TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5315 - بَاب الرِّيَاء والسمعة - دلوں کو نرم بنانے والی باتوں کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 25 in this chapter
بَاب الرِّيَاء والسمعة
ریا و شہرت کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ هُوَ لِلَّذِي عَمِلَهُ . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں (دوسرے) تمام شریکوں کے مقابلے میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں ، جو کوئی ایسا عمل کرے جس میں وہ میرے ساتھ میرے علاوہ کسی اور کو بھی شریک کرے تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے :’’ میں اس (عمل کرنے والے) سے بیزار ہوں ، وہ (عمل) اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے کیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
5315
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۴۶ / ۲۹۸۵) ۔ 7475

Related Chapters

77
1
Chapter: What Has Been Related About Showing Off And The Desire To Be Heard Of
باب: ریا و نمود اور شہرت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(36) CHAPTER. Showing Off.
ریا اور شہرت طلبی کی مذمت میں
Sahih Bukhari
3
ریا اور شہرت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
4
Chapter: What Has Been Related About: The Jimar Are Stoned With Pebbles Similar To Al-Khadhf
باب: جمرات کی رمی کے لیے کنکریاں ایسی ہوں کہ انگوٹھے اور شہادت والی انگلی سے پکڑ کر پھینکی جا سکیں
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Learning Syrian
باب: سریانی زبان سیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
باب: سورۃ الذاریات میں «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
باب: سورۃ الذاریات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
9
بَاب رمي الْجمار
کنکریاں مارنے کا بیان
Mishkat
10
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
Mishkat
11
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
12
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
13
ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
Musnad Ahmad
14
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
Musnad Ahmad
15
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
16
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
Musnad Ahmad
17
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
Musnad Ahmad
18
خوبصورت لباس کی رخصت، لیکن اس سلسلے میں تواضع کے مستحب ہونے اور شہرت اور اسبال کی کراہت کے ابواب خوبصورت لباس اور اس میںتواضع کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
19
لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
20
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
Musnad Ahmad
21
سورۂ ذاریات کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
22
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
23
عشاریات اور اس سے بھی زائد امور کا بیان
Musnad Ahmad
24
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
Musnad Ahmad
25
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
26
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
27
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
Musnad Ahmad
28
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
(16) CHAPTER. What has been said about the journey of Prophet Musa (Moses) علیہ السلام (when he went) in the sea to meet Al-Khidr.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں
Sahih Bukhari
30
(36) CHAPTER. Whoever heard something (but did not understand it) and then asked again till he understood it completely.
اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لے ، یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
31
(61) CHAPTER. Al-Hadath (Passing wind) in the mosque.
مسجد میں ریاح ( ہوا ) خارج کرنا
Sahih Bukhari
32
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
Sahih Bukhari
33
(134) CHAPTER. To do the Ramy of the Jimar.
کنکریاں مارنے کا بیان
Sahih Bukhari
34
(4) CHAPTER. Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for people observing Saum (fast) people.
روزہ داروں کے لیے ریان ( نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )
Sahih Bukhari
35
(2) CHAPTER. To shepherd sheep for Qirat.
چند قیراط کی مزدوری پر بکریاں چرانا
Sahih Bukhari
36
(63) CHAPTER. The participation of a woman in a sea battle.
دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا
Sahih Bukhari
37
(163) CHAPTER. The treatment of a wound with the ashes of a mat (made of date-palm leaves), and the washing of blood bay a lady off her father's face, and conveying water in a shield (for this purpose).
بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا
Sahih Bukhari
38
(15) CHAPTER. The best property of a Muslim will be sheep he takes to pasture on the tops of mountains.
مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے ۔
Sahih Bukhari
39
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “(This is) a mention of the mercy of your Lord to His slave Zakariya (Zachariah)... (up to) We have given that name to none before (him)”. (V.19:2-7)
حضرت زکریا علیہ السلام کا بیان ۔
Sahih Bukhari
40
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “Lawful to you is (the pursuit of) water-game and its use for food... for the benefit of yourselves. … (V.5:96)
سورۃ المائدہ کی اس آیت کی تفسیر کہ ” حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے دریا کا شکار کھانا “
Sahih Bukhari
41
(6) CHAPTER. The superiority of a person who is suffering from epilepsy.
ریاح رک جانے سے جسے مرگی کا عارضہ ہو اس کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
42
(27) CHAPTER. To burn a mat made of palm-tree leaves (and put its ashes into a wound) to stop bleeding.
زخموں کا خون روکنے کے لیے بو ریا جلا کر زخم پر لگانا
Sahih Bukhari
43
(34) CHAPTER. The conditions required for doing a Ruqya with Surat Al-Fatiha.
سورۃ الفاتحہ سے دم جھاڑ کرنے میں ( بکریاں لینے کی ) شرط لگانا
Sahih Bukhari
44
(68) CHAPTER. The curly hair.
گھونگھریالے بالوں کا بیان
Sahih Bukhari
45
(33) CHAPTER. Can the land, sheep, farms and one‘s belongings be included in one's vows and oaths?
