Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 6

سورة البقرة

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۶﴾

Indeed, those who disbelieve - it is all the same for them whether you warn them or do not warn them - they will not believe.

کافروں کو آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے ، یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah said, إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُوْمِنُونَ Verily, those who disbelieve, it is the same to them whether you warn them or do not warn them, they will not believe. إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ (Verily, those who disbelieve) meaning, covered the truth and hid it. Since Allah has written that they would do so, it does not matter if you (O Muhammad) warn them or not, they would still have disbelieved in what you were sent with. Similarly, Allah said, إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ وَلَوْ جَأءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ Truly, those against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them, until they see the painful torment. (10:96-97) About the rebellious People of the Book, Allah said, وَلَيِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَـبَ بِكُلِّ ءَايَةٍ مَّا تَبِعُواْ قِبْلَتَكَ And even if you were to bring to the People of the Book (Jews and Christians) all the Ayat, they would not follow your Qiblah (prayer direction). (2:145) These Ayat indicate that whomever Allah has written to be miserable, they shall never find anyone to guide them to happiness, and whomever Allah directs to misguidance, he shall never find anyone to guide him. So do not pity them - O Muhammad - deliver the Message to them. Certainly, whoever among them accepts the Message, then he shall gain the best rewards. As for those who turn away in rejection, do not feel sad for them or concerned about them, for فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ (Your duty is only to convey (the Message) and on Us is the reckoning (13:40), and, إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (But you are only a warner. And Allah is a Wakil (Disposer of affairs, Trustee, Guardian) over all things), (11:12). Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said about Allah's statement, إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَ يُوْمِنُونَ (Verily, those who disbelieve, it is the same to them whether you (O Muhammad) warn them or do not warn them, they will not believe), "That the Messenger of Allah was eager for all the people to believe and follow the guidance he was sent with. Allah informed him that none would believe except for those whom He decreed happiness for in the first place, and none would stray except those who Allah has decreed to do so in the first place."

بدقسمت لوگ یعنی جو لوگ حق کو پوشیدہ کرنے یا چھپا لینے کے عادی ہیں اور ان کی قسمت میں یہی ہے کہ انہیں آپ کا ڈرانا سود مند ہے اور نہ ہی ڈرانا ۔ یہ کبھی اللہ تعالیٰ کی اس وحی کی تصدیق نہیں کریں گے جو آپ پر نازل ہوئی ہے ۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96۝ۙ وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ 97؀ ) 10 ۔ یونس:96-97 ) یعنی جن لوگوں پر اللہ کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے اگرچہ تمام آیتیں دیکھ لیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھیں ۔ ایسے ہی سرکش اہل کتاب کی نسبت فرمایا آیت ( وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ) 2 ۔ البقرۃ:145 ) یعنی ان اہل کتاب کے پاس اگرچہ تمام دلائل لے آؤ تاہم وہ تمہارے قبلہ کو نہیں مانیں گے ۔ یعنی ان بد نصیبوں کو سعادت حاصل ہی نہیں ہو گی ۔ ان گمراہوں کو ہدایت کہاں؟ تو اے نبی ان پر افسوس نہ کر ، تیرا کام صرف رسالت کا حق ادا کر دینا اور پہنچا دینا ہے ۔ ماننے والے نصیب ور ہیں وہ مالا مال ہو جائیں گے اور اگر کوئی نہ مانے تو نہ سہی ۔ تیرا فرض ادا ہو گیا ہم خود ان سے حساب لے لیں گے ۔ تو صرف ڈرانے والا ہے ۔ ہر چیز پر اللہ تعالیٰ ہی وکیل ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس بات کی بڑی ہی حرص تھی کہ تمام لوگ ایمان دار ہو جائیں اور ہدایت قبول کرلیں لیکن پروردگار نے فرمایا کہ یہ سعادت ہر ایک کے حصہ نہیں ۔ یہ نعمت بٹ چکی ہے جس کے حصے میں آئی ہے وہ آپ کی مانے گا اور جو بد قسمت ہیں وہ ہرگز ہرگز اطاعت کی طرف نہیں جھکیں گے ۔ پس مطلب یہ ہے کہ جو قرآن کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم اگلی کتابوں کو مانتے ہیں انہیں ڈرانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس لئے کہ وہ تو خود اپنی کتاب کو بھی حقیقتاً نہیں مانتے کیونکہ اس میں تیرے ماننے کا عہد موجود ہے تو جب وہ اس کتاب کو اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کو نہیں مانتے جس کے ماننے کا اقرار کر چکے تو بھلا وہ تمہاری باتوں کو کیا مانیں گے؟ ابو العالیہ کا قول ہے کہ یہ آیت جنگ احزاب کے ان سرداروں کے بارے میں اتری ہے جن کی نسبت فرمان باری ہے آیت ( اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ ) 14 ۔ ابراہیم:28 ) لیکن جو معنی ہم نے پہلے بیان کئے ہیں وہ زیادہ واضح ہیں اور دوسری آیتوں کے مطابق ہیں ۔ واللہ اعلم ۔ اس حدیث پر جو ابن ابی حاتم کے حوالے سے ابھی بیان ہوئی ہے دوبارہ نظر ڈال جائیے لا یومنون پہلے جملہ کی تاکید ہے یعنی ڈرانا نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں ، دونوں حالتوں میں ان کا کفر نہ ٹوٹے گا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لایومنون خبر ہو اس لئے کہ تقدیر کلام آیت ( ان الذین کفروا لا یومنون ) ہے اور آیت ( سواء علیھم ) جملہ معترضہ ہو جائے گا واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

ف 1 نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ شدید خواہش تھی کہ سب مسلمان ہوجائیں اور اسی حساب سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوشش فرماتے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایمان ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ یہ وہ چند مخصوص لوگ ہیں جن کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی (جیسے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ) ورنہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت و تبلیغ سے بیشمار لوگ مسلمان ہوئے حتٰی کہ پھر پورا جزیرہ عرب اسلام کے سایہ عاطفت میں آگیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(لَا يُؤْمِنُوْنَ ) اس سے مراد تمام کفار تو ہو نہیں سکتے، کیونکہ بیشمار کافر دعوت کے نتیجے میں ایمان لائے اور لا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو پچھلی آیات میں مذکور چھ چیزوں کا یا ان میں سے بعض کا انکار کردیتے ہیں اور ہٹ دھرمی کی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ اگر یہ حق بھی ہو تو ہم اسے نہیں مانیں گے، جیسے بعض یہود مدینہ (بقرۃ : ١٤٦) اور ابو جہل اور اس کے ساتھی وغیرہ (انفال : ٣٢) ۔ جب کوئی طے کرلے کہ میں نے ماننا ہی نہیں تو اسے ایمان کیسے نصیب ہوسکتا ہے ؟ سوئے ہوئے کو جگایا جاتا ہے، جاگتے ہوئے مدہوش کو کون جگا سکتا ہے ؟ اس کے یہ معنی نہیں کہ ڈرانا بالکل فضول ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہر شخص تک پہنچانا فرض ہے، کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اللہ کے علم میں کون ایمان لانے والا ہے اور کس کی قسمت میں کفر پر اصرار ہے، ہمیں ہر حال میں ڈرانے پر ثواب ملے گا اور نہ ڈرانے پر باز پرس ہوگی۔ اس لیے فرمایا کہ ڈرانا نہ ڈرانا ان پر برابر ہے، یہ نہیں فرمایا کہ آپ پر برابر ہے، یہاں ہمزہ کا معنی ’ کیا ‘ نہیں ہوگا، بلکہ یہ برابری کا مفہوم ادا کر رہا ہے، اسے ’ ہمزہ تسویہ ‘ کہتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After affirming the Holy Qur&an as the Book of Guidance and as being beyond all doubt, the first five verses of the present Surah refer to those who derive full benefit from this Book and whom the Holy Qur&an has named as Mu&minun مؤمنون (true Muslims) or Muttaqun مُتَّقون (the God-fearing), and also delineate their characteristic qualities which distinguish them from others. The next fifteen verses speak of those who refuse to accept this guidance, and even oppose it out of sheer spite and blind malice. In the time of the Holy Prophet , (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) there were two distinct groups of such people. On the one hand were those who came out in open hostility and rejection, and whom the Holy Qur&an has termed as kafirun کافرون (disbelievers); on the other hand were those who did not, on account of their moral depravity and greed, had even the courage to speak out their minds and to express their disbelief clearly, but adopted the way of deceit and duplicity. They tried to convince the Muslims that they had faith in the Holy Qur&an and its teachings, that they were as good a Muslim as any and would support the Muslims against the disbelievers. But they nursed denial and rejection in their hearts, and would, in the company of disbelievers, assure them that they had nothing to do with Islam, but mixed with Muslims in order to deceive them and to spy on them. The Holy Qur&an has given them the title of Munafiqun مُنافقون (hypocrites). Thus, these fifteen verses deal with those who refuse to believe in the Holy Qur&an - the first two are concerned with open disbelievers, and the other thirteen with hypocrites, their signs and characteristics and their ultimate end. Taking the first twenty verses of this Surah together in all their detail, one can see that the Holy Qur&an has, on the one hand, pointed out to us the source of guidance which is the Book itself, and, on the other, divided mankind into two distinct groups on the basis of their acceptance or rejection of this guidance - on the one side are those who have chosen to follow and to receive guidance, and are hence called Mu&minun (true Muslims) or Muttaqun مُتَّقون (the God-fearing); on the other side are those who reject the guidance or deviate from it, and are hence called Kafirun (disbelievers) or Munafiqun مُنافقون (hypocrites). People of the first kind are those whose path is the object of the prayer at the end of the Surah Al-Fatihah, صِرَ‌اطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : the path of those on whom You have bestowed Your grace|", and people of the second kind are those against whose path refuge has been sought غَيْرِ‌ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّي Not of those who have incurred Your wrath, nor of those who have gone astray. This teaching of the Holy Qur&an provides us with a fundamental principle. A division of mankind into different groups must, in order to be meaningful, be based on differences in _principle, not on considerations of birth, race, colour, geography or language. The Holy Qur&an has given a clear verdict in this respect: خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ |"It was He that created you: yet some of you are disbelievers and some of you are believers|" (64:2). As we have said, the first two verses of this Surah speak of those disbelievers who had become so stubborn and obstinate in their denial and disbelief that they were not prepared to hear the truth or to consider a clear argument. In the case of such depraved people, the usual way of Allah has always been, and is, that they are given a certain kind of punishment even in this world - that is to say, their hearts are sealed and their eyes and ears stopped against the truth, and in so far as truth is concerned they become as if they have no mind to think, no eyes to see and no ears to listen. The last phrase of the second verse speaks of the grievous punishment that is reserved for them in the other world. It may be observed that the prediction that: لَا يُؤْمِنُونَ they shall not believe|" is specifically related to those disbelievers who refused to listen to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and who, as Allah knew, were going to die as disbelievers. This does not apply to disbelievers in general, for there were many who later accepted Islam. What is Kufr کفر ? (Infidelity) As for the definition of kufr کفر (disbelief), we may point out that lexically the word means to hide, to conceal. Ingratitude is also called kufr کفر ، because it involves the concealing or the covering up of the beneficence shown by someone. In the terminology of the Shari` ah, kufr کفر signifies the denial of any of those things in which it is obligatory to believe. For example, the quintessence of Iman ایمان as well as the very basis of the Islamic creed is the requirement that one should confirm with one&s heart and believe with certitude everything that the Holy Prophet tl has brought down to us from Allah and which has been established by definite and conclusive proof; therefore, a man who has the temerity to question or disregard even a single teaching of this kind will be described as a kafir کافر (disbeliever or infidel). The meaning of &Indhar& انذار (warning) by a Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) In translating the first of these two verses, we have used the English verb to warn& for the Arabic word Indhar. This word actually signifies bringing news which should cause alarm or concern, while Ibshar ابشار signifies bringing good news which should make people rejoice. Moreover, Indhar is not the ordinary kind of warning meant to frighten people, but one which is motivated by compassion and love, just as one warns one&s children against fire or snakes or beasts. Hence a thief or a bandit or an aggressor who warns or threatens others cannot be called a Nadhir نذیر (warner). The latter is a title specially reserved for the prophets (علیہم السلام) for they warn people against the pains and punishments of the other world out of their compassion and love for their fellow men. In choosing this title for the prophets, the Holy Qur&an has made the subtle suggestion that for those who go out to reform others it is not enough merely to convey a message, but that they must speak to their listeners with sympathy, understanding and a genuine regard for their good. In order to comfort