The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلسَّبْتُ کے اصل معنیٰ قطع کرنے کے ہیں اور اسی سے کہا جاتا ہے۔ سَبَتَ السَیرَ اس نے تسمہ کو قطع کیا سَبَتَ شعْرَہٗ: اس نے اپنے بال مونڈے سَبَتَ اَنْفَہٗ اس کی ناک کاٹ ڈالی۔ بعض نے کہا ہے کہ ہفتہ کے دن کو بھی یَومَ السَّبْتِ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق اتوار کے دن شروع کی تھی اور چھ دن میں تخلیق عالم فرما کر سنیچر کے دن اسے ختم کردیا تھا اسی سے سَبَتَ فُلَانٌ ہے۔ جس کے معنیٰ ہیں: وہ ہفتہ کے دن میں داخل ہوا۔ اور آیت کریمہ: (یَوۡمَ سَبۡتِہِمۡ شُرَّعًا) (۷:۱۶۳) سنیچر کے دن (مچھلیاں) سینہ سپر ہوکر ان کے سامنے آجاتیں۔ میں بعض نے یَوْمَ سَبْتِھِمْ سے ان کے کاروبار کو چھوڑنے کا دن مراد لیا ہے اس اعتبار سے یَومَ لَایَسْبِتُونَ کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ جس روز وہ کاروبار نہ چھوڑتے اور بعض نے اس کے معنیٰ یہ کئے ہیں کہ جس روز سنیچر نہ ہوتا ان ہر دو معنیٰ کا مآل ایک ہی ہے اور آیت: (اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ) (۱۶:۱۲۴) میں سبت سے مراد سنیچر کے دن ترک عمل کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ سنیچر کے روز کام کاج چھوڑنے کا حکم صرف اس لئے دیا گیا تھا … اور آیت: (وَّ جَعَلۡنَا نَوۡمَکُمۡ سُبَاتًا ) (۷۸:۹) اور نیند کو (موجب) راحت بنایا۔ میں سبات کے معنیٰ ہیں، حرکت و عمل کو چھوڑ کر آرام کرنا یہ رات کی اس صفت کی طرف اشارہ ہے جو کہ آیت: (لِتَسۡکُنُوۡا) (۲۸:۷۳) تاکہ تم رات میں راحت کرو میں مذکور ہے یعنی رات کو راحت و سکون کے لیے بنایا ہے۔
6 results