أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قال: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا، قالت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَاخْرُجْنَ
It was narrated from 'Aishah that she said to the Messenger of Allah (ﷺ):
Safiyyah bint Huyai began menstruating. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Perhaps she has detained us. Did she not circumambulate the House with you? She said: Yes. He said: Then you can leave.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید وہ ہمیں روک لے گی، کیا اس نے تم لوگوں کے ساتھ طواف ( افاضہ ) نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ( ضرور کیا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو نکلو ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض ۲۷ (۳۲۸)، صحیح مسلم/الحج ۶۷ (۱۲۱۱)، موطا امام مالک/فیہ ۷۵ (۲۲۶)، مسند احمد ۶/۳۸، ۳۹، ۸۲، ۹۹، ۱۲۲، ۱۶۴، ۱۷۵، ۱۷۷، ۱۹۳، ۲۰۲، ۲۰۷، ۲۱۳، ۲۲۳، ۲۵۳ (تحفة الأشراف ۱۷۹۴۹) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/فیہ ۵۸ (۲۰۰۳)، سنن الترمذی/فیہ ۹۹ (۹۴۳)، سنن ابن ماجہ/فیہ ۸۳ (۳۰۷۲)، (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یعنی طواف زیارت جو فرض ہے ادا ہو چکا ہے اب صرف طواف وداع رہ گیا ہے جس کے لیے حائضہ کا ٹھہرنا ضروری نہیں، اور اگر طواف افاضہ نہ کیا ہو تو حیض سے فارغ ہونے تک مکہ میں انتظار کرے، اور طواف افاضہ کر کے ہی کے گھر واپس ہو، کیونکہ طواف افاضہ رکن حج ہے، فدیہ سے پورا نہیں ہو گا، اور موجودہ وقت میں فلائٹوں کی پریشانی کی وجہ سے انتظار ممکن نہ ہو تو صاف ستھرا ہو کر لنگوٹ باندھ کر اور عطر لگا کر حالت حیض ہی میں طواف افاضہ کر لے اور ایک فدیہ (دم) دیدے۔
391
Sahih