نہ
کَانَ
تھا کہ
یُغۡنِیۡ
کام آتا
عَنۡہُمۡ
انہیں
مِّنَ اللّٰہِ
اللہ سے
مِنۡ شَیۡءٍ
کچھ بھی
اِلَّا
مگر
حَاجَۃً
ایک حاجت تھی
فِیۡ نَفۡسِ
دل میں
یَعۡقُوۡبَ
یعقوب کے
قَضٰہَا
اس نے پورا کیا جسے
وَاِنَّہٗ
اور بےشک وہ
لَذُوۡ عِلۡمٍ
البتہ علم والا تھا
لِّمَا
بوجہ اس کے جو
عَلَّمۡنٰہُ
سکھایا تھا ہم نے اسے
وَلٰکِنَّ
اور لیکن
اَکۡثَرَ
اکثر
النَّاسِ
لوگ
لَایَعۡلَمُوۡنَ
نہیں وہ علم رکھتے
Word by Word by

Nighat Hashmi

Info
وَلَمَّا
اور جب
دَخَلُوۡا
وہ داخل ہوئے
مِنۡ حَیۡثُ
جہاں سے
اَمَرَہُمۡ
ہدایت کی تھی ان کو
اَبُوۡہُمۡ
ان کے باپ نے
مَا
نہیں
کَانَ
تھا
یُغۡنِیۡ
وہ ہٹا سکتا
عَنۡہُمۡ
ان سے
مِّنَ اللّٰہِ
اللہ تعالیٰ کی طرف سے
مِنۡ شَیۡءٍ
کوئی چیز
اِلَّا
مگر
حَاجَۃً
ایک تمنا
فِیۡ نَفۡسِ
دل میں
یَعۡقُوۡبَ
یعقوب کے
قَضٰہَا
اس نے پورا کیا اس کو
وَاِنَّہٗ
اور بلاشبہ وہ
لَذُوۡ عِلۡمٍ
یقیناً صاحب علم تھا
لِّمَا
اس لیےکہ جو
عَلَّمۡنٰہُ
ہم نے سکھایا تھا اسے
وَلٰکِنَّ
لیکن
اَکۡثَرَ
اکثر
النَّاسِ
لوگ
لَا
نہیں
یَعۡلَمُوۡنَ
وہ جانتے
Translated by

Juna Garhi

Info

And when they entered from where their father had ordered them, it did not avail them against Allah at all except [it was] a need within the soul of Jacob, which he satisfied. And indeed, he was a possessor of knowledge because of what We had taught him, but most of the people do not know.

جب وہ انہیں راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا گئے ۔ کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کر دی ہے وہ اس سے انہیں ذرا بھی بچا لے ۔ مگر یعقوب ( علیہ السلام ) کے دل میں ایک خیال ( پیدا ہوا ) جسے اس نے پورا کر لیا بلاشبہ وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Info

چناچہ جس طرح ان کے باپ نے (شہر میں) داخل ہونے کا حکم دیا تھا ویسے وہ اس میں داخل ہوئے۔ اس کی یہ تدبیر اللہ کی مشیئت کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہ آئی۔ یہ تو محض یعقوب کے دل کا ارمان تھا جسے اس نے پورا کیا تھا۔ بیشک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم کی وجہ سے صاحب علم تھا۔ مگر اکثر لوگ (یہ حقیقت) نہیں جانتے

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Info

اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے اُن کے باپ نے اُن کوہدایت کی تھی،وہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کوئی چیزان سے ہٹانہیں سکتاتھامگر یعقوب کے دل میں ایک تمنا تھی جس کو اُس نے پوراکیااوربلاشبہ وہ یقیناصاحبِ علم تھااس لئے کہ ہم نے اسے سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Info

And when they entered (the city) in the manner their father had advised them, he could not help them in any way against (the will of) Allah, but it was just an urge in the heart of Ya` qub which he satisfied. He was a man of knowledge; because We had taught him, but most of the people do not know.

