The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَصْلُ الشَّیْئِ : (جڑ) کسی چیز کی اس بنیاد کو کہتے ہیں کہ اگر اس کا ارتفاع فرض کیا جائے تو اس شے کا باقی حصہ بھی معلوم ہوجائے قران پاک میں ہے : (اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ) (۱۴:۲۴) اس کی جڑ (زمین میں) پختگی سے جمی ہے اور شاخیں آسمان میں۔ اور تَاَصَّلَ کَذَا کے معنی کسی چیز کے جڑ پکڑنا ہیں اسی سے اصل اور خاندانی بزرگی مجد کو اَصِیْلٌ کہا جاتا ہے۔ محاورہ ہے : فُلَانٌ لَا اَصْلَ لہ وَلَا فصْلَ یعنی نیست اور احسب و نہ زبان۔ اَلْاَصِیْلُ وَالْاَصِیْلَۃ کے معنی (عَشِیَّۃ) عصر اور مغرب کے درمیانی وقت کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے : (وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ) (۳۳:۴۲) اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ اَصِیْلَ کی جمعاُصُلٌ وَاٰصَالٌ اور اَصِیْلَۃٌ کی جمع اَصَائِلُ ہے، قرآن پاک میں ہے : (بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ ) (۷:۲۰۵) صبح اور شام۔
7 results