the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the first of these verses tells him that some of the disbelievers are so vain, arrogant and opinionated that they, in spite of recognizing the truth, stubbornly persist in their refusal and are not prepared to hear the truth or to see obvious proofs, so that all the efforts he makes for reforming and converting them will bear no fruit, and for them it is all one whether he tries or not. The next verse explains the reason, that is, Allah has set a seal on their hearts and ears, there is a covering on their eyes, all the avenues of knowing and understanding are thus closed, and now it would be futile to expect any change in them. A thing is sealed so that nothing may enter it from outside; the setting of a seal on their hearts and ears also means that they have altogether lost the capacity for accepting the truth. The Holy Qur&an describes .the condition of these disbelievers in terms of their hearts and ears having been sealed, but in the case of the eyes it refers to a covering. The subtle distinction arises from the fact that an idea can enter the heart from all possible directions and not from one particular direction alone, and so can a sound enter the ears; an idea or a sound can be blocked only by sealing the heart and the ears. On the contrary, the eyes work only in one direction, and can see only the things which lie in front of them; if there is a covering on them, they cease to function. (See Mazhari)

خلاصہ تفسیر بیشک جو لوگ کافر ہوچکے ہیں برابر ہے ان کے حق میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لاویں گے (یہ بات ان کافروں کے متعلق ہے جن کی نسبت خدا تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوگا عام کافر مراد نہیں ان میں بہت سے لوگ بعد میں مسلمان ہوگئے) بند لگا دیا ہے اللہ نے انکے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لئے سزا بڑا ہے، معارف و مسائل خلاصہ مضمون مع ربط۔ سورة بقرہ کی پہلی آیتوں میں قرآن کریم کا کتاب ہدایت اور ہر شک وشبہ سے بالاتر ہونا بیان کرنے کے بعد ان خوش نصیب لوگوں کا ذکر تھا، جنہوں نے اس کتاب ہدایت سے پورا فائدہ اٹھایا جن کو قرآن کی اصطلاح میں مؤمنین اور متقین کا لقب دیا گیا ہے اور ان حضرات کی مخصوص صفات و علامات بھی بیان کی گئیں اس کے بعد پندرہ آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے اس ہدایت کو قبول نہیں کیا بلکہ انکار وعناد سے پیش آئے پھر ان لوگوں میں دو گروہ تھے ایک وہ جنہوں نے کھل کر انکار و مخالفت کا راستہ اختیار کیا جن کو قرآن کی اصطلاح میں کافر کہا گیا دوسرے وہ لوگ جو اپنی اخلاقی پستی اور دنیا کی ذلیل اغراض کی بنا پر یہ جرأت بھی نہ کرسکے کہ ضمیر کی آواز اور دلی عقیدے کو صاف طور پر ظاہر کردیتے بلکہ دھوکہ اور فریب کی راہ اختیار کی مسلمانوں سے یہ کہتے کہ ہم مسلمان ہیں، قرآن اور اس کی ہدایات کو مانتے ہیں تمہارے ساتھ ہیں اور دلوں میں ان کے کفر و انکار تھا کفار کی مجسلوں میں جاکر یہ کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں مسلمانوں کو دھوکہ دینے اور ان کے راز معلوم کرنے کے لئے ہم ان سے ملتے ہیں، اس گروہ کا نام قرآن کی اصطلاح میں منافق ہے یہ پندرہ آیتیں ہیں جو قرآن کو نہ ماننے والوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں ان میں سے مذکورہ دو آیتوں میں کھلے کافروں کا ذکر ہے اور آگے تیرہ آیتوں میں منافقین کا ذکر اور ان کے متعلقہ حالات و علامات اور ان کا انجام مذکورہ ہے، ان تمام آیات کی تفصیل پر یک جائی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن حکیم نے سورة بقرہ کی ابتدائی بیس آیتوں میں ایک طرف تو چشمہ ہدایت کا پتہ دے دیا کہ وہ قرآن ہے اور دوسری طرف تمام اقوام کو اسی ہدایت کے قبول یا انکار کے معیار سے دو حصوں میں تقسیم کردیا ایک ہدایت یافتہ جن کو مؤمنین ومتقین کہا جاتا ہے دوسرے ہدایت سے انحراف و انکار کرنے والے جن کو کافر یا منافق کہا جاتا ہے، پہلی قسم وہ ہے جن کا راستہ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں طلب کیا گیا ہے اور دوسری قسم وہ ہے جن کے راستہ سے غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ میں پناہ مانگی گئی ہے، قرآن کریم کی اس تعلیم سے ایک اصولی مسئلہ یہ بھی نکل آیا کہ اقوام عالم کے حصوں یا گروہوں میں ایسی تقسیم جو تقسیم جو اصول پر اثر انداز ہوسکے وہ صرف اصول ونظریات ہی کے اعتبار سے ہوسکتی ہے، نسب، وطن، زبان، رنگ اور جغرافیائی حالات ایسی چیزیں نہیں جن کے اشتراک یا اختلاف سے قوموں کے ٹکڑے کئے جاسکیں، قرآن کریم کا اس بارے میں واضح فیصلہ بھی سورة تغابن میں مذکور ہے، خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤ ْمِنٌ (٢: ٦٤) یعنی اللہ نے تم سب کو پیدا کیا، پھر کچھ لوگ تم میں سے مومن اور کچھ کافر ہوگئے، مذکور الصدر دو آیتوں میں حق تعالیٰ نے ان کافروں کا ذکر فرمایا ہے جو اپنے کفر و انکار میں ضد اور عناد تک پہنچ گئے تھے اور اس ضد کی وجہ سے وہ کسی حق بات کو سننے اور روشن دلیل کو دیکھنے کے لئے بھی تیار نہ تھے، ایسے لوگوں کے بارے میں سُنّۃ اللہ یہی ہے کہ ان کو ایک سزا اسی جہان میں نقدیہ دی جاتی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، کانوں، آنکھوں کو حق وصدق کے قبول کرنے سے بند کردیا جاتا ہے، ان کا حال حق وصدق کے بارے میں ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا نہ ان کو سمجھنے کی عقل نہ دیکھنے کے لئے آنکھیں نہ سننے کے لئے کان۔ آیت میں ایسے لوگوں کا عذاب عظیم میں مبتلا ہونا ذکر کیا گیا ہے، کفر کی تعریف : کفر کے لفظی معنی چھپانے کے ہیں ناشکری کو بھی کفر اس لئے کہتے ہیں کہ محسن کے احسان کو چھپانا ہے اصطلاح شریعت میں جن چیزوں پر ایمان لانا فرض ہے ان میں سے کسی چیز کے انکار کا نام کفر ہے مثلاً ایمان کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کا ثبوت قطعی و یقینی ہے ان سب چیزوں کی دل سے تصدیق کرنا اور حق سمجھنا اس لئے جو شخص آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان تعلیمات میں سے جن کا ثبوت یقینی اور قطعی ہے کسی ایک کو بھی حق نہ سمجھے اور اس کی تصدیق نہ کرے وہ کافر کہلائے گا، اِنذار کے معنیٰ : لفظ انداز ایسی خبر دینا جس سے خوف پیدا ہو جیسا کہ ابشار ایسی خبر دینے کو کہتے ہیں جس سے سرور پیدا ہو، اردو زبان میں اس کا ترجمہ ڈرانے سے کیا جاتا ہے مگر درحقیقت مطلقاً ڈرانے کو انذار نہیں کہتے بلکہ ڈرانا جو شفقت و رحمت کی بناء پر ہو جیسے اولاد کو آگ سے، سانپ بچھوّ اور درندوں سے ڈرایا جاتا ہے اسی لئے جو ڈاکو، چور ظالم، کسی انسان کو دھمکاتے ڈراتے ہیں اس کو انذار اور ان لوگوں کو نذیر نہیں کہا جاتا، انبیاء کو خصوصیت سے نذیر کا لقب دیا جاتا ہے کہ وہ ازراہ شفقت آئندہ آنے والے مصائب سے ڈراتے ہیں انبیاء کے لئے اس لفظ کو اختیار کرنے میں اس کی ہدایت ہے کہ مصلح مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ مخاطب کی خیرخواہی کیساتھ ہمدردی سے گفتگو کرے محض ایک کلمہ پہنچا دینا مقصد نہ ہو، اس آیت میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لئے یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ ضدی اور معاند کفار جو حقیقت کو پہچاننے کے باوجود کفر و انکار پر جمے ہوئے ہیں یا اپنے تکبر اور کج رائی کی بناء پر کسی حق بات کو سننے اور روشن دلائل کو دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں ان کی اصلاح اور ایمان کے متعلق جو آپ کوشش کرتے ہیں ان کے لئے مؤ ثر ثابت نہ ہوگی بلکہ آپ کا کوشش کرنا اور نہ کرنا ان کے حق میں برابر ہے، اس کی وجہ اگلی آیت میں یہ بتلائی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے سوچنے سمجھنے کے جتنے راستے تھے وہ سب بند ہیں اس لئے ان سے اصلاح کی