أخبرنا قتيبة قال حدثنا حماد بن زيد عن هشام بن حسان عن أبي معشر عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أفرك الجنابة من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that 'Aishah said:
I remember rubbing the Janabah from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت ( منی کے اثر کو ) مل رہی ہوں۔
أخبرنا محمد بن كامل المروزي قال حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: لقد رأيتني أجده في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأحته عنه .
It was narrated that 'Aishah said:
I remember finding it on the garment of the Messenger of Allah (ﷺ) and scratching it off.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اسے ( یعنی منی کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں پاتی تو اسے رگڑ کر اس سے صاف کر دیتی۔
It was narrated from Umm Qais bin Mihsan that she brought a small son of hers who has not started eating food to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) took him in his lap and he urinated on his garment, so he called for some water and sprinkled it on it, but he did not wash it.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا، اور اس سے کپڑے پر چھینٹا مار، اور اسے دھویا نہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ۵۹ (۲۲۳)، الطب ۱۰ (۵۶۹۳)، صحیح مسلم/الطہارة ۳۱ (۲۸۷)، سنن ابی داود/الطھارة ۱۳۷ (۳۷۴)، سنن الترمذی/الطھارة ۵۴ (۷۱)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۷۷ (۵۲۴)، (تحفة الأشراف: ۱۸۳۴۲)، موطا امام مالک/الطھارة ۳۰ (۱۱۰)، مسند احمد ۶/۳۵۵، ۳۵۶، سنن الدارمی/الطھارة ۶۳ (۷۶۸) (صحیح)
It was narrated that 'Aishah said:
A small boy was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) and he urinated on him, so he called for water and poured it on the place where the urine was.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ( دودھ پینے والا ) بچہ لایا گیا، تو اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، تو آپ نے پانی منگایا، اور اسے اس پر بہا دیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ۵۹ (۲۲۲)، العقیقة ۱ (۵۴۶۸)، الأدب ۲۱ (۶۰۰۲)، الدعوات ۳۰ (۶۳۵۵)، (تحفة الأشراف: ۱۷۱۶۳)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ۳۱ (۲۸۶)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۷۷ (۵۲۳)، موطا امام مالک/الطہارة۳۰ (۱۰۹) مسند احمد ۶/۵۲، ۲۱۰، ۲۱۲ (صحیح)
Abu As-Samh said:
The Prophet (ﷺ) said: 'A girl's urine should be washed away and a boy's urine should be sprinkled with water.'
ابو سمح رضی اللہ عنہ (خادم النبی) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: ایک روایت میں «مالم یطعم» (جب تک وہ کھانا نہ کھانے لگے) کی قید ہے، اس لیے جو روایتیں مطلق ہیں، انہیں مقید پر محمول کیا جائے گا یعنی دونوں کے پیشاب میں یہ تفریق اس وقت تک کے لیے ہے جب تک وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، کھانا کھانے لگ جانے کے بعد دونوں کے پیشاب کا حکم یکساں ہو گا، دونوں کا پیشاب دھونا ضروری ہو جائے گا۔
It was narrated that Anas bin Malik narrated that some people from 'Ukl came to the Messenger of Allah (ﷺ) and spoke about Islam. They said:
'O Messenger of Allah, we are nomads who follows the herds, not farmers and growers, and the climate of Al-Madinah does not suit us.' So the Messenger of Allah (ﷺ)told them to go out to a flock of female camels and drink their milk and urine. When they recovered - and they were in the vicinity of Al-Harrah - they apostatized after having become Muslim, killed the camel-herder of the Messenger of Allah (ﷺ) and drove the camels away. News of that reached the Messenger of Allah (ﷺ) and he sent people after them. They were brought back, their eyes were smoldered with heated nails, their hands and feet cut off, then they were left in Al-Harrah in that state until they died.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اپنے اسلام لانے کی بات کی، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم لوگ مویشی والے ہیں ( جن کا گزارہ دودھ پر ہوتا ہے ) ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے، اور ان سے کہا کہ وہ جا کر مدینہ سے باہر رہیں، اور ان جانوروں کے دودھ اور پیشاب پئیں۱؎ چنانچہ وہ باہر جا کر حرّہ کے ایک گوشے میں رہنے لگے جب اچھے اور صحت یاب ہو گئے، تو اپنے اسلام لے آنے کے بعد کافر ہو گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کرنے والوں کو ان کے پیچھے بھیجا ( چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور ) آپ کے پاس لائے گئے، تو لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیر دی ۲؎، اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے، پھر اسی حال میں انہیں ( مقام ) حرہ میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ۶۶ (۲۳۳)، الزکاة ۶۸ (۱۵۰۱)، الجھاد ۱۸۴ (۳۰۶۴)، المغازي ۳۶ (۴۱۹۲)، الطب ۵ (۵۶۸۵)، ۲۹/۵۷۲۷، الحدود ۱۵ (۶۸۰۲)، ۱۸ (۶۸۰۵)، الدیات ۲۲ (۶۸۹۹)، صحیح مسلم/القسامة ۲ (۱۶۷۱)، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۶)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ۳۸ (۱۸۴۵)، الطب ۶ (۲۰۴۲)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۳۰ (۳۵۰۳)، مسند احمد ۳/۱۶۱، ۱۶۳، ۱۷۰، ۲۳۳، ویأتي عند المؤلف برقم: ۴۰۳۷ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر اونٹ کا پیشاب پیا جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ جن جانورں کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب پاک ہے، اور بوقت ضرورت ان کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ۲؎: ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں اس وجہ سے پھیریں کہ ان لوگوں نے بھی چرواہے کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں، لیکن یہ روایت بقول امام ترمذی غریب ہے، یحییٰ بن غیلان کے علاوہ کسی نے بھی اس میں یزید بن زریع کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
