It was narrated that 'Aishah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to put his mouth on the place where I had drunk from, and he would drink from what was leftover by me, while I was menstruating.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ ( برتن میں ) اسی جگہ رکھتے جہاں سے میں ( منہ لگا کر ) پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا جوٹھا پیتے، اور میں حائضہ ہوتی۔
It was narrated from Al-Miqdam bin Shuraih that his father said:
I heard 'Aishah say: 'The Messenger of Allah (ﷺ) would hand me the vessel and I would drink from it, while I was menstruating, then I would give it to him and he would look for the place where I had put my mouth and put that to his mouth.'
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پانی کا برتن دیتے، میں اس میں سے پیتی، اور میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں آپ کو دیتی، آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاش کرتے، اور اپنا منہ اسی جگہ رکھتے۔
It was narrated that 'Aishah said:
I would drink while I was menstruating, then I would hand it to the Prophet (ﷺ), and he would put his mouth where mine had been and drink. And I would nibble at the bone on which some bits of meat were left while I was menstruating, then I would give it to the Prophet (ﷺ) and he would put his mouth where my mouth had been.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ( پانی ) پیتی اور میں حائضہ ہوتی، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھ کر پیتے، اور میں ہڈی سے گوشت ( نوچ کر ) کھاتی، اور حائضہ ہوتی، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھتے۔
Umm Salamah narrated:
While I was lying down with the Messenger of Allah (ﷺ) under a blanket, my period came, so I slipped away and put on the clothes I used to wear when I was menstruating. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Are you menstruating?' I said: 'Yes.' Then he called me and I lied down with him under the blanket.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آ گیا، تو میں آہستہ سے کھسک آئی اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھنے لگے: کیا تم کو حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، تو ( جا کر ) میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض ۴ (۲۹۸)، ۲۱ (۳۲۲)، ۲۲ (۳۲۳)، الصوم ۲۴ (۱۹۲۹) صحیح مسلم/فیہ ۲ (۲۹۶)، (تحفة الأشراف: ۱۸۲۷۰)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة ۱۲۱ (۶۳۷)، مسند احمد ۶/۳۰۰، ۳۱۸، سنن الدارمی/الطھارة ۱۰۷ (۱۰۸۵)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۱۰ (برقم: ۳۷۱) (صحیح)
It was narrated that 'Aishah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) and I would sleep under a single blanket when I was menstruating. If anything got on him from me, he would wash that spot and no more, and pray in it, then come back. If anything got on it again from me, he would do likewise and no more, and he would pray in it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی چادر میں رات گزارتے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ( خون ) میں سے کچھ لگ جاتا تو صرف اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ کرتے، اور اسی کپڑے میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر دوبارہ اگر آپ کو میرے ( خون ) میں سے کچھ لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے۔
It was narrated that 'Aishah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) would tell one of us, if she was menstruating, to tie her Izar (waist wrap) tightly then he would fondle her.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: ۱۷۴۲۰)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ۵ (۳۰۲)، صحیح مسلم/فیہ ۱ (۲۹۳)، سنن ابی داود/الطھارة ۱۰۷ (۲۶۸)، سنن الترمذی/الطھارة ۹۹ (۱۳۲)، الصوم ۳۲ (۷۲۸)، سنن ابن ماجہ/الطھارہ ۱۲۱ (۶۳۶)، مسند احمد ۶/۱۱۳، ۱۶۰، ۱۷۴، ۱۸۲، ۲۰۴، ۲۰۶، سنن الدارمی/الطھارة ۱۰۷ (۱۰۸۷، ۱۰۸۸)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۱۲برقم: ۳۸۳ (صحیح)
It was narrated that 'Aishah said:
If one of us was menstruating, the Messenger of Allah (ﷺ) would tell her to put on an Izar (waist wrap) then he would fondle her.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے کہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے ۱؎۔
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «يباشرها» کا لفظ آیا ہے یہاں مباشرت سے جماع مراد نہیں کہ یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ کیسے مباشرت کرتے جبکہ حائضہ سے مباشرت حرام ہے، بلکہ یہاں بوس و کنار اور لیٹنا مراد ہے۔
It was narrated that Maimunah said:
The Messenger of Allah (ﷺ) would fondle one of his wives while she was menstruating, if she wore an Izar (waist wrap) that reached halfway down to the middle of her thighs or to her knees. In the narration of Al-Laith: Being covered with it.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے اور وہ حائضہ ہوتی جب اس پر تہبند ہوتا، جو آدھی ران اور گھٹنے تک پہنچتا، لیث کی روایت میں ہے: وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة ۱۰۷ (۲۶۷)، مسند احمد ۶/۳۳۲، ۳۳۵، ۳۳۶، سنن الدارمی/الطھارة ۱۰۷ (۱۰۹۷)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۱۳ (برقم: ۳۷۶)، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۸۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض۵ (۳۰۳)، صحیح مسلم/الحیض ۱ (۲۹۴) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں بھی مباشرت سے لیٹنا ہی مراد ہے۔
