کیا جنبی کا ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہٰ لگا لینا کافی ہے؟۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَقَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلًا.
It was narrated from Bukair bin 'Abdullah bin Ashajj that:
Abu Sa'ib, the freed slave of Hisham bin Zuhrah, told him that he heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah said: 'No one of you should bathe in standing water when he is sexually impure.' He (Abu Sa'ib) said: What should he do, O Abu Hurairah? He said: Let him take some out (and pour it over himself).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ، پھر کسی نے کہا: ابوہریرہ! تب وہ کیا کرے؟ کہا: اس میں سے پانی لے لے کر غسل کرے ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/الطہارة ۲۹ (۲۸۳)، سنن النسائی/الطہارة ۱۳۹ (۲۲۱)، المیاہ ۳ (۳۳۲)، الغسل ۱ (۳۹۶)، (تحفة الأشراف: ۱۴۹۳۶)
Explanation
ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہ لگانا منع ہے کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کو کراہت ہو گی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ پانی ناپاک ہو جائے گا، اس لئے منع ہے کیونکہ پانی اگر دو قلہ سے زیادہ ہو تو وہ اس طرح کی نجاست سے ناپاک نہیں ہوتا۔
605
Sahih