أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ فِيَّ حَاجَةٌ ؟ .
Thabit Al-Bunani said:
I was with Anas bin Malik and a daughter of his was with him. He said: 'A woman came to the Messenger of Allah and offered herself in marriage to him. She said: O Messenger of Allah, do you want to marry me?'
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا، اور کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری ضرورت ہے؟ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح ۳۲ (۵۱۲۰) مطولا، والأدب ۷۹ (۶۱۲۳) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح ۵۷ (۲۰۰۱) (تحفة الأشراف: ۴۶۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی اگر آپ مجھے نکاح کے لیے قبول فرمائیں تو میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گی۔
3251
Sahih