توقع رکھنا درد سر ہے، کسی چیز پر مہر اس لئے لگائی جاتی ہے کہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل نہ ہوسکے، ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگانے کا یہی مطلب ہے کہ ان میں قبول حق کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، ان کی اس حالت کو دلوں اور کانوں پر مہر کرنے سے تعبیر فرمایا ہے مگر آنکھوں کے لئے مہر کے بجائے پردہ پڑنے کا ذکر کیا گیا، اس میں حکمت یہ ہے کہ دلوں میں آنے والا کوئی مضمون یا کوئی فکر و خیال کسی ایک سمت سے نہیں آسکتی ہے ان کی بندش جب ہی ہوسکتی ہے جب ان پر مہر کردی جائے بخلاف آنکھوں کے کہ ان کا ادراک صرف ایک سمت یعنی سامنے سے ہوسکتا ہے اور جب سامنے پردہ پڑجائے تو آنکھوں کا ادراک ختم ہوجاتا ہے (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَاۗءٌ عَلَيْہِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝ ٦ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کاشتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ سواء ومکان سُوىً ، وسَوَاءٌ: وسط . ويقال : سَوَاءٌ ، وسِوىً ، وسُوىً أي : يستوي طرفاه، ويستعمل ذلک وصفا وظرفا، وأصل ذلک مصدر، وقال : فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] ، وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] ، فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] ، أي : عدل من الحکم، وکذا قوله : إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] ، وقوله : سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ [ المنافقون/ 6] ، ( س و ی ) المسا واۃ مکان سوی وسواء کے معنی وسط کے ہیں اور سواء وسوی وسوی اسے کہا جاتا ہے جس کی نسبت دونوں طرف مساوی ہوں اور یہ یعنی سواء وصف بن کر بھی استعمال ہوتا ہے اور ظرف بھی لیکن اصل میں یہ مصدر ہے قرآن میں ہے ۔ فِي سَواءِ الْجَحِيمِ [ الصافات/ 55] تو اس کو ) وسط دوزخ میں ۔ وسَواءَ السَّبِيلِ [ القصص/ 22] تو وہ ) سیدھے راستے سے ۔ فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلى سَواءٍ [ الأنفال/ 58] تو ان کا عہد ) انہیں کی طرف پھینک دو اور برابر کا جواب دو ۔ تو یہاں علی سواء سے عاولا نہ حکم مراد ہے جیسے فرمایا : ۔ إِلى كَلِمَةٍ سَواءٍ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمْ [ آل عمران/ 64] اے اہل کتاب ) جو بات ہمارے اور تمہارے دونوں کے درمیان یکساں ( تسلیم کی گئی ) ہے اس کی طرف آؤ ۔ اور آیات : ۔ سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ [ البقرة/ 6] انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ۔ سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ [ المنافقون/ 6] تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگوں ان کے حق میں برابر ہے ۔ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

٦) جو لوگ کفر پر پکے ہوچکے ان کو بھلائی کی بات کرتا اور انکو قرآن پاک کے ذریعے ڈرانا نہ ڈرانا ایک جیسا ہے وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، اور یہ بھی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، لیکن اللہ نے انہیں ارادے کی آزادی دے کر تمام حجت کردی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) ” اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر پر اڑ گئے۔ اس کو ہم تاویل عام میں نہیں لے سکتے۔ اس لیے کہ اس صورت میں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص نے کسی بھی وقت کفر کیا اب وہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا ! یہاں یہ بات مراد نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مغالطہ کی بنا پر یا عدم توجہی کی بنا پر کفر میں ہے ‘ حق اس پر واضح نہیں ہوا ہے تو انذار وتبشیر سے اسے فائدہ ہوجائے گا۔ آپ اسے وعظ و نصیحت کریں تو وہ اس کا اثر قبول کرے گا۔ لیکن جو لوگ حق کو حق سمجھنے اور پہچاننے کے باوجود محض ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصبّ کی وجہ سے یا تکبرّ اور حسد کی وجہ سے کفر پر اڑے رہے تو ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں سمجھائیں یا نہ سمجھائیں ‘ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ‘ انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں ‘ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس لیے کہ سوتے کو تو جگایا جاسکتا ہے ‘ جاگتے کو آپ کیسے جگائیں گے ؟ یہ گویا مکہ کے سرداروں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ ان کے دل اور دماغ گواہی دے چکے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور قرآن ان پر اتمام حجت کرچکا ہے اور وہ مان چکے ہیں کہ قرآن کا مقابلہ ہم نہیں کرسکتے ‘ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکمل معجزہ ہے ‘ اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9. That is, those people who do not meet these six requirements, or reject all or any one of the fundamentals set out above.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :9 یعنی وہ چھ کی چھ شرطیں ، جن کا ذکر اُوپر ہوا ہے ، پوری نہ کیں ، اور ان سب کو ، یا ان میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

۷) یہاں اُن کافروں کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ چاہے کتنے واضح اور روشن دلائل ان کے سامنے آجائیں، وہ کبھی آنحضرتﷺ کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اﷲ عنہما) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ’’’کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر پر اڑگئے ہیں۔ ’’ترجمے میں‘‘ کفر اپنا لیا ہے‘‘ کے الفاظ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ (۸) ’’ڈرانا‘‘ انذار کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم نے انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کو بکثرت ’’ڈرانے‘‘ سے تعبیرفرمایا ہے۔ کیونکہ انبیائے کرام علیہم السلام لوگوں کو کفر اور بداعمالیوں کے بُرے انجام سے ڈراتے ہیں۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہوا کہ آپ چاہے ان کو دعوت دیں یا نہ دیں، ان کے سامنے دلائل پیش کریں، یا نہ کریں، چونکہ انہوںنے تہیہ کر رکھا ہے کہ کوئی بات ماننی نہیں ہے، اس لئے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(6 ۔ 7): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھا جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نماز پڑھنے کی تفصیل حدیث کی کتابوں کے اردو ترجمہ سے یاد کر لیوے اور اس کے موافق نماز پڑھا کرے۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص قرآن شریف کا کتاب الٰہی ہونے کا دل سے یقین جان کر اس کے حکموں کی پابندی کرے یہ قرآن شریف اس کا ہر طرح سے راہبر ہوگا اور اس کو نیک راہ پر لگا وے گا یہاں تک کہ ایسا شخص جنت میں راحت و آرام سے رہے گا جس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی فلاح اور کامیابی نہیں۔ آخرت سے مراد روز آخرت یعنی عقبی پر ایمان لانے اور یقین کرنے کا ذکر قرآن شریف میں جگہ جگہ اس لئے ہے کہ جب تک عقبی کا پورا یقین نہ ہو عقبیٰ کے اجر اور ثواب کے اعتقاد سے نیک عمل کوئی نہیں کرسکتا۔ اور بغیر اس کے دکھاوے اور ریاکاری سے کچھ کیا بھی تھا وہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول اور قابل اجر نہیں ہوسکتا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

