اللہ عزوجل کے فرمان:«إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا ...»۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي وَضُوئِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
When any one of you wakes from sleep, let him not dip his hand in (the water he uses for) his Wudu' until he has washed it three times, for none of you knows where his hand spent the night.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے جاگ جائے تو اپنا ہاتھ اپنے وضو کے پانی میں نہ ڈالے، یہاں تک کہ اسے تین بار دھو لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ۲۶ (۱۶۲)، صحیح مسلم/الطہارة ۲۶ (۲۷۸)، سنن ابی داود/الطھارة ۴۹ (۱۰۳)، سنن الترمذی/الطھارة ۱۹ (۲۴)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۴۰ (۳۹۳)، (تحفة الأشراف: ۱۵۱۴۹)، موطا امام مالک/ فیہ ۲ (۹)، مسند احمد ۲/۲۴۱، ۲۵۳، ۲۵۹، ۳۴۹، ۳۸۲، سنن الدارمی/الطہارة ۷۸ (۷۹۳)، ویأتي عند المؤلف برقم: ۱۶۱، ۴۴۱ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس لیے زندہ رہنا ہی اس کے لیے بہتر ہے۔
1
Sahih