Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 50

سورة البقرة

وَ اِذۡ فَرَقۡنَا بِکُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَیۡنٰکُمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾

And [recall] when We parted the sea for you and saved you and drowned the people of Pharaoh while you were looking on.

اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا چیر ( پھاڑ ) دیا اور تمہیں اس سے پار کر دیا اور فرعونیوں کو تمہاری نظروں کے سامنے اس میں ڈبو دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And (remember) when We separated the sea for you and saved you and drowned Fir`awn's (Pharaoh) people while you were watching. means, `After We saved you from Fir`awn and you escaped with Musa; Fir`awn went out in your pursuit and We parted the sea for you.' Allah mentioned this story in detail, as we will come to know, Allah willing. One of the shortest references to this story is Allah's statement, فَأَنجَيْنَاكُمْ (And saved you) meaning, "We saved you from them, drowning them while you watched, bringing relief to your hearts and humiliation to your enemy." Fasting the Day of `Ashura It was reported that the day the Children of Israel were saved from Fir`awn was called the day of Ashura. Imam Ahmad reported that Ibn Abbas said that; the Messenger of Allah came to Al-Madinah and found that the Jews were fasting the day of Ashura. He asked them, "What is this day that you fast?" They said, "This is a good day during which Allah saved the Children of Israel from their enemy, and Musa used to fast this day." The Messenger of Allah said, أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُم I have more right to Musa than you have. So the Messenger of Allah fasted that day and ordered that it be fasted. This Hadith was collected by Al-Bukhari, Muslim, An-Nasa'i and Ibn Majah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

50۔ 1 سمندر کا یہ پھاڑنا اور اس میں سے راستہ بنادینا ایک معجزہ تھا جس کی تفصیل سورة شعراء میں بیان کی گئی ہے۔ یہ سمندر کا مدوجزر نہیں تھا جیسا کہ سر سید احمد خان اور دیگر منکرین معجزات کا خیال ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٩] بنی اسرائیل پر بیتے ہوئے تاریخی واقعات چونکہ بہت مشہور اور زبان زد خاص و عام تھے۔ لہذا یہاں ان کا اجمالی ذکر ہی آیا ہے۔ البتہ بعض دوسرے مقامات پر ان کی تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ انہیں میں سے ایک واقعہ بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون کی غرقابی کا بھی ہے۔ بنی اسرائیل کی گؤ سالہ پرستی :۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل جب جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ اس نئی آزاد شدہ قوم (بنی اسرائیل) کو عملی ہدایات و احکام عطا کئے جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد اس قوم نے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ مصر میں گؤ سالہ پرستی کا عام رواج تھا۔ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل انحطاط کا شکار ہوگئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں (فرعونیوں) کے غلام بن گئے۔ انہیں کی بود و باش اپنانے میں عافیت سمجھی اور منجملہ دوسری رذیلہ امراض کے گؤ سالہ پرستی کو بھی اپنا لیا۔ فرعون سے نجات پا جانے کے بعد تاحال گؤ سالہ پرستی کے جراثیم ان سے ختم نہیں ہوئے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (٩٠) اور سورة شعراء (٥٢ تا ٦٧)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Verse 50 refers to certain things which had happened in the days of Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses). He, in his capacity as a messenger of Allah, continued efforts for a long time to make the Pharaoh and his people see Truth, but when they persisted in their denial, Allah commanded him to take the Israelites along with him and leave Egypt surreptitiously. On their