It was narrated from Anas bin Malik that some Bedouins from 'Urainah came to the Prophet (ﷺ) and became Muslims, but the climate of Al-Madinah did not suit them; their skin turned yellow and their stomachs became swollen. The Messenger of Allah (ﷺ) sent them to some pregnant camels of his and told them to drink their milk and urine until they recovered. Then they killed the camel-herder and drove the camels away. The Messenger of Allah (ﷺ) sent people after then and they were brought back. their hands and feet were cut off and their eyes were smoldered with burning nails. The Commander of the Believers, 'Abdul-Malik, said to Anas - when he was narrating this Hadith to him - (Were they being punished) for Kufr or for a sin? He said:
For Kufr.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی ( دیہاتی ) آئے، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ زرد ہو گئے، اور پیٹ پھول گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا ۱؎ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گئے، تو ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کے تعاقب میں بھیجا، چنانچہ انہیں پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی۔
It was narrated that 'Amr bin Maimun said:
Abdullah told us: 'The Messenger of Allah (ﷺ) was praying at the House (the Ka'bah) and a group of the nobles of Quraish were sitting there. They had just slaughtered a camel and one of them said: Which of you will take these stomach contents with the blood and wait until he prostrates, then put them on his back? 'Abdullah said: 'The one who was most doomed got up and took the stomach contents, then went and waited until he prostrated himself, and put it on his back. Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), who was a young girl, was told about that, and she came running and took it off his back. When he had finished praying he said: O Allah! Punish the Quraish, three times, O Allah, punish Abu Jahl bin Hisham, Shaibah bin Rabi'ah, 'Utbah bin Rabi'ah, 'Uqbah bin Abi Mu'ait until he had listed seven men from Quraish.' 'Abdullah said: 'By the One Who revealed the Book to him, I saw them dead on the day of Badr (their corpses) in a single dry well.'
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، اور قریش کے کچھ شرفاء بیٹھے ہوئے تھے، اور انہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا ۱؎: تم میں سے کون ہے جو یہ خون آلود اوجھڑی لے کر جائے، پھر کچھ صبر کرے حتیٰ کہ جب آپ اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیں، تو وہ اسے ان کی پشت پر رکھ دے، تو ان میں کا سب سے بدبخت ( انسان ) کھڑا ہوا ۲؎، اور اس نے اوجھڑی لی، اور آپ کے پاس لے جا کر انتظار کرتا رہا، جب آپ سجدہ میں چلے گئے تو اس نے اسے آپ کی پشت پر ڈال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمسن بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر ملی، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اسے ہٹایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے تین مرتبہ کہا: «اللہم عليك بقريش» اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے ، «اللہم عليك بقريش»، «اللہم عليك بأبي جهل بن هشام وشيبة بن ربيعة وعتبة بن ربيعة وعقبة بن أبي معيط» اے اللہ! ابوجہل بن ہشام، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط سے تو نپٹ لے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سات ۳؎ لوگوں کا گن کر نام لیا، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا، میں نے انہیں بدر کے دن ایک اوندھے کنویں میں مرا ہوا دیکھا۔
وضاحت: ۱؎: صحیح مسلم کی تصریح کے مطابق وہ ابوجہل تھا۔ ۲؎: اس سے مراد عقبہ بن ابی معیط ہے جیسا کہ مسند ابوداؤد طیالسی میں اس کی صراحت ہے۔ ۳؎: چار تو وہ ہیں جن کا ذکر خود حدیث میں آیا ہے اور باقی تین یہ ہیں: ولید بن عتبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف اور عمارہ بن ولید۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
When any one of you prays, let him not spit in front of him or to his right, rather let him spit to his left or beneath his feet. Then the Prophet (ﷺ) spat like this on his garment and rubbed it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے، یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں اس طرح تھوکا ہے اور اسے مل دیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد ۱۳ (۵۵۰)، سنن ابن ماجہ/إقامة ۶۱ (۱۰۲۲)، (تحفة الأشراف ۱۴۶۶۹)، مسند احمد ۲/۲۵۰، ۴۱۵ (صحیح)