اور جب داخل ہوئے جہاں سے کہا تھا ان کے باپ نے کچھ نہیں بچا سکتا تھا ان کو اللہ کی کسی بات سے مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں سو پوری کرچکا اور وہ تو خبردار تھا جو کچھ ہم نے سکھایا اس کو لیکن بہت لوگوں کو خبر نہیں

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

تو جب وہ داخل ہوئے جہاں سے انہیں حکم دیا تھا ان کے والد نے وہ (یعقوب) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی سوائے اس کے کہ یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے اسے پورا کرلیا اور یقیناً آپ صاحب علم تھے اس علم کے اعتبار سے جو ہم نے آپ کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

And it so happened that when they entered the city (by many gates) as their father had directed them, this precautionary measure proved ineffective against Allah's will. There was an uneasiness in Jacob's soul which he so tried to remove. Surely he was possessed of knowledge owing to the knowledge that We bestowed upon him. But most people do not know the truth of the matter.

اور واقعہ یہ بھی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں ﴿متفرق دروازوں سے﴾ داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیّت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی ۔ ہاں بس یعقوب ( علیہ السلام ) کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کر لی ۔ بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں ۔ 54 ؏ ۸

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Info

اور جب وہ ( بھائی ) اسی طرح ( مصر میں ) داخل ہوئے جس طرح ان کے والد نے کہا تھا ، تو یہ عمل اللہ کی مشیت سے ان کو ذرا بھی بچانے والا نہیں تھا ، لیکن یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جو انہوں نے پوری کرلی ۔ بیشک وہ ہمارے سکھائے ہوئے علم کے حامل تھے ، لیکن اکثر لوگ ( معاملے کی حقیقت ) نہیں جانتے ( ٤٤ )

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info

اور جب وہ مصر میں اسی طرح جدا جدا دروازوں سے جیسے باپ نے ان کو حکم دیا تھا داخل ہوئے تو اللہ کے سامنے تو یہ تدبیر کچھ ان کو کام نہ آسکتی تھی وہ تو بس یعقوب کے دل کی ایک آرزو تھی جو اس نے پوری کرلی اولاد کی مامتا ہر ایک کو وتی ہے اور بیشک یعقوب کو جو ہم نے سکھلایا وہ اس کو (خوب) جانتا تھا (کہ اللہ کی تقدیر سے کوئی بغیر روک نہیں سکتی لیکن اکثر آدمی یہ نہیں 1 جانتے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Info

اور جب وہ (شہر میں) داخل ہوئے جہاں سے ان والد نے ان کو فرمایا تھا کوئی تدبیر اللہ کے حکم کو ان سے ذرا بھی نہ ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب (علیہ السلام) کے دل کی آرزو تھی جو انہوں نے پوری کی اور یقینا وہ بڑے صاحب علم تھے اس لئے کہ جو ہم نے ان کو علم بخشا تھا و لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info

اور جب وہ اپنے والد کے حکم کے مطابق (مصر میں) داخل ہوئے وہ انہیں اللہ کی مشیت سے بچا نہیں سکتا تھا۔ مگر یعقوب کے دل میں جو ایک اندیشہ تھا اس نے اس کی احتیاط کرلی تھی اور بیشک وہ اس علم سے واقف تھا جو ہم نے اس کو سکھایا تھا۔ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

Info

اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

Info

And when they entered as their father had enjoined them, it availed them not against Allah at all; it was only a craving in the soul of Ya qub that he satisfied; verily he was endued with knowledge, for We had taught him; but most of the people know not.

