CHAPTER: Is Al-Qasam An Oath? - باب: کیا لفظ قسم بھی «يمين» ( حلف ) میں داخل ہے ۔ - Oaths and vows (kitab al-aiman wa al-nudhur) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 13 of Oaths and vows (kitab al-aiman wa al-nudhur) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Abdullah ibn Abbas: Abu Bakr adjured the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not adjure an oath.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دلائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ التعبیر ۱۱ (۷۰۰۰)، ۴۷ (۷۰۴۶)، صحیح مسلم/ الرؤیا ۳ (۲۲۶۹)، سنن ابن ماجہ/ التعبیر ۱۰ (۳۹۱۸)، (تحفة الأشراف: ۵۸۳۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۱۹) دی/ النذور ۸ (۲۳۸۹)، ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (۴۶۳۳)
Narrated Ibn Abbas: Abu Hurairah narrated that a man came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: I had a dream last night, and he then mentioned it. So Abu Bakr interpreted it. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: You are partly right and partly wrong. He then said: I adjure you, Messenger of Allah, may my father be sacrificed on you, do tell me the mistake I have committed. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not adjure.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے آپ پر اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الرؤیا ۹ (۲۲۹۳)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ۱۰ (۳۹۱۸)، (تحفة الأشراف: ۲۲۹۳، ۱۳۷۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر ۴۷ (۷۰۴۶)، صحیح مسلم/الرؤیا ۳ (۲۲۶۹)، سنن الدارمی/الرؤیا ۱۳ (۲۲۰۲) ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (۴۶۳۲)
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Abbas through a different chain of narrators. In this version there is no mention of the word qasam (oath). It has the words: He did not inform him.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں انہوں نے قسم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( تعبیر کی غلطی ) نہیں بتائی ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۵۸۳۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ممکن ہے تعبیر کی غلطی نہ بتانے میں کوئی مصلحت رہی ہو۔