It was narrated from 'Adiyy bin Thabit, from his father, from his grandfather, that:
The Prophet said: The woman who experiences irregular non-menstrual bleeding should leave prayer during the days of her period, then she should take a bath, and perform ablution for each prayer, and she should fast and perform the prayer.
عدی بن ثابت کے دادا دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور روزے رکھے اور نماز پڑھے ۔
It was narrated from 'Urwah bin Zubair and 'Amrah bint 'Abdur-Rahman that :
'Aishah the wife of the Prophet said: Umm Habibah Jahsh experienced prolonged non-menstrual bleeding for seven years when she was married to 'Abdur-Rahman bin 'Awf. She complained about that to the Prophet and the Prophet said: 'That is not menstruation, rather it is a vein, so when the time of your period comes, leave the prayer, and when it is over, take a bath and perform prayer.' 'Aishah said: She used to bathe for every prayer and then perform the prayer. She used to sit in a washtub belonging to her sister Zainab bint Jahsh and the blood would turn the water red.
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھی، جو سات برس تک استحاضہ میں مبتلا رہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ ایک رگ کا خون ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں پھر نماز پڑھتی تھیں، اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ایک ٹب میں بیٹھا کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی ۱؎۔
It was narrated from Hamnah bint Jahsh that:
She experienced prolonged non-menstrual bleeding during the time of the Messenger of Allah. She came to the Messenger of Allah and said: I am suffering prolonged and painful bleeding. He said: Fill it with a pad of cloth. She said: It is worse than that, it is flowing copiously. He said: Then bind yourself with a cloth and observe your menses for six or seven days, in the knowledge of Allah, then have a bath and perform prayer and fast for twenty-three or twenty-four days. Delay Zuhr and bring 'Asr forward, and take (one) bath for both, and delay Maghrib and bring 'Isha' forward, and have (one) bath for both. That is what I prefer of the two matters.'
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں استحاضہ ہو گیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: مجھے بری طرح سے سخت استحاضہ ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: شرمگاہ کے اندر تھوڑی روئی رکھ لو ، وہ بولیں: وہ اس سے زیادہ سخت ہے، بہت تیز بہہ رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک لنگوٹ کی طرح کس لو، اور اللہ کے علم کے موافق ہر مہینہ میں چھ یا سات روز حیض کے شمار کر لو، پھر غسل کر کے تیئس یا چوبیس دن تک نماز پڑھو اور روزہ رکھو، ( آسانی کے لیے ) ظہر میں دیر اور عصر میں جلدی کر کے دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کر لو، اسی طرح مغرب میں دیر اور عشاء میں جلدی کر کے دونوں کے لیے ایک غسل کر لو، ۱؎ اور مجھے ان دونوں طریقوں میں سے یہ زیادہ پسند ہے ۲؎۔
اور فجر کی نماز کے لئے ایک غسل کر لو۔ ۲؎: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر نماز کے لئے غسل کرے، تو دن رات میں پانچ بار غسل کرنا ہو گا، اور اس صورت میں صرف تین بار غسل کرنا پڑے گا، اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے جنہوں نے مستحاضہ کو ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا حکم دیا ہے، مگر یہ حکم نہایت سخت ہے، اور ضعیف اور کمزور عورتوں سے یہ بار اٹھانا مشکل ہے،خصوصاً سرد ملکوں میں، پس عمدہ طریقہ وہی ہے جو دوسری حدیثوں سے ثابت ہے کہ حیض کے ختم ہو جانے پر صرف ایک بار غسل کر لے، پھر ہر نماز کے لئے وضو کرتی رہے
It was narrated that Umm Qais bint Mihsan said:
I asked the Messenger of Allah about menstrual blood that gets on clothing. He said, 'Wash it with water and lote leaves, and rub it, even with a piece of stick.'