اور جب وہ داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا اللہ کے مقابلہ میں کچھ بھی ان کے کام نہ آسکا ہاں وہ تو ایک ارمان تھا یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں جو انہوں نے پورا کرلیا ۔ اور بیشک وہ (بڑے) صاحب علم تھے اس لئے کہ ہم نے ان کو علم دیا تھا ۔ لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کا) علم نہیں رکھتے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

Info

اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو ہدایت کی تھی تو وہ اللہ کے مقابل میں ان کے کچھ کام آنے والا نہ تھا ، بس یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے پورا کرلیا اور وہ بیشک اس علم سے بہرہ ور تھا ، جو ہم نے اس کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے ۔

Translated by

Mufti Naeem

Info

اور جب وہ ( مصر میں ) داخل ہوئے جس طرح ان کے والد نے انہیں حکم دیا تھا ۔ یہ حکم اللہ ( تعالیٰ ) کی تقدیر میںسے ان سے کچھ ٹال نہیں سکتا صرف یہ ایک تدبیر تھی یعقوب ( علیہ السلام ) کے دل میں جسے انہوں نے پورا کیا ۔ اور بلا شبہ وہ ( بڑے ) علم والے تھے ہمارے ان کو علم سکھانے کی وجہ سے لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت ) کو نہیں جانتے ۔

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

Info

اور جب وہ ان دروازوں سے داخل ہوئے جہاں سے داخل ہونے کے لیے ان کے والد نے کہا تھا تو وہ تدبیر اللہ کے حکم کو ذرا بھی ٹال نہ سکتی تھی۔ ہاں یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی اور بیشک وہ صاحب علم تھے، کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

Info

چناچہ جب وہ اپنے باپ کی نصیحت (و ہدایت) کے مطابق شہر میں داخل ہوگئے تو (باپ کی بتائی ہوئی) وہ تدبیر ان کے کچھ کام نہ آسکی، سوائے اس کے کہ وہ یعقوب کے دل کی ایک خواہش تھی، جسے انہوں نے پورا کرلیا تھا (اور بس) اور بلاشبہ وہ بڑے علم والے تھے اس تعلیم کی بناء پر جو ہم نے ان کو دی تھی، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں،

Translated by

Noor ul Amin

Info

چنانچہ جیسے ان کے باپ نے ( شہر میں ) داخل ہونے کاحکم دیاتھاویسے ہی وہ اس میں داخل ہوئے اس کی یہ تدبیراللہ کی کسی تدبیرکوٹال نہیں سکتی تھی یہ تومحض یعقوب کے دل کا ارمان تھاجسے اس نے پورا کیا تھابیشک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم کی وجہ سے صاحب علم تھامگراکثر لوگ ( یہ حقیقت ) نہیں جانتے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

Info

اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا ( ف۱٦۱ ) وہ کچھ انھیں کچھ انھیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی ، اور بیشک وہ صاحب علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ( ف۱٦۲ )

Translated by

Tahir ul Qadri

Info

اور جب وہ ( مصر میں ) داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا ، وہ ( حکم ) انہیں اﷲ ( کی تقدیر ) سے کچھ نہیں بچا سکتا تھا مگر یہ یعقوب ( علیہ السلام ) کے دل کی ایک خواہش تھی جسے اس نے پورا کیا ، اور ( اس خواہش و تدبیر کو لغو بھی نہ سمجھنا ، تمہیں کیا خبر! ) بیشک یعقوب ( علیہ السلام ) صاحبِ علم تھے اس وجہ سے کہ ہم نے انہیں علمِ ( خاص ) سے نوازا تھا مگر اکثر لوگ ( ان حقیقتوں کو ) نہیں جانتے

Translated by

Hussain Najfi

Info

اور جب وہ لوگ ( مصر میں ) اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا ان کا اس طرح داخل ہونا انہیں خدا ( کی مشیت اور اس کی تقدیر ) سے بچا تو نہیں سکتا تھا مگر یہ ( احتیاطی تدبیر ) یعقوب کے دل میں ایک تمنا تھی جسے انہوں نے پورا کر لیا بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا لیکن اکثر لوگ ( اس حقیقت کو ) نہیں جانتے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

Info

And when they entered in the manner their father had enjoined, it did not profit them in the least against (the plan of) Allah: It was but a necessity of Jacob's soul, which he discharged. For he was, by our instruction, full of knowledge (and experience): but most men know not.

