It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، اور عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۸۵۵، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۱)
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Islam began as something strange and will go back to being strange, so glad tidings to the strangers.” It was said: “Who are the strangers?’ He said: “Strangers who have left their families and tribes.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری ہے، آپ سے سوال کیا گیا: غرباء کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے سے نکال دئیے گئے ہوں ۱؎۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الإیمان ۱۳ (۲۶۲۹)،(تحفة الأشراف:۹۵۱۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۹۸)، سنن الدارمی/الرقاق ۴۲ (۲۷۹۷)
Explanation
یعنی مسافر، پردیسی جن کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہو، شروع میں اسلام ایسے ہی لوگوں نے اختیار کیا تھا جیسے بلال، صہیب، سلمان، مقداد، ابوذر رضی اللہ عنہم وغیرہ اور قریشی مہاجر بھی اجنبی ہو گئے تھے اس لئے کہ قریش نے ان کو مکہ سے نکال دیا تھا، تو وہ مدینہ میں اجنبی تھے۔
It was narrated from ‘Umar bin Khattab that he went out one day to the mosque of the Messenger of Allah (ﷺ), and he found Mu’adh bin Jabal sitting by the grave of the Prophet (ﷺ), weeping. He said:
“Why are you weeping?” He said: “I am weeping because of something that I heard from the Messenger of Allah (ﷺ). I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘A little showing off is polytheism and whoever shows enmity towards a friend of Allah has declared war on Allah. Allah loves those who se righteousness and piety are hidden, those who, if they are absent, are not missed, and if they are present, they are not invited or acknowledged. Their hearts are lamps of guidance and they get out of every trial and difficulty.’”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ مسجد نبوی کی جانب گئے، تو وہاں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ایک ایسی بات رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: معمولی ریاکاری بھی شرک ہے، بیشک جس نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی، تو اس نے اللہ سے اعلان جنگ کیا، اللہ تعالیٰ ان نیک، گم نام متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اگر غائب ہو جائیں تو کوئی انہیں تلاش نہیں کرتا، اور اگر وہ حاضر ہو جائیں تو لوگ انہیں کھانے کے لیے نہیں بلاتے، اور نہ انہیں پہچانتے ہیں، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ایسے لوگ ہر گرد آلود تاریک فتنے سے نکل جائیں گے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۳۰۵، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۲)
حدثنا هشام بن عمار حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي حدثنا زيد بن أسلم عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الناس كإبل مائة لا تكاد تجد فيها راحلة».
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“People are like a hundred camels; you can hardly find one worth riding among them.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کے مانند ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پاؤ گے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۷۴۰)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ۳۵ (۶۴۹۸)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۶۰ (۲۵۴۷)، سنن الترمذی/الأمثال ۷ (۲۸۷۲)، مسند احمد (۲/۷۰،۱۲۳،۱۳۹)
Explanation
سواری میں استعمال ہونے والا جانور نرم مزاج اور سیدھا ہوتا ہے، لیکن عملاً کمیاب، ایسے سیکڑوں آدمیوں میں سے کوئی کوئی ہوتا ہے، جو دوستی اور تعلقات کو استوار کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اکثر لوگوں میں مختلف انداز کی کمیاں پائی جاتی ہیں، کامل و مکمل اور بھر پور شخصیت والے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الرقاق کے باب «رفع الامانہ» میں اسی لئے ذکر کیا ہے کہ اخیر امت میں لوگ اس باب میں بھی کمیاب ہوں گے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The Jews split into seventy-one sects and my nation will split into seventy-three sects.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۰۹۹)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة ۱ (۴۵۹۶)، سنن الترمذی/الإیمان ۱۸ (۲۶۴۰)، مسند احمد (۲/۳۳۲)
It was narrated from ‘Awf bin Malik that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
“The Jews split into seventy-one sects, one of which will be in Paradise and seventy in Hell. The Christians split into seventy-two sects, seventy-one of which will be in Hell and one in Paradise. I swear by the One Whose Hand is the soul of Muhammad, my nation will split into seventy-three sects, one of which will be in Paradise and seventy-two in Hell.” It was said: “O Messenger of Allah, who are they?” He said: “The main body.”
