أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد، عَنْ أَبِيهِمَا: أَنَّ عَلِيًّا بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا لَا يَرَى بِالْمُتْعَةِ بَأْسًا، فَقَالَ: إِنَّكَ تَائِهٌ إِنَّهُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، يَوْمَ خَيْبَرَ .
It was narrated from Al-Hasan and 'Abdullah, the sons of Muhammad, from their father, that 'Ali heard that a man did not see anything wrong with Mut'ah (temporary marriage). He said:
You are confused, the Messenger of Allah forbade it, and the meat of domestic donkeys on the day of Khaibar.
علی رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کو اطلاع ملی کہ ایک شخص ۱؎ ہے جو متعہ میں کچھ حرج اور قباحت نہیں سمجھتا۔ علی رضی اللہ عنہ نے ( اس سے ) کہا تم گمراہ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن متعہ اور گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي ۳۸ (۴۲۱۶)، النکاح ۳۱ (۵۱۱۵)، الذبائح ۲۸ (۵۵۲۳)، الحیل ۴ (۶۹۶۱)، صحیح مسلم/النکاح ۳ (۱۴۰۷)، الصید والذبائح ۵ (۱۴۰۷)، سنن الترمذی/النکاح ۲۹ (۱۱۲۱)، الأطعمة ۶ (۱۷۹۴)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۴۴ (۱۹۶۱)، موطا امام مالک/النکاح ۱۸ (۴۱)، (تحفة الأشراف: ۱۰۲۶۳)، مسند احمد (۱/۷۹، ۱۴۲)، سنن الدارمی/النکاح ۱۶ (۲۰۳۳)، ویأتي عند المؤلف في الصید ۳۱ برقم: ۴۳۴۰
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ایک شخص سے مراد ابن عباس رضی الله عنہما ہیں، ممکن ہے متعہ سے متعلق ممانعت کی انہوں نے کوئی تأویل کی ہو یا اس ممانعت سے وہ باخبر نہ رہے ہوں کیونکہ ابن قدامہ نے اپنی کتاب مغنی (۷؍۵۷۲) میں لکھا ہے : بیان کیا جاتا ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔ (واللہ اعلم)
3367
Sahih