TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat uz Zaariyaat - سورة الذاريات | Verse 26 Translations

Every available translation of Surat uz Zaariyaat, verse 26, side by side - Urdu, English, Hindi and Roman - with the Arabic text above them.

فَرَاغَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ فَجَآءَ بِعِجۡلٍ سَمِیۡنٍ ﴿ۙ۲۶﴾
Then he went to his family and came with a fat [roasted] calf
پھر ( چپ چاپ جلدی جلدی ) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے ( کا گوشت ) لائے ۔
Bookmark
Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

Info
فَرَاغَ
پھر وہ گیا
اِلٰۤی اَہۡلِہٖ
طرف اپنے گھر والوں کے
فَجَآءَ
پس وہ لے آیا
بِعِجۡلٍ
ایک بچھڑا (بھنا ہوا)
سَمِیۡنٍ
موٹا تازہ
Word by Word by

Nighat Hashmi

Info
فَرَاغَ
پس وہ چپکے سے گیا
اِلٰۤی
طرف
اَہۡلِہٖ
اپنے گھروالوں کی
فَجَآءَ
تو وہ لایا
بِعِجۡلٍ
ایک بچھڑا
سَمِیۡنٍ
موٹا تازہ
Translated by

Juna Garhi

Info

Then he went to his family and came with a fat [roasted] calf

پھر ( چپ چاپ جلدی جلدی ) اپنے گھر والوں کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے ( کا گوشت ) لائے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Info

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا تازہ (بھنا ہوا) بچھڑا لے آئے

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Info

پس وہ چپکے سے اپنے گھروالوں کی طرف گیاتووہ ایک موٹا تازہ(بھُناہوا) بچھڑا لے آیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Info

Then he slipped off to his home, and fetched a fattened calf.

پھر دوڑا اپنے گھر کو تو لے آیا ایک بچھڑا گھی میں تلا ہوا

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گیا اور ایک (بھنا ہوا) موٹا تازہ بچھڑا لے آیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

Then he went back to his family and brought a fat roasted calf

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا24 ، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا 25

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Info

پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا سا بچھڑا لے آئے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info

پھر اپنے گھر جا کر ایک بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لے کر آیا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Info

پھر اپنے گھر کی طرف (اندر) گئے اور ایک موٹا بچھڑا (تلا ہوا) لائے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Info

پھر ابراہیم خاموشی سے اپنے گھر گئے اور بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

Info

تو اپنے گھر جا کر ایک (بھنا ہوا) موٹا بچھڑا لائے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

Info

Then he turned away privately Unto his household, and brought a calf fatted.

پھر آپ اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک فربہ بچھڑا لے آئے

Translated by

Amin Ahsan Islahi

Info

پھر وہ نظر بچا کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور ان کیلئے فربہ بچھڑے ( کا بھنا ہوا گوشت ) لایا ۔

Translated by

Mufti Naeem

Info

پھر جلدی سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے پھر ایک موٹا تازہ ( بھنا ہوا ) بچھڑا لے کر آئے

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

Info

تو اپنے گھر جا کر ایک بھنا ہوا بچھڑا لائے۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

Info

پھر آپ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ آپ ایک موٹا تازہ (بھنا ہوا) پورا بچھڑا لے آئے

Translated by

Noor ul Amin

Info

پھرچپکے سے اپنے گھروالوں کے پاس گئے اور ایک موٹا ( بھناہوا ) بچھڑالائے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

Info

پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا ( ف۲۷ )

Translated by

Tahir ul Qadri

Info

پھر جلدی سے اپنے گھر کی طرف گئے اور ایک فربہ بچھڑے کی سجّی لے آئے

Translated by

Hussain Najfi

Info

پس چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ( تھوڑی دیر میں ) ایک موٹا تازہ ( بھنا ہوا ) بچھڑالے آئے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

Info

Then he turned quickly to his household, brought out a fatted calf,

Translated by

Muhammad Sarwar

Info

He went quietly to his wife and returned to his guests with a fat, roasted calf.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

Info

Then he turned to his household, and brought out a roasted calf.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

Info

Then he turned aside to his family secretly and brought a fat (roasted) calf,

Translated by

William Pickthall

Info

Then he went apart unto his housefolk so that they brought a fatted calf;

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

Info

फिर वह चुपके से अपने घर वालों के पास गया और एक मोटा-ताज़ा बछड़ा (का भूना हुआ मांस) ले आया

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Info

پھر اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک فربہ بچھڑا (تلا ہوا) لائے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Info

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر مہمانوں کے سامنے پیش کیا

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور ایک بھنا ہوا موٹا تازہ بچھڑا

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info

پھر اپنے گھر والوں کی طرف چلے تو ایک موٹا بچھڑا لے آئے،

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Info

پھر دوڑا اپنے گھر کو تو لے آیا ایک بچھڑا گھی میں تلا ہوا

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

پھر ابراہیم (علیہ السلام) خاموشی کے ساتھ اپنے گھر گیا اور ایک فربہ بچھڑا تلا ہوا لے آیا۔