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر ( ۷۱ ) فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور ستر ( ۷۰ ) جہنم میں، نصاریٰ کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے اکہتر ( ۷۱ ) جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتر ( ۷۳ ) فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ جنت میں جائے گا، اور بہتر ( ۷۲ ) فر قے جہنم میں ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الجماعة»۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۹۰۸، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۳)
Explanation
یعنی اہل سنت و الجماعت جنہوں نے حدیث اور قرآن کو نہیں چھوڑا اس وجہ سے اہل سنت ہوئے، اور جماعت المسلمین کے ساتھ رہے تھے۔
It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
‘The Children of Israel split into seventy-one sects, and my nation will split into seventy-two, all of which will be in Hell apart from one, which is the main body.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک کے سب جہنمی ہوں گے، اور وہ «الجماعة» ہے، ( وہ جماعت جو میری اور میرے صحابہ کی روش اور طریقے پر ہو ) ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۱۴، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۲۰)
Explanation
جس نے مسلمانوں کی جماعت اور امام وقت کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہر زمانہ میں امام اور خلیفہ وقت کے ساتھ رہے،یہ مضمون اہل سنت والجماعت کے علاوہ کسی اور فرقہ اور جماعت پر صادق نہیں آتا، اس لیے معلوم ہوا کہ اہل سنت والجماعت ہی ناجی جماعت ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“You will most certainly follow the ways of those who came before you, arm’s length by arm’s length, forearm’s length by forearm’s length, hand span by hand span, until even if they entered a hole of a mastigure (lizard) you will enter it too.” They said: “O Messenger of Allah, (do you mean) the Jews and the Christians?” He said: “Who else?”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے اگر وہ ہاتھ پھیلانے کے مقدار چلے ہوں گے ۱؎، تو تم بھی وہی مقدار چلو گے، اور اگر وہ ایک ہاتھ چلے ہوں گے تو تم بھی ایک ہاتھ چلو گے، اور اگر وہ ایک بالشت چلے ہوں گے تو تم بھی ایک بالشت چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ یہود اور نصاریٰ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب اور کون ہو سکتے ہیں ؟ ۲؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۱۲۰، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاعتصام ۱۴ (۷۳۱۹)، مسند احمد (۲/۴۵۰،۵۲۷)
Explanation
یعنی قدم بہ قد م، «باع»: کہتے ہیں دونوں ہاتھ کی لمبائی کو، «ذراع»: ایک ہاتھ اور «شبر» ایک بالشت۔ ۲؎: یہود اور نصاریٰ نے یہ کیا تھا کہ تورات اور انجیل کو چھوڑ کر اپنے مولویوں اور درویشوں کی پیروی میں غرق ہو گئے تھے، اور اسی کو دین و ایمان جانتے تھے، مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا کہ قرآن و حدیث کا پڑھنا پڑھانا اور ان پر عمل کرنا اور کرانا بالکل چھوڑ دیا، اور قرآن و حدیث کی جگہ دوسرے ملاؤں کی کتابیں ایسی رائج اور مشہور ہو گئیں کہ بکثرت مسلمان انہی کتابوں پر چلنے لگے الا ماشاء اللہ، ایک طائفہ قلیلہ اہل حدیث کا (شکر اللہ سعیم) کہ ہر زمانہ میں وہ قرآن و حدیث پر قائم رہا۔، فاسد آراء اور باطل قیاس کی طرف انہوں نے کبھی التفات نہیں کیا، جاہل و بے دین اور بدعت و شرک میں مبتلا سادہ لوح مسلمانوں نے اس گروہ سے دشمنی کی، اعداء اسلام نے بھی دشمنی میں کوئی کسر نہیں باقی رکھی، لیکن ان سب کی دشمنی اور عداوت سے ان اہل حق کو کبھی نقصان نہ ہو سکا، اور یہ فرقہ حقہ قیامت تک اپنے دلائل حقہ کے ساتھ غالب اور قائم رہے گا، اس کے دلائل و براہین کا کسی کے پاس جواب نہیں ہو گا۔