کیا قسموں اور نذروں میں زین ، بکریاں ، کھیتی اور سامان بھی آتے ہیں ؟
Sahih Bukhari
46
(38) CHAPTER. If someone accuses his wife or another person's wife of committing illegal sexual intercourse in the presence of the ruler and the people,should the ruler send for the lady and ask her about what she has been accused of?
اگر حاکم کے سامنے کوئی شخص اپنی عورت کو یا کسی دوسرے کی عورت کو زنا کی تہمت لگائے تو کیا حاکم کو یہ لازم ہے کہ کسی شخص کو عورت کے پاس بھیج کر اس تہمت کا حال دریافت کرائے
Sahih Bukhari
47
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily Allah is the All-Provider, Owner of Power, the Most Strong.” (V.51:58)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ والذاریات میں ” میں بہت روزی دینے والا ‘ زوردار مضبوط ہوں ۔ “
Sahih Bukhari
48
Chapter: It is disliked to smooth the pebbles or make the dirt level during salat
نماز میں (ایک سے زیادہ بار )کنکریاں صاف کرنا اور مٹی کو برابر کرنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: It is recommended for the pilgrim to continue reciting the Talbiyah until he starts stoning Jamrat Al-'Aqabah on the day of sacrifice
قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے (کے وقت )تک حاجی کے لیے مسلسل تلبیہ پکارنا مستحب ہے
Sahih Muslim
50
Chapter: Stoning Jamrat Al-'Aqabah from the bottom of the valley; Makkah should be on to one's left and one should say Takbir with each throw
جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے (اس طرح )کنکریاں مارنا کہ مکہ اس کے بائیں طرف ہو اور وہ ہر کنکری (مارنے )کے ساتھ تکبیر کہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

844
Sahih Muslim
7475
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنْ الشِّرْكِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as stating that Allah the Most High and Exalted said: I am the One, One Who does not stand in need of a partner. If anyone does anything in which he associates anyone else with Me, I shall abandon him with one whom he associates with Allah.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ شریک بنائے جانے والوں میں سب سے زیادہ میں شراکت سے مستغنی ہوں ۔ جس شخص نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کوشریک کیا تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ اکیلاچھوڑدیتا ہوں ۔ "
Mishkat
28
وَعَن عَمْرو بن الْعَاصِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقلت ابْسُطْ يَمِينك فلأبايعك فَبسط يَمِينه قَالَ فَقَبَضْتُ يَدِي فَقَالَ مَا لَكَ يَا عَمْرُو قلت أردْت أَن أشْتَرط قَالَ تَشْتَرِطُ مَاذَا قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِي قَالَ أما علمت أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يهدم مَا كَانَ قبله» ؟ وَالْحَدِيثَانِ الْمَرْوِيَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: «أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ» . والاخر: «الْكِبْرِيَاء رِدَائي» سَنَذْكُرُهُمَا فِي بَابِ الرِّيَاءِ وَالْكِبْرِ إِنْ شَاءَ الله تَعَالَى
عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں ۔ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا :اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کروں ، آپ نے دایاں ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمرو ! تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، میں شرط قائم کرنا چاہتا ہوں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بتاؤ ! کیا شرط قائم کرنا چاہتے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کیا : یہ کہ مجھے بخش دیا جائے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ عمرو ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام پہلے (حالت کفر والے) گناہ مٹا دیتا ہے ۔ ہجرت اپنے سے پہلے کیے ہوئے گناہ مٹا دیتی ہے اور بیشک حج بھی ان گناہوں کو مٹا دیتا ہے جو اس سے پہلے کیے ہوتے ہیں ۔‘‘ اور ابوہریرہؓ سے مروی دو حدیثیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’ میں شرکاء کے شرک سے بے نیاز ہوں ۔‘‘ اور دوسری حدیث :’’ کبر میری چادر ہے ۔‘‘ میں ان دونوں حدیثوں کو ان شاء اللہ تعالیٰ ’’باب الریاء‘‘ اور ’’باب الکبر‘‘ میں بیان کروں گا ۔ رواہ مسلم ۔
Sunnan Ibn e Maja
4203
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ،‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ليَوْمَ الْقِيَامَةِ،‏‏‏‏ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ،‏‏‏‏ نَادَى مُنَادٍ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ،‏‏‏‏ فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى،‏‏‏‏ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ .
It was narrated from Abu Sa’d bin Abu Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When Allah assembles the first and the last on the Day of Resurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: ‘Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is so self-sufficient that He has no need of any associate.’”
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
Jam e Tirmazi
3154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ يَوْمَ لَا رَيْبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
Narrated 'Abdul-Hamid bin Ja'far: My father informed me, from Ibn Mina, from ABu Sa'eed bin Abi Fadalah Al-Ansari - and he was one of the Companions - who said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: When Allah gathers the people on the Day of Judgement - a Day in which there is no doubt in - a caller will call out: 'Whoever committed Shirk in any of his deeds he did for Allah - then let him seek his reward from other than Allah. For indeed Allah is the most free of the partners from any need of Shirk.
