TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2499 - بَاب جَامع الدُّعَاء - دعاؤں کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 18 of 23 in this chapter
بَاب جَامع الدُّعَاء
جامع دعاؤں کا بیان
وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: دُعَاءٌ حَفِظْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَدَعُهُ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتَّبِعُ نُصْحَكَ وَأَحْفَظُ وصيتك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک دعا یاد کی جسے میں چھوڑتا نہیں :’’ اے اللہ ! مجھے ایسا بنا دے کہ میں تیرا بہت زیادہ شکر کروں ، تیرا بہت زیادہ ذکر کروں ، تیری نصیحت کی بہت اتباع کروں اور تیرے احکام کو بہت زیادہ یاد کروں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
2499
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
صحیح ، رواہ الترمذی (۳۶۷۶ و قال : صحیح) ۔

Related Chapters

62
1
نماز میں جامع منقول دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
2
Chapter: Comprehensive Supplications
جامع دعاؤں کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
3
Chapter: What has been Related About The Three Things That The Prophet (s.a.w) Requested For His Ummah
باب: امت کے لیے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تین دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Supplication In The Morning And The Evening
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Something Else, The Supplication “O Allah, Knower Of The Unseen And The Seen, Originator Of The Heavens And The Earth”
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Seek Forgiveness From Allah The One Whom There Is None Worthy Of Worship Except For Him, And He Is The Living, The Sustainer”
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Something Else: The Supplication: “Allah Hears The One Who Praises Him”
باب: رات میں جاگنے پر پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else: The Supplication: “All Praise Is Due To Allah Who Revived My Soul”
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Something Else: The Supplication: “O Allah, I Ask You Of Your Mercy”
باب: تہجد کے لیے اٹھے تو اس میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Comprehensive Supplications From The Messenger Of Allah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول جامع دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: The Supplication: O Allah. Cool My Heart...
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
14
بَاب الدَّعْوَات فِي الْأَوْقَاف
مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان
Mishkat
15
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
16
جامع اوقات کا بیان
Musnad Ahmad
17
ان اوقات کے ابواب، جن میں نماز ادا کرنا منع ہے نہی کے اوقات کا جامع بیان
Musnad Ahmad
18
نماز کے جامع طریقے کا بیان
Musnad Ahmad
19
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
Musnad Ahmad
20
سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
Musnad Ahmad
21
ان اذکار میں سے کی جانے والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
22
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
Musnad Ahmad
23
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
Musnad Ahmad
24
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
25
استسقاء کی دعا کرتے وقت ہاتھوں کو اٹھانے اور منقول دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
26
نمازِ جنازہ میں میت پر پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
27
رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
Musnad Ahmad
28
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
Musnad Ahmad
29
صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
30
ان دعاؤںکا بیان، جو نیند میں گھبراہٹ، بے خوابی اور وحشت کی صورت میں کی جائیںگی
Musnad Ahmad
31
گھر میں داخل ہونے کی، گھر سے نکلنے کی، بازار میں داخل کی اور مجلس کو ختم کرتے وقت کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
32
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
33
شیطانوں کے مکر، سرکشی اور لغو کو انسان سے دفع کرنے کے لیے پڑھی جانی والی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
34
بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
35
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
Musnad Ahmad
36
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
Musnad Ahmad
37
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
Musnad Ahmad
38
گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان
Musnad Ahmad
39
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
40
میاں بیوی کے حقوق کے بارے میں جامع بیان
Musnad Ahmad
41
حالت حیض میں اور طہر میں مجامعت کے بعد حمل کے واضح ہونے سے پہلے تک طلاق دینے کی ممانعت
Musnad Ahmad
42
کھانے کے بعد کی دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
43
سونے، چاندی اور ریشم اور ان کے استعمال کی جائز اور ناجائز صورتوں کا بیان ممنوعہ امور سے متعلقہ جامع احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
44
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
45
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
Musnad Ahmad
46
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
47
اس بارے میں سیدنا ابو رزین لقیط بن عامر بن منتفق عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
48
(6) CHAPTER. Istisqa (i.e. to offer a two Raka Salat (prayer) and then invoke Allah for rain) in the main mosque (of the town).
