It was narrated that Ibn 'Umar said:
Umar mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) that he became Junub at night, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Perform Wudu' and wash you penis, then sleep.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ رات میں جنبی ہو جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو اور اپنا عضو مخصوص دھو لو، پھر سو جاؤ ۔
It was narrated from 'Ali that the Prophet (ﷺ) said:
The angels do not enter a house where there is an image, a dog or a Junub person.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر، کتا یا جنبی ہو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة ۹۰ (۲۲۷)، اللباس ۴۸ (۴۱۵۲)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۴۴ (۳۶۵۰)، (بدون قولہ’’ولاجنب‘‘)، (تحفة الأشراف: ۱۰۲۹۱)، مسند احمد ۱/۸۳، ۱۰۴، ۱۳۹، سنن الدارمی/الاستئندان ۳۴، ۲۷۰۵، وأعادہ المؤلف برقم: ۴۲۸۶ (ضعیف) (اس کے راوی ’’نجی‘‘ اور ان کا اضافہ ’’ولاجنب‘‘ ہی ضعیف ہے، ورنہ اس کے سوا باقی ٹکڑے صحیحین میں دیگر صحابہ سے مروی ہیں)
Explanation
وضاحت: اس سے مراد رحمت اور برکت کے فرشتے ہیں، نہ کہ وہ فرشتے جو جنبی اور غیر جنبی کسی سے جدا نہیں ہوتے۔ تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے۔ کتا سے مراد وہ کتا ہے جو شکار یا گھر اور کھیت وغیرہ کی رکھوالی کے لیے نہ ہو۔ جنبی سے مراد وہ جنبی ہے جو غسل میں سستی کرتا ہو، اور دیر سے غسل کرنا اس کی عادت ہو گئی ہو، یا وہ جنبی ہے جس نے وضو نہ کیا ہو جیسا کہ مصنف نے باب کے ذریعہ اشارہ کیا ہے۔
وضاحت: ۱؎:(یعنی ان سب سے صحبت کی اور اخیر میں غسل کیا) ممکن ہے ایسا آپ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہو جانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے کیا ہو، یا یہ کہ آپ کے لیے یہ خاص ہو۔
It was narrated that 'Abdullah bin Salimah said:
I came to 'Ali with two other men and he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to come out of the toilet and recite Qur'an, and he would eat meat with us and nothing would prevent him from (reciting) Qur'an except Janabah.
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور دو آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو قرآن مجید پڑھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت کھاتے اور آپ کو قرآن مجید پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوتی تھی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة ۹۱ (۲۲۹) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة ۱۱۱ (۱۴۶)، بلفظ ــ’’یقرء نا القرآن‘‘ مختصرًا، سنن ابن ماجہ/فیہ ۱۰۵ (۵۹۴)، (تحفة الأشراف: ۱۰۱۸۶)، مسند احمد ۱/۸۳، ۸۴، ۱۰۷، ۱۲۴، ۱۳۴ (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبد اللہ بن سلمہ ‘‘ مختلط ہو گئے تھے، اور عمرو کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے)
It was narrated that 'Ali said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite Qur'an in all circumstances except when he was Junub.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں قرآن پڑھتے تھے سوائے جنابت کے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس عموم سے جنابت کی طرح عین پاخانہ و پیشاب کی حالت بھی خارج ہے، چوں کہ عقلاً یہ دونوں اس عموم میں داخل نہیں ہیں اسی لیے ان کے استثناء کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
It was narrated that Huthaifah said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) met a man from among his Companions, he would shake hands with him and supplicate for him. I saw him one day in the early morning, and I tried to avoid him, then I came to him later in the day. He said: 'I saw you but you were avoiding me.' I said: 'I was Junub and I was afraid that you would touch me.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Muslim is not made impure (Najis).'
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس ( کے جسم ) پر ہاتھ پھیرتے، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے، ایک دن صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں کترا گیا، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
It was narrated from Huthaifah that the Prophet (ﷺ) met him when he was Junub:
And he came close to me and reached out his hand. I said: 'I am Junub.' He said: 'The Muslim is not made impure (Najis).'