It was narrated that 'Aishah said:
We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on one of his journeys, and when we were in Al-Baida' or Dhat Al-Jaish, a necklace of mine broke and fell. The Messenger of Allah (ﷺ) stayed there looking for it and the people stayed with him. There was no water near them, and they did not have water with them. The people came to Abu Bakr, may Allah be pleased with him, and said: 'Do you see what 'Aishah has done? She has made the Messenger of Allah (ﷺ) and the people stop and they are not near any water and they do not have water with them.' Abu Bakr, may Allah be pleased with him, came while the Messenger of Allah (ﷺ) was resting his head on my thigh and had gone to sleep. He said: 'You have detained the Messenger of Allah (ﷺ) and the people, and they are not near any water and they do not have any water with them.' 'Aishah said: Abu Bakr rebuked me and said whatever Allah willed he would say. He started poking me on my hip, and the only thing that prevented me from moving was the fact that the Messenger of Allah (ﷺ) was resting on my thigh. The Messenger of Allah (ﷺ) slept until morning when he woke up without any water. Then Allah, the Mighty and Sublime revealed the verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said: 'This is not the first time we have been blessed because of you, O family of Abu Bakr!' She said: Then we made the camel that I had been riding stand up, and we found the necklace beneath it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے، تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے، آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، نہ وہاں پانی تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا، تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے کہنے لگے کہ عائشہ نے جو کیا ہے کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس ہی پانی ہے، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے، تو وہ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے، نہ ہی ان کے پاس پانی ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری سرزنش کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کہلوانا چاہا انہوں نے کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، میں صرف اس وجہ سے نہیں ہلی کہ میری ران پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہو گئی، پھر اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے آل ابوبکر! یہ آپ کی پہلی ہی برکت نہیں، پھر ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا، تو ہمیں ہار اسی کے نیچے ملا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التیمم ۱ (۳۳۴)، ۲ (۳۳۶)، وفضائل الصحابة ۵ (۳۶۷۲)، ۳۰ (۳۷۷۳)، وتفسیر النساء ۱۰ (۴۵۸۳)، وتفسیر المائدہ ۳ (۴۶۰۷)، وانکاح ۱۲۶ (۵۲۵۰)، واللباس ۵۸ (۵۸۸۲)، والحدود ۳۹ (۶۸۴۴)، صحیح مسلم/الحیض ۲۸ (۳۶۷)، (تحفة الأشراف ۱۷۵۱۹)، وقدأخرجہ: سنن ابی داود/الطھارة ۱۲۳ (۳۱۷)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۹۰ (۵۶۸)، موطا امام مالک/فیہ ۲۳ (۸۹)، مسند احمد ۶/۵۷، ۱۷۹، ۲۷۲، ۲۷۳، سنن الدارمی/الطھارة ۶۶/۷۷۳ (صحیح)
It was narrated from 'Umair the freed slave of Ibn 'Abbas that he heard him say:
Abdullah bin Yasar the freed slave of Maimunah, and I came and entered upon Abu Juhaim bin Al-Harith bin Al-Sammah Al-Ansari. Abu Juhaim said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) came back from the direction of Bi'r Al-jamal and was met by a man who greeted him with Salam, but the Messenger of Allah (ﷺ) did not return the greeting until he turned to the wall and wiped his face and hands, then he returned the greeting.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبداللہ بن یسار دونوں آئے یہاں تک کہ ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے آئے، تو آپ سے ایک آدمی ملا، اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ دیوار کے پاس آئے، اور آپ نے اپنے چہرہ اور دونوں ہاتھ پر مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza from his father that a man came to 'Umar and said:
I have become Junub and I do not have any water. 'Umar said: Do not pray. But 'Ammar bin Yasir said: O Commander of the Believers! Don't you remember when you and I were on a campaign and we became Junub and could not find water? You did not pray, but I rolled in the dust and prayed. Then we came to the Prophet (ﷺ) and told him about that, and he said: 'It would have been sufficient for you (to do this),' then the Prophet (ﷺ) struck his hands on the ground and blew on them, then wiped his face and hands with them' - (one of the narrators) Salamah was uncertain and did not know whether that was up to the elbows or just hands. And 'Umar said: We will let you bear the burden of what you took upon yourself.