جامع مسجد میں استسقاء یعنی پانی کی دعا کرنا
Sahih Bukhari
49
Chapter: A phrase that sums up Islam
اسلام کے جامع اوصاف
Sahih Muslim
50
Chapter: It is permissible for one who is junub to sleep, but it is recommended for him to perform wudu’, and wash his private parts if he wants to eat, drink, sleep, or have intercourse
حالت جنابت میں سونے کا جواز اور (اگر انسان کا) کچھ کھانے پینے ، سونے یا مجامعت کا ارادہ ہو تواعضائے مخصوصہ دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,480
Jam e Tirmazi
55
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الثَّعْلَبِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، وَأَبيِ عُثْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ، ‏‏‏‏‏‏فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ قَدْ خُولِفَ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَوَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ. قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَأَبُو إِدْرِيسَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ شَيْئًا.
Umar bin Al-Khattab narrated that : Allah's Messenger said: 'Whoever performs Wudu, making Wudu well, then says: (Ashhadu an la ilaha illallah, wahdahu la sharika lahu, wa ashhadu anna Muhammadan-abduhu wa rasuluhu, Allahummajalni minat tawwabin, waj'alni minal mutatahhirin) 'I testify that none has the right to be worshipped but Allah Alone, there are no partners for Him. And I testify that Muhammad is His servant and Messenger. O Allah! Make me among the repentant, and make me among those who purify themselves.' Then eight gates of Paradise are opened for him, that may enter by whichever of them wishes.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر یوں کہے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے“ تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے وہ جس سے بھی چاہے جنت میں داخل ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں انس اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- امام ترمذی نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث کے طرق ۱؎ ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے، ۳- اس باب میں زیادہ تر چیزیں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے صحیح ثابت نہیں ہیں ۲؎۔
Jam e Tirmazi
3423
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَصْنَعُ ذَلِكَ أَيْضًا إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَصْنَعُهَا إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَامَ مِنْ سَجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ فَكَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ:‏‏‏‏ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، ‏‏‏‏‏‏لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ‏‏‏‏‏‏ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مَنْجَا وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقْرَأُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَكَعَ كَانَ كَلَامُهُ فِي رُكُوعِهِ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُتْبِعُهَا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَجَدَ قَالَ فِي سُجُودِهِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ لَا يَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ يَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَلَا يَقُولُهُ فِي الْمَكْتُوبَةِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْت أَبَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي التِّرْمِذِيَّ، ‏‏‏‏‏‏مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل بْنِ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا عِنْدَنَا مِثْلُ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ.
Ali bin Abi Talib narrated that : when the Messenger of Allah would stand for the obligatory prayer, he would raise his hands to the level of his shoulder, and he would do this [also] when he finished his recitation and intended to bow, and he would do it when he raised his head from Ruku`, and he would not raise his hands in any of his prayers while he was seated. When he would rise from the two prostrations, he would likewise raise his hands, and say the Takbir, and when he opened his Salat after the Takbir, he would say: “I have directed my face towards the One who has created the heavens and the earth, as a Hanif, and I am not of the idolaters. Indeed, my Salat, my sacrifice, my living, my dying, is for Allah, the Lord of all that exists, without partner, and with this have I been ordered