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑوں میں لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے دھو ڈالو، اور اسے کھرچ ڈالو، اگرچہ لکڑی ہی سے سہی ۔
It was narrated that Asma' bint Abi Bakr said:
The Messenger of Allah was asked about menstrual blood that gets on clothing. He said: 'Rub it off, wash it and perform prayer in (the garment).'
اسماء بنت ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے انگلیوں سے رگڑو اور پانی سے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو ۔
It was narrated that 'Aisha the wife of the Prophet said:
One of us used to menstruate, then rub the blood off her garment when she became pure again, and wash it, and sprinkle water over the rest of the garment, then perform prayer in it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کسی کو حیض آتا تو حیض سے پاک ہونے کے وقت وہ اپنے کپڑے میں لگے ہوئے حیض کے خون کو کھرچ کر دھو لیتی اور باقی حصہ پر پانی چھڑک دیتی، پھر اسے پہن کر نماز پڑھتی۔
It was narrated from 'Aishah that:
A woman asked her: Does a woman who menstruates have to make up for the prayers she misses? 'Aisha said to her: Are you a Haruriyyah? We used to menstruate with the Prophet and then become pure, and he did not tell us to make up for the prayers we missed.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ان سے پوچھا: کیا حائضہ نماز کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ( خارجیہ ) ہے؟ ۱؎ ہمیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حیض آتا تھا، پھر ہم پاک ہو جاتے تھے، آپ ہمیں نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیتے تھے ۲؎۔
حروریہ: حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے، یہ خوارج کے ایک گروہ کا نام ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضا کرے گی، اسی وجہ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت سے کہا «أحرورية أنت» کیا تو حروریہ ہے یعنی تو بھی وہی عقیدہ رکھتی ہے جو حروری (خارجی) رکھتے ہیں۔ ۲؎: حائضہ پر نماز کی قضا نہیں ہے، لیکن روزہ کی قضا ہے، ابن منذر اور نووی نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے، نیز صحیحین میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم کو روزے کی قضا کرنے کا حکم ہوتا، اور نماز کے قضا کرنے کا حکم نہیں ہوتا۔
It was narrated that 'Aishah said:
The Messenger of Allah said to me: 'Get me a mat from the mosque.' I said: 'I am menstruating.' He said: 'Your menstruation is not in your hand.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو ، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎۔
It was narrated that 'Aishah said:
The Prophet used to bring his head close to me when I was menstruaring and he was in I'tikaf (seclusion in a mosques for the purpose of worship), and I would wash it and comb his hair
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، تو آپ اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے، میں آپ کا سر دھو کر کنگھا کر دیتی
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۷۲۸۸)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ۶ (۳۰۱)، الاعتکاف ۴ (۲۰۲۱)، اللباس ۷۶ (۵۹۲۵)، صحیح مسلم/الحیض ۳ (۲۹۷) سنن النسائی/الطہارة ۱۷۶ (۲۷۸)، الحیض ۲۱ (۳۸۷)، موطا امام مالک/الطہارة ۲۸ (۱۰۲)، مسند احمد (۶/۳۲، ۵۵، ۸۶، ۱۷۰، ۲۰۴)، سنن الدارمی/الطہارة ۱۰۸ (۱۰۹۸)
Explanation
حجرہ کا دروازہ مسجد ہی میں تھا تو رسول اللہ ﷺ حجرے کے اندر اپنا سر مبارک کر دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کنگھی کر دیتیں، بال دھو دیتیں، آپ ہمیشہ بال رکھتے تھے، آپ نے صرف حج میں بال منڈائے ہیں۔
It was narrated that 'Aishah said:
The Messenger of Allah used to put his head in my lap when I was menstruating and recite Qur'an.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں اپنا سر مبارک رکھتے، اور قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے۔
It was narrated that 'Aishah said:
If one of us was menstruating, the Messenger of Allah would tell her to tie her waist-wrapper around herself if the bleeding was heavy, then he would embrace her. And who among you can control his desire as the Messenger of Allah used to control his desire?