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا، ( کیا کروں؟ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( غسل کئے بغیر ) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا - سلمہ کو شک ہے، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک - ( عمار رضی اللہ عنہ کی بات سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ۔
وضاحت: ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ مجھے یہ یاد نہیں اس لیے میں یہ بات نہیں کہہ سکتا تم اپنی ذمہ داری پر اسے بیان کرنا چاہو تو کرو، عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں کی رائے یہ ہے کہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں، ان کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام اور اکثر علماء اور مجتہدین کا قول ہے کہ تیمم محدث (جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو) اور جنبی (جسے احتلام ہوا ہو) دونوں کے لیے ہے، اس قول کی تائید کئی مشہور حدیثوں سے ہوتی ہے۔
It was narrated that 'Ammar bin Yasir said:
I became Junub while I was on a camel and I could not find any water, so I rolled in the dust like an animal. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him about that, and he said: 'Tayammum would have been sufficient for you.'
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف ۱۰۳۶۸)، مسند احمد ۴/۲۶۳ (ضعیف) (اس کے راوی ’’ناجیة ‘‘ لین الحدیث ہیں)
It was narrated that 'Ammar said:
The Messenger of Allah (ﷺ) stopped to rest at the end of the night in Uwlat Al-Jaish. His wife 'Aishah was with him and her necklace of Zifar beads [1] broke and fell. The army was detained looking for that necklace of hers until the break of the light of dawn and the people had no water with them. Abu Bakr got angry with her and said: 'You have detained the people and they do not have any water.' Then Allah the Mighty and Sublime revealed the concession allowing Tayammum with clean earth. So the Muslims got up with the Messenger of Allah (ﷺ) and struck with their hands, then they raised their hands and did not strike them together to knock off any dust, then they wiped their faces and arms up to the shoulders, and from the inner side of their of their arms up to the armpits. [1] Black and white Yemeni beads.
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے، اور کہنے لگے: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی، عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے ( کے حصہ پر ) بغل تک مل لیا ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: ایسا ان لوگوں نے اس وجہ سے کیا ہو گا کہ ممکن ہے پہلے یہی مشروع رہا ہو، پھر منسوخ ہو گیا ہو، یا ان لوگوں نے اپنے اجتہاد سے بغیر پوچھے ایسا کیا ہو۔
It was narrated that 'Ammar bin Yasir said:
We did Tayammum with the Messenger of Allah (ﷺ) using dust, and we wiped our faces and our arms up to the shoulders.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مٹی سے تیمم کیا، تو ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مونڈھوں تک مسح کیا۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة، ۹۰ (۵۶۶) مختصرًا، (تحفة الأشراف ۱۰۳۵۸)، مسند احمد ۴/ ۳۲۰، ۳۲۱ (صحیح)
It was narrated that 'Abddur-Rahman bin Abza said:
We were with 'Umar when a man came to him and said: 'O Commander of the Believers! sometimes we stay for a month or two without finding any water. Umar said: As if I did not find water, I would not pray until I found water.' 'Ammar bin Yasir said: 'Do you remember, O Commander of the Believer, when you were in such and such a place and we were rearing the camels, and you know that we became Junub?' He said: 'Yes.' 'As for me I rolled in the dust, then we came to the Prophet (ﷺ) and he laughed and said: Clean earth would have been sufficient for you. And he struck his hands on the earth then blew on them, then he wiped his face and part of his forearms. He ('Umar) said: Fear Allah, O 'Ammar!' He said: 'O Commander of the Believers! If you wish I will not mention it.' He said: 'No, we will let you bear the burden of what you took upon yourself.'
