حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّهَا سَمِعَتْ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِ يكَرِبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، حَسْبُ الْآدَمِيِّ لُقَيْمَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ غَلَبَتِ الْآدَمِيَّ نَفْسُهُ، فَثُلُثٌ لِلطَّعَامِ، وَثُلُثٌ لِلشَّرَابِ، وَثُلُثٌ لِلنَّفَسِ .
Miqdam bin Madikarib said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A human being fills no worse vessel than his stomach. It is sufficient for a human being to eat a few mouthfuls to keep his spine straight. But if he must (fill it), then one third of food, one third for drink and one third for air.’”
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آ جائے، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۵۷۸)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد ۴۷ (۲۳۸۰)، مسند احمد (۴/۱۳۲)
Explanation
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ خواہش نفس کی اتباع سے دور ہیں وہ تہائی پیٹ سے بھی کم کھاتے ہیں، اور تہائی پیٹ سے زیادہ کھانا سنت کے خلاف ہے۔
3349
Sahih