اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60، أَلَا وَإِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
It was narrated that ‘Uqbah bin ‘Amir Al-Juhani said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) reciting on the pulpit: ‘And make ready against them all you can of power.’[8:60] (And saying that) three times – ‘Power means shooting.”
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ: «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ( سورۃ الانفال: ۶۰ ) دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو کو پڑھتے ہوئے سنا: ( اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ) آگاہ رہو! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الإمارة ۵۲ (۱۹۱۷)، سنن ابی داود/الجہاد ۲۴ (۲۵۱۴)،(تحفة الأشراف:۹۹۱۱)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۹ (۳۰۸۳)، مسند احمد (۴/۱۵۷)، سنن الدارمی/الجہاد ۱۴ (۲۴۴۸)
Explanation
یعنی جنگجو کفار و مشرکین اور اعداء اسلام کے مقابلہ کے لئے ہمیشہ اپنی طاقت کو بڑھاتے رہو، اور ہر وقت جنگ کے لئے مستعد رہو گو جنگ نہ ہو، اس لئے کہ معلوم نہیں دشمن کس وقت حملہ کر بیٹھے، ایسا نہ ہو کہ دشمن تمہاری طاقت کم ہونے کے وقت غفلت میں حملہ کر بیٹھے اور تم پر غالب ہو جائے، افسوس ہے کہ مسلمانوں نے قرآن شریف کو مدت سے بالائے طاق رکھ دیا، ہزاروں میں سے ایک بھی مسلمان ایسا نظر نہیں آتا جو قرآن کو اس پر عمل کرنے کے لئے سمجھ کر پڑھے۔
2813
Sahih