حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ: إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ اللَّئِيمِ .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:
The Messenger of Allah (ﷺ) forbade vows and said: 'They are just a means of taking wealth from the miserly. '
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اس سے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/القدر ۶ (۶۶۰۸)، الأیمان ۲۶ (۶۶۹۳)، صحیح مسلم/النذور ۲ (۱۶۳۹)، سنن ابی داود/الایمان ۲۱ (۳۲۸۷)، سنن النسائی/الایمان ۲۴ (۳۸۳۲،۳۸۳۳)،(تحفة الأشراف:۷۲۸۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۶۱،۸۶،۱۸)، سنن الدارمی/النذور ۵ (۲۳۸۵)
Explanation
بخیل بغیر مصیبت پڑے خرچ نہیں کرتا، جب آفت آتی ہے تو نذر مانتا ہے، اس وجہ سے نذر کو نبی کریم ﷺ نے مکروہ جانا کیونکہ وہ بخلاء کا شعار ہے، اور سخی تو بغیر نذر کے اللہ کی راہ میں ہمیشہ خرچ کرتے ہیں، اور بعضوں نے کہا: نذر سے ممانعت اس حال میں ہے جب یہ سمجھ کر نذر کرے کہ اس کی وجہ سے تقدیر بدل جائے گی، یا مقدر میں جو آفت ہے، وہ ٹل جائے گی۔
2122
Sahih