and I am of the Muslims. O Allah, You are the King, there is none worthy of worship except You. Glorified are You, You are My Lord, and I am Your slave, I have wronged myself and I admit to my sin, so forgive me all my sins, verily, there is none who forgives sins but You, and guide me to the best of manners, none guides to the best of them except You, and turn away from me the evil of them, none turns away from me the evil of them except You, I am here in Your obedience and aiding Your cause, and I am reliant upon You and ever-turning towards You, [and] there is no refuge from You nor hiding place from You except (going) to You, I seek Your forgiveness, and I repent to you (Wajjahtu wajhiya lilladhī faṭaras-samāwāti wal-arḍa ḥanīfan wa mā ana min al-mushrikīn, inna ṣalātī wa nusukī wa maḥyāya wa mamātī lillāhi rabbil-`ālamīn, lā sharīka lahū wa bidhālika umirtu wa ana min al-muslimīn. Allāhumma antal-maliku lā ilāha illā ant, subḥānaka anta rabbī, wa ana `abduka ẓalamtu nafsī wa`taraftu bidhanbī faghfirlī dhunūbī jamī`an, innahū lā yaghfir adh-dhunūba illā ant. Wahdinī li-aḥsanil-akhlāqi lā yahdī li-aḥsanihā illā ant. Waṣrif `annī sayyi’ahā lā yaṣrifu `annī sayyi’aha illā ant. Labaika wa sa`daika, wa ana bika wa ilaika, [wa] lā manjā minka wa lā malja’a illā ilaik, astaghfiruka wa atūbu ilaik).” Then he would recite, then when he would bow, his speech in his Ruku`, would be to say: “O Allah, to You have I bowed, and in You have I believed, and to You have I submitted (in Islam), and You are my Lord. My hearing, my sight, my brain and my bones are humbled to Allah, the Lord of the Worlds all that exists (Allāhumma laka raka`tu wa bika āmantu wa laka aslamtu wa anta rabb ī. Khasha`a sam`ī wa baṣarī wa mukhkhī wa `aẓmī lillāhi, rabbil-`ālamīn).” Then, when he raised his head from Ruku he would say: “Allah hears the one who praises him (Sami`a Allāhu liman ḥamidah).” Then he would follow it with: “O Allah, our Lord, to You is praise filling the heavens and the earth and filling whatever You wish of things afterward (Allāhumma rabbanā wa lakal-ḥamdu mil’as-samāwāti wal-arḍi, wa mil’a mā shi’ta min shay’in ba`d.).” Then, when prostrated he would say in his prostration: “O Allah, to You have I prostrated, and in You have I believed, and to You have I submitted (in Islam), and You are my Lord, my face has prostrated to the One that created it, and granted its hearing and sight, Blessed is Allah, the Best of Creators (Allāhumma laka sajadtu wa bika āmantu wa laka aslamtu wa anta rabbī, sajada wajhi lilladhī khalaqahū wa shaqqa sam`ahū wa baṣarahū, tabārak Allāhu ahsanul-khāliqīn).” When he was finished with his Salat, we would say: “O Allah, forgive me what I have done, before and after, and what I have hidden, and what I have done openly, and You are my Deity, there is none worthy of worship except You (Allāhummaghfirlī mā qaddamtu wa mā akhkhartu wa mā asrartu wa mā a`lantu, wa anta ilāhī lā ilāha illā ant).”
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے برابر اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور ایسا اس وقت بھی کرتے تھے جب اپنی قرأت پوری کر لیتے تھے اور رکوع کا ارادہ کرتے تھے، اور ایسا ہی کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے ۱؎، بیٹھے ہونے کی حالت میں اپنی نماز کے کسی حصے میں بھی رفع یدین نہ کرتے تھے، پھر جب دونوں سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اسی طرح، پھر تکبیر ( اللہ اکبر ) کہتے اور نماز شروع کرتے وقت تکبیر ( تحریمہ ) کے بعد پڑھتے: «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك أنا بك وإليك ولا منجا ولا ملجأ إلا إليك أستغفرك وأتوب إليك» ( یہ دعا پڑھنے کے بعد ) پھر قرأت کرتے، رکوع میں جاتے، رکوع میں آپ یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي خشع سمعي وبصري ومخي وعظمي لله رب العالمين» پھر جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو کہتے: «سمع الله لمن حمده»،‏‏‏‏ «سمع الله لمن حمده» کہنے کے فوراً بعد آپ پڑھتے: «اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء» اس کے بعد جب سجدہ کرتے تو سجدوں میں پڑھتے: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» ۔ اور جب نماز سے سلام پھیرنے چلتے تو ( سلام پھیرنے سے پہلے ) پڑھتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت إلهي لا إله إلا أنت» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی پر عمل ہے امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب کا، ۳- امام احمد بن حنبل ایسا خیال نہیں رکھتے، ۴- اہل کوفہ اور ان کے علاوہ کے بعض علماء کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نفلی نمازوں میں پڑھتے تھے نہ کہ فرض نمازوں میں ۲؎ ۳- میں نے ابواسماعیل ترمذی محمد بن اسماعیل بن یوسف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے سلیمان بن داود ہاشمی کو کہتے ہوئے سنا، انہوں نے ذکر کیا اسی حدیث کا پھر کہا: یہ حدیث میرے نزدیک ایسے ہی مستند اور قوی ہے، جیسے زہری کی وہ حدیث قوی و مستند ہوتی ہے جسے وہ سالم بن عبداللہ سے اور سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں۔