Abu Sa’eed Al-Khudri said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and addressed the people saying: ‘No, by Allah, I do not fear for you, O people, but I fear the attractions of this world that Allah brings forth for you.’ A man said to him: ‘O Messenger of Allah(ﷺ), does good bring forth evil?’ The Messenger of Allah (ﷺ) remained silent for a while, then he said: ‘What did you say?’ He said: ‘I said, does good bring forth evil?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Good does not bring forth anything but good, but is it really good? Everything that grows on the banks of a stream may either kill if overeaten or (at least) make the animals sick, except if an animal eats its fill of Khadir* and then faces the sun, and then defecates and urinates, chews the cud and then returns to graze again. Whoever takes wealth in a lawful manner, it will be blessed for him, but whoever takes it in an unlawful manner, his likeness is that of one who eats and it never satisfied.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: اللہ کی قسم، لوگو! مجھے تمہارے متعلق کسی بات کا خوف نہیں، ہاں صرف اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیاوی مال و دولت سے نوازے گا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا خیر ( مال و دولت ) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر قدرے سکوت کے بعد فرمایا: تم نے کیسے کہا تھا ؟ میں نے عرض کیا: کیا خیر ( یعنی مال و دولت کی زیادتی ) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر سے تو خیر ہی پیدا ہوتا ہے، اور کیا وہ مال خیر ہے؟ ہر وہ سبزہ جسے موسم بہار اگاتا ہے، جانور کا پیٹ پھلا کر بدہضمی سے مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے، مگر اس جانور کو جو گھاس کھائے یہاں تک کہ جب پیٹ پھول کر اس کے دونوں پہلو تن جائیں تو دھوپ میں چل پھر کر، پاخانہ پیشاب کرے، اور جگالی کر کے ہضم کر لے، اور واپس آ کر پھر کھائے، تو اسی طرح جو شخص مال کو جائز طریقے سے حاصل کرے گا، تو اس کے مال میں برکت ہو گی، اور جو اسے ناجائز طور پر حاصل کرے گا، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا رہے اور آسودہ نہ ہو ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Amr bin ‘As that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“When the treasures of Persia and Rome are opened for you, what kind of people will you be?” ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf said: “We will say what Allah has commanded us to say.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Or something other than that. You will compete with one another, then you will envy one another, then you will turn your backs on one another, then you will hate one another, or something like that. Then you will go to the poor among the Muhajirun and appoint some of them as leaders of others.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم پر فارس اور روم کے خزانے کھول دئیے جائیں گے، تو اس وقت تم کون لوگ ہو گے ( تم کیا کہو گے ) ؟ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم وہی کہیں گے ( اور کریں گے ) جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہو گے؟ تم مال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش کرو گے، اور ایک دوسرے سے حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑو گے، اور ایک دوسرے سے بغض و نفرت رکھو گے یا ایسا ہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اس کے بعد مسکین مہاجرین کے پاس جاؤ گے، پھر ان کا بوجھ ان ہی پر رکھو گے ۔
It was narrated from ‘Amr bin ‘Awf, who was an ally of Banu ‘Amir bin Lu’ai and was present at (the battle of) Badr with the Messenger of Allah (ﷺ), that the Messenger of Allah (ﷺ) sent ‘Ubaidah bin Jarrah to Bahrain to collect the Jizyah, and the Prophet (ﷺ) had made a treaty with the people of Bahrain, and he appointed as their governor ‘Ala’ bin Hadrami. Abu ‘Ubaidan came with the wealth from Bahrain and the Ansar heard that Abu ‘Ubaidah had come, so they attended the Fajr prayer with the Messenger of Allah (ﷺ). When the Messenger of Allah (ﷺ) had prayed, he went away, so they intercepted him. The Messenger of Allah (ﷺ) smiled when he saw them, then he said:
‘I think you have heard that Abu ‘Ubaidah has brought something from Bahrain?’ They said: ‘Yes, O Messenger of Allah.’ He said: ‘Be of good cheer and hope for that which will make you happy. By Allah, I do not fear poverty for you, rather I fear that you will enjoy ease and plenty like those who came before you, and that you will compete with one another as they did, and you will be destroyed as they were.’”
