TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو مان لینے کا بیان - اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو مان لینے کا بیان - The chapters on expiation - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 4 of The chapters on expiation in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 21 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ مَنْ حَلَفَ بِاللَّهِ فَلْيَصْدُقْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَرْضَ بِاللَّهِ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ .
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah (ﷺ) heard a man taking an oath by his father and said: 'Do not make oaths by your forefathers. Whoever makes an oath by Allah, let him fulfill his oath, and if an oath is sworn for a person by Allah, let him accept it. Whoever is not content with Allah has nothing to do with Allah.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ، جو شخص اللہ کی قسم کھائے تو چاہیئے کہ وہ سچ کہے، اور جس سے اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو راضی ہونا چاہیئے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پہ راضی نہ ہو وہ اللہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۴۳۹، ومصباح الزجاجة:۷۳۸)
Explanation
مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان نے اللہ کی قسم کھائی، تو اب اس کے بیان کو مان لینا اور اس پر رضا مند ہو جانا چاہئے، اب اس سے یوں نہ کہنا چاہئے کہ تمہاری قسم جھوٹی ہے، یا اللہ کے سوا اب کسی اور شخص کی اس کو قسم نہ کھلانی چاہئے، جیسے جاہلوں کا ہمارے زمانہ میں حال ہے کہ اللہ کی قسم کھانے پر ان کی تسلی نہیں ہوتی، اور اس کے بعد پیر و مرشد یا نبی و رسول یا کعبہ یا ماں باپ کی قسم کھلاتے ہیں، یہ نری حماقت اور سراسر جہالت ہے، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کا درجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے برابر بھی کوئی نہیں ہے، سب سے زیادہ مومن کو اللہ کے نام کی حرمت و عزت اور عظمت کرنی چاہئے، اور احتیاط رکھنی چاہئے کہ اول تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم ہی نہ کھائے، اور اگر عادت کے طور پر اور کسی کے نام کی قسم نکل جائے اور جھوٹ اور غلط ہو جائے تو فوراً لا إِلَهَ إِلا الله کہے یعنی میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی اور کو اس معاملے میں عظمت و احترام کے لائق نہیں جانتا غیر کے الفاظ تو یونہی سہواً یا عادتاً میرے زبان سے نکل گئے تھے، مگر ایک بات یاد رہے کہ اللہ کے نام کی کبھی جھوٹی قسم نہ کھائے، اگر پیر، رسول، نبی، مرشد، ولی، غوث اور قطب وغیرہ کے نام پر لاکھوں قسمیں جھوٹ ہو جائیں تو اتنا ڈر نہیں ہے جتنا اللہ تعالی کے نام کی ایک قسم جھوٹ ہونے سے ہے، یہ حکم مسلمانوں کے لئے ہے کہ جب وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اب زیادہ تکلیف ان کو نہ دی جائے کہ وہ کسی اور کے نام کی بھی قسم کھائیں۔
2101
Zaeef
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَسَرَقْتَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عِيسَى:‏‏‏‏ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: Eisa bin Maryam saw a man stealing and said: 'Did you steal?' He said: 'No, by the One besides Whom there is no other God.' 'Eisa said: 'I believe in Allah, and I do not believe what my eyes see.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنی آنکھ کو جھٹلا دیا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:(۱۴۸۱۶))، وقد آخرجہ: صحیح البخاری/الأنبیاء ۴۸ (۳۴۴۳ تعلیقاً)، صحیح مسلم/الفضائل ۴۰ (۲۳۶۸)، سنن النسائی/آداب القضاة ۳۶ (۵۴۲۹)، مسند احمد (۲/۳۱۴،۳۸۳)
Explanation
یعنی اللہ کی عظمت کے سامنے میری آنکھ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ممکن ہے کہ مجھ کو دھوکا ہوا ہو، آنکھ نے دیکھنے میں غلطی کی ہو، لیکن یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ مسلمان کی قسم کو جھٹلاؤں، ہمیشہ صالح، نیک اور بزرگ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب مسلمان ان کے سامنے قسم کھا لیتا ہے تو ان کو یقین آ جاتا ہے، اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمان کبھی جھوٹی قسم نہیں کھائے گا۔
2102
Sahih

Chapters

21
01
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اور حلف کا بیان
4 Hadith
02
اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت
4 Hadith
03
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان
3 Hadith
04
اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو مان لینے کا بیان
2 Hadith
05
قسم کھانے میں یا قسم توڑنا ہوتی ہے یا شرمندگی ہوتی ہے
1 Hadith
06
قسم میں ان شاءاللہ کہنے کے حکم کا بیان
3 Hadith
07
جس نے کسی بات پر قسم کھائی پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھا تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
08
بری قسم کا کفارہ اسے چھوڑ دینا ہے
2 Hadith
09
قسم کے کفارہ میں کتنا کھانا دے؟۔
1 Hadith
10
کفارہ میں فقراء اور مساکین کو درمیانی درجہ کا کھانا کھلانا چاہئے
1 Hadith
11
قسم پر اصرار کرنے اور کفارہ نہ دینے کی ممانعت۔
1 Hadith
12
قسم کھلانے والے کی قسم پوری کرنے کا بیان
2 Hadith
13
یوں کہنا منع ہے ” جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں “۔
2 Hadith
14
جو کوئی قسم میں توریہ کرے اس کا بیان
3 Hadith
15
نذر سے ممانعت کا بیان
2 Hadith
16
نافرمانی (گناہ) کی نذر ماننے کا بیان
3 Hadith
17
جس نے نذر مانی لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کس چیز کی نذر ہے تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
18
نذر پوری کرنے کا بیان
3 Hadith
19
جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ نذر ہو تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
20
جس نے پیدل چل کر حج کرنے کی نذر مانی اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
21
جس نے نذر میں عبادت اور گناہ دونوں کو ملا دیا ہو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.