TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2486 - بَاب جَامع الدُّعَاء - دعاؤں کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 23 in this chapter
بَاب جَامع الدُّعَاء
جامع دعاؤں کا بیان
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ الرجل إِذا أسلم علمه النَّبِي صلى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» . رَوَاهُ مُسلم
ابومالک اشجعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ایک آدمی تھا جب اس نے اسلام قبول کیا تو نبی ﷺ نے اسے نماز سکھائی ، پھر اسے ان کلمات کے ذریعے دعا کرنے کا حکم فرمایا :’’ اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے عافیت میں رکھ اور مجھے رزق عطا فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
2486
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ مسلم (۳۵ / ۲۶۹۷) ۔6850

Related Chapters

62
1
نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: Comprehensive Supplications
جامع دعاؤں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
3
Chapter: What has been Related About The Three Things That The Prophet (s.a.w) Requested For His Ummah
باب: امت کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تین دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Supplication In The Morning And The Evening
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Something Else, The Supplication “O Allah, Knower Of The Unseen And The Seen, Originator Of The Heavens And The Earth”
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Seek Forgiveness From Allah The One Whom There Is None Worthy Of Worship Except For Him, And He Is The Living, The Sustainer”
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Something Else: The Supplication: “Allah Hears The One Who Praises Him”
باب: رات میں جاگنے پر پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else: The Supplication: “All Praise Is Due To Allah Who Revived My Soul”
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Something Else: The Supplication: “O Allah, I Ask You Of Your Mercy”
باب: تہجد کے لیے اٹھے تو اس میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Comprehensive Supplications From The Messenger Of Allah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول جامع دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: The Supplication: O Allah. Cool My Heart...
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
14
بَاب الدَّعْوَات فِي الْأَوْقَاف
مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان
Mishkat
15
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
جامع اوقات کا بیان
Musnad Ahmad
17
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
Musnad Ahmad
18
نماز کے جامع طریقے کا بیان
Musnad Ahmad
19
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
Musnad Ahmad
20
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
Musnad Ahmad
21
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
22
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
23
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
24
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
25
استسقاء کی دعا کرتے وقت ہاتھوں کو اٹھانے اور منقول دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
26
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
27
رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
Musnad Ahmad
28
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
Musnad Ahmad
29
صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
30
ان دعاؤںکا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
Musnad Ahmad
31
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
32
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
33
شیطانوں کے مکر، سرکشی اور لغو کو انسان سے دفع کرنے کے لیے پڑھی جانی والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
34
بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
35
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
Musnad Ahmad
36
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
37
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
Musnad Ahmad
38
گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان
Musnad Ahmad
39
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
40
میاں بیوی کے حقوق کے بارے میں جامع بیان
Musnad Ahmad
41
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
Musnad Ahmad
42
کھانے کے بعد کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
43
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
44
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
45
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
Musnad Ahmad
46
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
47
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
48
(6) CHAPTER. Istisqa (i.e. to offer a two Raka Salat (prayer) and then invoke Allah for rain) in the main mosque (of the town).
جامع مسجد میں استسقاء یعنی پانی کی دعا کرنا
Sahih Bukhari
49
Chapter: A phrase that sums up Islam
اسلام کے جامع اوصاف
Sahih Muslim
50
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

163
Sahih Muslim
6850
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي
Abu Malik reported on the authority of his father that when a person embraced Islam, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to teach him how to observe prayer and then commanded him to supplicate in these words: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness, grant me protection and provide me sustenance.
ابومعاویہ نے کہا؛ ہمیں ابومالک اشجعی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نماز سکھاتے ، پھر اس کو حکم دیتے کہ ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرے : اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وعافنى وارزقنى
Sahih Muslim
6849
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي
Abu Malik Ashaja'i reported on the authority of his father that whenever a person embraced Islam, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) instructed him to recilte: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness and provide me sustenance.
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے اپنے والد ( طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : جو شخص اسلام قبول کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے : " اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى " " اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔ "
Silsila Sahih
2870
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ (طارق بن أشيم) أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي؟ قَالَ: قُلْ: اَللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي وَيَجْمَعُ أَصَابِعَهُ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ تَجْمَعُ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ.