Related Verses

48
Surat ul Baqara
2:126
وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہٖمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارۡزُقۡ اَہۡلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنۡ اٰمَنَ مِنۡہُمۡ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ قَالَ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاُمَتِّعُہٗ قَلِیۡلًا ثُمَّ اَضۡطَرُّہٗۤ اِلٰی عَذَابِ النَّارِ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۲۶﴾
And [mention] when Abraham said, "My Lord, make this a secure city and provide its people with fruits - whoever of them believes in Allah and the Last Day." [ Allah ] said. "And whoever disbelieves - I will grant him enjoyment for a little; then I will force him to the punishment of the Fire, and wretched is the destination."
جب ابراہیم نے کہا ، اے پروردگار تو اس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالٰی پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں پھلوں کی روزیاں دے ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا :میں کافروں کو بھی تھوڑا فائدہ دوں گا ، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا ۔ یہ پہنچنے کی جگہ بُری ہے ۔
Surat ul Baqara
2:196
وَ اَتِمُّوا الۡحَجَّ وَ الۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ ؕ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ وَ لَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَکُمۡ حَتّٰی یَبۡلُغَ الۡہَدۡیُ مَحِلَّہٗ ؕ فَمَنۡ کَانَ مِنۡکُمۡ مَّرِیۡضًا اَوۡ بِہٖۤ اَذًی مِّنۡ رَّاۡسِہٖ فَفِدۡیَۃٌ مِّنۡ صِیَامٍ اَوۡ صَدَقَۃٍ اَوۡ نُسُکٍ ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ ٝ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَۃِ اِلَی الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَیۡسَرَ مِنَ الۡہَدۡیِ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الۡحَجِّ وَ سَبۡعَۃٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡ ؕ تِلۡکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ اَہۡلُہٗ حَاضِرِی الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۹۶﴾٪  8
And complete the Hajj and 'umrah for Allah . But if you are prevented, then [offer] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And do not shave your heads until the sacrificial animal has reached its place of slaughter. And whoever among you is ill or has an ailment of the head [making shaving necessary must offer] a ransom of fasting [three days] or charity or sacrifice. And when you are secure, then whoever performs 'umrah [during the Hajj months] followed by Hajj [offers] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And whoever cannot find [or afford such an animal] - then a fast of three days during Hajj and of seven when you have returned [home]. Those are ten complete [days]. This is for those whose family is not in the area of al-Masjid al-Haram. And fear Allah and know that Allah is severe in penalty.
حج اور عُمرے کو اللہ تعالٰی کے لئے پورا کرو ، ہاں اگر تم روک لئے جاؤ تو جو قربانی میّسر ہو اسے کر ڈالو اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاہ تک نہ پہنچ جائے البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فدیہ ہے خواہ روزے رکھ لے خواہ صدقہ دے دے ، خواہ قربانی کرے پس جب تم امن کی حالت میں ہو جاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے پس اسے جو قربانی میّسر ہو اسے کر ڈالے جسے طاقت ہی نہ ہو تو وہ تین روزے تو حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی میں یہ پورے دس ہوگئے یہ حکم ان کے لئے ہے جو مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالٰی سخت عذاب والا ہے ۔
Surat ul Baqara
2:217
یَسۡئَلُوۡنَکَ عَنِ الشَّہۡرِ الۡحَرَامِ قِتَالٍ فِیۡہِ ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِیۡہِ کَبِیۡرٌ ؕ وَ صَدٌّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ کُفۡرٌۢ بِہٖ وَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ٭ وَ اِخۡرَاجُ اَہۡلِہٖ مِنۡہُ اَکۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰہِ ۚ وَ الۡفِتۡنَۃُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ ؕ وَ لَا یَزَالُوۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ حَتّٰی یَرُدُّوۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ؕ وَ مَنۡ یَّرۡتَدِدۡ مِنۡکُمۡ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتۡ وَ ہُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۱۷﴾
They ask you about the sacred month - about fighting therein. Say, "Fighting therein is great [sin], but averting [people] from the way of Allah and disbelief in Him and [preventing access to] al-Masjid al-Haram and the expulsion of its people therefrom are greater [evil] in the sight of Allah . And fitnah is greater than killing." And they will continue to fight you until they turn you back from your religion if they are able. And whoever of you reverts from his religion [to disbelief] and dies while he is a disbeliever - for those, their deeds have become worthless in this world and the Hereafter, and those are the companions of the Fire, they will abide therein eternally.
لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا بڑاگناہ ہے ، لیکن اللہ کی راہ سے روکنا اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا ، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے یہ فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہو سکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کر دیں اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مریں ، ان کے اعمال دنیاوی اور اخروی سب غارت ہوجائیں گے ۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں ہی رہیں گے ۔
Surat un Nissa
4:25
وَ مَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ مِنۡکُمۡ طَوۡلًا اَنۡ یَّنۡکِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ مِّنۡ فَتَیٰتِکُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِاِیۡمَانِکُمۡ ؕ بَعۡضُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَانۡکِحُوۡہُنَّ بِاِذۡنِ اَہۡلِہِنَّ وَ اٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَیۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ ۚ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَتَیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیۡہِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَی الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ ؕ ذٰلِکَ لِمَنۡ خَشِیَ الۡعَنَتَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ اَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۲۵﴾  1
