TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8462 - ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں - نزول قرآن کی کیفیت کے ابواب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 11 of 11 in this chapter
ان آیات کا ذکر، جو قرآن مجید میں موجود تھیں، لیکن بعد میں منسوخ ہو گئیں
۔ (۸۴۶۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({ہُوَ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ، مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ، فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ، فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء َ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ، یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَ لْبَابِ} [آل عمران: ۷] فَإِذَا رَأَیْتُمُ الَّذِینَیُجَادِلُونَ فِیہِ، فَہُمُ الَّذِینَ عَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۴)
۔ (دوسری سند) سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم قرآن مجید میں پڑھا کرتے تھے: {بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا وَإِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا} … ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو مل گئے ہیں، پس وہ ہم سے راضی بھی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو راضی بھی کیا ہے۔ پھر یہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔
8462
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۴۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۵۴۷، ومسلم: ۲۶۶۵ (انظر: ۲۴۲۱۰)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یہ قراء صحابہ کی ایک جماعت تھی، جن کو سریۂ بئر معونہ میں قتل کر دیا گیا تھا، ان کی تفصیلیہ ہے: سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ نَّ نَّبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ تَاہُ رِعْلٌ وَذَکْوَانُ وَعُصَیَّۃُ وَبَنُو لِحْیَانَ فَزَعَمُوْا أَ نَّہُمْ قَدْأَ سْلَمُوْا فَاسْتَمَدُّوْہُ عَلٰی قَوْمِہِمْ فَأَ مَدَّھُمْ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَئِذٍ بِسَبْعِیْنَ مِنَ الْأَ نْصَارِ، قَالَ أَ نَسٌ کُنَّا نُسَمِّیْہِمْ فِیْ زَمَانِہِمُ الْقُرَّائَ، کَانَوا یَحْتَطِبُونَ بِالنَّھَارِ وَیُصَلُّوْنَ بِاللَّیْلِ، فَانْطَلَقُوْا بِہِمْ حَتّٰی إِذَا أَ تَوْا بِئْرَ مَعُوْنَۃَ غَدَرُوْا بِہِمْ فَقَتَلُوْھُمْ، فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَہْرًا فِیْ صَلاَۃِ الصُّبْحِ یَدْعُوْا عَلٰی ھٰذِہِ الْأَ حْیَائِ رِعْلٍ وَ ذَکْوَانَ وَعُصَیَّۃَ وَبَنِی لِحْیَانَ قَالَ قَتَادَۃُ وَحَدَّثَنَا أَ نَسٌ أَ نَّہُمْ قَرَأُوْا بِہِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِی حَدِیْثِہِ إِنَّا قَرَأْنَا بِہِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَ نَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا۔ ثُمَّ رُفِعَ ذٰلِکَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذٰلِکَ أَوْ رُفِعَ۔ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مدد مانگی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے یہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ جب بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبج کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَ نَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَ رْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۰۶۴، ۴۰۸۸، ۴۰۹۰، واللفظ لاحمد) یہ بعض آیات کے منسوخ ہونے کی چند مثالیں تھیں۔

Related Chapters

167
1
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
2
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
3
(24) CHAPTER. The eyes of the Prophet (p.b.u.h) used to sleep, but his heart used not to sleep.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں لیکن دل غافل نہیں ہوتا تھا
Sahih Bukhari
4
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
Sahih Muslim
5
Chapter: A Man Who Has Testimony To Give, When The Person To Whom It Pertains Is Unaware Of That
گواہ موجود ہے لیکن صاحب معاملہ کو اس کی خبر نہیں ہے تو گواہ کیا کرے؟۔
Sunnan Ibn e Maja
6
Chapter: [What Has Been Related] About The Abrogation Of Speech During The Salat
باب: نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Al-Khars (Assessment)
باب: درخت میں موجود پھل کا تخمینہ لگانا
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Not Performing The Salat For The Child Until One Is Sure He Was Alive At Birth
باب: جنین (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی نماز نہ پڑھنے کا بیان جب تک کہ وہ ولادت کے وقت نہ روئے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell What One Does Not Have
باب: جو چیز موجود نہ ہو اس کی بیع جائز نہیں
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Preemption For The Absent
باب: غائب (جو شخص موجود نہ ہو) کے شفعہ کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Blood-Money For The Fetus
باب: حمل (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی دیت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering The Fetus
باب: ماں کے پیٹ میں موجود بچہ کے ذبیحہ کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: How Were The Kimam (Caps) Of The Companions ?
