It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“There will be a tribulation which will utterly destroy the Arabs, and those who are slain will be in Hell. At that time the tongue will be worse than a blow of the sword.”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہو گا جو سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس میں قتل ہونے والے سب جہنمی ہوں گے، اس فتنہ میں زبان تلوار کی کاٹ سے زیادہ موثر ہو گی ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الفتن والملاحم ۳ (۴۲۶۵)، سنن الترمذی/الفتن ۱۶ (۲۱۷۸)،(تحفة الأشراف:۸۶۳۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۱۱،۲۱۲)
Explanation
ایسا نہ ہو زبان سے ناحق بات نکلے اور مفت گنہگار ہو یا فتنے میں شریک سمجھا جائے یا اس کی بات سے فتنہ کو بڑھاوا ملے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Beware of tribulations, for at that time the tongue will be like the blow of a sword.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فتنوں سے بچے رہنا کیونکہ اس میں زبان ہلانا تلوار چلانے کے برابر ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۶۷۹، ومصباح الزجاجة:۱۳۹۷)
It was narrated that ‘Alqamah bin Waqqas said that a man passed by him, who held a prominent position, and ‘Alqamah said to him:
“You have kinship and rights, and I see you entering upon these rulers and speaking to them as Allah wills you should speak. But i heard Bilal bin Harith Al-Muzani, the Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), say that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘One of you may speak a word that pleases Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record for him as pleasure, until the Day of Resurrection due to that word. And one of you may speak a word that angers Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record against him his anger, until the Day he meets Him due to that word.” 'Alqamah said: So look, woe to you, at what you say and what you speak about, for there is something that I wanted to say but I refrained because of what I heard from Bilal bin Harith.
علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سے ایک معزز شخص کا گزر ہوا، تو انہوں نے اس سے عرض کیا: آپ کا مجھ سے ( دہرا رشتہ ہے ) ایک تو قرابت کا، دوسرے مسلمان ہونے کا، میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان امراء کے پاس آتے جاتے اور ان سے حسب منشا باتیں کرتے ہیں، میں نے صحابی رسول بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کا اثر کیا ہو گا، لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے حق میں قیامت تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اپنی ناراضگی اس دن تک کے لیے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا ۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو افسوس ہے تم پر! تم کیا کہتے اور کیا بولتے ہو، بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کی حدیث نے بعض باتوں کے کہنے سے مجھے روک دیا ہے، خاموش ہو جاتا ہوں ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۰۲۸، ومصباح الزجاجة:۱۳۹۸)، وقد أخر جہ: سنن الترمذی/الزہد ۱۲ (۲۳۱۹)، موطا امام مالک/الکلام ۲ (۵)، مسند احمد (۳/۴۶۹)
Explanation
علقمہ رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ بات کہنے میں احتیاط اور غور لازم ہے، یہ نہیں کہ جو منہ میں آیا کہہ دیا، غیر محتاط لوگوں کی زبان سے اکثر ایسی بات نکل جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوتی ہے، پس وہ ایک بات کی وجہ سے جہنمی ہو جاتا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“A man may speak a word that angers Allah and not see anything wrong with it, but it will cause him to sink down in Hell the depth of seventy autumns.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ،(تحفة الأشراف:۱۴۹۹۵، ومصباح الزجاجة:۱۳۹۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ۲۳ (۶۴۷۸)، صحیح مسلم/الزہد والرقاق ۶ (۲۹۸۸)، سنن الترمذی/الزہد ۱۰ (۲۳۱۴)، موطا امام مالک/الکلام ۲ (۶)، مسند احمد (۲/۲۳۶،۵۳۳)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever believes in Allah and the Last Day, let him say something good, or else remain silent.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۸۴۳)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ۳۱ (۶۰۱۸)،۸۵ (۶۱۳۸)، صحیح مسلم/الإیمان ۱۹ (۴۷)، سنن ابی داود/الأدب ۱۳۲ (۵۱۵۴)، سنن الترمذی/صفة القیامة ۵۰ (۲۵۰۰)، مسند احمد (۲/۲۶۷،۲۶۹،۴۳۳،۴۶۳)
Sufyan bin ‘Abdullah Thaqafi said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, tell me of something that I can adhere to.’ He said: ‘Say: “Allah is my Lord,” then stand straight (adhere steadfastly to Islam).’ He said: ‘O Messenger of Allah, what is the thing that you fear most for me?’ The Messenger of Allah (ﷺ) took hold of his own tongue, then he said: ‘This.’”