Mishkat
289
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ أَوْ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَفِي رِوَايَةٍ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ . هَكَذَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِهِ وَالْحُمَيْدِيُّ فِي أَفْرَاد مُسلم وَكَذَا ابْن الْأَثِير فِي جَامع الْأُصُول وَذكر الشَّيْخ مُحي الدِّينِ النَّوَوِيُّ فِي آخِرِ حَدِيثِ مُسْلِمٍ عَلَى مَا روينَاهُ وَزَاد التِّرْمِذِيّ: «الله اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ» وَالْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ مُحْيِي السُّنَّةِ فِي الصِّحَاحِ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ» إِلَى آخِرِهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي جَامِعِهِ بِعَيْنِهِ إِلَّا كَلِمَةَ «أَشْهَدُ» قَبْلَ «أَن مُحَمَّدًا»
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص وضو کرتا ہے اور اچھی طرح مکمل وضو کرتا ہے ۔ پھر کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے ۔‘‘ رواہ مسلم و ابن الاثیر فی جامع الاصول (۹ /۳۳۶ ح ۷۰۱۷) زیادۃ الترمذی (۵۵) سنن ترمذی (۱ /۷۹ ۔ ۸۲) ۔ امام مسلم نے اسے اس طرح اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔ حمیدی نے ’’افراد مسلم‘‘ میں اور اسی طرح ابن اثیر نے ’’جامع الاصول‘‘ میں روایت کیا ہے ۔ الشیخ محی الدین النووی نے مسلم کی حدیث کے آخر میں ذکر کیا ہے ، اور امام ترمذی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اے اللہ ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں میں سے بنا دے ۔‘‘ وہ حدیث جسے محی السنہ ’’الصحاح‘‘ میں روایت کیا ہے ’’ جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ۔‘‘ آخر تک ، امام ترمذی نے اسے بالکل اسی طرح اپنی جامع میں روایت کیا ہے ، لیکن ((ان محمد)) سے پہلے ((اشھد)) کا ذکر نہیں ۔
Mishkat
748
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: احْتَبَسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاة عَن صَلَاة الصُّبْح حَتَّى كدنا نتراءى عين الشَّمْس فَخرج سَرِيعا فثوب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهِ فَقَالَ لَنَا عَلَى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيمَ يخْتَصم الْمَلأ الْأَعْلَى قلت لَا أَدْرِي رب قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأ الْأَعْلَى قلت فِي الْكَفَّارَات قَالَ مَا هُنَّ قُلْتُ مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِد بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوَضُوءِ حِينَ الْكَرِيهَاتِ قَالَ ثُمَّ فِيمَ؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ. قَالَ: وَمَا هن؟ إطْعَام الطَّعَام ولين الْكَلَام وَالصَّلَاة وَالنَّاس نيام. ثمَّ قَالَ: سل قل اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً قوم فتوفني غير مفتون أَسأَلك حَبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَحْبُكُ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حبك . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَسَأَلْتُ مُحَمَّد ابْن إِسْمَاعِيل عَن هَذَا الحَدِيث فَقَالَ: هَذَا حَدِيث صَحِيح
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز فجر پڑھانے کے لیے تشریف نہ لائے ، قریب تھا کہ ہم سورج طلوع ہونے کا مشاہدہ کر لیتے ، پھر آپ بہت تیزی سے تشریف لائے چنانچہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی ، رسول اللہ ﷺ نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھائی ، پس جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو با آواز بلند فرمایا :’’ اپنی جگہوں پر ایسے ہی بیٹھے رہو ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ میں ابھی تمہیں بتاتا ہوں کہ میں تمہیں نماز پڑھانے کے لیے کیوں نہیں آیا ، میں رات کو بیدار ہوا ، وضو کیا اور جس قدر مقدر میں تھا میں نے نماز پڑھی ، مجھے نماز میں اونگھ آنے لگی حتیٰ کہ وہ مجھ پر غالب آ گئی ، تب میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو بہترین صورت میں دیکھا چنانچہ اس نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا : میرے رب ! حاضر ہوں ، فرمایا : فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کی انگلیوں کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی ، اور میرے سامنے ہر چیز واضح ہو گئی اور میں نے پہچان لی ، پھر رب تعالیٰ نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا ، میرے رب ! میں حاضر ہوں ، فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، گناہ مٹا دینے والے اعمال کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : با جماعت نماز پڑھنے لے لیے چل کر جانا ، نماز کے بعد مساجد میں بیٹھے رہنا ، ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا ، فرمایا : پھر وہ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : درجات کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : کھانا کھلانا ، نرمی سے بات کرنا اور جب لوگ سو رہے ہوں نماز (تہجد) پڑھنا ۔ فرمایا : کچھ مانگ لیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے عرض کیا : اے اللہ ! تجھ سے نیک اعمال بجا لانے ، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں ، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، اور جب تو کسی قوم کو فتنے سے دوچار کرنا چاہے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا ، میں تجھ سے ، تیری محبت ، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (خواب) حق ہے ، پس اسے یاد کرو اور پھر اسے دوسروں کو بتاؤ ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاریؒ) سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Mishkat
815
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے تو یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! تو پاک ہے ، تیری تعریف کے ساتھ (ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں) تیرا نام با برکت ہے ، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Mishkat
900
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ دو سجدوں کے درمیان یہ دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، میری راہنمائی فرما ، مجھے عافیت میں رکھ اور مجھے رزق عطا فرما ۔‘‘ ضعیف ۔
Mishkat
930
وَعَن فضَالة بن عُبَيْدٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَصَلِّ عَلَيَّ ثُمَّ ادْعُهُ» . قَالَ: ثُمَّ صَلَّى رَجُلٌ آخَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا الْمُصَلِّي ادْعُ تُجَبْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ نَحوه
فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا ، اس نے نماز پڑھی اور دعا کی : اے اللہ ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نمازی شخص ! تم نے جلد بازی کی ، جب تم نماز پڑھ کر (تشہد کے لیے) بیٹھو تو اللہ کی ، اس کی شان کے لائق ، حمد بیان کرو ، مجھ پر درود بھیجو ، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر اس کے بعد ایک اور آدمی نے نماز پڑھی تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی ، نبی پر درود بھیجا تو نبی ﷺ نے اسے فرمایا :’’ نمازی شخص ! دعا کرو ، تمہاری دعا قبول ہو گی ۔‘‘ ترمذی ۔ ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
Mishkat
1036
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے رات خواب میں دیکھا کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں ، پس میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدہ کرنے کی وجہ سے سجدہ کیا ، میں نے اسے یہ پڑھتے ہوئے سنا : اے اللہ میرے لیے اس کا ثواب اپنے ہاں لکھ لے ، اس کے ذریعے میرے گناہ معاف فرما ، اسے اپنے ہاں ذخیرہ بنا ، اور اسے مجھ سے قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داؤد ؑ سے قبول فرمایا ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : نبی ﷺ نے یہ آیت سجدہ تلاوت فرمائی تو آپ نے سجدہ کیا ، میں نے آپ کو وہی دعا کرتے ہوئے سنا جو آدمی نے آپ ﷺ کو درخت کے متعلق بتائی تھی ۔ ترمذی ، ابن ماجہ : لیکن انہوں نے ’’وتقبلھا منی کما تقبتھا من عبدک داود‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Mishkat
1217
عَن أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ثُمَّ يَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادٌ أَبُو دَاوُدَ بَعْدَ قَوْلِهِ: «غَيْرُكَ» ثُمَّ يَقُولُ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ثَلَاثًا وَفِي آخر الحَدِيث: ثمَّ يقْرَأ
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے اٹھتے تو اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھتے :’’ پاک ہے تو اے اللہ ! اپنی حمد کے ساتھ ، با برکت ہے نام تیرا ، بلند ہے شان تیری اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، پھر آپ ﷺ فرماتے :’’ اللہ بہت ہی بڑا ہے ۔‘‘ پھر فرماتے :’’ میں اللہ سمیع و علیم کی پناہ کا طلب گار ہوں شیطان مردود سے ، اس کے وسوسے ، اس کے کبر اور اس کے جادو سے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ، ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی اور ابوداؤد نے ((غیرک)) کے بعد یہ اضافہ نقل کیا ہے ، کہ آپ ﷺ تین مرتبہ فرماتے : ((لالہ الا اللہ)) ، اور حدیث کے آخر میں ہے : پھر آپ ﷺ قراءت کرتے ۔