It was narrated that Anas said:
When one of their womenfolk menstruated, the Jews would not eat or drink with them, nor mix with them in their houses. They asked the Prophet of Allah (ﷺ) about that, and Allah the Mighty and Sublime revealed: The ask you concerning menstruation. Say: 'That is an Adha (a harmful thing).'[2] So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to eat and drink with them (menstruating women) and to mix with them in their houses, and to do everything with them except intercourse. The Jews said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) does not leave anything against it.' Usaid bin Hudair and 'Abbad bin Bishr went and told the Messenger of Allah (ﷺ) and they said: 'Should we have intercourse with them when they are menstruating?' The expression of the Messenger of Allah (ﷺ) changed greatly until we thought that he was angry with them, and they left. Then the Messenger of Allah (ﷺ) received a gift of milk, so he sent someone to bring them back and he gave them some to drink, so they knew that he was not angry with them. [1] Al-Baqarah 2:222. [2] Al-Baqarah 2:222.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ( البقرہ: ۲۲۲ ) لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: وہ گندگی ہے نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض ۳ (۳۰۲)، سنن ابی داود/الطہارة ۱۰۳ (۲۵۸)، النکاح ۴۷ (۲۱۶۵)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (۲۹۷۷)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۱۲۵ (۶۴۴)، (تحفة الأشراف: ۳۰۸)، مسند احمد ۳/۱۳۲، ۲۴۶، سنن الدارمی/الطھارة ۱۰۷ (۱۰۹۳)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۸، باتم مما ھنا (برقم: ۳۶۹) (صحیح)
It was narrated from Ibn 'Abbas from the Prophet (ﷺ) concerning a man who has had intercourse while she was menstruating:
Let him give a Dinar or half a Dinar in charity.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے، اور وہ حائضہ ہو کہ وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة ۱۰۶ (۲۶۴)، النکاح ۴۸ (۲۱۶۸)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۱۲۳ (۶۴۰)، (تحفة الأشراف: ۶۴۹۰)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة ۱۰۳ (۱۳۷)، مسند احمد ۱/۲۲۹، ۲۳۷، ۲۷۲، ۲۸۶، ۳۱۲، ۳۲۵، ۳۶۳، ۳۶۷، سنن الدارمی/الطھارة ۱۱۲ (۱۱۴۶، ۱۱۴۷)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۹، (برقم: ۳۷۰) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا کہنا ہے کہ جب وہ بیوی سے شروع حیض میں جماع کرے تو ایک دینار صدقہ کرے، اور جب خون بند ہو جانے پر جماع کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہاں نوعیت بتانا مقصود نہیں بلکہ یہ راوی کا تردد ہے، واضح رہے کہ یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں۔
It was narrated that 'Aishah said:
We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) with no intention other than Hajj. When he was in Sarif [1] I began menstruating. The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and I was weeping. He said: 'What is the matter with you? Has your Nifas begun?' [2] I said: 'Yes.' He said: 'This is something that Allah the Mighty and Sublime has decreed for the daughter of Adam. Do what the pilgrims do, but do not perform tawaf around the House.' And the Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed a cow on behalf of his wives. [1] Sarif is a place between Al-Madinah and Makkah, near Makkah. [2] Here, it means menstruation. See the chapter clarifying that where it appears again, No. 349.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمیں صرف حج کرنا تھا، جب مقام سرف آیا تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور اس وقت میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ حائضہ ہو گئی ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ عزوجل نے آدم زادیوں کے لیے مقدر کر دیا ہے، تو وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے اس کے کہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض ۷ (۲۹۴)، الحج ۳۳ (۱۵۶۰)، و ۸۱ (۱۶۵۰)، العمرة ۹ (۱۷۸۸)، الأضاحي ۳ (۵۵۴۸)، ۱۰ (۵۵۵۹)، صحیح مسلم/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، سنن ابی داود/فیہ ۲۳ (۱۷۸۲)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۳۶ (۲۹۶۳)، مسند احمد ۶/۳۹، سنن الدارمی/المناسک ۶۲ (۱۹۴۵)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ۳۴۹، ۲۷۴۲، ۲۹۹۳، (تحفة الأشراف: ۱۷۴۸۲) (صحیح)
Ja'far bin Muhammad said:
My father told me: 'We cam to jabir bin 'Abdullah and asked him about the hajj of the prophet (ﷺ). He narrated: 'The Messenger of Allah (ﷺ) set out when there were five (days) remaining in Dhul-Qa'dah, and we set out with him. When he came to Dhul-Hulaifah, Asma' bint 'Umais gave birth to Muhammad bin Abi Bakr. She sent word to the Messenger of Allah (ﷺ) asking what she should do. He said: 'Perform Ghusl, bind yourself with a cloth then begin (the Talbiyah for Ihram).'