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: اللہ میرا رب ( معبود برحق ) ہے اور پھر اس پر قائم رہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس کا ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الإیمان ۱۳ (۳۸)، سنن الترمذی/الزہد ۶۰ (۲۴۱۰)،(تحفة الأشراف:۴۴۷۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۱۳،۴/۳۸۴)، سنن الدارمی/الرقاق ۴ (۲۷۵۳)
It was narrated that Mu’adh bin Jabal said:
“I was with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey. One morning I drew close to him when we were on the move and said: ‘O Messenger of Allah, tell me of an action that will gain me admittance to Paradise and keep me far away from Hell.’ He said: ‘You have asked for something great, but it is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything in worship with Him, establish prayer, pay charity, fast Ramadan, and perform Hajj to the House.’ Then he said: ‘Shall I not tell you of the means of goodness? Fasting is a shield, and charity extinguishes sin as water extinguishes fire, and a man’s prayer in the middle of the night.’ Then he recited: “Their sides forsake their beds” until he reached: “As a reward for what they used to do.”[32:16-17] Then he said: ‘Shall I not tell you of the head of the matter, and its pillar and pinnacle? (It is) Jihad.’ Then he said: ‘Shall I not tell you of the basis of all that?’ I said: ‘Yes.’ He took hold of his tongue then said: ‘Restrain this.’ I said: ‘O Prophet of Allah, will we be brought to account for what we say?’ He said: ‘May your mother not found you, O Mu’adh! Are people thrown onto their faces in Hell for anything other than the harvest of their tongues?’”
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک دن میں صبح کو آپ سے قریب ہوا، اور ہم چل رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، اور جہنم سے دور رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے، اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات میں آدمی کا نماز ( تہجد ) ادا کرنا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت:«تتجافى جنوبهم عن المضاجع» ( سورة السجدة: 16 ) تلاوت فرمائی یہاں تک کہ «جزاء بما كانوا يعملون» تک پہنچے، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے ، پھر فرمایا: کیا ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ضرور بتائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: اسے اپنے قابو میں رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو بولتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہو گی؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! تیری ماں تجھ پر روئے! لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الإیمان ۷ (۲۶۱۶)،(تحفة الأشراف:۱۱۳۱۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۳۱)
It was narrated from Umm Habibah, the wife of the Prophet (ﷺ), that the Prophet (ﷺ) said:
“The words of the son of Adam count against him, not for him, except what is good and forbidding what is evil, and remembering Allah.”
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کی ہر بات کا اس پر وبال ہو گا، اور کسی بات سے فائدہ نہ ہو گا سوائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے ۔
It was narrated that Abu Sha’tha said:
“It was said to Ibn ‘Umar: ‘We enter upon our rulers and say one thing, and when we leave we say something else.’ He said: ‘At the time of the Messenger of Allah (ﷺ), we used to regard that as hypocrisy.’”
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء ( حکمرانوں ) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۷۰۹۰، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۰)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الأحکام ۲۷ (۷۱۷۸)، مسند احمد (۲/۱۵)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Part of a person’s goodness in Islam is his leaving alone that which does not concern him.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جس بات کا تعلق اس سے نہ ہو اسے وہ چھوڑ دے ۱؎۔
یعنی اس کی ٹوہ اور جستجو میں نہ لگے، جو چیز حرام یا مکروہ ہو اس کا چھوڑنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، خواہ اس کا اسلام عمدہ ہو یا نہ ہو لیکن عمدہ اور اچھا مسلمان وہ ہے جو بیکار اور غیر مفید بات کو بھی چھوڑ دے، اگرچہ وہ حرام یا مکروہ نہ ہو یعنی مباح بات ہو لیکن اس کے کرنے میں آخرت کا فائدہ نہ
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“The best lifestyle is that of a man who holds onto the reins of his horse for the sake of Allah, riding on its back. Every time he hears a commotion he rushes towards it, seeking death wherever he thinks he can find it; and a man who tends sheep at the top of one of these peaks, or in the bottom of one of these valleys, establishing the prayer, paying the charity, and worshipping his Lord until the inevitable (death) comes to him and there is nothing between him and the people except good.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آ جائے کہ وہ لوگوں کا خیرخواہ ہو ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الإمارة ۳۴ (۱۸۸۹)،(تحفة الأشراف:۱۲۲۲۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۴۳)
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that a man came to the Prophet (ﷺ) and said:
“Which of the people is best?” He said: “A man who strives in Jihad in the cause of Allah with himself and his wealth.” He said: “Then who?” He said: “A man in a mountain pass who worships Allah and leaves the people from his evil.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو ، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الجہاد ۲ (۲۷۸۶)، الرقاق ۳۴ (۶۴۹۴)، صحیح مسلم/الإمارة ۳۴ (۱۸۸۸)، سنن ابی داود/الجہاد ۵ (۲۴۸۵)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ۲۴ (۱۶۶۰)، سنن النسائی/الجہاد ۷ (۳۱۰۷)،(تحفة الأشراف:۴۱۵۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۶،۳۷،۵۶،۸۸)
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“There will be callers at the gates of Hell; whoever responds to them they throw them into it.” I said: “O Messenger of Allah, describe them to us.” He said: “They will be from our people, speaking our language.” I said: “What do you command me to do, if I live to see that?” He said: “Adhere tothe main body of the Muslims and their leader. If there is no such body and no leader, then withdraw from all their groups, even if you bite onto the trunk of a tree until death finds you in that state.”
