TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 5633 - باب: کدو کی تونبی اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔ - The book of drinks - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 6 in this chapter
باب: کدو کی تونبی اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْبَذَ فِيهِمَا .
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah [SAW] forbade soaking (fruits) in Ad-Dubba' (gourds) and Al-Muzaffat.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن میں نبیذ بنانے سے روکا ہے۔
5633
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 5630 In-book reference : Book 51, Hadith 92 English translation : Vol. 6, Book 51, Hadith 5633
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 5630
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة ۶ (۱۹۹۳)، (تحفة الأشراف: ۱۵۱۵۰)، مسند احمد (۲/۲۴، ۲۷۹، ۵۰۱، ۵۱۴)

Related Chapters

139
1
باب: کدو کی تونبی سبز روغنی گھڑا اور لکڑی کے برتن میں بنی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
باب: کدو کی تونبی لاکھ کے برتن اور روغنی برتن کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
باب: کدو کی تونبی لکڑی کے برتن، روغنی برتن اور لاکھی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
باب: کدو کی تونبی کی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About It Is Disliked To Prepare Nabidh In Ad-Dubba', An-Naqir, And An-Hantam
باب: تونبی، مٹکا (سبز رنگ کے برتن) اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
6
Chapter: The prohibition of making Nabidh in Al-Muzaffat, Ad-Dubba' (Gourds), Al-Hantam and An-Naqir; This has been abrogated and now it is permitted, so long as it does not become intoxicating
روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے
Sahih Muslim
7
Chapter: What Has Been Related Permitting That Nabidh Be Prepared Ibn Containers
باب: مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
9
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
10
(7) CHAPTER. To prepare non-alcoholic drinks in bowls or Taur (a bowl made of stone, cooper or wood).
برتنوں اور پتھر کے پیالوں میں نبیذ بھگونا جائز ہے
Sahih Bukhari
11
(8) CHAPTER. The Prophet re-allowed the use of (certain kinds of) bowl and containers after he had forbidden their use.
ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگو نے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا
Sahih Bukhari
12
Chapter: Drinking Nabidh and covering vessels
نبیذ پینا اور برتنوں کوڈھک کررکھنا
Sahih Muslim
13
شراب کے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
14
مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت
Sunnan Ibn e Maja
15
مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
16
باب: تازہ اور ادھ کچی کھجور کے مخلوط مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
باب: کچی اور ادھ کچی کھجور کے مخلوط مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
باب: ادھ کچی اور تازہ کھجوروں سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: ادھ کچی اور سوکھی کھجور کے سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: سوکھی کھجور اور کشمش (سوکھے انگور) سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
باب: تازہ کھجور اور کشمش سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
باب: ادھ کچی کھجور اور کشمش سے بنے مشروب (نبیذ) کے ممنوع ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جس برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی اس کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
باب: مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: روغنی برتنوں کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
باب: سابقہ مذکور برتنوں کے استعمال کے ممنوع ہونے کے دلائل کا بیان کہ ممانعت تادیبی نہیں بلکہ حتمی تھی۔
Sunnan Nisai
27
باب: ممنوع برتنوں کی شرح و تفسیر۔
Sunnan Nisai
28
(19)Chapter: What Has Been Related That When One Of You Awakens From His Sleep, Then Let Him Not Put His Hand Into Vessel Until He Washes it.
باب: جب آدمی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اسے دھو نہ لے
Jam e Tirmazi
29
(46)Chapter: What Has Been Related About A Man And A Woman Performing Wudu From One Vessel
باب: مرد اور عورت دونوں کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Using The Containers Of The Idolaters
باب: کفار و مشرکین کے برتن استعمال کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Eating From Utensils Of The Disbelievers
باب: کفار و مشرکین کے برتنوں میں کھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Covering The Vessels, And Extinguishing The Torches And Fires Prior To Sleeping
باب: سوتے وقت برتن ڈھانپنے اور چراغ اور آگ کے بجھانے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Drink From Gold And Silver Vessels
باب: سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Breathing Into The Vessel
باب: پیتے وقت برتن میں سانس لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Breath Into The Vessel
باب: پیتے وقت برتن میں سانس لینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Shunning (The Muslim) Being Disliked
باب: مسلمان سے ترک تعلق اور اس سے بےرخی برتنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: حوض کوثر کے برتنوں کے وصف کا بیان
Jam e Tirmazi
38
بَاب أَوْقَات النَّهْي
نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا بیان
Mishkat
39
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
Mishkat
40
بَاب تَغْطِيَة الْأَوَانِي وَغَيرهَا
برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان
Mishkat
41
خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرنا، اس سے پانی کی طہوریت ختم نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
کافروں کے برتنوں کو پاک کرنے اور ان کو دھو لینے کے بعد استعمال کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
43
حیض کی وجہ سے ممنوعہ امور اور حائضہ خاتون کے عبادات کی قضائی دینے کا بیان
Musnad Ahmad
44
اس چیز کا بیان کہ استحاضہ کا خون ان امور سے نہیں روکتا، جو حیض کی وجہ سے ممنوع ہوتے ہیں
Musnad Ahmad
45
جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
Musnad Ahmad
46
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
Musnad Ahmad
47
ممنوعہ نکاحوں کا بیان نکاح متعہ کی رخصت اور پھر اس کے منسوخ ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
48
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پسندیدہ مشروب اور برتن کو ڈھانپنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