ابو مالک اشجعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد(طارق بن اشیم) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کہو: اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے، اور مجھے رزق دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاروں انگلیاں ملائیں سوائے انگوٹھے کے ۔ یہ چاروں دعائیں تمہارے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی جمع کر دیں گی
Jam e Tirmazi
3091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتْبَعَهُ عَلِيًّا، ‏‏‏‏‏‏فَبَيْنَا أَبُو بَكْرٍ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ إِذْ سَمِعَ رُغَاءَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَصْوَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَزِعًا فَظَنَّ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَدَفَعَ إِلَيْهِ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يُنَادِيَ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَا فَحَجَّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ عَلِيٌّ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَادَى ذِمَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بَرِيئَةٌ مِنْ كُلِّ مُشْرِكٍ، ‏‏‏‏‏‏فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَلِيٌّ يُنَادِي فَإِذَا عَيِيَ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَادَى بِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
Narrated Ibn 'Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) dispatched Abu Bakr ordering him to announce these statements. Then 'Ali followed him. When Abu Bakr was at a particular road, he heard the heavy breathing of Al-Qiswa, the she camel of the Messenger of Allah (ﷺ), so Abu Bakr appeared frightened because he thought that it was the Messenger of Allah (ﷺ). When he saw that it was 'Ali, he gave him the letter of the Messenger of Allah (ﷺ), and told 'Ali to announce the statements. So he left to perform Hajj. During the day of At-Tashriq 'Ali stood to announce: 'The protection of Allah and His Messenger is removed from every idolater. So travel in the land for four months. There is to be no idolater performing Hajj after this year, nor may anyone perform Tawaf around the House while naked. None shall enter Paradise but a believer.' 'Ali was making the announcement, so when he became exhausted Abu Bakr would announce it.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ کو ( مکہ ) بھیجا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں میں ان کلمات ( سورۃ التوبہ کی ابتدائی آیات ) کی منادی کر دیں۔ پھر ( ان کے بھیجنے کے فوراً بعد ہی ) ان کے پیچھے آپ نے علی رضی الله عنہ کو بھیجا۔ ابوبکر رضی الله عنہ بھی کسی جگہ راستہ ہی میں تھے کہ انہوں نے اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ کی بلبلاہٹ سنی، گھبرا کر ( خیمہ ) سے باہر آئے، انہیں خیال ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، لیکن وہ آپ کے بجائے علی رضی الله عنہ تھے۔ علی رضی الله عنہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا خط انہیں پکڑا دیا، اور ( آپ نے ) علی رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کلمات کا ( بزبان خود ) اعلان کر دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات ساتھ چلے، ( دونوں نے حج کیا، اور علی رضی الله عنہ نے ایام تشریق میں کھڑے ہو کر اعلان کیا: اللہ اور اس کے رسول ہر مشرک و کافر سے بری الذمہ ہیں، صرف چار مہینے ( سر زمین مکہ میں ) گھوم پھر لو، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی شخص بیت اللہ کا ننگا ہو کر طواف نہ کرے، جنت میں صرف مومن ہی جائے گا، علی رضی الله عنہ اعلان کرتے رہے جب وہ تھک جاتے تو انہیں کلمات کا ابوبکر رضی الله عنہ اعلان کرنے لگتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
3495
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْقِ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا أَنْقَيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Aishah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) used to supplicate with these words: “O Allah, indeed, I seek refuge in You from the trial of the Fire, and the punishment of the Fire, and the punishment of the grave, and the trial of the grave, and from the evil of the trial of the grave, and from the evil of the trials of riches, and from the evils of the trials of poverty, and from the evil of the trial of the false Masih. O Allah, wash my sins with water of ice and hail, and cleanse my heart of sins, as You cleansed a white garment of filth, and distance me and my sins as You distanced between the east and the west. O Allah, indeed, I seek refuge in You from laziness, senility, sin and debt. (Allāhumma innī a`ūdhu bika min fitnatin-nār, wa `adhābin-nār, wa `adhābil-qabr, wa fitnatil-qabr, wa min sharri fitnatil-ghinā, wa min sharri fitnatil-faqr, wa min sharri fitnatil- masīḥid-dajjāl. Allāhummaghsil khaṭāyāya bi-mā’ith-thalji wal-bardi, wa anqi qalbī minal-khaṭāyā kamā anqaitath-thawbal-abyaḍa minad-danas, wa bā`id bainī wa baina khaṭāyāya kama bā`adta bainal-mashriqi wal maghrib, Allāhumma innī a`ūdhu bika min al-kasali wal-harami wal-ma’thami wal-maghram).”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنے سے، ( جہنم میں لے جانے والے اعمال سے ) جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے، اور قبر کے فتنہ سے، ( منکر نکیر کے سوال سے جس کا جواب نہ پڑے ) مالداری کے فتنے کے شر سے ( تکبر اور کسب حرام سے ) اور محتاجی کے فتنے کے شر سے، ( حسد اور طمع سے ) اور مسیح دجال کے شر سے، اے اللہ! ہمارے گناہوں کو دھل دے برف اور اولوں کے پانی سے، اور میرے دل کو گناہوں سے صاف کر دے جس طرح کہ تو سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کرتا ہے، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری پیدا کر دے جتنی دوری تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان پیدا کر دی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کاہلی سے، بڑھاپے سے، گناہ سے اور تاوان و قرض کے بوجھ سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3484
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبُخْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَضَلَعِ الدَّيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
Anas bin Mallik [may Allah be pleased with him] narrates, saying: “I used to often hear the Prophet (ﷺ) supplicating with these words: ‘O Allah, I seek refuge in You from sadness, grief, helplessness, laziness, being stingy, overwhelming debt, and the overpowering of men (Allāhumma innī a`ūdhu bika minal-hammi wal-ḥazani wal-`ajzi wal-kasali wal-bukhli wa ḍala`id-dain wa ghalabatir-rijāl).’”