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کا جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی، اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا، ابوعبیدہ ( ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ) بحرین سے مال لے کر آئے، اور جب انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نماز پڑھ کر لوٹے، تو راستے میں یہ لوگ آپ کے سامنے آ گئے، آپ انہیں دیکھ کر مسکرائے، پھر فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگوں نے یہ سنا کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ مال لائے ہیں ، انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم لوگ خوش ہو جاؤ، اور امید رکھو اس چیز کی جو تم کو خوش کر دے گی، اللہ کی قسم! میں تم پر فقر اور مفلسی سے نہیں ڈرتا، لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا تم پر اسی طرح کشادہ نہ کر دی جائے جیسے تم سے پہلے کے لوگوں پر کر دی گئی تھی، تو تم بھی اسی طرح سبقت کرنے لگو جیسے ان لوگوں نے کی تھی، پھر تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ جس طرح وہ ہلاک ہو گئے ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الجزیة ۱ (۳۱۵۸)، صحیح مسلم/الزہد ۱ (۲۹۶۱)، سنن الترمذی/صفة القیامة ۲۸ (۲۴۶۲)،(تحفة الأشراف:۱۰۷۸۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۳۷،۳۲۷)
It was narrated from Usamah bin Zaid that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“I am not leaving behind me any tribulation that is more harmful to men than women.”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور مضر کوئی فتنہ نہیں پاتا ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/النکاح ۱۶ (۵۰۹۶)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ۲۶ (۲۷۴۱)، سنن الترمذی/الأدب ۳۱ (۲۷۸۰)،(تحفة الأشراف:۹۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/ ۲۰۰،۲۱۰)
Explanation
عورتوں کی وجہ سے اکثر خرابی پیدا ہو گی یعنی لوگ ان کی وجہ سے بہت سارے کام خلاف شرع کریں گے۔
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“No morning comes but two angels call out: ‘Woe to men from women, and woe to women from men.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر صبح دو فرشتے یہ پکارتے ہیں: مردوں کے لیے عورتوں کی وجہ سے بربادی ہے، اور عورتوں کے لیے مردوں کی وجہ سے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۱۸۸، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۶)
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) stood up to deliver a sermon and one of the things that he said was:
“This world is fresh and sweet, and Allah will make your successive generations therein, so look at what you do and beware of (the temptations of) this world and beware of (the temptations of) women.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے، تو اس خطبہ میں یہ بھی فرمایا: دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، تو وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ سنو! تم دنیا سے بھی بچاؤ کرو، اور عورتوں سے بھی ۱؎۔
ان دونوں چیزوں سے بقدر ضرورت ہی دلچسپی رکھو، نیز اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کے موافق مسلمانوں کو بہت دنیا دی اور مشرق اور مغرب کا ان کو حکمراں بنایا، اور مدت دراز تک ان کی حکومت قائم رہی، جب انہوں نے بھی اگلے لوگوں کی طرح بے اعتدالی، ظلم اور کجروی اختیار کی تو پھر ان سے چھین لی، آج کل نصاریٰ کی بہار ہے، ان کو تمام دنیا کی حکومت اور دولت مل رہی ہے اب دیکھنا ہے کہ ان کی میعاد کب تک ہے۔
It was narrated that ‘Aishah said:
“While the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting in the mosque, a woman from Muzainah (tribe) entered, trailing her garment in the mosque. The Prophet (ﷺ) said: ‘O people, tell your women not to wear their adornments and show pride in the mosque, for the Children of Israel were not cursed until their women wore adornments and walked proudly in their places of worship.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مسجد میں بنی ٹھنی اتراتی ہوئی داخل ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی عورتوں کو زیب و زینت کا لباس پہن کر اور ناز و ادا کے ساتھ مسجد میں آنے سے منع کرو، کیونکہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اس وقت آئی تھی جبکہ ان کی عورتوں نے لباس فاخرہ پہننے شروع کئے، اور مسجدوں میں ناز و ادا کے ساتھ داخل ہونے لگیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۳۳۶، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۷)
It was narrated that Abu Hurairah met a woman who was wearing perfume and heading for the mosque. He said:
“O slavewoman of the Compeller, where are you headed?” She said: “To the mosque.” He said: “And have you put on perfume for that?” She said: “Yes.” He said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Any woman who puts on perfume then goes out to the mosque, no prayer will be accepted from her until she takes a bath.’”