Translated by

Muhammad Sarwar

Info

Even though they entered the town as their father had told them, it would not have been of any avail to them against the decree of God. It only served to satisfy Jacob's desire and judgment. He was certainly well versed by Our instruction, but most people do not know.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

Info

And when they entered according to their father's advice, it did not avail them in the least against (the will of) Allah; it was but a need of Ya`qub's inner self which he discharged. And verily, he was endowed with knowledge because We had taught him, but most men know not.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

Info

And when they had entered as their father had bidden them, it did not avail them aught against Allah, but (it was only) a desire in the soul of Yaqoub which he satisfied; and surely he was possessed of knowledge because We had given him knowledge, but most people do not know.

Translated by

William Pickthall

Info

And when they entered in the manner which their father had enjoined, it would have naught availed them as against Allah; it was but a need of Jacob's soul which he thus satisfied; and lo! he was a lord of knowledge because We had taught him; but most of mankind know not.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

Info

और जब वे दाख़िल हुए जहाँ से उनके वालिद ने उनको हिदायत की थी, वह उनको बचा नहीं सकता था अल्लाह की किसी बात से, वह बस याक़ूब (अलै॰) के दिल में एक ख़्याल था जो उसने पूरा किया, बेशक वह हमारी दी हुई तालीम की वजह से साहिबे-इल्म था मगर अकसर लोग नहीं जानते।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Info

اور جب مصر (پہنچ کر) جس طرح ان کے باپ نے کہا تھا (اسی شہر کے) اندر داخل ہوئے تو باپ کا ارمان پورا ہوگیا (باقی) ان کے باپ کو ان سے (یہ تدبیر بتلا کر) خدا کا حکم ٹالنا مقصود نہ تھا لیکن یعقوب (علیہ السلام) کے جی میں (درجہ تدبیر میں) ایک ارمان (آیا) تھا جس کو انھوں نے ظاہر کردیا اور وہ بلاشبہ بڑے عالم تھے بایں وجہ کہ ہم نے ان کو علم دیا تھا لیکن اکثر لوگ اس کا علم نہیں رکھتے۔ (68)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Info

” اور جب داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو حکم دیا تھا، وہ ان سے اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو ٹال نہیں سکتا تھا مگر یعقوب کے دل میں ایک خلش تھی جو اس نے پوری کی اور بلاشبہ وہ یقیناً بہت علم والا تھا، وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسے علم عطا کیا تھا اور اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ (٦٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں ( متفرق دروازوں سے) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدابیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں پس یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لئے اس نے اپنی سی کوشش کرلی۔ بیشک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info

اور جب وہ اسی طرح داخل ہوئے جیسے ان کے والد نے انہیں حکم دیا تھا اللہ کے حکم سے ذرا بھی انہیں کوئی چیز بچانے والی نہ تھی مگر یعقوب کے جی میں ایک حاجت تھی جسے اس نے پورا کرلیا اور بلاشبہ وہ علم والے تھے اس وجہ سے کہ ہم نے انہیں سکھایا اور لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Info

اور جب داخل ہوئے جہاں سے کہا تھا ان کے باپ نے کچھ نہ بچا سکتا تھا ان کو اللہ کی کسی بات سے مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں سو پوری کرچکا، اور وہ تو خبردار تھا جو کچھ ہم نے اس کو سکھایا، لیکن بہت لوگوں کو خبر نہیں

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

اور جب یہ لڑکے شہر میں اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے ان کو کہہ دیا تھا تو یہ احتیاطی تدبیر حکم الٰہی میں سے کسی شے کو بھی ان لڑکوں پر سے ٹال نہیں سکتی تھی مگر ہاں یعقوب کے دل میں ایک ارمان اور خواہش تھی جسے اس نے پورا کرلیا اور بلا شبہ یعقوب (علیہ السلام) بڑا عالم تھا کیوں کہ ہم نے اسے تعلیم دی تھی لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ،