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ اوصاف بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے ، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتیٰ کہ تمہیں اسی حالت میں موت آ جائے ا؎۔
تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے یعنی جنگل میں جا کر عزلت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا اور مرنے تک ایک درخت کی جڑ چوسنے پر قناعت کرنا، اور ان سب فرقوں سے الگ رہنا ایسے فتنہ کے زمانے میں جب نہ تو کوئی مسلمانوں کا امام ہو نہ جماعت ہو بہتر اور باعث نجات ہے۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Soon the best wealth of a Muslim will be sheep which he follows in the mountain peaks and places where rainfall is to be found, fleeing for the sake of his religion from tribulations.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں یا بارش کے مقامات میں چلا جائے گا، وہ اپنا دین فتنوں سے بچاتا پھر رہا ہو گا ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الإیمان ۱۲ (۱۹)، بدء الخلق ۱۵ (۳۳۰۰)، المناقب ۲۵ (۳۶۰۰)، الرقاق ۳۴ (۴۶۹۵)، سنن ابی داود/الفتن ۱۴ (۴۲۶۷)، سنن النسائی/الإیمان ۳۰ (۵۰۳۹)،(تحفة الأشراف:۴۱۰۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ۶ (۱۶)مسند احمد (۳/۶،۳۰،۴۳،۵۷)
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“There will be tribulations at the gates of which will be callers (calling people) to Hell. Dying when you are biting onto the stump of a tree will be better for you than following anyone of them.”
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، لہٰذا اس وقت تمہارے لیے کسی درخت کی جڑ چبا کر جان دے دینا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تم ان بلانے والوں میں سے کسی کی پیروی کرو ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
‘The believer should not be stung from the same hole twice.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۸۱۱، ومصباح الزجاجة:۱۳۹۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۱۵)
Explanation
ابوعزہ حجمی نامی شاعرمسلمانوں کی ہجو کرتا تھا، بدر کے موقع پر قیدی ہواا ور آئندہ ہجو نہ کرنے کا عہدکر کے اس نے آزادی حاصل کر لی، مکہ مکرمہ جا کر اس نے دوبارہ مسلمانوں کے خلاف شاعری شروع کر دی پھر وہ غزوہ احد میں دوبارہ قید ہوا، اور اپنی تنگدستی کا بہانہ بنا کر دوبارہ آزادی طلب کی تو اس موقع پر آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
While on the pulpit, pointing with this fingers towards his ears, Nu’man bin Bashir said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘That which is lawful is plain and that which is unlawful is plain, and between them are matters that are not clear, about which not many people know. Thus he who guards against the unclear matters, he clears himself with regard to his religion and his honor. But he who falls into the unclear matters, he falls into that which is unlawful. Like the shepherd who pastures around a sanctuary, all but grazing therein. Every king has a sanctuary. And beware! Allah’s sanctuary is His prohibitions. Beware! In the body there is a piece of flesh which, if it is sound, the whole body will be sound, and if it is corrupt, the whole body will be corrupt. It is the heart.’”
شعبی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ کہتے سنا، اور انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام بھی، ان کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جان پاتے ( کہ حلال ہے یا حرام ) جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا، وہ ایک دن حرام میں بھی پڑ جائے گا، جیسا کہ چرا گاہ کے قریب جانور چرانے والا اس بات کے قریب ہوتا ہے کہ اس کا جانور اس چراگاہ میں بھی چرنے لگ جائے، خبردار!، ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، آگاہ رہو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب تک وہ صحیح رہتا ہے تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، آگاہ رہو!، وہ دل ہے ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الإیمان ۳۹ (۵۲)، البیوع ۲ (۲۰۵۱)، صحیح مسلم/المساقاة ۲۰ (۱۵۹۹)، سنن ابی داود/البیوع ۳ (۳۳۲۹،۳۳۳۰)، سنن الترمذی/البیوع ۱ (۱۲۰۵)، سنن النسائی/البیوع ۲ (۴۴۵۸)،(تحفة الأشراف:۱۱۶۲۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۷۵)، سنن الدارمی/البیوع ۱ (۲۵۷۳)
Explanation
یہ بڑی اہم بات ہے جس پر اسلام کے اکثر احکام کا دارومدار ہے، مشتبہ کاموں سے ہمیشہ بچے رہنا ہی تقویٰ اور صلاح کا طریقہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے سود کا بیان کھول کر نہیں کیا تو سود سے بچو اور جس چیز میں سود کا شک ہو اس سے بچو اور دوسری حدیث میں ہے کہ جس کام میں تم کو شک ہو اس کو چھوڑ دو تاکہ تم شک میں نہ پڑو، اور آپ نے سودہ رضی اللہ عنہا کو عبد بن زمعہ سے پردہ کا حکم دیا حالانکہ اس کا نسب زمعہ سے ثابت کیا کیونکہ اس میں عتبہ کے نطفہ ہونے کا شبہ تھا اور عقبہ بن حارث نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے دولہا اور دلہن دونوں کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ دونوں اس کو نہیں جانتے تھے نہ ان کے گھر والے پھر اس کا ذکر آپ ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا کیا علاج ہے کہ ایسا کہا گیا یعنی گو کامل شہادت سے دودھ پلانا ثابت نہیں ہوا مگر کہا تو گیا تو شبہ ہوا غرض عقبہ رضی اللہ عنہ کو عورت چھوڑ دینے کا اشارہ کیا۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے ۔