محمد کہتے ہیں کہ ہم لوگ جابر بن عبداللہ کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج ( حجۃ الوداع ) کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو نکلے ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیج کر دریافت کیا کہ اب میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غسل کر لو اور لنگوٹ کس لو، پھر لبیک پکارو ۔
It was narrated that 'Adi bin Dinar said:
I heard Umm Qais bint Mihsan say that she asked the Messenger of Allah (ﷺ) about menstrual blood that gets on one's clothes. He said: 'Scratch it with a stick and wash it with water and lotus leaves.'
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کا خون کپڑے میں لگ جانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو لو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة ۱۳۲ (۳۶۳)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۱۱۸ (۶۲۸)، (تحفة الأشراف: ۱۸۳۴۴)، مسند احمد ۶/۳۵۵، ۳۵۶، سنن الدارمی/الطھارة ۱۰۵ (۱۰۵۹)، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۲۶ (برقم: ۳۹۵) (صحیح)
It was narrated from Asma' bint Abi Bakr taht a woman asked the Messenger of Allah (ﷺ) about menstrual blood that gets on clothes. He said:
Scratch it, then rub it with water, then sprinkle water over it, and pray in it.
فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتی ہیں ۔ ( وہ ان کی گود میں پلی تھیں ) کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھرچ دو، پھر پانی ڈال کر انگلیوں سے رگڑو، پھر اسے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھ لو ۔
It was narrated from Mu'awiyah bin Abi Sufyan that he asked Umm Habibah, the wife of the Prophet (ﷺ):
Did the Messenger of Allah (ﷺ) pray in a garment in which he had had intercourse? She said: Yes, so long as he saw no filth on it.
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( اپنی بہن ) ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! جب آپ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔
It was narrated that 'Aishah said:
I used to wash the Janabah from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ) and he would go out to pray, with traces of water on his garment.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کا اثر دھوتی تھی ۱؎، پھر آپ نماز کے لیے نکلتے، اور پانی کے دھبے آپ کے کپڑے پر باقی ہوتے۔
أخبرنا قتيبة قال حدثنا حماد عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن الحرث بن نوفل عن عائشة قالت: كنت أفرك الجنابة وقالت مرة أخرى المني من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم .
It was narrated that 'Aishah said:
I used to scrape the Janabah. On another occasion she said: The semen from the garment of the Messenger of Allah (ﷺ).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت مل کر صاف کر دیتی ۱؎، دوسری مرتبہ کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی مل کر صاف کر دیتی تھی ۲؎۔
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ منی کو کپڑے سے دھونا واجب نہیں، خشک ہو تو اسے کھرچ دینے یا مل دینے، اور تر ہو تو کسی چیز سے صاف کر دینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے، منی پاک ہے یا ناپاک اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے، امام شافعی، داود ظاہری، اور امام احمد کی رائے میں منی پاک ہے، وہ منہ کے لعاب کی طرح ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے علی، سعد بن ابی وقاص، ابن عمر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مسلک ہے، اس کے برعکس امام مالک اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ منی ناپاک ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک منی اگر خشک ہو تو کھُرچ دینے سے پاک ہو جاتی ہے، دھونا ضروری نہیں، اس کے برعکس امام مالک کے نزدیک خشک ہو یا تر دونوں صورتوں میں دھونا ضروری ہے، منی کو پاک قرار دینے والوں کی دلیل کھرچنے والی حدیثیں ہیں، وہ کہتے ہیں کہ منی اگر نجس ہوتی تو کھرچنے کے بعد اسے دھونا ضروری ہوتا، اور جن لوگوں نے ناپاک کہا ہے ان کی دلیل وہ روایتیں ہیں جن میں دھونے کا حکم آیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ منی اگر پاک ہوتی تو اسے دھونے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن جو لوگ پاک کہتے ہیں وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ کپڑے کا دھونا نظافت کے لیے ہے نجاست کی وجہ سے نہیں۔ ۲؎: بظاہر اوپر والی روایت میں اور اس روایت میں تعارض ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ «فرک» (ملنے اور رگڑنے) والی روایتیں خشک منی پر محمول ہوں گی کیونکہ منی جب گیلی ہو تو ملنے سے صاف نہیں ہو گی، اور دھونے والی روایتیں تر منی پر۔
أخبرنا عمرو بن يزيد قال حدثنا بهز قال حدثنا شعبة قال الحكم أخبرني عن إبراهيم عن همام بن الحرث أن عائشة قالت: لقد رأيتني وما أزيد على أن أفركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم .
It was narrated from Hammam bin Al-Harith that 'Aishah said:
I remember when I could do no more than rub it form the garment of the Messenger of Allah (ﷺ).
ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتی تھی کہ اسے ( یعنی منی کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے مل دوں۔