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم ( ازواج مطہرات ) میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے حیض کی تیزی کے دنوں میں تہبند باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس کے ساتھ لیٹتے، اور تم میں سے کس کو اپنی خواہش نفس پر ایسا اختیار ہے جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا؟ ۱؎۔
خلاصہ یہ کہ جو آدمی اپنے نفس پر قابو نہ رکھ پاتا ہو، اس کا حائضہ سے بوس و کنار اور چمٹنا مناسب نہیں کیونکہ خطرہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے، اور جماع کر بیٹھے، جب کہ حائضہ سے جماع کی ممانعت تو قرآن کریم میں آئی ہے، ارشاد باری ہے: «فاعتزلوا النساء في المحيض» حالت حیض میں عورتوں سے دور رہو (البقرة: 222)، اور بعضوں نے کہا: جماع کے علاوہ ہر چیز درست ہے، کیونکہ دوسری حدیث میں ہے: سب باتیں کرو سوائے جماع کے، نیز یہاں مباشرت کا لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، اصطلاحی معنی میں نہیں ہے، یعنی جسم کا جسم سے لگ جانا اور یہ جائز ہے۔
It was narrated that 'Aishah said:
If one of us was menstruating, the Messenger of Allah would tell her to tie her waist-wrapper around herself, then he would embrace her.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر آپ اس کے ساتھ لیٹتے۔
Takhreej
صحیح البخاری/الطہارة، ۴۷ (۲۹۹)، صحیح مسلم/الیض ۳ (۲۹۳)، سنن ابی داود/الطہارة ۱۱۰ (۲۶۸)، سنن الترمذی/الطہارة ۹۹ (۱۳۲)، سنن النسائی/الطہارة ۱۸۰ (۲۸۷)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۸۲)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ۲۶ (۹۵)، حم۷/ (۵۵، ۱۳۴، ۱۷۴، ۱۸۹)، دي الطہارة ۱۰۷ (۱۰۷۷)
It was narrated that Umm Salamah said:
I was with the Messenger of Allah under his blanket, then I felt that I was menstruating as women do, so I slipped out from under the cover. The Messenger of Allah said: 'Are you menstruating?' I said: 'I feel that I am menstruating as women do.' He said: 'That is what Allah has decreed for the daughters of Adam.' So I slipped out and sorted myself out, then I came back, and the Messenger of Allah said to me: 'Come under the cover with me,' so I went in with him.'
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں، تو میں لحاف سے کھسک گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کو حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آ گئی، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ تو میں آپ کے ساتھ لحاف میں داخل ہو گئی ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۸۲۴۱، ومصباح الزجاجة: ۲۳۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض۵ (۲۹۸)، ۲۱ (۳۲۲۵)، ۲۲ (۳۲۳)، صحیح مسلم/الحیض ۲ (۲۹۶)، سنن النسائی/الطہارة ۱۷۹ (۲۸۴) الحیض ۱۰ (۳۱۷)، مسند احمد (۶/ ۲۹۴، ۳۰۰)، سنن الدارمی/الطہارة ۱۰۷ (۱۰۸۴)
Explanation
مساس، معانقہ، بوسہ وغیرہ سب درست ہے، ابوداؤد نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اپنی عورت سے جب وہ حائضہ ہو کیا کرنا درست ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تہبند کے اوپر فائدہ اٹھانا، اور اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔
It was narrated from Mu'awiyah bin Abu Sufyan that :
He asked Umm Habibah, the wife of the Prophet: What did you used to do with the Messenger of Allah when you were menstruating? She said: If it was at the beginning of the period when the bleeding is heavy, we would tie the waist-wrapper tightly around our thighs, then lie down with the Messenger of Allah.