And whoever among you cannot [find] the means to marry free, believing women, then [he may marry] from those whom your right hands possess of believing slave girls. And Allah is most knowing about your faith. You [believers] are of one another. So marry them with the permission of their people and give them their due compensation according to what is acceptable. [They should be] chaste, neither [of] those who commit unlawful intercourse randomly nor those who take [secret] lovers. But once they are sheltered in marriage, if they should commit adultery, then for them is half the punishment for free [unmarried] women. This [allowance] is for him among you who fears sin, but to be patient is better for you. And Allah is Forgiving and Merciful.
اور تم میں سے جس کسی کو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی پوری وُسعت و طاقت نہ ہو وہ مسلمان لونڈیوں سے جن کے تم مالک ہو ( اپنا نکاح ) کر لو اللہ تمہارے اعمال کو بخوبی جاننے والا ہے تم سب آپس میں ایک ہی تو ہو ، اس لئے ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو ، اور قاعدہ کے مطابق ان کے مہر ان کو دے دو وہ پاک دامن ہوں نہ کہ اعلانیہ بدکاری کرنے والیاںنہ خُفیہ آشنائی کرنے والیاں پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آ جائیں پھر اگر وہ بے حیائی کا کام کریں تو انہیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے ۔ کنیزوں سے نکاح کا یہ حکم تم میں سے ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں گناہ اور تکلیف کا اندیشہ ہو اور تمہارا ضبط کرنا بہت بہتر ہے اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا اور بڑی رحمت والا ہے ۔
Surat un Nissa
4:35
وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ اِصۡلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیۡنَہُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا خَبِیۡرًا ﴿۳۵﴾
And if you fear dissension between the two, send an arbitrator from his people and an arbitrator from her people. If they both desire reconciliation, Allah will cause it between them. Indeed, Allah is ever Knowing and Acquainted [with all things].
اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک مُنصِف مرد والوں میں اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مُقّرر کرو ، اگر یہ دونوں صُلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا ، یقیناً اللہ تعالیٰ پورے علم والا اور پوری خبر والا ہے ۔
Surat un Nissa
4:58
اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا ۙ وَ اِذَا حَکَمۡتُمۡ بَیۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡکُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمۡ بِہٖ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۵۸﴾
Indeed, Allah commands you to render trusts to whom they are due and when you judge between people to judge with justice. Excellent is that which Allah instructs you. Indeed, Allah is ever Hearing and Seeing.
اللہ تعالٰی تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی انہیں پہنچاؤ !اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو !یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالٰی کر رہا ہے بیشک اللہ تعالٰی سُنتا ہے ، دیکھتا ہے ۔
Surat un Nissa
4:75
وَ مَا لَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ وَ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚ ۙ وَّ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۷۵﴾
And what is [the matter] with you that you fight not in the cause of Allah and [for] the oppressed among men, women, and children who say, "Our Lord, take us out of this city of oppressive people and appoint for us from Yourself a protector and appoint for us from Yourself a helper?"
بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یُوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے حمایتی مُقّرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا ۔
Surat un Nissa
4:92
وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ اَنۡ یَّقۡتُلَ مُؤۡمِنًا اِلَّا خَطَئًا ۚ وَ مَنۡ قَتَلَ مُؤۡمِنًا خَطَئًا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ وَّ دِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّصَّدَّقُوۡا ؕ فَاِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍ عَدُوٍّ لَّکُمۡ وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِنۡ قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ وَ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مُّؤۡمِنَۃٍ ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ ۫ تَوۡبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۹۲﴾
And never is it for a believer to kill a believer except by mistake. And whoever kills a believer by mistake - then the freeing of a believing slave and a compensation payment presented to the deceased's family [is required] unless they give [up their right as] charity. But if the deceased was from a people at war with you and he was a believer - then [only] the freeing of a believing slave; and if he was from a people with whom you have a treaty - then a compensation payment presented to his family and the freeing of a believing slave. And whoever does not find [one or cannot afford to buy one] - then [instead], a fast for two months consecutively, [seeking] acceptance of repentance from Allah . And Allah is ever Knowing and Wise.
کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے ( تو اور بات ہے ) ، جو شخص کسی مسلمان کو بلاقصد مار ڈالے اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وہ مسلمان تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے ۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے جو اس کے کنُبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی ( ضروری ہے ) پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں ، اللہ تعالٰی سے بخشوانے کے لئے اور اللہ تعالٰی بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے ۔
Surat ul Anaam
6:131
ذٰلِکَ اَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ رَّبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳۱﴾
That is because your Lord would not destroy the cities for wrongdoing while their people were unaware.
یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کو کفر کے سبب ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے بے خبر ہوں