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر و بیشتر ان الفاظ سے دعا مانگتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکرو غم سے، عاجزی سے اور کاہلی سے اور بخیلی سے اور قرض کے غلبہ سے اور لوگوں کے قہر و ظلم و زیادتی سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے یعنی عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Mishkat
2551
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَل» . مُتَّفق عَلَيْهِ وَلَفظه لمُسلم
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ذوالحلیفہ کے مقام پر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ ان کلمات کے ساتھ تلبیہ پکارتے :’’ میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تمام سعادتیں اور بھلائیاں تیرے ہاتھوں میں ہیں ، میں حاضر ہوں ، رغبت اور طلب خیر تیری ہی طرف ہے اور عمل تیرے ہی لیے ہیں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور الفاظ حدیث مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
Mishkat
3670
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خِيَارُ أئمتكم الَّذين يحبونهم وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِي تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنوهم ويلعنوكم» قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ لَا مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ أَلَا مَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ» . رَوَاهُ مُسلم
عوف بن مالک اشجعی ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے بہترین امام وہ ہیں جنہیں تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہیں ، تم ان کے حق میں دعائیں کرتے ہو اور وہ تمہارے حق میں دعائیں کرتے ہیں ، اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہیں ناپسند کرتے ہیں ، تم ان پر لعنت بھیجتے ہو اور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اس وقت ہم انہیں معزول نہ کر دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ! جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں ، نہیں ! جب تک وہ تم میں نماز کا اہتمام کرائیں ، سن لو ! جس پر کوئی حاکم و سرپرست مقرر کیا جائے اور وہ اللہ کی کسی معصیت کا ارتکاب کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی معصیت کو ناپسند کرے اور وہ اطاعت سے دست کش نہ ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Sahih Bukhari
3364
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ، أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاس : أَوَّلَ مَا اتَّخَذَ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لَتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا إِبْرَاهِيمُ وَبِابْنِهَا إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُرْضِعُهُ حَتَّى وَضَعَهُمَا عِنْدَ الْبَيْتِ عِنْدَ دَوْحَةٍ فَوْقَ زَمْزَمَ فِي أَعْلَى الْمَسْجِدِ وَلَيْسَ بِمَكَّةَ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ فَوَضَعَهُمَا هُنَالِكَ وَوَضَعَ عِنْدَهُمَا جِرَابًا فِيهِ تَمْرٌ وَسِقَاءً فِيهِ مَاءٌ ، ثُمَّ قَفَّى إِبْرَاهِيمُ مُنْطَلِقًا فَتَبِعَتْهُ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَالَتْ : يَا إِبْرَاهِيمُ أَيْنَ تَذْهَبُ وَتَتْرُكُنَا بِهَذَا الْوَادِي الَّذِي لَيْسَ فِيهِ إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ ، فَقَالَتْ لَهُ : ذَلِكَ مِرَارًا وَجَعَلَ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا ، فَقَالَتْ لَهُ : آللَّهُ الَّذِي أَمَرَكَ بِهَذَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا ثُمَّ رَجَعَتْ فَانْطَلَقَ إِبْرَاهِيمُ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الثَّنِيَّةِ حَيْثُ لَا يَرَوْنَهُ اسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ الْبَيْتَ ثُمَّ دَعَا بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ حَتَّى بَلَغَ يَشْكُرُونَ سورة إبراهيم آية 37 وَجَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تُرْضِعُ إِسْمَاعِيلَ وَتَشْرَبُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا فِي السِّقَاءِ عَطِشَتْ وَعَطِشَ ابْنُهَا وَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهِ يَتَلَوَّى أَوْ ، قَالَ : يَتَلَبَّطُ فَانْطَلَقَتْ كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْ الصَّفَا أَقْرَبَ جَبَلٍ فِي الْأَرْضِ يَلِيهَا فَقَامَتْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَتِ الْوَادِيَ تَنْظُرُ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَهَبَطَتْ مِنْ الصَّفَا حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْوَادِيَ رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا ، ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ حَتَّى جَاوَزَتِ الْوَادِيَ ، ثُمَّ أَتَتِ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا فَلَمْ تَرَ أَحَدًا فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَذَلِكَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا أَشْرَفَتْ عَلَى الْمَرْوَةِ سَمِعَتْ صَوْتًا فَقَالَتْ صَهٍ تُرِيدُ نَفْسَهَا ، ثُمَّ تَسَمَّعَتْ فَسَمِعَتْ أَيْضًا ، فَقَالَتْ : قَدْ أَسْمَعْتَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ غِوَاثٌ فَإِذَا هِيَ بِالْمَلَكِ عِنْدَ مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَبَحَثَ بِعَقِبِهِ أَوْ ، قَالَ : بِجَنَاحِهِ حَتَّى ظَهَرَ الْمَاءُ فَجَعَلَتْ تُحَوِّضُهُ وَتَقُولُ بِيَدِهَا هَكَذَا وَجَعَلَتْ تَغْرِفُ مِنَ الْمَاءِ فِي سِقَائِهَا وَهُوَ يَفُورُ بَعْدَ مَا تَغْرِفُ ، قَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ : لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا ، قَالَ : فَشَرِبَتْ وَأَرْضَعَتْ وَلَدَهَا ، فَقَالَ لَهَا : الْمَلَكُ لَا تَخَافُوا الضَّيْعَةَ فَإِنَّ هَا هُنَا بَيْتَ اللَّهِ يَبْنِي هَذَا الْغُلَامُ وَأَبُوهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَهْلَهُ وَكَانَ الْبَيْتُ مُرْتَفِعًا مِنَ الْأَرْضِ كَالرَّابِيَةِ تَأْتِيهِ السُّيُولُ فَتَأْخُذُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ فَكَانَتْ كَذَلِكَ حَتَّى مَرَّتْ بِهِمْ رُفْقَةٌ مِنْ جُرْهُمَ أَوْ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ جُرْهُمَ مُقْبِلِينَ مِنْ طَرِيقِ كَدَاءٍ فَنَزَلُوا فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ فَرَأَوْا طَائِرًا عَائِفًا ، فَقَالُوا : إِنَّ هَذَا الطَّائِرَ لَيَدُورُ عَلَى مَاءٍ لَعَهْدُنَا بِهَذَا الْوَادِي وَمَا فِيهِ مَاءٌ فَأَرْسَلُوا جَرِيًّا أَوْ جَرِيَّيْنِ فَإِذَا هُمْ بِالْمَاءِ فَرَجَعُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِالْمَاءِ فَأَقْبَلُوا ، قَالَ : وَأُمُّ إِسْمَاعِيلَ عِنْدَ الْمَاءِ ، فَقَالُوا : أَتَأْذَنِينَ لَنَا أَنْ نَنْزِلَ عِنْدَكِ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ وَلَكِنْ لَا حَقَّ لَكُمْ فِي الْمَاءِ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ وَهِيَ تُحِبُّ الْإِنْسَ فَنَزَلُوا وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ فَنَزَلُوا مَعَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ بِهَا أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْهُمْ وَشَبَّ الْغُلَامُ وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ وَأَنْفَسَهُمْ وَأَعْجَبَهُمْ حِينَ شَبَّ فَلَمَّا أَدْرَكَ زَوَّجُوهُ امْرَأَةً مِنْهُمْ وَمَاتَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ إِبْرَاهِيمُ بَعْدَمَا تَزَوَّجَ إِسْمَاعِيلُ يُطَالِعُ تَرِكَتَهُ فَلَمْ يَجِدْ إِسْمَاعِيلَ فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ ، فَقَالَتْ : خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا ثُمَّ سَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ ، فَقَالَتْ : نَحْنُ بِشَرٍّ نَحْنُ فِي ضِيقٍ وَشِدَّةٍ فَشَكَتْ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَإِذَا جَاءَ زَوْجُكِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقُولِي لَهُ يُغَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ كَأَنَّهُ آنَسَ شَيْئًا ، فَقَالَ : هَلْ جَاءَكُمْ مِنْ أَحَدٍ ، قَالَتْ : نَعَمْ جَاءَنَا شَيْخٌ كَذَا وَكَذَا فَسَأَلَنَا عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ وَسَأَلَنِي كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا فِي جَهْدٍ وَشِدَّةٍ ، قَالَ : فَهَلْ أَوْصَاكِ بِشَيْءٍ ، قَالَتْ : نَعَمْ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ ، قَالَ : ذَاكِ أَبِي وَقَدْ أَمَرَنِي أَنْ أُفَارِقَكِ الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَطَلَّقَهَا وَتَزَوَّجَ مِنْهُمْ أُخْرَى فَلَبِثَ عَنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بَعْدُ فَلَمْ يَجِدْهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ فَسَأَلَهَا عَنْهُ ، فَقَالَتْ : خَرَجَ يَبْتَغِي لَنَا ، قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ وَسَأَلَهَا عَنْ عَيْشِهِمْ وَهَيْئَتِهِمْ ، فَقَالَتْ : نَحْنُ بِخَيْرٍ وَسَعَةٍ وَأَثْنَتْ عَلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : مَا طَعَامُكُمْ ، قَالَتْ : اللَّحْمُ ، قَالَ : فَمَا شَرَابُكُمْ ، قَالَتْ : الْمَاءُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي اللَّحْمِ وَالْمَاءِ ، قَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ يَوْمَئِذٍ حَبٌّ وَلَوْ كَانَ لَهُمْ دَعَا لَهُمْ فِيهِ ، قَالَ : فَهُمَا لَا يَخْلُو عَلَيْهِمَا أَحَدٌ بِغَيْرِ مَكَّةَ إِلَّا لَمْ يُوَافِقَاهُ ، قَالَ : فَإِذَا جَاءَ زَوْجُكِ فَاقْرَئِي عَلَيْهِ السَّلَامَ وَمُرِيهِ يُثْبِتُ عَتَبَةَ بَابِهِ فَلَمَّا جَاءَ إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : هَلْ أَتَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ أَتَانَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَأَثْنَتْ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي عَنْكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَسَأَلَنِي كَيْفَ عَيْشُنَا فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّا بِخَيْرٍ ، قَالَ : فَأَوْصَاكِ بِشَيْءٍ ، قَالَتْ : نَعَمْ هُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكَ أَنْ تُثْبِتَ عَتَبَةَ بَابِكَ ، قَالَ : ذَاكِ أَبِي وَأَنْتِ الْعَتَبَةُ أَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَكِ ثُمَّ لَبِثَ عَنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِسْمَاعِيلُ يَبْرِي نَبْلًا لَهُ تَحْتَ دَوْحَةٍ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ فَلَمَّا رَآهُ قَامَ إِلَيْهِ فَصَنَعَا كَمَا يَصْنَعُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ وَالْوَلَدُ بِالْوَالِدِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا إِسْمَاعِيلُ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِأَمْرٍ ، قَالَ : فَاصْنَعْ مَا أَمَرَكَ رَبُّكَ ، قَالَ : وَتُعِينُنِي ، قَالَ : وَأُعِينُكَ ، قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَبْنِيَ هَا هُنَا بَيْتًا وَأَشَارَ إِلَى أَكَمَةٍ مُرْتَفِعَةٍ عَلَى مَا حَوْلَهَا ، قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ رَفَعَا الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَيْتِ فَجَعَلَ إِسْمَاعِيلُ يَأْتِي بِالْحِجَارَةِ وَإِبْرَاهِيمُ يَبْنِي حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الْبِنَاءُ جَاءَ بِهَذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَهُ لَهُ فَقَامَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْنِي وَإِسْمَاعِيلُ يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَهُمَا ، يَقُولَانِ : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة البقرة آية 127 ، قَالَ : فَجَعَلَا يَبْنِيَانِ حَتَّى يَدُورَا حَوْلَ الْبَيْتِ وَهُمَا يَقُولَانِ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ سورة البقرة آية 127 .