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالت حیض میں کیسے کرتی تھیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے جسے حیض آتا وہ اپنے حیض کے شروع میں جس وقت وہ پورے جوش پر ہوتا ہے، اپنی ران کے نصف تک تہ بند باندھ لیتی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹتی ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۵۸۶۹، ومصباح الزجاجة: ۲۴۰)
Explanation
مصباح الزجاجہ کے دونوں نسخوں میں، اور ابن ماجہ کے مشہور حسن کے نسخہ میں «الحيض» ہے، اور فوائد عبد الباقی کے یہاں «الحيضة» ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever has intercourse with a menstruating woman, or with a woman in her rear, or who goes to a fortuneteller and believes what he says, he has disbelieved in that which was revealed to Muhammad.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حائضہ کے پاس آئے ( یعنی اس سے جماع کرے ) یا عورت کے پچھلے حصے میں جماع کرے، یا کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہیں ۱؎۔
ظاہر میں یہاں ایک اشکال ہے، وہ یہ کہ حیض کی حالت میں جماع کرنا حرام ہو گا، پھر اس سے کفر کیوں لازم آئے گا؟ بعضوں نے یہ جواب دیا ہے کہ مراد وہ شخص ہے جو حیض کی حالت میں جماع کو حلال سمجھ کر جماع کرے، اسی طرح دبر میں جماع کرنے کو حلال سمجھ کر ایسا کرے، ایسا شخص تو ضرور کافر ہو گا، اسی طرح وہ شخص جو کاہن اور نجومی کی تصدیق کرے وہ بھی کافر ہو گا، کیونکہ اس نے غیب کا علم اللہ کے علاوہ دوسرے کے لئے ثابت کیا، اور یہ قرآن کے خلاف ہے، نجومی کا جھوٹا ہونا قرآن سے ثابت ہے: «قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله» کہہ دیجئے کہ آسمان اور زمین میں سے اللہ کے علاوہ کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا (النمل:65) «وما تدري نفس ماذا تكسب غدا» اور کسی بھی نفس کو یہ نہیں معلوم ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا (لقمان:34) ہو سکتا ہے کہ اس حدیث میں کفر سے لغوی کفر مراد ہو نہ کہ شرعی، جس نے ایسی حرکتیں کیں اس نے گویا شریعت محمدی کا انکار کیا، یا بطور تشدید اور تغلیظ کے فرمایا تاکہ لوگ ان چیزوں کے کرنے سے باز رہیں۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that:
The Prophet said concerning one who has intercourse with a woman when she is menstruating: Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مجامعت کرے، وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے ۔
It was narrated from 'Aishah that:
The Prophet said to her, when she was menstruating: Undo your braids and bathe. (Sahih)(A narrator) 'Ali said in his narration: Undo your head.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو ۱؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: اپنا سر کھول لو ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل حیض میں سر کا کھولنا ضروری ہے، اس میں بہ نسبت غسل جنابت کے زیادہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ جنابت کے غسل میں سر کا کھولنا ضروری نہ رکھا، کیونکہ وہ اکثر ہوا کرتا ہے، اور بار بار کھولنے سے عورتوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور حیض کا غسل مہینے میں ایک بار ہوتا ہے، اس میں سر کھولنے سے کسی طرح کا حرج نہیں بلکہ ہر ایک عورت مہینے میں ایک دوبار اپنا سر کھولتی، اور بالوں کو دھوتی ہے
It was narrated from 'Aishah that:
Asma asked the Messenger of Allah about bathing after ones's period. He said: One of you should take her water and lote leaves, and purify herself well, or thoroughly. Then she should pour water over her head and rub it vigorously so that the water reaches the roots of her hair. Then she should take a piece of cotton perfumed with musk and purify herself with it. Asma said: How should I purify myself with it? He said: Subhan Allah! Purify yourself with it! 'Aishah said, as if whispering to her: Wipe away the traces of blood with it. Then she (Asma) asked him about bathing to cleanse oneself from sexual impurity. He said: One of you should take her water, and purify herself, and purify herself well, or thoroughly. She should pour water over her head and rub it so that the water reaches the roots of her hair, then she should pour water over her body. 