ابوسعید بن ابی فضالہ انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے جمع کرے گا تو پکارنے والا پکار کر کہے گا: جس نے اللہ کے واسطے کوئی کام کیا ہو اور اس کام میں کسی کو شریک کر لیا ہو، وہ جس غیر کو اس نے شریک کیا تھا اسی سے اپنے عمل کا ثواب مانگ لے، کیونکہ اللہ شرک سے کلی طور پر بیزار و بے نیاز ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن بکر کی روایت سے جانتے ہیں۔
Mishkat
566
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْل إِن الْحَسَنَات يذْهبن السَّيِّئَات) فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي هَذَا؟ قَالَ: «لِجَمِيعِ أُمَّتِي كُلِّهِمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي»
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا پھر اس نے آ کر نبی ﷺ کو بتایا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ دن کے دونوں اطراف اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کریں ، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ میرے لیے خاص ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری ساری امت کے لیے ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جس نے میری امت میں سے اس پر عمل کیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Mishkat
1223
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ: «مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ عَدُومٍ وَلَا ظَلُومٍ؟ حَتَّى ينفجر الْفجْر»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر رات جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو ہمارا رب تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ، اور پوچھتا ہے : کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے ، میں اس کی دعا قبول کروں ، کوئی ہے جو مجھ سے مانگے ، میں اسے عطا کروں اور کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اسے بخش دوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فرماتا ہے : کوئی ہے جو عطا کرنے والے سخی اور انصاف کرنے والے کو قرض عطا کرے (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے ۔‘‘
Mishkat
1330
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عمله صلَاته فَإِن صلحت فقد أَفْلح وأنجح وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: نظرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُكَمَّلُ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ . وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلَ ذَلِك ثمَّ تُؤْخَذ الْأَعْمَال حسب ذَلِك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بندے سے روز قیامت اس کے اعمال میں سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا ، اگر وہ صحیح و درست ہوئی تو وہ فلاح و نجات پا گیا اور اگر وہ صحیح و درست نہ ہوئی تو پھر وہ ناکام و نا مراد ہو گا ، اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی ہوئی تو رب تبارک و تعالی فرمائے گا : دیکھو ، کیا میرے بندے کے کچھ نوافل ہیں ، تو اس طرح فرائض کی کمی کو ان (نوافل) سے پورا کر دیا جائے گا ، پھر باقی اعمال کا حساب اسی طرح ہو گا ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ پھر زکوۃ کا حساب بھی اسی طرح ہو گا اور پھر باقی اعمال کا حساب بھی اسی (مذکور مثال کی) طرح ہو گا ۔‘‘ حسن واللفظ مرکب ، رواہ ابوداؤد ۔
Mishkat
1981
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ. وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. فَقَالَ: أَيُّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ. قَالَ: أَهَلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن الله تَعَالَى قد أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوالبختری ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم عمرہ کے لیے روانہ ہوئے ، جب ہم نے بطن نخلہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو ہم چاند دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوئے ، تو کچھ لوگوں نے کہا : یہ تیسری رات کا ہے ، کسی نے کہا : دوسری رات کا ہے ، ہم ابن عباس ؓ سے ملے تو ہم نے کہا : ہم نے چاند دیکھا تو کسی نے کہا : وہ تیسری رات کا ہے اور کسی نے کہا : دوسری رات کا ہے ، انہوں نے فرمایا : تم نے کس رات اسے دیکھا تھا ؟ ہم نے کہا : فلاں فلاں رات ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اس (رمضان) کی مدت اس کی رؤیت مقرر کی ہے ، وہ (رمضان) اس رات سے شروع ہوتا ہے جس رات تم اسے دیکھو ۔ اور ابوالبختری ؒ کی ایک دوسری روایت میں ہے : انہوں نے کہا : ہم نے ذات عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا ، تو ہم نے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ایک آدمی کو ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے اس (شعبان) کو اس (ہلال رمضان) کی رؤیت تک دراز کیا ہے ، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی کو مکمل کر لو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Mishkat
3611
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَدَ ضَادَّ اللَّهَ وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُهُ لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اله تَعَالَى حَتَّى يَنْزِعَ وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَفِي روايةٍ للبيهقيِّ فِي شعبِ الْإِيمَان «مَنْ أَعانَ على خُصُومَةً لَا يَدْرِي أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سَخطِ اللَّهِ حَتَّى ينْزع»
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کے آگے حائل ہو گئی تو اس نے اللہ کی مخالفت کی ، جس نے جانتے ہوئے کسی باطل (ناحق) کے بارے میں جھگڑا کیا تو وہ اس سے دست کش ہونے تک اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہتا ہے اور جس نے کسی مومن پر بہتان لگایا تو وہ کچ لہو کے کیچڑ میں رہے گا حتی کہ وہ اس سے نکل آئے جو اس نے کہا ہے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، اور بیہقی کی شعب الایمان میں ایک روایت ہے :’’ جس نے کسی جھگڑے پر اعانت کی جبکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے حتی کہ وہ اس سے دست کش ہو جائے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و البیھقی ۔