ابورہم کے عبید نامی غلام کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خوشبو لگائے مسجد جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اسی کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الترجل ۷ (۴۱۷۴)،(تحفة الأشراف:۱۴۱۳۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۴۶،۲۹۷،۳۶۵،۴۴۴،۴۶۱)
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“O women, give in charity and pray a great deal for forgiveness, for I have seen that you form the majority of the people of Hell.” A woman who was very wise said: “Why is it, O Messenger of Allah, that we form the majority of the people of Hell?” He said: “You curse a great deal and you are ungrateful to your husbands, and I have never seen anyone lacking in discernment and religion more overwhelming to a man of wisdom than you.” She said: “O Messenger of Allah, what is this lacking in discernment and religion?” He said: “The lack of discernment is the fact that the testimony of two women is equal to the testimony of one man; this is the lack of reason. And (a woman) spends several nights when she does not pray, and she does not fast in Ramadhan, and this is the lack in religion.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرو، کثرت سے استغفار کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں تم عورتوں کو زیادہ دیکھا ہے ، ان میں سے ایک سمجھ دار عورت نے سوال کیا: اللہ کے رسول ہمارے جہنم میں زیادہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لعنت و ملامت زیادہ کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، میں نے باوجود اس کے کہ تم ناقص العقل اور ناقص الدین ہو، تم سے زیادہ مرد کی عقل کو مغلوب اور پسپا کر دینے والا کسی کو نہیں دیکھا ، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری عقل کی کمی ( و نقصان ) تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے، اور دین کی کمی یہ ہے کہ تم کئی دن ایسے گزارتی ہو کہ اس میں نہ نماز پڑھ سکتی ہو، اور نہ رمضان کے روزے رکھ سکتی ہو ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الإیمان ۳۴ (۷۹)، سنن ابی داود/السنة ۱۶ (۴۶۷۹)،(تحفة الأشراف:۷۲۶۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۶۶)
It was narrated that ‘Aishah said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘enjoin what is good and forbid what is evil, before you call and you are not answered.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۳۴۹، ومصباح الزجاجة:۱۴۰۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۵۹)
It was narrated that Qais bin Abu Hazim said:
“Abu Bakr stood up and praised and glorified Allah, then he said: ‘O people, you recite this Verse – “O you who believe! Take care of your own selves. If you follow the (right) guidance no hurt can come to you from those who are in error.”[5:105] – but I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If people see some evil but do not change it, soon Allah will send His punishment upon them all.’” (One of the narrators) Abu Usamah repeated: Indeed I heard that Messenger of Allah (ﷺ) say.
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد فرمایا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، اور تمہیں دوسرے شخص کی گمراہی ضرر نہ دے گی، جب تم ہدایت پر ہو ( سورة المائدة: 105 ) ۔ اور بیشک ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عام عذاب نازل کر د ے ۔ ابواسامہ نے دوسری بار کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الملاحم ۱۷ (۴۳۳۸)، سنن الترمذی/الفتن ۸ (۲۱۶۸)، تفسیر القرآن سورة المائدة ۱۸ (۳۰۵۷)،(تحفة الأشراف:۶۶۱۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲،۵،۷،۹)
It was narrated from Abu ‘Ubaidah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“When the Children of Isral became deficient in religious commitment, a man would see his brother committing sin and would tell him not to do it, but the next day, what he had seen him do did not prevent him from eating or drinking with him, or mixing with him. So Allah made the hearts of those who did not commit sin like the hearts of those who did, and He revealed Qur’an concerning them and said: “Those among the Children of Israel who disbelieved were cursed by the tongue of David and ‘Eisa, son of Maryam” until he reached: “And had they believed in Allah, and in the Prophet and in what has been revealed to him, never would they have taken them (the disbelievers) as their friends; but many of them are disobedient (to Allah).”[5:78-81] The Messenger of Allah (ﷺ) sat up and said: No, not until they take the hand of the wrongdoer (i.e. restrain him] and force him to follow the right way.
ابوعبیدہ (عامر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں جب خرابیاں پیدا ہوئیں، تو ان کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ کرتے دیکھتا تو اسے روکتا، لیکن دوسرے دن پھر اس کے ساتھ کھاتا پیتا اور مل جل کر رہتا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مردہ کر دیا، اور آپس کی محبت ختم کر دی، اور ان ہی لوگوں کے بارے میں قرآن اترا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم»کی تلاوت کی یہاں تک کہ آپ «ولو كانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولكن كثيرا منهم فاسقون» ( سورۃ المائدہ: ۷۸ -۸۱ ) تک پہنچے۔ ( جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم ( علیہم السلام ) کی زبانی لعنت کی گئی، کیونکہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے، وہ جس برائی کے خود مرتکب ہوتے اس سے لوگوں کو بھی نہیں روکتے تھے، بہت ہی برا کرتے تھے، تو ان میں سے اکثر کو دیکھ رہا ہے کہ وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں یہ وطیرہ انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا اختیار کیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان پر سخت ناراض ہے، اور آخرت میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں رہیں گے، اور اگر یہ اللہ پر اور نبی پر اور جو اس کی طرف اترا ہے اس پر ایمان لاتے تو ان کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن بہت سے ان میں فاسق ( بدکار اور بے راہ ) ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: تم اس وقت تک عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک کہ تم ظالم کو ظلم کرتے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے انصاف کرنے پر مجبور نہ کر دو ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الملاحم ۱۷ (۴۳۳۶،۴۳۳۷)، سنن الترمذی/التفسیر ۶ (۳۰۴۸)،(تحفة الأشراف:۹۶۱۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/ ۳۹۱)