TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Root words of Surat ul Baqara 2:186, word 7 اُجِيْبُ

The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.

Verse 2:186 word by word

Open the verse
Verb

I respond

میں جواب دیتا ہوں

Tap any part above to see where else it appears

Verb form 4

جوب
جَابَ
Perfect
يَجُوْب
Imperfect
جُبْ
Imperative
جَائِب
Active participle
مَجُوْب
Passive participle
جَوْب
Verbal noun

Mufradat ul Quran

Imam Raghib Isfahani

اَلْجَوْبُ: (ض) اس کے اصل معنیٰ جَوْبَۃ قطع کرنے کے ہیں اور یہ پست زمین کی طرح (زمین میں گڑھا سا) ہوتا ہے۔ پھر ہر طرح زمین کے قطع کرنے پر بولا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے: (وَ ثَمُوۡدَ الَّذِیۡنَ جَابُوا الصَّخۡرَ بِالۡوَادِ ۪) (۸۹:۹) اور ثمود کے ساتھ کیا کیا جو وادی (قریٰ) میں پتھر تراشتے (اور مکانات بناتے تھے۔) (الْجَائِبَۃُ: پھیلنے والی) محاورہ ہے: ھَلْ عِنْدَکَ مِنْ جَائِبَۃِ خَبَرٍ؟ کیا تمہارے پاس کوئی نشر ہونے والی خبر ہے۔ جَوَابُ الْکَلَامِ۔ اور کسی کلام کے جواب کو بھی جواب اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ قائل کے منہ سے نکل کر فضا کو قطع کرتا ہوا سامع کے کان تک پہنچتا ہے مگر عرف میں ابتدائً کلام کرنے کو جواب نہیں کہتے ہیں بلکہ کلام کے لوٹانے پر جواب کا لفظ بولا جاتا ہے۔ قرآن میں ہے: (فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوۡمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا ) (۲۷:۵۶) تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ تولے اور اس کے سوا ان کا جواب نہ تھا۔ پھر جواب کا لفظ سوال کے مقابلہ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور سوال دو قسم پر ہے۔ (۱) گفتگو کا طلب کرنا۔ اس کا جواب گفتگو ہی ہوتی ہے۔ (۲) طلب عطا یعنی خیرات طلب کرنا اس کا جواب یہ ہے کہ اسے خیرات دے دی جائے، چنانچہ اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا: (اَجِیۡبُوۡا دَاعِیَ اللّٰہِ ) (۴۶:۳۱) خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول کرو۔ (وَ مَنۡ لَّا یُجِبۡ دَاعِیَ اللّٰہِ ) (۴۶:۳۲) اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے۔ اور دوسرے معنی کے اعتبار سے فرمایا: (قَالَ قَدۡ اُجِیۡبَتۡ دَّعۡوَتُکُمَا فَاسۡتَقِیۡمَا) (۱۰:۸۹) کہ تمہاری دعا قبول کرلی گئی تو تم ثابت قدم رہنا اَلْاِسْتَجَابَۃُ: بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنیٰ اِجَابَۃُ (افعال) کے ہے اصل میں اس کے معنیٰ جواب کے لئے تحری کرنے اور اس کے لئے تیار ہونے کے ہیں لیکن اسے اِجَابَۃٌ سے تعبیر کرلیتے ہیں، کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے۔ قرآن پاک میں ہے: (اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ ) (۸:۲۴) کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو۔ (ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ) (۴۰:۶۰) کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (فَاسۡتَجَابَ لَہُمۡ رَبُّہُمۡ ) (۳:۱۹۵) تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی۔ (وَ یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) (۴۲:۲۶) اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کی دعا قبول فرماتا۔ (وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ ) (۴۲:۳۸) اور جو اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔ (وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ ) (۲:۱۸۶) اور اے پیغمبر! جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہ دوکہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیے کہ میرے حکموں کو مانیں۔ (اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ) (۳:۱۷۲) جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول کے حکم کو قبول کیا۔

Lemma / Derivative

8 results

أُجِيبَت
2:186
میں جواب دیتا ہوں
I respond
اُجِيْبُ
5:109
جواب دیے گئے تھے تم کو
was (the) response you received?"
اُجِبْتُمْ
10:89
قبول کرلی گئی
has been answered
اُجِيْبَتْ
14:44
ہم جواب دیں
we will answer
نُّجِبْ
27:62
جو جواب دیتا
responds
يُّجِيْبُ
28:65
جواب دیا تم نے
did you answer
اَجَبْتُمُ
46:31
جواب دو ۔ دعوت قبول کرو
Respond
اَجِيْبُوْا
46:32
جواب دے
respond
يُجِبْ