باب: صحابہ کرام کی آستینیں کیسی تھیں؟
Jam e Tirmazi
14
باب: لڑکیوں کی موجودگی میں لڑکوں کی میراث کا بیان
Jam e Tirmazi
15
یہ رخصت تھی، پھر منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
16
ان لوگون کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ جنابت والا قرآن مجید کی تلاوت نہ کرے
Musnad Ahmad
17
حائضہ کی گود میں قرآن مجید کی تلاوت کے جواز اور ایسی خاتون کے مسجد میں داخل ہونے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
18
پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
Musnad Ahmad
19
پانی کی موجودگی میں زخم یا سردی کے ڈر کی وجہ سے تیمم کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
20
پانی کی عدم موجودگی میں جماع اور تیمم کی رخصت اور پانی کے موجود ہونے کی صورت میں تیمم کے باطل ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
21
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
22
رکوع میں تطبیق کی مشروعیت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
23
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
24
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
25
اس بات کا بیان کہ قبیلے کے امام کی عدم موجودگی میں کیا کیا جائے
Musnad Ahmad
26
میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
27
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
تین دنوں سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے ممانعت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
29
تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
30
جس کے ہاں اسلام کی علامت موجود ہو، اس پر شب خون مارنے کے وقت رک جانے کا بیان
Musnad Ahmad
31
قرآن مجید کے اس حصے کا بیان، جو سونے سے پہلے تلاوت کیا جاتا ہے
Musnad Ahmad
32
مقروض آدمی کی نماز جنازہ ادا نہ کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا
Musnad Ahmad
33
قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل
Musnad Ahmad
34
چوتھی مرتبہ شرابی کو قتل کرنے اور پھر اس حکم کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
35
آزادی کو اور قرآن مجید کے بعض حصے کی تعلیم کو مہر بنانے کا بیان
Musnad Ahmad
36
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
نکاح متعہ کے منسوخ اور منہی عنہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
39
گر نے والے، بدک جانے والے اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا بیان
Musnad Ahmad
40
قرآن مجید کے ذریعے دم کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
41
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
42
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
43
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
Musnad Ahmad
44
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
Musnad Ahmad
45
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
Musnad Ahmad
46
قرآن مجید سننے کی فضیلت اور اس وقت رونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
Musnad Ahmad
48
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
Musnad Ahmad
49
قرآن مجید اور دوسری آسمانی کتابوں کے نزول کے وقت کا بیان اور صحابہ کا اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے
Musnad Ahmad
50
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1
Musnad Ahmad
8532
۔ (۸۵۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَرَأَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (({ہُوَ الَّذِی أَ نْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ، مِنْہُ آیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْکِتَابِ، وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ، فَأَ مَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ زَیْغٌ، فَیَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَائَ الْفِتْنَۃِ وَابْتِغَاء َ تَأْوِیلِہِ، وَمَا یَعْلَمُ تَأْوِیلَہُ إِلَّا اللّٰہُ وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ، یَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا، وَمَا یَذَّکَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَ لْبَابِ} [آل عمران: ۷] فَإِذَا رَأَ یْتُمُ الَّذِینَیُجَادِلُونَ فِیہِ، فَہُمْ الَّذِینَ عَنَی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَاحْذَرُوہُمْ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۱۴)
۔ سیدنا عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم قرآن میں جھگڑنے والوں کو دیکھو تو وہی وہ فتنہ پرور لوگ ہوں گے، جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان سے بچو۔