way, they came across a sea while the Pharaoh was behind him with his army in hot pursuit. Allah commanded the sea to split, and make way for Sayyidna Musa (علیہ السلام) and his people. So, they went over smoothly. But when the Pharaoh and his army followed them into the sea, it gathered the water back so that the Pharaoh and his men were drowned then and there. A doctrinal point Verse 50 speaks of the splitting of the sea, and clearly proves that miracles do occur at the hands of prophets, which some Westernized Muslims have been trying to deny. (Bayn al-Quran (

خلاصہ تفسیر : اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ شق کردیا ہم نے تمہارے ( رستہ دینے کی) وجہ سے دریائے شور کو پھر ہم نے (ڈوبنے سے) بچا لیا تم کو اور غرق کردیا متعلقین فرعون کو (مع فرعون کے) اور تم (اس کا) معائنہ کر رہے تھے، فائدہ : یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے جب وہ کسی طرح نہ مانا تو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو خفیہ طور پر لے کر یہاں سے چلے جاؤ، راستہ میں دریا حائل ہوا اور اسی وقت پیچھے سے فرعون بھی مع لشکر آپہنچا حق تعالیٰ کے حکم سے دریا شق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو گذرنے کا راستہ مل گیا یہ تو پار ہوگئے فرعون کے پہنچنے تک دریا اسی طرح رہا وہ بھی تعاقب کی غرض سے اس میں گھس گیا اس وقت سب طرف سے دریا سمٹ کر اپنی سابق حالت پر ہوگیا اور فرعون اور اس کے ساتھی سب وہاں ہی غرق ہو کر ختم ہوگئے،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَيْنٰكُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۝ ٥٠ فرق الفَرْقُ يقارب الفلق لکن الفلق يقال اعتبارا بالانشقاق، والفرق يقال اعتبارا بالانفصال . قال تعالی: وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] ، والفِرْقُ : القطعة المنفصلة، ومنه : الفِرْقَةُ للجماعة المتفرّدة من النّاس، وقیل : فَرَقُ الصّبح، وفلق الصّبح . قال : فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] ، ( ف ر ق ) الفرق والفلق کے قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن معنی انشقاق یعنی پھٹ جانا کے لحاظ سے فلق کا لفظ بولا جاتا ہے اور مغی انفعال یعنی الگ الگ ہونے کے لحاظ سے فرق قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا ۔ اور الفراق کے معنی الگ ہونے والا ٹکڑہ کے ہیں اسی سے فرقۃ ہے جس کے معنی لوگوں کا گروہ یا جماعت کے ہیں ۔ اور طلوع فجر پر فرق اور فلق دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا یوں ہوگیا ( کہ ) گویا بڑا پہاڑ ہے بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ في العلم : التوسع واعتبر من البحر تارة ملوحته فقیل : ماء بَحْرَانِي، أي : ملح، وقد أَبْحَرَ الماء . قال الشاعر : 39- قد عاد ماء الأرض بحرا فزادني ... إلى مرضي أن أبحر المشرب العذب «2» وقال بعضهم : البَحْرُ يقال في الأصل للماء الملح دون العذب «3» ، وقوله تعالی: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] إنما سمي العذب بحرا لکونه مع الملح، كما يقال للشمس والقمر : قمران، وقیل السحاب الذي كثر ماؤه : بنات بحر «4» . وقوله تعالی: ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] قيل : أراد في البوادي والأرياف لا فيما بين الماء، وقولهم : لقیته صحرة بحرة، أي : ظاهرا حيث لا بناء يستره . ( ب ح ر) البحر ( سمندر ) اصل میں اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں کثرت سے پانی جمع ہو پھر کبھی اس کی ظاہری وسعت کے اعتبار سے بطور تشبیہ بحرت کذا کا محارہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی سمندر کی طرح کسی چیز کو وسیع کردینا کے ہیں اسی سے بحرت البعیر ہے یعنی میں نے بہت زیادہ اونٹ کے کان کو چیز ڈالا یا پھاڑ دیا اور اس طرح کان چر ہے ہوئے اونٹ کو البحیرۃ کہا جا تا ہے قرآن میں ہے ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] یعنی للہ تعالیٰ نے بحیرہ جانور کا حکم نہیں دیا کفار کی عادت تھی کہ جو اونٹنی دس بچے جن چکتی تو اس کا کان پھاڑ کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ بوجھ لادیتے ۔ اور جس کو کسی صنعت میں وسعت حاصل ہوجائے اسے بحر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ بہت زیادہ دوڑ نے والے گھوڑے کو بحر کہہ دیا جاتا ہے ۔ آنحضرت نے ایک گھوڑے پر سواری کے بعد فرمایا : ( 26 ) وجدتہ بحرا کہ میں نے اسے سمندر پایا ۔ اسی طرح وسعت علمی کے اعتبار سے بھی بحر کہہ دیا جاتا ہے اور تبحر فی کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں چیز میں بہت وسعت حاصل کرلی اور البتحرفی العلم علم میں وسعت حاصل کرنا ۔ اور کبھی سمندر کی ملوحت اور نمکین کے اعتبار سے کھاری اور کڑوے پانی کو بحر انی کہد یتے ہیں ۔ ابحرالماء ۔ پانی کڑھا ہوگیا ۔ شاعر نے کہا ہے : ( 39 ) قدعا دماء الا رض بحر فزادنی الی مرض ان ابحر المشراب العذاب زمین کا پانی کڑوا ہوگیا تو شریں گھاٹ کے تلخ ہونے سے میرے مرض میں اضافہ کردیا اور آیت کریمہ : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] بحرین ھذا عذاب فرات ولھذا وھذا ملح اجاج ( 25 ۔ 53 ) دو دریا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری ہے چھاتی جلانے والا میں عذاب کو بحر کہنا ملح کے بالمقابل آنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ سورج اور چاند کو قمران کہا جاتا ہے اور بنات بحر کے معنی زیادہ بارش برسانے والے بادلوں کے ہیں ۔ اور آیت : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ بحر سے سمندر مراد نہیں ہے بلکہ بر سے جنگلات اور بحر سے زرخیز علاقے مراد ہیں ۔ لقیتہ صحرۃ بحرۃ میں اسے ایسے میدان میں ملا جہاں کوئی اوٹ نہ تھی ؟ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو ہم نے نجات دی ۔ غرق الغَرَقُ : الرّسوب في الماء وفي البلاء، وغَرِقَ فلان يَغْرَقُ غَرَقاً ، وأَغْرَقَهُ. قال تعالی: حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] ، ( غ ر ق ) الغرق پانی میں تہ نشین ہوجانا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانا ۔ غرق ( س) فلان یغرق غرق فلاں پانی میں ڈوب گیا ۔ قرآں میں ہے : حَتَّى إِذا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ [يونس/ 90] یہاں تک کہ جب اسے غرقابی نے آلیا ۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٠) اور جس وقت ہم نے دریا کو پھاڑ کر تمہیں غرق ہونے سے بچایا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کردیا اور اس منظر کو تم تین دن بعد تک دیکھتے رہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٠ (وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ ) یہ ایک مختلف فیہ بات ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نمائے سینا آنے کے لیے کس سمندر یا دریا کو عبور کیا تھا۔ ایک رائے یہ ہے کہ دریائے نیل کو عبور کر کے گئے تھے ‘ لیکن یہ بات اس اعتبار سے غلط ہے کہ دریائے نیل تو مصر کے اندر بہتا ہے ‘ وہ کبھی بھی مصر کی حد نہیں بنا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ بحیرۂ قلزم (Red Sea) اوپر جا کر دو کھاڑیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ مشرق کی طرف خلیج عقبہ اور مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور ان کے درمیان جزیرہ نمائے سینا (Sinai Peninsula) ہے۔ یہ اسی طرح کی تکون ہے جیسے جزیرہ نمائے ہند (Indian Peninsula) ہے۔ خلیج سویز اور بحیرۂ روم کے درمیان کئی بڑی بڑی جھیلیں تھیں ‘ جن کو باہم جوڑ جوڑ کر ‘ درمیان میں حائل خشکی کو کاٹ کر نہر سویز بنائی گئی ہے ‘ جو اب ایک مسلسل رابطہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ مجھے خود بھی اسی رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ کوہ طور اس جزیرہ نمائے سینا کی نوک (tip) پر واقع ہے ‘ جہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو چالیس دن رات کے لیے بلایا گیا اور پھر انہیں تورات دی گئی۔ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو اس طرح عبور کیا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے عصا کی ایک ضرب سے سمندر پھٹ گیا۔ ازروئے الفاظ قرآنی : (فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ) (الشُّعراء) ” پس سمندر پھٹ گیا اور ہوگیا ہر حصہ جیسے بڑا پہاڑ “۔ سمندر کا پانی دونوں طرف پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا اور بنی اسرائیل اس کے درمیان میں سے نکل گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے جب فرعون اپنا لشکر لے کر آیا تو اس نے سوچا کہ ہم بھی ایسے ہی نکل جائیں گے ‘ لیکن وہ غرق ہوگئے۔ اس لیے کہ دونوں طرف کا پانی آپس میں مل گیا۔ یہ ایک معجزانہ کیفیت تھی اور یہ بات فطرت (nature) کے قوانین کے مطابق نہیں تھی۔ (فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) ” “ تمہاری نگاہوں کے سامنے فرعون کے لاؤ لشکر کو غرق کردیا۔ بنی اسرائیل خلیج سویز سے گزر چکے تھے اور دوسری جانب کھڑے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ادھر سے فرعون اور اس کا لاؤ لشکر سمندر میں داخل ہوا تو پانی دونوں طرف سے آکر مل گیا اور یہ سب غرق ہوگئے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

41 : اس کا واقعہ بھی مذکورہ بالا دو سورتوں میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:50) واذ۔۔ ملاحظہ ہو (2:49) فرقنا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے پھاڑ دیا، ہم نے الگ الگ کردیا۔ فوق مصدر بمعنی الگ الگ ہونا ۔ اسی سے فرقہ ہے جو جماعت سے الگ ہوگیا ہو۔ ب بمعنی ل ہے۔ واذ فرقنا بکم البحر۔ جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا فلق بھی قریب قریب انہی معنوں میں آتا ہے قرآن مجید میں ہے فانقلق فکان کل فرق کا الطود العظیم (6:63) تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا یوں ہوگیا ، گویا بڑا پہاڑ ہو البحر سے مراد بحیرہ قلزم ہے جسے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم نے مصر سے ہجرت کے وقت طے کیا تھا۔ فانجینکم ۔ ن تعقیب کی ہے انجینا ماضی کا صیغ جمہ متکلم ۔ انجاء (افعال) مصدر نجو مادہ۔ بچالینا ، نجات دینا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ پس ہم نے تم کو بچا لیا دریا میں ڈوبنے سے، یا فرعون اور اس کی فوج کے ہاتھوں پکڑے جانے سے۔ وانتم تنظرون ۔ جملہ حالیہ ہے اغرقنا سے ۔ درآں حالیکہ تم ان کا غرق ہونا دیکھ رہے تھے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3) بآلا خر فرعون کے مظالم برداشت کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) ایک رات بنی اسرائیل کو مصر سے روانہ ہوگئے اور راستہ بھو لنے کی وجہ سے صبح کے قریب مصر سے مشرق کی طرف بحر قلزم کے شمالی تنگنائے پر پہنچ گئے۔ اب دائیں بائیں پہاڑ یاں تھیں اور پیچھے سے فرعون کا لشکر تعاقب میں تھا اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی سمٹ کر دونوں جانب پہاڑوں کی طرح کھڑا ہوگیا اور درمیان میں راستہ بن گیا۔ اسرائیلی سمندر پار کر گئے ان کے تعاقب میں فوعونی بھی سمندر میں داخل ہوگئے اتنے میں سمندر کا پانی حسب معمول آگیا اور فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوگیا مفصل دیکھئے ( سورة شعرا رکوع :4) یہ واقعہ عاشورہ کے دن پیش آیا صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ یہود عاشورہ کے دن کا روزہ کھتے ہیں۔ دریافت کرنے پر انہوں نے جواب دیا کہ ایک مبارک دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات دلائی تھی اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن کا روزہ کھا تھا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا موسیٰ سے ہمیں خصیت حاصل ہے چناچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نے خود بھی روزہ کھا اور صحابہ کو بھی حکم دیا، (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ “ اس نجات کی تفصیلات سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بالتفصیل آچکی تھی۔ یہاں ان لوگوں کو جو تفصیلات سے واقف تھے ، محض یاددہانی کے طور پر بتایا جارہا ہے ۔ مخاطب اس قصے کی تفصیلات کو جانتے تھے ، قرآن کریم سے یا اپنے محفوظ قصوں یا مذہبی کتابوں کی وساطت سے ، یہاں ان کے سامنے دوبارہ اس نجات کی تصویر کشی کی جارہی ہے تاکہ وہ اسے پردہ خیال پر لاکر اس سے متاثر ہوں ۔ انداز بیان تو دیکھئے کہ گویا خودمخاطب دیکھ رہے ہیں کہ دریا پھٹ رہا ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں دریا کو پار کررہے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان ، یعنی منظر کشی کے ذریعے مخاطب کو تاثر دینا ، وہ خاص معجزانہ اسلوب بیان ہے جو قرآن کے لئے مخصوص ہے ۔ اب گفتگوکا سلسلہ خروج بنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ بنی اسرائیل مصر کی غلامی سے نجات پاچکے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بنی اسرائیل کا سمندر پار کر کے نجات پانا اور آل فرعون کا غرق ہونا اس آیت شریفہ میں اجمالی طور پر مصریوں سے بنی اسرائیل کی نجات اور آل فرعون کی بربادی اور ہلاکت کا ذکر ہے اللہ جل شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی آبادیوں سے نکل جاؤ اس وقت مصر میں فرعون کی حکومت تھی فرعون مصر کے ہر فرمانروا کو کہا جاتا تھا اور اس فرعون کا نام جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں تھا بعض مفسرین نے ولید بتایا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اس کا نام بھی موسیٰ تھا۔ اس کا تعلق قوم عاد سے بتاتے ہیں۔ یہ بڑا سرکش بادشاہ تھا اپنے آپ کو سب سے اونچا معبود منواتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو رات کو لے کر مصر کی آبادی سے نکل گئے اور سمندر کے کنارے پہنچ گئے ان کے نکلنے کی جب فرعون اور آل فرعون کو خبر لگی تو فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچ چکے تھے سورج نکل چکا تھا فرعون جو اپنے لشکروں کے ساتھ پیچھے سے پہنچا تو بنی اسرائیل گھبرا گئے اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ (اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ) (کہ ہم تو دھر لئے گئے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : (کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ) (ہرگز نہیں بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے اور وہ ضرور مجھے راہ بتائے گا) اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی بھیجی کہ تم اپنی لاٹھی سمندر میں مارو ! انہوں نے سمندر میں لاٹھی ماری تو سمندر پھٹ گیا اور پہاڑوں کے برابر اس کے ٹکڑے ہوگئے ان پانی کے پہاڑوں کے درمیان زمین خشک ہوگئی اور بنی اسرائیل کے قبیلے ان پہاڑوں کے درمیان سے گزر گئے۔ فرعون نے بھی اپنی جماعتوں اور لشکروں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا اور یہ لوگ بھی سمندر میں داخل ہوگئے بنی اسرائیل کا پار ہونا تھا اور فرعون اور اس کے لشکر کا سمندر میں داخل ہونا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو ملا دیا اور فرعون اپنے لشکروں اور جماعتوں سمیت ڈوب گیا ان کے ڈوبنے کے اس منظر کو بنی اسرائیل اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے جس کو اس آیت میں (وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) سے تعبیر فرمایا ہے۔ فرعون جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں بھی ایمان لاتا ہوں کہ اس ذات کے علاوہ کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔ اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ ارشاد ہوا (اآلْءٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ کُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ) (کیا اب ایمان لاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا) ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، فرعون غرق ہو کر ہلاک تو ہوا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی نعش کو محفوظ رکھا تاکہ بعد میں آنے والوں کو عبرت ہو جیسا کہ سورة یونس میں فرمایا ہے (فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰٰیَۃً ) (سو آج ہم تیری لاش کو نجات دیں گے تاکہ تیری ذات ان لوگوں کے لیے عبرت ہوجائے جو تیرے بعد میں آنے والے ہیں) ۔ فرعون اور اس کے لشکروں کے غرق ہونے اور بنی اسرائیل کے نجات پانے کا واقعہ سورة طٰہٰ (رکوع ٤) میں اور سورة شعراء (رکوع ٤) میں اور سورة دخان (رکوع ١) میں بھی مذکور ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

110 ۔ یہ دوسرا انعام ہے۔ بِکُمْ میں با بمعنی لام ہے۔ یعنی ہم نے تمہارے لیے سمندر کو چیر کر اس میں راستے بنائے۔ ای فرقنا لکم (معالم ص 49 ج 1، قرطبی ص 387 ج 1) یا " باء " سببیت کے لیے ہے۔ فرقناہ بسببکم وبسبب انجاء کم (کبیر ص 818 ج، روح ص 25 ج 1) اور البحر سے مراد یہاں بحر احمر ہے جس کا دوسرا نام بحر قلزم ہے ویذکران البحر ھو بحر القلزم (قرطبی ص 390 ج 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شب وروز تبلیغ میں مصروف رہے مگر فرعون اور اس کی قوم پر ان کی دعوت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ و ارشاد اور معجزات کے ذریعے ان پر حجت خداوندی قائم کردی۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے مظلوم بنی اسرائیل کی آہ و پکار سن لی جو مدت ہائے دراز سے فرعونیوں کے ظلم وستم وسہہ رہے تھے اب فرعونیوں پر عذاب الٰہی کے نزول کا وقت آپہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کو ساتھ لے کر ہجرت کر جانے کا حکم دیدیا۔ چناچہ وہ راتوں رات چل نکلے اور چلتے چلتے سمندر کے کنارے جا پہنچے۔ ادھر فرعون کو خبر ہوگئی۔ وہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر ان کی تلاش میں چل نکلا۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ سامنے سمندر ہے اور پیچھے دشمن اور دائیں بائیں پہاڑ تو گھبرا اٹھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی پا کر اپنا عصا سمندر میں مارا جس سے فوراً سمندر کا پانی سمٹ گیا اور اس میں بارہ کشادہ راستے بن گئے۔ اسرائیلی ان راستوں کے ذریعے سمندر پار کر کے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے۔ آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ 111 ۔ جب فرعون لاؤ لشکر لیکر ساحل سمندر پر پہنچا اور سمندر میں خشک راستے دیکھے تو اس نے بھی اپنا گھوڑا سمندر میں اتار دیا اور اس کے پیچھے سارا لشکر سمندر میں گھس گیا۔ جب سارا لاؤ لشکر سمندر میں اتر گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو جاری کر کے سب کو غرق کردیا فرعونیوں کے غرق ہونے کا یہ نظارہ اسرائیلیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1۔ اور اے بنی اسرائیل اس زمانے کو یاد کرو جبکہ ہم نے تم کو فرعون کی قوم اور اس کے متبعین کے مظالم اور ان کی غلامی سے نجات دی جن کی حالت یہ تھی کہ وہ تم کو سخت اور بدترین سزا دینے کی تلاش اور فکر میں لگے رہتے تھے اور وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑدیا کرتے تھے اور سا عذاب اور اس نجات میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی اور تم وہ موقعہ بھی یاد کرو جب ہم نے تمہارے راستہ دینے کی خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر ہم نے تم کو تو غرق ہونے سے بچا لیا اور فرعون کی قوم اور اس کے متعبین کو تمہاری آنکھوں دیکھتے اس سمندر میں غرق کردیا۔ (تیسیرا) فرعون عمالقہ کی قوم میں سے تھا اور وہ سام بن نوح کی اولاد میں سے تھا اس کا نام تو اصل میں ولید بن مصعب تھا لیکن مصر کے بادشاہوں کا لقب اس زمانے میں فرعون تھا جیسا ایران کے بادشاہوں کو کسریٰ اور روم کے بادشاہوں کو قیصر اور یمن کے بادشاہوں کو تبغ اور حبش کے بادشاہوں کو نجاشی کہا جاتا تھا اسی طرح شاہان مصر کو فرعون کہتے تھے۔ آل سے یہاں فرعون کی قوم اور اس کے متعلقین مراد ہیں یہ لوگ بنی اسرائیل پر طرح طرح کے مظالم توڑا کرتے تھے اور جب سے ان کو کاہنوں اور نجومیوں نے یہ بتادیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری سلطنت کے لئے اور تیرے لئے ہلاکت کا موجب ہوگا تب سے انہوں نے بنی اسرائیل کے ہر پیدا شدہ بچہ کو قتل کرنا شروع کردیا تھا لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے مگر اولاد ذکور اور نرینہ اولاد کو ذبح کر ڈالتے تھے مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسویٰ کو پروان چڑھایا اور بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزاد بخشی اور فرعون اور آل فرعون کو غرق کردیا اور فرعون اور آل فرعون کا غرق اس طرح واقع ہوا کہ بنی اسرائیل کنارے پر کھڑے یہ تمام منظر دیکھ رہے تھے سحر ایسے دریا کو کہتے ہیں جس کا پانی شور اور کھاری ہو۔ علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ سجر سے مراد قلزم ہے اور سجر قلزم کی کنیت ابو خالد ہے چونکہ یہ واقعہ بنی اسرائیل میں مشہور تھا اس لئے یہاں اجمالاً اس کا ذکر فرمایا دوسری جگہ انشاء اللہ تفصیل آئیگی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ابو یعلی نے ایک ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے ہ بنی اسرائیل کے لئے دریا جس دن پھاڑا گیا ہے وہ دن عاشور ہ یعنی محرم کی دسویں تاریخ تھی۔ فائدہ : وفی ذلکم کا مشار الیہ بعض نے نجات کو اور بعض نے عذاب کو قرار دیا ہے ہم نے دونوں احتمال کی رعایت کر کے ترجمہ کیا ہے اور بلا کا ترجمہ امتحان اور آزمائش سے کیا اور یہ واقعہ ہے کہ حضرت حق مجل مجدہ خیر اور شرک کی دونوں حالتوں میں بندے کی آزمائش کیا کرتے ہیں جیسا کہ سورة انبیاء میں ارشاد ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنہ۔ (تسہیل) ۔