'Aishah said: How good were the women of the Ansar! For they did not let shyness keep them from understanding their religion properly.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل انصاریہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے، پھر وہ طہارت حاصل کرے ( یعنی شرمگاہ دھوئے ) اور خوب اچھی طرح طہارت کرے یا طہارت میں مبالغہ کرے، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب اچھی طرح ملے، یہاں تک کہ سر کے سارے بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈالے، پھر خوشبو کو ( کپڑے یا روئی کے ) ایک ٹکڑے میں بھگو کر اس سے ( شرمگاہ کی ) صفائی کرے ، اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس سے کیسے صفائی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: سبحان اللہ! اس سے صفائی کرو ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے چپکے سے کہا: اس کو خون کے نشان ( یعنی شرمگاہ ) پر پھیرو۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی آپ سے پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی عورت پانی لے اور طہارت کرے اور اچھی طرح کرے یا پاکی میں مبالغہ کرے، پھر سر پر پانی ڈالے اور اسے خوب ملے یہاں تک کہ سر کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اپنے پورے جسم پہ پانی بہائے ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: انصارکی عورتیں کتنی اچھی ہیں، انہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے سے شرم و حیاء نہیں روکتی ۱؎۔
Takhreej
حدیث الغسل من الجنابة: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۷۸۴۸)، وحدیث الغسل من المحیض أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض ۳۱ (۲۳۳)، سنن ابی داود/الطہارة ۱۲۲ (۳۱۴، ۳۱۵)، (تحفة الأشراف: ۱۷۸۴۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ۱۴ (۳۱۴ تعلیقاً)، سنن النسائی/الطہارة ۱۵۹ (۲۵۲)، مسند احمد (۶/۱۴۷)، سنن الدارمی/الطہارة ۸۴ (۸۰۰)
Explanation
حق بات کہنا اور دین کی بات پوچھنا یہ شرم کے خلاف نہیں ہے، اور جو کوئی اس کو شرم کے خلاف سمجھے وہ خود بے وقوف ہے، شرم برے کام میں کرنا چاہئے، معصیت سے پاک عورتیں ناپاک باتوں سے پرہیز کرتی ہیں، آج کل کی عورتیں گناہ میں شرم نہیں کرتیں، اور دین کی بات دریافت کرنے میں شرم کرتی ہیں، ان کی شرم پر خاک پڑے۔
It was narrated that 'Aishah said:
I used to eat the meat from a bone when I was menstruating, then the Messenger of Allah would take it and put his mouth where my mouth had been. And I would drink from a vessel, and the Messenger of Allah would take it and put his mouth where my mouth had been, and I was menstruating.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی چوستی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی ۱؎۔
It was narrated from Anas that:
The Jews would not sit with a menstruating woman in a house, nor eat with her, nor drink with her. That was mentioned to the Messenger of Allah, then Allah revealed the words: They ask you concerning menstruation. Say: that is a harmful thing, therefore keep away from women during menses. The Messenger of Allah said: Do everything except sexual intercourse.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود حائضہ عورتوں کے ساتھ نہ تو گھر میں بیٹھتے، نہ ان کے ساتھ کھاتے پیتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے: وہ ایک گندگی ہے لہٰذا تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو ( سورة البقرہ: ۲۲۲ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماع کے سوا عورتوں سے حیض کی حالت میں سب کچھ کرو ۔
Takhreej
صحیح مسلم/الحیض ۳ (۳۰۲)، سنن ابی داود/الطہا رة ۱۰۳ (۲۵۸)، النکاح ۴۷ (۲۱۶۵)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة ۳ (۲۹۷۷)، (تحفة الأشراف: ۳۰۸)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة ۱۸۱ (۲۸۹)، الحیض ۸ (۳۶۹)، مسند احمد (۳/۲۴۶)، سنن الدارمی/الطہارة ۱۰۷ (۱۰۹۳)