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑ جاتا ہے، ( تو ہم کیا کریں؟ ) تو آپ نے کہا: رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے، کہنے لگے: ہاں، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کر لینا کافی تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری ۱؎، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۳۱۳ (صحیح) (دون ذراعیہ، والصواب کفیہ‘‘ کما في الروایة التالیة)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا پھونک مارنا بھی مسنون ہے۔
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man asked 'Umar bin Al-Khattab about Tayammum and he did not know what to say. 'Ammar said:
Do you remember when we were on a campaign, and I became Junub and rolled in the dust, then I came to the Prophet (ﷺ) and he said: 'This would have been sufficient.' (One of the narrators) Shu'bah struck his hands on his knees and blew into his hands, then he wiped his face and palms with them once.
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تیمم کے متعلق سوال کیا، تو وہ نہیں جان سکے کہ کیا جواب دیں، عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے؟ جب ہم ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، اور میں جنبی ہو گیا تھا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ، شعبہ نے ( تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، اور ان دونوں سے اپنے چہرہ اور اپنے دونوں ہتھیلیوں پر ایک بار مسح کیا ۔
أخبرنا إسماعيل بن مسعود أنبأنا خالد أنبأنا شعبة عن الحكم سمعت ذرا يحدث عن ابن أبزى عن أبيه قال وقد سمعه الحكم من ابن عبد الرحمن قال أجنب رجل فأتى عمر - رضى الله عنه - فقال إني أجنبت فلم أجد ماء . قال لا تصل . قال له عمار أما تذكر أنا كنا في سرية فأجنبنا فلم نجد ماء فأما أنت فلم تصل وأما أنا فإني تمعكت فصليت ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال إنما كان يكفيك . وضرب شعبة بكفيه ضربة ونفخ فيهما ثم دلك إحداهما بالأخرى ثم مسح بهما وجهه . فقال عمر شيئا لا أدري ما هو . فقال إن شئت لا حدثته . وذكر شيئا في هذا الإسناد عن أبي مالك وزاد سلمة قال بل نوليك من ذلك ما توليت .
It was narrated that Ibn 'Abdur-Rahman said:
A man became Junub and came to 'Umar, may Allah be pleased with him, and said: 'I have become Junub and I cannot find any water.' He said: 'Do not pray.' 'Ammar said to him: 'Do you not remember when we were on a campaign and became Junub. You did not prayed, then I came to the Prophet (ﷺ) and told him that, and he said: 'This would have been sufficient for you.' - (One of the narrators) Shu'bah struck his hands once and blew into them, then he rubbed them together, then wiped his face with them - ('Ammar said): 'Umar said something I did not understand. So he said: If you wish, I shall not narrate it. Salamah mentioned something in this chain from Abu Malik, and Salamah added that he said: Rather, we will let you bear the burden of what you tool upon yourself.
حکم بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، تو وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ( تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا: ( جب تک پانی نہ ملے ) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہم لوگ ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے تھے، تو رہے آپ، تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور رہا میں، تو میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، پھر نماز پڑھ لی، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، شعبہ نے اپنی ہتھیلی ( گھٹنوں پر ) ایک مرتبہ ماری، اور اس میں پھونک ماری، پھر ایک کو دوسرے سے رگڑا، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی چیز ( سن رہا ہوں ) جو مجھے معلوم نہیں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں اسے بیان نہ کروں؟ سلمہ نے اس سند میں ابو مالک سے کچھ اور بھی چیزوں کا ذکر کیا ہے، اور سلمہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ اس سلسلہ میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man came to 'Umar, may Allah be please with him, and said:
I have become Junub and I cannot find any water. 'Umar said: Do not pray. 'Ammar said: Do you not remember, O Commander of the Believers, when you and I were on a campaign and became Junub, and we could not find any water. You did not pray, but I rolled in the dust then prayed. When we came to the Messenger of Allah (ﷺ) I told him about that and he said: 'This would have been sufficient for you,' and then Prophet (ﷺ) struck the earth with his hands then blew on them and wiped his face and hands - (one of the narrators) Salamah was uncertain and said: I do not know if he said it should be up to the elbows or just the hands. - 'Umar said: We will let you bear the burden of what you took upon yourself. (One of the narrators) Shu'bah said: He used to say the hands, face and forearms. (Another) Mansur said to him: What are you saying? No one mentions the forearms except you. Salamah was not certain and said: I do not know whether he mentioned the forearms or not.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں، اور مجھے پانی نہیں ملا ( کیا کروں؟ ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( جب تک پانی نہ ملے ) تم نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نے نماز پڑھ لی، تو جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ ( میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں: سلمہ دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے، تو منصور نے ان سے کہا: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے، تو سلمہ شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ ( ذر نے ) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں؟۔