حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ عُثْمَانُ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّذْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَيَقُولُ: لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النَّذْرُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا.
Narrated Abdullah bin Umar: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade to make a vow. He said: It has not effect against fate, it is only from the miserly that it is means by which something is extracted. Musaddad said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: A vow does not avert anything (i. e. has no effect against fate).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نذر سے منع فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ نذر تقدیر کے فیصلے کو کچھ بھی نہیں ٹالتی سوائے اس کے کہ اس سے بخیل ( کی جیب ) سے کچھ نکال لیا جاتا ہے۔ مسدد کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر کسی چیز کو ٹالتی نہیں ۱؎ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/القدر ۶ (۶۶۰۸)، الأیمان ۲۶ (۶۶۹۳)، صحیح مسلم/النذر ۲ (۱۶۳۹)، سنن النسائی/الأیمان ۲۴ (۳۸۳۲، ۳۸۳۳)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ۱۵ (۲۱۲۲)، (تحفة الأشراف: ۷۲۸۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۶۱، ۸۶، ۱۱۸)، دی/النذور ۵ (۲۳۸۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں منجانب اللہ جو فیصلہ ہو چکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آ سکتی، اس لئے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر شدہ امر میں کوئی تبدیلی آ سکتی ہے۔
3287
Sahih