کفروا : ماضی جمع مذکر غائب، کفرو کفران وکفور، مصادر ہیں۔ الکفر : کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اسی لئے رات کو بھی کافر کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو چھپالیتی ہے۔ یا کسان کو بھی کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی بیج کو زمین کے اندر چھپا دیتا ہے۔ کفر زیادہ تر شریعت حقہ سے انکار یا دین سے انکار کے لئے استعمال ہوتا ہے اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا اس کے فرستادہ انبیاء سے یا ان کی لائی ہوئی شریعت سے انکار ہے۔ کفران : زیادہ تر نعمت کے انکار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کفور دونوں قسموں کے انکار پر بولا جاتا ہے۔ ان الذین کفروا (اے پیغمبر) جن لوگوں نے قبول اسلام سے انکار کیا۔ سواء علیہم، سواء برابر، اسم مصدر ہے بمعنی دونوں طرف سے برابر ہونا۔ نہ اس کا تثنیہ بنایا جاتا ہے نہ جمع۔ سوی مادہ۔ ء انذرتہم : ء ہمزہ استفہام ہے۔ لیکن یہاں یہ ہمزہ تسویۃ کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی دونوں چیزوں کی برابری کرنے کے لئے ۔ خواہ۔ ء انذرت، ماضی واحد مذکر حاضر، انذار (افعال) مصدر بمعنی ڈرانا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب، جس کا مرجع الذین کفروا ہے خواہ تو ان کو ڈرائے۔ انذار : عذاب الٰہی سے خوف دلانے کو کہتے ہیں ۔ ام ۔ خواہ۔ یا ۔ کیا۔ ء (ہمزہ) اور ام ، گو دونوں استفہام کے لئے آیا کرتے ہیں۔ لیکن یہاں ان کو اس معنی میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ معنی استوار کی تاکید کے لئے مستعمل ہیں۔ لم تنذرھم ۔ لم تنذر مضارع نفی جحد بلم۔ واحد مذکر حاضر، ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ سواء علیہم ۔۔ لم تنذرھم۔ ان کے لئے یکساں ہے کہ آپ ان کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ۔ لا یؤمنون : مضارع نفی جمع مذکر غائب۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس آیت کی ترکیب بحوی یوں ہوگی ! ان حرف مشبہ بالفعل الذین اسم موصول کفروا جملہ فعلیہ ہوکر اپنے موصول کا صلہ، موصول اور صلہ مل کر اسم ان۔ سواء علیہمء انذرتہم ام لم تنذرہم خبر ان کی۔ لا یؤمنون جملہ فعلیہ خبر ثانی ان کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی جو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں کافر قرار پاچکے ہیں ان کو انذار سے فائدہ نہیں ہوگا ( قرطبی) اس کے معنی یہ نہیں کہ انذار بالکل فضول ہے نہیں بلکہ منذر کو تو تبلیغ رسالتہ کا حق ادا کرنے کا ضرور ثواب ملتا ہے رہے گا اس لیے علیہم فرمایا کہ ان کے حق میں انذار اور عدم انذار برابر ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

ان الذین کفرو سوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون یعنی جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات خود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان حق ترجمان سے سن کر پھر ایمان نہیں لاتے تو وہ ایمان لا ہی نہیں سکتے کہ نہ اس سے بڑھ کر کوئی نبی ہے اور نہ کلام اس بات کو جاننے کے لئے یوں غور کریں کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں اور نہ اکیلے روح کا بلکہ جسم وجان مل کر انسان کہلاتے ہیں جسم کی ضروریات میں یہ بیشمار چیزوں کا محتاج ہے جن میں لباس اور غذا سب سے زیادہ ضروری اور اس کی بقا وتعمیر کا سبب ہیں لیکن اس سے زیادہ اس کی صحت وعلاج معالجہ ہیں اگر صحت درست نہ ہو تو نہ غذا کام کرتی ہے اور نہ لباس خوشی دیتا ہے۔ یہاں وہ چیزیں ہیں کہ غذا ہر جگہ سے اور ہر کسی سے فراہم ہوسکتی ہے مگر وہ اس طرح نہیں یہ دینے والے لوگ مخصوص ہوتے ہیں جو ہمارے جسم کو ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں اس کی بیماری کو ، اس کے سبب کو اور علاج کو جانتے ہیں ہم ہمیشہ ان سے رجوع کرتے ہیں جسم مادی ہے اور اس کی غذاب بھی مادی ہے ، دوا بھی مادہ سے آتی ہے پھر اس کا معالج ہر وہ شخص بن جاتا ہے جو اس فن کو حاصل کرے خواہ نیک ہو یا بد ، مومن ہو یا کافر ، مرد ہو یا عورت ، بات فن کو حاصل کرنے کی ہے o روح امر باری ہے او بہت لطیف شے ہے حتیٰ کہ فرشتے سے بھی لطیف تر ، ضروریات اس کی بھی اتنی اور اسی طرح کی ہیں ، جیسی بدن کی ، مگر یہ مادی نہیں بلکہ لطیف ہے پھر اس کا معالج ہر کوئی نہیں بن سکتا۔ یہ ایسا قیمتی فن ہے جس کے لئے افراد ازل سے چنے گئے بلکہ تخلیق ہی خصوصی طور پر کئے گئے کوئی کتنی بھی محنت کرے اس کمال کو نہیں پاسکتا۔ اصطلاح شریعت میں ان کو نبی کہا گیا ہے پھر یہ حضرات بھی اپنی طرف سے کچھ تجویز نہیں کرتے بلکہ اس کی غذا اس کی دوا خود اللہ مہیا کرتا ہے۔ نبی میں دو قوت ہوتی ہے کہ براہ راست خطاب باری سے مستفیض ہوتا ہے اور دوسری مخلوق اس کی وساطت سے یہ اتنا اہم کام ہے کہ ہر کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ بلکہ اللہ نے جن کو بنایا انہی کو بنایا۔ پھر انہوں نے مخلوق تک یہ بات پہنچائی کہ جیسے گندم ، بدن کی بنیادی غذا ہے اللہ کا ذکر روح کی بنیادی غذا ہے جیسے کھانا کھانے کے اوقات اور طریقے ہیں جس طرح جسمانی صحت کے لئے دوا ہے اسی طرح ذکروعبادت کے اواقات اور اس کے طریقے ہیں اور روح کی دوا تو بہ استغفار ہے جس طرح بعض چیزوں کے کھانے سے پرہیزجسمانی صحت کے لئے ضروری ہے اسی طرح بعض افعال سے پرہیزروحانی صحت کی ضرورت ہے۔ یہ سب چیزیں اسی طر ح ضروری ہیں جیسے ہم جسمانی ضروریات کو اہم جانتے ہیں۔ پھر بھی قدر انبیاء (علیہم السلام) دنیا میں تشریف لائے ان سے آخر وہ ہستی آتی جو سب کی سردار اور ساری کائنات کے لئے اللہ کی رحمت ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ رات ہے اور مجھے دکھائی نہیں دیتا تو چراغ روشن کریں گے اگر پھر بھی کچھ نہیں دکھتا تو تو بجلی وغیرہ کی روشنی کریں گے پھر بھی کچھ نظر نہ آیا تو سورج کے طلوع ہونے کا انتظار ۔ اگر سورج طلوع ہونے کے بعد بھی اسے کچھ نظر نہ آئے تو پھر اس کی قوت بینائی ضائع ہوگئی اور وہ اندھا ہوگیا۔ بالکل اسی طرح بعثت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بھی جو کافررہا وہ لاعلاج ہوا۔ غور کریں کہ جسمانی حسن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کائنات میں بےمثل ، باتوں میں وہ شیرینی جو صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے اور بات اللہ تعالیٰ کی زبان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ، خطابت کا لطف الفاظ کی بندش ، زبان کی شیرینی اور لب ورخسار کا حسن بھی جو یہاں ہے کوہ کہیں نہیں اور تقدس بھی بےمثال۔ اب یہ بات بھی جس کے دل میں نہ اترے شاید اس کے پاس دل ہی نہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ ہدایت کا منبع اور نور کا مینار تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات بابرکات ہے جو آپ سے بھی مستفیض نہ ہوا وہ کہاں ہوسکے گا ؟

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 7 (کفروا): انہوں نے کفر کیا، دین اسلام کی سچائیوں سے انکار کیا۔ چھپایا۔ (سواء) : برابر ہے، یکساں ہے، ایک جیسا ہے۔ (انذرت): تو نے ڈرایا۔ اسی سے نذیر کا لفظ بنا ہے جو کہ بشیر کے لفط کے بالمقابل ہے۔ ۔ ۔ نذیر کے معنی ہیں ۔ آخرت کے عذاب سے شفقت و مہربانی کی بناء پر ڈرانے اور سمجھانے والا اور بشیر کے معنی ہیں “ خوشخبریاں سنانے والا ”۔ (ختم): اس نے مہر لگا دی۔ جب کسی چیز پر مہر یا سیل لگا دی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اب باہر سے کوئی چیز اندر اور اور اندے سے باہر نہیں آسکتی۔ دلوں پر مہر لگنے کا مطلب یہ ہے کہ حق نہ تو ان کے دلوں میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ان کے دلوں کا کفر باہر آسکتا ہے۔ (سمع): سننے کی طاقت، اس کی اہلیت۔ ۔۔ ۔ سہولت کے لئے اس کا ترجمہ “ کان ” کا کیا جاتا ہے۔ (ابصار): بصر کی جمع ہے ۔ ۔۔ ۔ دیکھنے کی طاقت ہے ۔ ۔۔ ۔ آنکھ ۔ ۔۔ آنکھیں ۔ (غشاوۃ): پردہ ، رکاوٹ ، حجاب ۔ ۔۔ ۔ یہ لفظ “ غشی ” سے بنا ہے جس کے معنی کسی چیز کو ڈھانپنے اور رکاوٹ ڈالنے کے آتے ہیں۔ (عذاب):۔ ۔۔ تکلیف ، مصیبت۔ ۔۔ یہ لفظ رحمت کے مقابلے میں آتا ہے۔ تشریح : آیت نمبر 6 تا 7 خاتم الانبیاء حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شدید مخالفتوں ، مصیبتوں اور مشکلات کے باوجود دن رات اسلام کی سچائیوں اور اس کے نور کو پھیلانے کی جدو جہد فرما رہے تھے۔ آپ کی دلی تمنا اور آرزو تھی کہ کسی طرح مکہ مدینہ اور ساری دنیا کے لوگ ایمان قبول کرلیں، اس کے لئے آپ دن رات اس طرح اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش اور جان سوزی سے کام لیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ (اے میرے حبیب “ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ”) آپ تو اس غم میں اپنی جان گھلا ڈالیں گے کہ وہ ایمان کیوں نہیں مختلف روایات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسلام کا پیغام پہنچانے میں دن رات اپنے آرام کا خیال کئے بغیر اسی جدو جہد میں لگے رہتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کو معلوم ہوا کہ ایک قافلہ مکہ مکرمہ سے اس طرح گزر رہا ہے کہ وہ صبح ہونے سے پہلے روانہ ہوجائے گا، حالانکہ آپ دن بھر کے تھکے ہوئے اور ستائے ہوئے تھے اس کے باوجود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوراً روانہ ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا فرض پورا کرنے کے لئے ان تک اللہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔ یہی آپ کی دن رات کی کوششیں تھیں نتیجہ یہ ہے کہ۔ جن کے مقدر میں اسلام کی سعادت تھی انہوں نے ایمان قبول کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار لی اور اپنے دلوں کو نور ایمانی سے جگمگا لیا، روشن کرلیا۔ ۔۔ لیکن ان ہی میں سے کچھ ایسے بھی ضدی، ہٹ دھرم اور بد قسمت لوگ تھے جنہوں نے کلمہ حق قبول کرنے سے نہ صرف انکار کردیا تھا بلکہ دین اسلام اور سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بغض وعناد کی حدوں کو پھلانگ گئے تھے اور آپ کی دشمنی میں اتنے آگے بڑھ چکے تھے کہ وہ اسلام کے اس پودے کو جڑ اور بنیاد سے ہی اکھاڑ پھینکنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان میں سچائی اور حق کی تڑپ اور جستجو ایک فطری بات ہے لیکن جب وہی شخص ذاتی فائدوں ، بری عادتوں ، کم نظری اور گھٹیا پن کا مزاج پیدا کرلیتا ہے تو وہ حق اور سچائی کا اس طرح مخالف ہوجاتا ہے کہ پھر بڑی سے بڑی سچائی بھی نہ اس کے دل میں اترتی ہے نہ کانوں سے سنائی دیتی ہے اور نہ آنکھیں اس کا مشاہدہ کرسکتی ہیں۔ نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان آیات میں اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ آپ اللہ کے پیغام کو پہنچاتے رہیے جن کے دلوں میں اور ان کی روحوں میں سچائی قبول کرنے کی اہلیت ہوگی وہ اس کے ذریعے اپنی دنیا اور آخرت سنوار لیں گے لیکن جو بدقسمت ہیں جیسے ابو جہل ، ابو لہب، عتبہ، شیبہ، اور ولید مدینہ منورہ کے یہودی کعب بن اشرف ، حی بن اخطب اور جدی بن اخطب وغیرہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دلوں اور اپنے کانوں پر تالے اور اپنی آنکھوں پر پردے ڈال رکھے ہیں، آپ ان کو برے اعمال کے برے نتائج سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ یہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جو بدپرہیزیاں کرتے کرتے اپنے آپ کو بیماری کے اس مقام تک پہنچا چکے ہیں جہاں ایک ماہر ڈاکٹر بھی کہہ اٹھتا ہے کہ اب اس مرض کا کوئی علاج نہیں ہے۔ بلکہ مرجانا ہی اس کا مقدر بن چکا ہے۔ یہ لوگ بھی روحانی اعتبار سے اس منزل تک پہنچ چکے ہیں جہاں ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ حق کی بات ہر شخص تک پہنچاتے رہئیے، جو کفر و انکار کا راستہ اختیار کریں گے بھیانک اندھیرے ان کا مقدر بن جائیں گے اور وہ لوگ جو اپنے دلوں کو اسلام کی تعلیمات اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و محبت کے چراغوں سے روشن کرلیں گے وہ خود ستاروں کی طرح چمک کر دنیا کے اندھیروں کو دور کردیں گے۔ خلاصہ کلام : قرآن کریم کی سب سے پہلی اور بڑی سورت “ سورة بقرہ ” ہے اس کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے ہدایت حاصل کرنے کی بنیادیں “ اللہ کا خوف، غیب پر ایمان ، نماز کا قائم کرنا، اللہ کے دئیے ہوئے رزق میں سے اللہ کے لئے خرچ کرنا، قرآن کریم اور اس سے پہلے نازل کئے ہوئے دین کے اصولوں اور کلام پر ایمان ، اور آخرت پر یقین رکھنا۔ قرار دیا ہے۔ یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے انسان کی نجات اور کامیابی ہوجاتی ہے۔ اسلام کے بعد کافروں کے مزاج کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ ایک چکنے گھڑے کی طرح سے ہوچکے ہیں جن کے دل و دماغ اور فکر پر اسلام کی سچائی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ۔۔ ۔ اور وہ اپنے آپ کو ان بدقسمتوں میں شامل کرچکے ہیں جن کے لئے مہربان رب بھی فرما دیتا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کی حرکتوں سے مایوس نہ ہوں یہ بڑے بدعمل لوگ ہیں۔ ۔۔ ۔ انہوں نے بدعملیاں کر کر کے اپنے آپ کو اس منزل اور مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں سے ان کی واپسی ناممکن ہے، ان کے دلوں اور کانوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں، اب ان میں سوچنے ، سننے اور حق بات کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔ لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سوچ کر رنجیدہ نہ ہوں کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیے۔ کیونکہ ان کا برا انجام اور ایک زبردست عذاب طے کیا جا چکا ہے۔ پہلے رکوع میں مومنوں اور کافروں کے متعلق ارشاد فرمانے کے بعد دوسرے رکوع سے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان کا کوئی جذبہ نہیں ہوتا۔ ۔۔ ۔ یہ لوگ منافقت کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ۔۔ ۔ بیمار ذہن و فکر کے لوگ جھوٹ بولتے بولتے اس کو سچ سمجھنے لگتے ہیں، اور اللہ اور اس کے نیک بندوں کو اپنے طرز عمل سے دھوکہ میں رکھ کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان مفادات کے حصول کو بڑی ہوشیاری سمجھنے لگے ہیں۔ ایمان کے نام پر بےایمانیاں، اصلاح کے نام پر فساد ، منہ پر کچھ اور پیٹھ پیچھے کچھ کہنا۔ ان کا کردار ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کا انجام تو کافروں سے بھی بدتر ہے۔ ایسے لوگ کون ہیں یہاں تو اللہ نے ان کا نام نہیں بتایا لیکن قرآن حکیم میں ایسے لوگوں کو جگہ جگہ “ منافق ” فرمایا گیا ہے۔ ۔۔ ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ کے دوسرے رکوع میں ان کا بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اس لئے ان آیات کی تشریح سے پہلے منافقین کے متعلق سمجھنا بہت ضروری ہے۔ منافقین کون ہیں ؟ منافق۔ ۔۔ ۔ کا لفظ نفق (ن۔ ف۔ ق) سے بنا ہے جس کے معنی ہیں زمین کے نیچے نیچے ایسی سرنگ اور راستہ بنانا جس میں ضرورت کے وقت چھپنا اور خفیہ راستوں سے نکل بھاگنا آسان ہو۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ عام طور پر چوہے اور کچھ جانور زمین کے اندر ایک سرنگ سی بنا لیتے ہیں جس کو جانور کا “ بل ” کہتے ہیں۔ یہ چوہے اور جانور ذرا سی آہٹ پا کر اپنے بلوں میں جا گھستے ہیں اور خطرہ ٹلتے ہی پھر سے باہر آجاتے ہیں۔ اسی طرح یہ منافق بھی ہیں جو اسلام دشمن ہوتے ہیں ۔ اپنے مفادات کے لئے مسلمانوں میں ملے جلے رہتے ہیں۔ جب اسلام اور مسلمانوں میں انہیں کوئی فائدے کی بات نظر آتی ہے تو ان کو جیسی کہنے لگتے ہیں۔ اور اگر کفر کی چمک دمک میں دل کشی نظر آتی ہے تو بلا تکلف ان کے ساتھ ہو لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک (نعوذ باللہ) ایسے لوگ جو مومن ہیں بہت ہی احمق اور ناعاقبت اندیش ہوتے ہیں “ جو آخرت کے ادھار پر اپنی دنیا بیچ دیتے ہیں اور مصلحتوں سے کام نہیں لیتے۔ ” کیونکہ ایک مومن تو اپنا سب کچھ لٹا کر اللہ کے دین، اس کی بقاء اور ترقی کو اپنی دنیا اور آخرت کی ترقی کا زینہ اور اپنے نبی کی شان پر قربان ہونے کو دین و دنیا کی کامیابی سمجھتا ہے۔ لیکن ان منافقین کے نزدیک “ یہ کوئی سمجھ داری کی بات نہیں ہوتی ” چناچہ اسی رکوع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ تم بھی اور مخلص مسلمانوں کی طرح ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو، ایمان لے آؤ تو وہ بڑی حقارت سے کہتے تھے کہ ہم ان کی طرح ایمان لائیں ؟ جو بیوقوف ، ناعاقبت اندیش ہیں (نعوذ باللہ) ۔ ۔۔ ۔ اللہ نے خود ہی ان کے جواب میں فرمایا کہ احمق اور غیر دانش مندیہ مخلص مومن مسلمان نہیں ہیں۔ ۔۔ بلکہ احمق اور جاہل تو وہ لوگ ہیں جو نبی کے جاں نثاروں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ صحابہ کرام (رض) کو ایسا کہنے والے خود ہی شرمندگی سے اپنی بوٹیاں نوچتے نظر آئیں گے۔ چناچہ فتح مکہ کا دن اس کا گواہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثاروں کی گردنیں شکر ادا کرنے کے لئے اللہ کے سامنے جھکی ہوئی تھیں۔ ۔۔ ۔ اور کافر و منافق جو اپنے آپ کو عقل کا پیکر سمجھتے تھے ان کی گردنیں مسلمانوں کے سامنے شرمندگی سے جھکی ہوئی تھیں۔ یہ تو اس دنیا میں تھا آخرت میں ان منافقین کو جو شرمندگی ہوگی شاید اس دنیا میں اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے اس کے برخلاف اس دن صحابہ کرام (رض) کا مقام انتہائی بلند ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اس آیت میں سب کافروں کا بیان نہیں بلکہ خاص ان کافروں کا ذکر ہے جن کی نسبت خدا کو معلوم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوگا اور اس آیت سے یہ غرض نہیں کہ ان کو عذاب الہی سے ڈرانے اور احکام سنانے کی ضرورت نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے ایمان لانے کی فکرنہ کریں اور ان کے ایمان نہ لانے مغموم نہ ہوں انکے ایمان لانے کی امید نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی دوسری قسم جنہوں نے حق کا انکار کیا ان کے مزاج اور انجام کا بیان۔ لغت میں کفر کا معنٰی ہے کسی شے کو چھپانا۔ جو شخص نعمت کو چھپائے اور اس کا شکرا ادا نہ کرے اس کے فعل کو کفر اور کفران نعمت کہتے ہیں۔ سب سے بڑا کفر اللہ کی وحدانیت اور شریعت، نبوت کا انکار ہے۔ قرآن مجید میں کفر کا لفظ کفران نعمت اور کفر باللہ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (اَلْکُفْرُ عَدَمُ تَصْدِیْقِ الرَّسُوْلِ فِیْمَا عُلِمَ بالضَّرُوْرَۃِ مَجِیْءُہٗ بِہٖ ) (تفسیر رازی : ص ٣٠٦، ج ١) ” کفر کے معنٰی یہ ہیں کہ رسول اور پیغمبر کی اس بات میں تصدیق نہ کرنا جس کا بدیہی اور قطعی طور پر دین سے ہونا معلوم ہوچکا ہے۔ “ حقائق کا مسلسل انکار اور ہٹ دھرمی پر قائم رہنے والوں کی یہ حالت ہوچکی ہوتی ہے کہ ان کے لیے سمجھانا اور نہ سمجھانا یکساں ہوجاتا ہے۔ ان آیات میں ایک طرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ کا کام ” اللہ “ کا پیغام پہنچانا اور لوگوں کو سمجھانا ہے۔ اگر یہ لوگ حق کا مسلسل انکار کئے جا رہے ہیں تو آپ کو دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ہی ایسے ہٹ دھرم لوگوں پر مزید صلاحیتوں کو صرف کرنا چاہیے کیونکہ ان کے سچ اور حق کو قبول کرنے والے اعضاء بےکار کردیے گئے ہیں۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اللہ نے ہی ان کی قوت فہم و سماعت ختم کردی ہے اور ان کی بصارت پر پردے ڈال دیے ہیں تو ان کا کیا قصو رہے ؟ در حقیقت یہ لوگ آیات کے سیاق وسباق سے ہٹ کر یہ معنٰی نکال کر اپنی کم فہمی یا منفی سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ ان آیات کا مفہوم سمجھنے کے لیے ایک مشفق و مہربان حکیم کی مثال سامنے رکھنی چاہیے جو کسی مریض کو مرض کے نقصانات بتلا اور دوائی کے فائدے سمجھا کر بار بار دوائی کھلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن مریض نہ صرف اپنا منہ بند کرلیتا ہے بلکہ ہر قسم کی بد پرہیزی اور حکیم کے ساتھ بد تمیزی کرنے میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ مریض کی بد تمیزی اور ہٹ دھرمی دیکھ کر اگر حکیم یہ کہہ دے کہ مریض اپنی موت کو دعوت دے رہا ہے لہٰذا اسے مرنے ہی دینا چاہیے تو اس میں حکیم کا قصور سمجھا جائے گا یا مریض کا ؟

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس ٢ ایک نظر میں ١۔ آیات کا یہ حصہ ، اس عظیم سورت کا افتتاحیہ ہے ، اس میں یہودیوں کے سوا ان تمام عناصر (Pressure Groups) سے ہم متعارف ہوجاتے ہیں جن کا مقابلہ مدینہ طیبہ میں تحریک اسلامی کو کرنا پڑا ۔ اس میں یہودیوں کی طرف ایک مختصرسا اشارہ پایا جاتا ہے۔ قرآن انہیں منافقین کو ” شیاطین “ کا لقب دیتا ہے ، یہ لفظ ہی ان کی بیشتر صفات کو ظاہر کردیتا ہے ۔ اور بتا دیتا ہے کہ تحریک اسلامی کی مخالفت میں ان کا کردار کیا رہا ۔ اگرچہ یہ اشارہ مختصر ہے لیکن ابتداء میں ان کی حقیقت کے اظہار کے لئے کافی ہے بعد میں ان کے کردار پر تفصیلی تبصرہ ہوتا ہے۔ ٢۔ ان خصوصیات کی نقشہ کشی کے دوران ہم قرآن مجید کی تعبیری خصوصیات (Style of expression) سے بھی متعارف ہوتے ہیں منظرکشی کے لے خطوط والو ان کی جگہ یہاں حسین الفاظ کا انتخاب پایا جاتا ہے ۔ ان الفاظ کو پڑھتے ہی اصل مناظرآنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہوجاتے ہیں ۔ یہ مناظر اور یہ تصورات بڑی تیزی سے حرکت پذیر ہوتے ہیں اور زندگی کی تگ وتاز سے بھرپور نظر آتے ہیں ۔ ٣۔ سورت کے آغازہی میں ہلکے پھلکے ، عام فہم اور مختصر الفاظ میں تین قسم کے انسانوں کی عجیب تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ان میں سے ہر نوع ایسی ہے کہ انسانی افراد اور مجموعوں کی ایک عظیم الشان تعداد کا زندہ جاوید نمونہ ہے ۔ یہ مجموعے حد درجہ حقیقی اور گہرے ہیں اور ہر زمان ومکان میں باربار وجود میں آتے ہیں اور قرآن کریم کے اعجاز کا یہ ایک خاص پہلو ہے کہ انسانیت کی طویل ترین تاریخ میں روز اول سے لے کر آج تک پوری انسانیت انہی تین گروہوں میں منقسم نظر آتی ہے ۔ ٤۔ ان مختصر کلمات اور معدودے چند جملوں کے ذریعہ ، ان طبقوں کے حقیقی خدوخال اس طرح واضح اور مکمل صورت میں لوح دماغ پر منقش ہوجاتے ہیں کہ یہ طبقے زندہ ومتحرک ، ممتاز ومشخص اور اپنے حقیقی خدوخال کے ساتھ صاف صاف آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ بےساختہ جملے اس قدر موزوں اور متناسب اور اپنے اندر اس قدر مترنم صوتی ہم آہنگی رکھتے ہیں کہ کوئی طویل ترین کلام اور کوئی مفصل ترین بیان بھی اس کی گرد تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ٥۔ جب ان طبقوں کی منظرکشی ختم ہوجاتی ہے تو پھر قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ پہلے طبقے میں شامل ہوں ۔ وہ انہیں پکارتا ہے کہ ایک اللہ ایک خالق اور ایک رازق کی بندگی اور غلامی کی طرف لوٹ آئیں ، جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ اس کے بعدنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت اور رسالت اور آپ پر نزول قرآن کے بارے میں جو لوگ متشکک ہیں انہیں چیلنج دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی سورت توبنالائیں ۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول نہیں کرسکتے تو پھر دردناک اور خوفناک عذاب کے لئے تیار ہوجائیں ۔ اس کے برعکس مومنین اور منیبین کو خوشخبری دی جاتی ہے کہ ان کے لئے نہ ختم ہونے والاانعام واکرام ہے ۔ اور الفاظ کے آئینے کی جھلک بھی دکھادی جاتی ہے ۔ ٦۔ اس کے بعد پھر یہود ومنافقین کی فتنہ پردازی کا جائزہ لیا جاتا ہے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تمثیلات دی گئی ہیں ۔ لہٰذا یہ منزل کتاب نہیں ہے ۔ انہوں نے اس مسئلے کو آڑ بناکر شکوک و شبہات پھیلانے کا ایک وسیع کاروبار شروع کردیا تھا ۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ مثالیں گہری حکمت پر مبنی ہیں اور یہ کہ انہیں پڑھ کر ایک شخص گمراہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ وہ ہوئے اور دوسری طرف ان سے مومنین کا گروہ ایمان میں اور پختہ ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد ان پر نکیر کی جاتی ہے کہ وہ اس خالق ومدبر ، علیم وبصیر اور جلانے والے اور مارنے والے کا انکار کیوں کر کرتے ہیں ؟ حالانکہ وہی تو ہے جس نے انسان کے لئے پوری کائنات کو پیدا کیا ، انہیں یہاں یہ طویل و عریض مملکت دے کر اپنا خلیفہ وخود مختار بنایا اور انہیں بیشمار انعامات و اکرامات سے نوازا۔ ” جن لوگوں نے (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کروبہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔ “ یہاں متقین اور کافرین بالکل ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے نظر آتے ہیں ۔ یہ کتاب متقین کے لئے تو ہدایت اور نور بصیرت ہے لیکن کفار کا حال یہ ہے کہ خواہ انہیں خبردار کیا جائے یا نہ کیا جائے ، وہ ہر حال میں روش کفر پر جمے ہوئے ہیں ۔ مومنین کے دلوں میں ہدایت ربانی کے جو دریچے سداوا ہوتے ہیں اور وہ روابط جن کی وجہ سے وہ ہر وقت اس پوری کائنات ، اس کے خالق ، اس کے ظاہروباطن اور اس کے عالم غیب وشہادت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں ، رشد وہدایت کے یہ سب دریچے کفار کے لئے بند نظر آتے ہیں ، اسی منظر میں انسان اور خالق کائنات کے درمیان وہ تمام رابطے بالکل کٹے ہوئے ہیں ، جو مومنین اور خالق کائنات کے درمیان قائم ودوائم ہوتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کی گمراہی اور آخرت میں بدحالی۔ اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں ان کافروں کا ذکر فرمایا ہے۔ جن کا اللہ کے علم میں خاتمہ کفر پر ہونا ہے اور جو لوگ حق واضح ہوتے ہوئے اور حق و باطل کو سمجھتے ہوئے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہمیں ہرگز کسی حالت میں اسلام قبول نہیں کرنا۔ اللہ جل شانہ نے ہر شخص کو فطرت ایمانیہ پر پیدا فرمایا پھر اس کے ماں باپ اس کو کفر پر ڈال دیتے ہیں اور وہ اپنے ماحول اور معاشرہ کی وجہ سے ایمانی استعداد کو کھو بیٹھتا ہے اور اپنے کو اس درجہ میں پہنچا دیتا ہے کہ کسی قیمت پر اسلام قبول کرنے کو تیار نہیں۔ جب انہوں نے اپنی شرارت اور عناد کی وجہ سے اپنی استعداد خود برباد کردی تو اپنی تباہی کا سبب وہ خود ہی بن گئے لیکن چونکہ اللہ بندوں کے تمام افعال کا خالق ہے اس لیے اس خلق افعال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی جسے مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا۔ یہ مسئلہ قدرے باریک ہے اس لیے اسی اجمال پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔ جو لوگ کافر ہیں خواہ یہود و نصاریٰ ہوں خواہ ہندو و مشرک ہوں خواہ دوسری کسی قوم کے افراد ہوں اہل اسلام ان سے ملتے رہتے ہیں اور دلیل سے ان کو عاجز اور خاموش کردیتے ہیں اور ان میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو قرآن اور اسلام کو حق جانتے ہیں پھر بھی نہ صرف یہ کہ خود اسلام قبول نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اسلام قبول کرنے سے روکتے ہیں اور جو کوئی اسلام قبول کرلیتا ہے اس کو کفر میں واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں اور اسلام کو حق جانتے ہوئے قومی یا مذہبی عصبیت کے باعث اسلام کے خلاف کتابیں لکھتے ہیں۔ ان کے احوال اوراقوال پر نظر کرو تو ان کا عناد اور ان کا حال معلوم کرنے کے بعد آیۃ (سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) کا مطلب بالکل واضح طور پر سمجھ میں آجاتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10 ۔ اس آیت میں كَفَرُوْاسے مراد مطلق کافر مراد نہیں ہیں کیونکہ نبی کریم (علیہ السلام) کی تبلیغ پر ہزاروں کافر ایمان لائے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے بلکہ اس سے مراد خاص قسم کے کافر ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو حق کو اچھی طرح سمجھ چکے اور پہچان چکے ہوں مگر محض ضد اور عناد کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہوں۔ ضد و انکار کی وجہ سے ان کے ضمیر مردہ اور دل سیاہ ہوچکے ہیں اس لیے وعظ ونصیحت اور تبلیغ وانذار کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔ ای ستروا الحق عناداً (مدارک) مشرکین مکہ میں ابو جہل، ابولھب، ولید بن مغیرہ وغیرہ اور یہود کے بعض علماء اور رؤسا مثلا حی بن اخطب، کعب بن اشرف وغیرہ اسی قسم کے کافر تھے۔ (ابو السعود ص 283 ج 1، قرطبی ص 184 ج 1 نیشا پوری ص 140 ج 1) جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا یہی حال مشرکین مکہ کا تھا۔ اور احبارِ یہود کے متعلق ارشاد ہے۔ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ ( سورة بقرہ ع 11) اور ءَاَنْذَرْتَھُمْ میں ہمزہ استفہام کے لیے نہیں ہے بلکھ تسویہ کے لیے ہے کیونکہ جو ہمزہ سواء، مادری، ما ابالی، لیت شعری وغیرہ کے بعد آئے وہ تسویہ کیلئے ہوتا ہے۔ اور علامت اس کی یہ ہے کہ مصدر اس کے مدخول کے قائم مقام ہوسکے (مغنی ابن ہشام ص 16 ج 1) اور رضی شرح کافیہ (ص 328 ج 2) میں ہے ان الہمزۃ تستعمل مطرداً مع ام التسویۃ اور اَمْ اس آیت میں احد الامرین کے لیے نہیں بلکہ یہ امْ متصلہ ہے اور تسویہ کیلئے (رضی شرح کافیہ ص 314 ج 2، مغنی ص 39 ج 1) " ترکیب نحوی "۔ الذین کفروا موصول مع الصلۃ اسم ان، سواء علیہمء انذرتھم ام لم تنذرھم بتاویل المصدر، مبتداء موخر اور یہ جملہ خبر ان ہے (تفسیر مظہری ص 23 ج 1، رضی ص 317 ج 2) لَا يُؤْمِنُوْنَ جملہ مفسرہ ہے جو ماقبل کی تفسیر کرتا ہے جملۃ مفسرۃ لاجمال ما قبلھا فیما فیہ الاستواء (تفسیر مظہری ص 23 ج 1، روح المعانی ص 129 ج 1) یعنی ان کافروں کے حق میں آپ کے انذار اور عدم انذار کے یکساں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور وہ ایمان نہیں لائیں گے یا لَا يُؤْمِنُوْنَ جملہ اِنَّ کی خبر ہے۔ اور سواء علیہم الخ درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ وخبر ان والجملۃ قبلھا اعتراض (روح المعانی ص 130 ج 1، تفسیر مظہری ص 23 ج 1، مدارک ص 13 ج 1) آیت کا مفہوم دونوں صورتوں ایک ہی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ بلا شبہ جو لوگ کفر اور انکار کے عادی اور خوگر ہوچکے ان کو خواہ آپ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (تیسیر) اس آیت میں یا تو مخصوص کافر مراد ہیں ۔ جیسے ابو جہل ، ابو لہب ، ولید بن مغیرہ اور احبار یہود وغیرہ یا یہ آیت عام ہے اگر دوسری صورت مراد لی جائے تو وہ کافر جو بعد میں مسلمان ہوئے وہ خاص ہوں گے اور آیت کے مصداق صرف وہی کافر ہوں گے جو اپنے کفر پر مصر اور ضدی اور ہٹ دھرم تھے اور جو لوگ ایسے نہیں تھے وہ اس آیت میں داخل نہیں ہوں گے ۔ ہم نے ترجمہ میں دونوں معنی کی رعایت رکھی ہے یہ جو فرمایا کہ آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا ان کے حق میں برابر ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ان کو تبلیغ کرنا چھوڑ دیں بلکہ آپ ان کو برابر تبلیغ کرتے رہیں کیونکہ آپ کو تبلیغ کا اجر وثواب ملے گا اور آپ اپنی تبلیغی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو سکیں گے۔ اسی لئے یوں فرمایا کہ ڈرانا اور نہ ڈرانا ان کے حق میں برابر ہے یوں نہیں فرمایا کہ آپ کے حق میں برابر ہے۔ کفر کے اصلی معنی تو پردے کے اور کسی نعمت کو چھپانے کے ہیں لیکن شریعت میں ان چیزوں میں سے کسی چیز کے انکار کو کفر کہتے ہیں جن چیزوں کو لیکر رسول کا تشریف لانا یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہے اسی شرعی اور لغوی مناسبت کی وجہ سے قرآن میں کفر بہت سے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً نا سپاسی ، کفران نعمت ، ناقدری بیزاری ، منافقت ، جان بوجھ کر دین کا اعتراف نہ کرنا ۔ دل سے ٹھیک سمجھنا مگر زبان سے نہ کہنا ۔ دشمنی اور عناد سے کفر پر اڑے رہنا وغیرہ وغیرہ اور یہ جو فرمایا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس فرمانے کے بعد وہ معذور یا مجبور ہوگئے اور اب ان سے ایمان لانے کا حکم اٹھ گیا بلکہ وہ اس فرمانے اور عدم ایمان کی اطلاع دینے کے بعد بھی اسی طرح ایمان کے مکلف ہیں جس طرح پہلے تھے کیونکہ حضرت حق تعالیٰ کا ان کے ایمان نہ لانے کی اطلاع دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طبیب حاذق ایک دیرینہ اور پرانے مریض کی بابت یہ کہے کہ یہ شخص صحت یاب نہ ہوگا اور یہ اس مرض میں مرجائے گا ۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ان مخصوص کافروں کی موت اسی کفر کے مرض میں آئے گی اور ان کو روحانی صحت یعنی ایمان کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوگا اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ اب یہ حکم کے مکلف ہی نہیں رہے یا یہ معذور سمجھ کر قیامت میں چھوڑ دیئے جائینگے۔ ( تسہیل)