Related Verses

46
Surat ul Baqara
2:58
وَ اِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ فَکُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطٰیٰکُمۡ ؕ وَ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾
And [recall] when We said, "Enter this city and eat from it wherever you will in [ease and] abundance, and enter the gate bowing humbly and say, 'Relieve us of our burdens.' We will [then] forgive your sins for you, and We will increase the doers of good [in goodness and reward]."
اور ہم نے تم سے کہا کہ اس بستی میں جاؤ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو با فراغت کھاؤ پیو اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو اور زبان سے حطہ کہو ہم تمہاری خطائیں معاف فرما دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے ۔
Surat ul Baqara
2:208
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۰۸﴾
O you who have believed, enter into Islam completely [and perfectly] and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.
ایمان والو !اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے ۔
Surat ul Baqara
2:214
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ ﴿۲۱۴﴾
Or do you think that you will enter Paradise while such [trial] has not yet come to you as came to those who passed on before you? They were touched by poverty and hardship and were shaken until [even their] messenger and those who believed with him said,"When is the help of Allah ?" Unquestionably, the help of Allah is near.
کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سُن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے ۔
Surat Aal e Imran
3:142
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
Or do you think that you will enter Paradise while Allah has not yet made evident those of you who fight in His cause and made evident those who are steadfast?
کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک اللہ تعالٰی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟
Surat un Nissa
4:154
وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ﴿۱۵۴﴾
And We raised over them the mount for [refusal of] their covenant; and We said to them, "Enter the gate bowing humbly", and We said to them, "Do not transgress on the sabbath", and We took from them a solemn covenant.
اور ان کا قول لینے کے لئے ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کر دیا اور انہیں حکم دیا کہ سجدہ کرتے ہوئے دروازے میں جاؤ اور یہ بھی فرمایا کہ ہفتہ کے دن میں تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے سخت سے سخت قول و قرار لئے ۔
Surat ul Maeeda
5:21
یٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَۃَ الَّتِیۡ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ وَ لَا تَرۡتَدُّوۡا عَلٰۤی اَدۡبَارِکُمۡ فَتَنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿۲۱﴾
O my people, enter the Holy Land which Allah has assigned to you and do not turn back [from fighting in Allah 's cause] and [thus] become losers."
اے میری قوم والو! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالٰی نے تمہارے نام لکھ دی ہے اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو کہ پھر نقصان میں جا پڑو ۔
Surat ul Maeeda
5:23
قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمَا ادۡخُلُوۡا عَلَیۡہِمُ الۡبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡہُ فَاِنَّکُمۡ غٰلِبُوۡنَ ۬ ۚ وَ عَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۳﴾
Said two men from those who feared [to disobey] upon whom Allah had bestowed favor, "Enter upon them through the gate, for when you have entered it, you will be predominant. And upon Allah rely, if you should be believers."
دو شخصوں نے جو خدا ترس لوگوں میں سے تھے ، جن پر اللہ تعالٰی کا فضل تھا کہا کہ تم ان کے پاس دروازے میں تو پہنچ جاؤ ۔ دروازے میں قدم رکھتے ہی یقیناً تم غالب آجاؤ گے ، اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالٰی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے
Surat ul Maeeda
5:61
وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَ ہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
And when they come to you, they say, "We believe." But they have entered with disbelief [in their hearts], and they have certainly left with it. And Allah is most knowing of what they were concealing.
اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کفر لئے ہوئے ہی آئے تھے اسی کفر کے ساتھ ہی گئے بھی اور یہ جو کچھ چھپا رہے ہیں اسے اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے ۔
Surat ul Anaam
6:159
اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
Indeed, those who have divided their religion and become sects - you, [O Muhammad], are not [associated] with them in anything. Their affair is only [left] to Allah ; then He will inform them about what they used to do.
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالٰی کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے ۔