Narrated Ibn `Abbas: The first lady to use a girdle was the mother of Ishmael. She used a girdle so that she might hide her tracks from Sarah. Abraham brought her and her son Ishmael while she was suckling him, to a place near the Ka`ba under a tree on the spot of Zamzam, at the highest place in the mosque. During those days there was nobody in Mecca, nor was there any water So he made them sit over there and placed near them a leather bag containing some dates, and a small water-skin containing some water, and set out homeward. Ishmael's mother followed him saying, O Abraham! Where are you going, leaving us in this valley where there is no person whose company we may enjoy, nor is there anything (to enjoy)? She repeated that to him many times, but he did not look back at her Then she asked him, Has Allah ordered you to do so? He said, Yes. She said, Then He will not neglect us, and returned while Abraham proceeded onwards, and on reaching the Thaniya where they could not see him, he faced the Ka`ba, and raising both hands, invoked Allah saying the following prayers: 'O our Lord! I have made some of my offspring dwell in a valley without cultivation, by Your Sacred House (Ka`ba at Mecca) in order, O our Lord, that they may offer prayer perfectly. So fill some hearts among men with love towards them, and (O Allah) provide them with fruits, so that they may give thanks.' (14.37) Ishmael's mother went on suckling Ishmael and drinking from the water (she had). When the water in the water-skin had all been used up, she became thirsty and her child also became thirsty. She started looking at him (i.e. Ishmael) tossing in agony; She left him, for she could not endure looking at him, and found that the mountain of Safa was the nearest mountain to her on that land. She stood on it and started looking at the valley keenly so that she might see somebody, but she could not see anybody. Then she descended from Safa and when she reached the valley, she tucked up her robe and ran in the valley like a person in distress and trouble, till she crossed the valley and reached the Marwa mountain where she stood and started looking, expecting to see somebody, but she could not see anybody. She repeated that (running between Safa and Marwa) seven times. The Prophet said, This is the source of the tradition of the walking of people between them (i.e. Safa and Marwa). When she reached the Marwa (for the last time) she heard a voice and she asked herself to be quiet and listened attentively. She heard the voice again and said, 'O, (whoever you may be)! You have made me hear your voice; have you got something to help me? And behold! She saw an angel at the place of Zamzam, digging the earth with his heel (or his wing), till water flowed from that place. She started to make something like a basin around it, using her hand in this way, and started filling her water-skin with water with her hands, and the water was flowing out after she had scooped some of it. The Prophet added, May Allah bestow Mercy on Ishmael's mother! Had she let the Zamzam (flow without trying to control it) (or had she not scooped from that water) (to fill her water-skin), Zamzam would have been a stream flowing on the surface of the earth. The Prophet further added, Then she drank (water) and suckled her child. The angel said to her, 'Don't be afraid of being neglected, for this is the House of Allah which will be built by this boy and his father, and Allah never neglects His people.' The House (i.e. Ka`ba) at that time was on a high place resembling a hillock, and when torrents came, they flowed to its right and left. She lived in that way till some people from the tribe of Jurhum or a family from Jurhum passed by her and her child, as they (i.e. the Jurhum people) were coming through the way of Kada'. They landed in the lower part of Mecca where they saw a bird that had the habit of flying around water and not leaving it. They said, 'This bird must be flying around water, though we know that there is no water in this valley.' They sent one or two messengers who discovered the source of water, and returned to inform them of the water. So, they all came (towards the water). The Prophet added, Ishmael's mother was sitting near the water. They asked her, 'Do you allow us to stay with you? She replied, 'Yes, but you will have no right to possess the water.' They agreed to that. The Prophet further said, Ishmael's mother was pleased with the whole situation as she used to love to enjoy the company of the people. So, they settled there, and later on they sent for their families who came and settled with them so that some families became permanent residents there. The child (i.e. Ishmael) grew up and learnt Arabic from them and (his virtues) caused them to love and admire him as he grew up, and when he reached the age of puberty they made him marry a woman from amongst them. After Ishmael's mother had died, Abraham came after Ishmael's marriage in order to see his family that he had left before, but he did not find Ishmael