أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُغِيرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ، قَالَ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَالْتَزَمْتُهُ، قُلْتُ: لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ .
Abdullah bin Mughaffal said:
A bag of fat was thrown on the day of Khaibar, and I caught it and said: I will not give anything of this to anyone.' I turned around and saw the Messenger of Allah there, smiling. (Sahih )
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے دن چربی کی ایک مشک لٹکی ہوئی ہاتھ آئی، میں اس سے لپٹ گیا، میں نے کہا: اس میں سے میں کسی کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے ہیں ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس ۲۰ (۳۱۵۳)، المغازي ۳۸ (۴۲۱۴)، الصید ۲۲ (۵۵۰۸)، صحیح مسلم/الجہاد ۲۵ (۱۷۷۲)، سنن ابی داود/الجھاد ۱۳۷ (۲۷۰۲)، (تحفة الأشراف: ۹۶۵۶)، مسند احمد (۴/۸۶ و۵/۵۵، ۵۶)، سنن الدارمی/السیر۵۷(۲۵۴۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس چربی کو لینے سے منع نہیں کیا، حالانکہ وہ یہودیوں کے ذبیحہ سے نکلی ہوئی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا ذبیحہ جائز ہے، (سورۃ المائدہ آیت : ۵، میں بھی اس کی صراحت ہے) مگر شرط یہ ہے کہ ذبح اسلامی طریقہ پر کیا گیا ہو، ان کا مشینی ذبیحہ جائز نہیں۔
4440
Sahih