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے، اور وہ ( حذیفہ ) جنبی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف بڑھے تو میں نے عرض کیا میں جنبی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) met him in one of the streets of Al-Madinah while he was Junub, so he slipped away from him and performed Ghusl. The Prophet (ﷺ) noticed he was not there, and when he came he said:
'Where were you, O Abu Hurairah?' He said: 'O Messenger of Allah, you met us but I was Junub, and I did not want to sit in your presence until I had performed Ghusl.' He said: 'Subhan Allah! The believer is not made impure (Najis).'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ان سے ملے، اور وہ اس وقت جنبی تھے، تو وہ چپکے سے نکل گئے، اور ( جا کر ) غسل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں پایا، تو جب وہ آئے، تو آپ نے پوچھا ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! آپ اس حالت میں ملے تھے کہ میں جنبی تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ بغیر غسل کئے آپ کے ساتھ بیٹھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! ۱؎ مومن ناپاک نہیں ہوتا ۔
Abu Hurairah said:
While the Messenger of Allah (ﷺ) was in the Masjid, he said: 'O 'Aishah, hand me the garment.' She said: 'I am not praying.' He said: 'It is not in your hand.' So she gave it to him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا دے دو ، کہا: میں نماز نہیں پڑھتی ہوں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا دیا ۲؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض ۲ (۲۹۹)، (تحفة الأشراف: ۱۳۴۴۳)، مسند احمد ۲/۴۲۸، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۱۸ (برقم: ۳۸۳) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یعنی حائضہ ہوں۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ ہاتھ بڑھا کر مسجد میں کوئی چیز رکھ سکتی ہے یا مسجد سے کوئی چیز لے سکتی ہے۔
It was narrated that 'Aishah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Give me the mat from the Masjid.' She said: I am menstruating. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Your menstruation is not in you hand.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی دے دو ، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض۲ (۲۹۸)، سنن ابی داود/الطھارة ۱۰۴ (۲۶۱)، سنن الترمذی/فیہ ۱۰۱ (۱۳۴)، (تحفة الأشراف: ۱۷۴۴۶)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/فیہ ۱۲۰ (۶۳۲)، مسند احمد ۶/۴۵، ۱۰۱، ۱۱۲، ۱۱۴، ۱۷۳، ۲۱۴، ۲۲۹، ۲۴۵، سنن الدارمی/الطھارة ۸۲ (۷۹۸)، ۱۰۸ (۱۱۱۱)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۱۸ (برقم: ۳۸۴) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: کہ وہ ہاتھ کو مسجد میں داخل کرنے سے مانع ہو۔
Maimunah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to lay his head in the lap of one of us while she was menstruating and recite Qur'an, and one of us would take the mat to the Masjid and spread it out while she was menstruating.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جب کہ وہ حائضہ ہوتی تھی، اور ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی، اور باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے ( مسجد میں ) بچھا دیتی اور وہ حائضہ ہوتی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۸۶)، مسند احمد ۶/۳۳۱، ۳۳۴، ویأتي عند المؤلف في الحیض۱۹ برقم: ۳۸۵ (حسن)
It was narrated that 'Aishah said:
The head of the Messenger of Allah (ﷺ) would rest in the lap of one of us when she was menstruating, and he would recite Qur'an.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم ( بیویوں ) میں سے کسی کی گود میں ہوتا جب کہ وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن کی تلاوت کرتے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض۳ (۲۹۷)، التوحید ۵۲ (۷۵۴۹)، صحیح مسلم/الحیض ۳ (۳۰۱)، سنن ابی داود/الطھارة ۱۰۳ (۲۶۰)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۱۲۰ (۶۳۴)، (تحفة الأشراف: ۱۷۸۵۸)، مسند احمد ۶/۱۱۷، ۱۳۵، ۱۴۸، ۱۵۸، ۱۹۰، ۲۰۴، ۲۵۸، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۱۶ (برقم: ۳۸۱) (حسن)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اور وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہوتیں، جیسا کہ مؤلف کے علاوہ دیگر رواۃ نے اس کی صراحت کی ہے۔
It was narrated that 'Aishah said:
The Prophet (ﷺ) would put his head out while he was in I'tikaf and I would wash it, while I was menstruating.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں میری طرف اپنا سر بڑھاتے، تو میں اسے دھوتی اور میں حائضہ ہوتی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض ۵ (۳۰۱)، الاعتکاف ۴ (۲۰۳۱)، صحیح مسلم/الحیض ۳ (۲۹۷)، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۹۰)، مسند احمد ۶/۳۲، ۵۵، ۸۶، ۱۷۰، ۲۰۴، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۲۱، (برقم: ۳۸۷) (صحیح)
It was narrated that 'Aishah said:
The Prophet (ﷺ) would put his head out for me while he was performing I'tikaf [1] and I would wash it, when I was menstruating. [1] Mujawir ( next door ) here means while performing I'tikaf.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مسجد سے میری طرف نکالتے، تو میں اسے دھوتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی۔
It was narrated from Shuraih that he asked 'Aishah:
Can a woman eat with her husband while she is menstruating? She said: 'Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) would call me to eat with him while I was menstruating. He would take a piece of bone on which some bits of meat were left and insist that I take it first, so I would nibble a little from it, then put it down. Then he would take it and nibble from it, and he would put his mouth where mine had been on the bone. Then he would ask for a drink and insist that I take it first before he drank from it. So I would take it and drink from it, then put it down, then he would take it and drink from it, putting his mouth where mine had been on the cup.'
شریح ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے تو میں آپ کے ساتھ کھاتی اور میں حائضہ ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہڈی لیتے پھر اس کے سلسلہ میں آپ مجھے قسم دلاتے، تو میں اس میں سے دانت سے نوچتی پھر میں اسے رکھ دیتی، تو آپ لے لیتے اور اس میں سے نوچتے، اور آپ اپنا منہ ہڈی پر اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا، آپ پانی مانگتے، اور پینے سے پہلے مجھے اس سے پینے کی قسم دلاتے، چنانچہ میں لے کر پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور پیتے، اور اپنا منہ پیالے میں اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۷۰ (صحیح الإسناد)
Explanation
وضاحت: ۱؎: آپ ایسا اظہار محبت اور بیان جواز کے لیے کرتے۔