there. When he asked Ishmael's wife about him, she replied, 'He has gone in search of our livelihood.' Then he asked her about their way of living and their condition, and she replied, 'We are living in misery; we are living in hardship and destitution,' complaining to him. He said, 'When your husband returns, convey my salutation to him and tell him to change the threshold of the gate (of his house).' When Ishmael came, he seemed to have felt something unusual, so he asked his wife, 'Has anyone visited you?' She replied, 'Yes, an old man of so-and-so description came and asked me about you and I informed him, and he asked about our state of living, and I told him that we were living in a hardship and poverty.' On that Ishmael said, 'Did he advise you anything?' She replied, 'Yes, he told me to convey his salutation to you and to tell you to change the threshold of your gate.' Ishmael said, 'It was my father, and he has ordered me to divorce you. Go back to your family.' So, Ishmael divorced her and married another woman from amongst them (i.e. Jurhum). Then Abraham stayed away from them for a period as long as Allah wished and called on them again but did not find Ishmael. So he came to Ishmael's wife and asked her about Ishmael. She said, 'He has gone in search of our livelihood.' Abraham asked her, 'How are you getting on?' asking her about their sustenance and living. She replied, 'We are prosperous and well-off (i.e. we have everything in abundance).' Then she thanked Allah' Abraham said, 'What kind of food do you eat?' She said. 'Meat.' He said, 'What do you drink?' She said, 'Water. He said, O Allah! Bless their meat and water. The Prophet added, At that time they did not have grain, and if they had grain, he would have also invoked Allah to bless it. The Prophet added, If somebody has only these two things as his sustenance, his health and disposition will be badly affected, unless he lives in Mecca. The Prophet added, Then Abraham said Ishmael's wife, When your husband comes, give my regards to him and tell him that he should keep firm the threshold of his gate.' When Ishmael came back, he asked his wife, 'Did anyone call on you?' She replied, 'Yes, a good-looking old man came to me,' so she praised him and added. 'He asked about you, and I informed him, and he asked about our livelihood and I told him that we were in a good condition.' Ishmael asked her, 'Did he give you any piece of advice?' She said, 'Yes, he told me to give his regards to you and ordered that you should keep firm the threshold of your gate.' On that Ishmael said, 'It was my father, and you are the threshold (of the gate). He has ordered me to keep you with me.' Then Abraham stayed away from them for a period as long as Allah wished, and called on them afterwards. He saw Ishmael under a tree near Zamzam, sharpening his arrows. When he saw Abraham, he rose up to welcome him (and they greeted each other as a father does with his son or a son does with his father). Abraham said, 'O Ishmael! Allah has given me an order.' Ishmael said, 'Do what your Lord has ordered you to do.' Abraham asked, 'Will you help me?' Ishmael said, 'I will help you.' Abraham said, Allah has ordered me to build a house here,' pointing to a hillock higher than the land surrounding it. The Prophet added, Then they raised the foundations of the House (i.e. the Ka`ba). Ishmael brought the stones and Abraham was building, and when the walls became high, Ishmael brought this stone and put it for Abraham who stood over it and carried on building, while Ishmael was handing him the stones, and both of them were saying, 'O our Lord! Accept (this service) from us, Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing.' The Prophet added, Then both of them went on building and going round the Ka`ba saying: O our Lord ! Accept (this service) from us, Verily, You are the All-Hearing, the All-Knowing. (2.127)
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی اور کثیر بن کثیر بن مطلب بن ابی وداعہ نے۔ یہ دونوں کچھ زیادہ اور کمی کے ساتھ بیان کرتے ہیں، وہ دونوں سعید بن جبیر سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، عورتوں میں کمر پٹہ باندھنے کا رواج اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( ہاجرہ علیہا السلام ) سے چلا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے کمر پٹہ اس لیے باندھا تھا تاکہ سارہ علیہا السلام ان کا سراغ نہ پائیں ( وہ جلد بھاگ جائیں ) پھر انہیں اور ان کے بیٹے اسماعیل کو ابراہیم ( علیہما السلام ) ساتھ لے کر مکہ میں آئے، اس وقت ابھی وہ اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے دونوں کو کعبہ کے پاس ایک بڑے درخت کے پاس بٹھا دیا جو اس جگہ تھا جہاں اب زمزم ہے۔ مسجد کی بلند جانب میں۔ ان دنوں مکہ میں کوئی انسان نہیں تھا۔ اس لیے وہاں پانی نہیں تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان دونوں کو وہیں چھوڑ دیا اور ان کے لیے ایک چمڑے کے تھیلے میں کھجور اور ایک مشک میں پانی رکھ دیا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام ( اپنے گھر کے لیے ) روانہ ہوئے۔ اس وقت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہا کہ اے ابراہیم! اس خشک جنگل میں جہاں کوئی بھی آدمی اور کوئی بھی چیز موجود نہیں، آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے کئی دفعہ اس بات کو دہرایا لیکن ابراہیم علیہ السلام ان کی طرف دیکھتے نہیں تھے۔ آخر ہاجرہ علیہا السلام نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں۔ اس پر ہاجرہ علیہا السلام بول اٹھیں کہ پھر اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرے گا، وہ ہم کو ہلاک نہیں کرے گا۔ چنانچہ وہ واپس آ گئیں اور ابراہیم علیہ السلام روانہ ہو گئے۔ جب وہ ثنیہ پہاڑی پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو ادھر رخ کیا، جہاں اب کعبہ ہے ( جہاں پر ہاجرہ اور اسماعیل علیہما السلام کو چھوڑ کر آئے تھے ) پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی کہ اے میرے رب! میں نے اپنی اولاد کو اس بےآب و دانہ میدان میں تیری حرمت والے گھر کے پاس ٹھہرایا ہے ( سورۃ ابراہیم ) «يشكرون‏» تک۔ ادھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ان کو دودھ پلانے لگیں اور خود پانی پینے لگیں۔ آخر جب مشک کا سارا پانی ختم ہو گیا تو وہ پیاسی رہنے لگیں اور ان کے لخت جگر بھی پیاسے رہنے لگے۔ وہ اب دیکھ رہی تھیں کہ سامنے ان کا بیٹا ( پیاس کی شدت سے ) پیچ و تاب کھا رہا ہے یا ( کہا کہ ) زمین پر لوٹ رہا ہے۔ وہ وہاں سے ہٹ گئیں کیونکہ اس حالت میں بچے کو دیکھنے سے ان کا دل بے چین ہوتا تھا۔ صفا پہاڑی وہاں سے نزدیک تر تھی۔ وہ ( پانی کی تلاش میں ) اس پر چڑھ گئیں اور وادی کی طرف رخ کر کے دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی انسان نظر نہیں آیا، وہ صفا سے اتر گئیں اور جب وادی میں پہنچیں تو اپنا دامن اٹھا لیا ( تاکہ دوڑتے وقت نہ الجھیں ) اور کسی پریشان حال کی طرح دوڑنے لگیں پھر وادی سے نکل کر مروہ پہاڑی پر آئیں اور اس پر کھڑی ہو کر دیکھنے لگیں کہ کہیں کوئی انسان نظر آئے لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ اس طرح انہوں نے سات چکر لگائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( صفا اور مروہ کے درمیان ) لوگوں کے لیے دوڑنا اسی وجہ سے مشروع ہوا۔ ( ساتویں مرتبہ ) جب وہ مروہ پر چڑھیں تو انہیں ایک آواز سنائی دی، انہوں نے کہا، خاموش! یہ خود اپنے ہی سے وہ کہہ رہی تھیں اور پھر آواز کی طرف انہوں نے کان لگا دئیے۔ آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی پھر انہوں نے کہا کہ تمہاری آواز میں نے سنی۔ اگر تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو تو کرو۔ کیا دیکھتی ہیں کہ جہاں اب زمزم ( کا کنواں ) ہے، وہیں ایک فرشتہ موجود ہے۔ فرشتے نے اپنی ایڑی سے زمین میں گڑھا کر دیا، یا یہ کہا کہ اپنے بازو سے، جس سے وہاں پانی ابل آیا۔ ہاجرہ نے اسے حوض کی شکل میں بنا دیا اور اپنے ہاتھ سے اس طرح کر دیا ( تاکہ پانی بہنے نہ پائے ) اور چلو سے پانی اپنے مشکیزہ میں ڈالنے لگیں۔ جب وہ بھر چکیں تو وہاں سے چشمہ پھر ابل پڑا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ! ام اسماعیل پر رحم کرے، اگر زمزم کو انہوں نے یوں ہی چھوڑ دیا ہوتا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلو سے مشکیزہ نہ بھرا ہوتا تو زمزم ایک بہتے ہوئے چشمے کی صورت میں ہوتا۔ بیان کیا کہ پھر ہاجرہ علیہ السلام نے خود بھی وہ پانی پیا اور اپنے بیٹے کو بھی پلایا۔ اس کے بعد ان سے فرشتے نے کہا کہ اپنے برباد ہونے کا خوف ہرگز نہ کرنا کیونکہ یہیں اللہ کا گھر ہو گا، جسے یہ بچہ اور اس کا باپ تعمیر کریں گے اور اللہ اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا، اب جہاں بیت اللہ ہے، اس وقت وہاں ٹیلے کی طرح زمین اٹھی ہوئی تھی۔ سیلاب کا دھارا آتا اور اس کے دائیں بائیں سے زمین کاٹ کر لے جاتا۔ اس طرح وہاں کے دن و رات گزرتے رہے اور آخر ایک دن قبیلہ جرہم کے کچھ لوگ وہاں سے گزرے یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) قبیلہ جرہم کے چند گھرانے مقام کداء ( مکہ کا بالائی حصہ ) کے راستے سے گزر کر مکہ کے نشیبی علاقے میں انہوں نے پڑاؤ کیا ( قریب ہی ) انہوں نے منڈلاتے ہوئے کچھ پرندے دیکھے، ان لوگوں نے کہا کہ یہ پرندہ پانی پر منڈلا رہا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے جب بھی ہم اس میدان سے گزرے ہیں یہاں پانی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آخر انہوں نے اپنا ایک آدمی یا دو آدمی بھیجے۔ وہاں انہوں نے واقعی پانی پایا چنانچہ انہوں نے واپس آ کر پانی کی اطلاع دی۔ اب یہ سب لوگ یہاں آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ اسماعیل علیہ السلام کی والدہ اس وقت پانی پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ کیا آپ ہمیں اپنے پڑوس میں پڑاؤ ڈالنے کی اجازت دیں گی۔ ہاجرہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں ہو گا۔ انہوں نے اسے تسلیم کر لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ام اسماعیل کو پڑوسی مل گئے۔ انسانوں کی موجودگی ان کے لیے دلجمعی کا باعث ہوئی۔ ان لوگوں نے خود بھی یہاں قیام کیا اور اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی بلوا لیا اور وہ سب لوگ بھی یہیں آ کر ٹھہر گئے۔ اس طرح یہاں ان کے کئی گھرانے آ کر آباد ہو گئے اور بچہ ( اسماعیل علیہ السلام جرہم کے بچوں میں ) جوان ہوا اور ان سے عربی سیکھ لی۔ جوانی میں اسماعیل علیہ السلام ایسے خوبصورت تھے کہ آپ پر سب کی نظریں اٹھتی تھیں اور سب سے زیادہ آپ بھلے لگتے تھے۔ چنانچہ جرہم والوں نے آپ کی اپنے قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کر دی۔ پھر اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( ہاجرہ علیہا السلام ) کا انتقال ہو گیا ) ۔ اسماعیل علیہ السلام کی شادی کے بعد ابراہیم علیہ السلام یہاں اپنے چھوڑے ہوئے خاندان کو دیکھنے آئے۔ اسماعیل علیہ السلام گھر پر نہیں تھے۔ اس لیے آپ نے ان کی بیوی سے اسماعیل علیہ السلام کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ روزی کی تلاش میں کہیں گئے ہیں۔ پھر آپ نے ان سے ان کی معاش وغیرہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ حالت اچھی نہیں ہے، بڑی تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے۔ اس طرح انہوں نے شکایت کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب تمہارا شوہر آئے تو ان سے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔ پھر جب اسماعیل علیہ السلام واپس تشریف لائے تو جیسے انہوں نے کچھ انسیت سی محسوس کی اور دریافت فرمایا، کیا کوئی صاحب یہاں آئے تھے؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں ایک بزرگ اس اس شکل کے یہاں آئے تھے اور آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، میں نے انہیں بتایا ( کہ آپ باہر گئے ہوئے ہیں ) پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر اوقات کا کیا حال ہے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ہماری گزر اوقات بڑی تنگی سے ہوتی ہے۔ اسماعیل علیہ السلام نے دریافت کیا کہ انہوں نے تمہیں کچھ نصیحت بھی کی تھی؟ ان کی بیوی نے بتایا کہ ہاں مجھ سے انہوں نے کہا تھا کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ آپ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل دیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ بزرگ میرے والد تھے اور مجھے یہ حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں جدا کر دوں، اب تم اپنے گھر جا سکتی ہو۔ چنانچہ اسماعیل علیہ السلام نے انہیں طلاق دے دی اور بنی جرہم ہی میں ایک دوسری عورت سے شادی کر لی۔ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا، ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں نہیں آئے۔ پھر جب کچھ دنوں کے بعد وہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اسماعیل علیہ السلام اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ آپ ان کی بیوی کے یہاں گئے اور ان سے اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے لیے روزی تلاش کرنے گئے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا تم لوگوں کا حال کیسا ہے؟ آپ نے ان کی گزر بسر اور دوسرے حالات کے متعلق پوچھا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا حال بہت اچھا ہے، بڑی فراخی ہے، انہوں نے اس کے لیے اللہ کی تعریف و ثنا کی۔ ابراہیم علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کھاتے کیا ہو؟ انہوں نے بتایا کہ گوشت! آپ نے دریافت کیا فرمایا کہ پیتے کیا ہو؟ بتایا کہ پانی! ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دعا کی، اے اللہ ان کے گوشت اور پانی میں برکت نازل فرما۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں انہیں اناج میسر نہیں تھا۔ اگر اناج بھی ان کے کھانے میں شامل ہوتا تو ضرور آپ اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ صرف گوشت اور پانی کی خوراک میں ہمیشہ گزارہ کرنا مکہ کے سوا اور کسی زمین پر بھی موافق نہیں پڑتا۔ ابراہیم علیہ السلام نے ( جاتے ہوئے ) اس سے فرمایا کہ جب تمہارے شوہر واپس آ جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور ان سے کہہ دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ باقی رکھیں۔ جب اسماعیل علیہ السلام تشریف لائے تو پوچھا کہ کیا یہاں کوئی آیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں ایک بزرگ، بڑی اچھی شکل و صورت کے آئے تھے۔ بیوی نے آنے والے بزرگ کی تعریف کی پھر انہوں نے مجھ سے آپ کے متعلق پوچھا ( کہ کہاں ہیں؟ ) اور میں نے بتا دیا، پھر انہوں نے پوچھا کہ تمہاری گزر بسر کا کیا حال ہے۔ تو میں نے بتایا کہ ہم اچھی حالت میں ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ کیا انہوں نے تمہیں کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا جی ہاں، انہوں نے آپ کو سلام کہا تھا اور حکم دیا تھا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بزرگ میرے والد تھے، چوکھٹ تم ہو اور آپ مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں۔ پھر جتنے دنوں اللہ تعالیٰ کو منظور رہا، کے بعد ابراہیم علیہ السلام ان کے یہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اسماعیل زمزم کے قریب ایک بڑے درخت کے سائے میں ( جہاں ابراہیم انہیں چھوڑ گئے تھے ) اپنے تیر بنا رہے ہیں۔ جب اسماعیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان کی طرف کھڑے ہو گے اور جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کے ساتھ اور بیٹا اپنے باپ کے ساتھ محبت کرتا ہے وہی طرز عمل ان دونوں نے بھی ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کیا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، اسماعیل اللہ نے مجھے ایک حکم دیا ہے۔ اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا، آپ کے رب نے جو حکم آپ کو دیا ہے آپ اسے ضرور پورا کریں۔ انہوں نے فرمایا اور تم بھی میری مدد کر سکو گے؟ عرض کیا کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسی مقام پر اللہ کا ایک گھر بناؤں اور آپ نے ایک اور اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے چاروں طرف! کہا کہ اس وقت ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیاد پر عمارت کی تعمیر شروع کی۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے اور ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے جاتے تھے۔ جب دیواریں بلند ہو گئیں تو اسماعیل یہ پتھر لائے اور ابراہیم علیہ السلام کے لیے اسے رکھ دیا۔ اب ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرنے لگے۔ اسماعیل علیہ السلام پتھر دیتے جاتے تھے اور یہ دونوں یہ دعا پڑھتے جاتے تھے۔ ہمارے رب! ہماری یہ خدمت تو قبول کر بیشک تو بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ فرمایا کہ یہ دونوں تعمیر کرتے رہے اور بیت اللہ کے چاروں طرف گھوم گھوم کر یہ دعا پڑھتے رہے۔ ”اے ہمارے رب! ہماری طرف سے یہ خدمت قبول فرما۔ بیشک تو بڑا سننے والا بہت جاننے والا ہے۔“