أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ، فقلت أين تريد ؟ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ أَوْ أَقْتُلَهُ .
It was narrated that Al-Bara' said:
I met my maternal uncle who was carrying a flag (for an expedition) and I said: 'Where are you going?' He said: 'The Messenger of Allah is sending me to a man who has married his father's wife after he died, to strike his neck or kill him.'
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، تو ان کے پاس جھنڈا تھا۔ تو میں نے اُن سے کہا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ایسے شخص کی گردن اڑا دینے یا اسے قتل کر دینے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کی بیوی سے شادی کر لی ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحدود ۲۷ (۴۴۵۶)، سنن الترمذی/الأحکام ۲۵ (۱۳۶۲)، سنن ابن ماجہ/الحدود ۳۵ (۲۶۰۷)، (تحفة الأشراف: ۱۵۵۳۴)، مسند احمد (۴/۲۹۲، ۲۹۵، ۲۹۷)، سنن الدارمی/النکاح ۴۳ (۲۲۸۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : راوی (براء) کو شک ہو گیا ہے کہ ماموں نے «أن أضرب عنقہ» ” میں اس کی گردن مار دوں “ کہا یا «أقتلہ» ” میں اسے قتل کر دوں “ کہا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔
3333
Sahih