169
Sunnan Nisai
5629
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ وَحَمَّادٌ،‏‏‏‏ وَسُلَيْمَانُ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ .
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah [SAW] forbade Ad-Dubba' (gourds) and Al-Muzaffat.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔
Sahih Muslim
117
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَقَالَ: «أَنْهَاكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ» وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ
There is another hadith narrated on the authority of Ibn Abbas (the contents of which are similar to the one) narrated by Shu'ba in which the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I forbid you to prepare nabidh in a gourd, hollowed block of wood, a varnished jar or receptacle. Ibn Mu'adh made this addition on the authority of his father that the Messenger of Allah said to Ashajj, of the tribe of 'Abdul-Qais: You possess two qualities which are liked by Allah: insight and deliberateness.
قرہ بن خالد نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے شعبہ کی ( سابقہ روایت کی ) طرح حدیث بیان کی ( اس کے الفاظ ہیں : ) رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو خشک کدو کے برتن ، لکڑی سے تراشیدہ برتن ، سبز مٹکے اور تارکول ملے برتن میں تیار کی جائے ( اس میں زیادہ خمیر اٹھنے کا خدشہ ہے جس سے نبیذ شراب میں بدل جاتی ہے ۔ ) ‘ ‘ ابن معاذ نے اپنے والد کی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد القیس کے پیشانی پر زخم والے شخص ( اشج ) سے کہا : ’’تم میں دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے : عقل اور تحمل ۔ ‘ ‘
Sunnan Nisai
160
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏ح وأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَجِدَ رِيحًا أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا .
Sa'eed - meaning Ibn Al-Musayyab - and 'Abbad bin Tamim narrated that his uncle - 'Abdullah bin Zaid - said: A man who felt something during Salah complained to the Prophet (ﷺ). He said: 'Do not stop praying unless you notice a smell or hear a sound.'
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ آدمی  ( بسا اوقات )  نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب تک بو نہ پا لے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے  ۱؎۔
Sunnan Nisai
753
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ لَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَقُلْ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا .
It was narrated that Ibn Abbas said: Al-Fadl and I came riding a female donkey of ours, and the Messenger of Allah(ﷺ) was leading the people at Arafat. Then he said something to that effect. We passed by part of the row, and then we dismounted and left the donkey grazing, and the Messenger of Allah(ﷺ)did not say anything to us.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: میں اور فضل دونوں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے  ( پھر انہوں نے ایک بات کہی جس کا مفہوم تھا: )  تو ہم صف کے کچھ حصہ سے گزرے، پھر ہم اترے اور ہم نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہیں کہا ۱؎۔
Sunnan Nisai
877
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَالِمٌ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلَا حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ .
It was narrated that Ibn Umar said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) when he said the opening Takbir of the prayer, raise his hands until they were level with his shoulders. When he said the Takbir before bowing he did likewise, and when he said: 'Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him),' he did likewise, then he said: 'Rabbana wa lakal-hamd (Our Lord, to You be praise).' But he did not do that when he prostrated or when he raised his head from prostration.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں تکبیر تحریمہ شروع کرتے تو جس وقت اللہ اکبر کہتے اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل کر لیتے، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے، پھر جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ۱؎، اور «ربنا ولك الحمد» کہتے اور سجدہ میں جاتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہیں کرتے۔
Sunnan Nisai
1218
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَحْفَظُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِيسَعِيدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا .
It was narrated from Abu Hurairah that: A Bedouin entered the masjid and prayed two rak'ahs, then he said: O Allah, have mercy on me and on Muhammad and do not have mercy on anyone else. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You have limited something vast.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اس نے  ( نماز ہی میں )  کہا: «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا»  اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ۔
Sunnan Nisai
1387
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ،‏‏‏‏ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ،‏‏‏‏ فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ .
It was narrated from Abu Hurairah, who was attributing it to the Prophet (ﷺ): When Friday comes, at every gate of the masjid there are angels who write down the people's names in the order in which they come, then when the imam comes out, they roll up the scrolls and listen to the khutbah. The one who comes early to the prayer is like the one who sacrifices a camel, then the one who comes after him is like the one who sacrifices a cow, then the one who comes after him is like the one who sacrifices a ram until he mentioned a chicken and an egg.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر فرشتے لوگوں کو ان کے درجات و مراتب کے مطابق یعنی ترتیب وار لکھتے ہیں، جو پہلے آتا ہے اسے پہلے لکھتے ہیں، جب امام خطبہ دینے کے لیے نکلتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیے جاتے ہیں، اور فرشتے خطبہ سننے لگتے ہیں، جمعہ کے لیے سب سے پہلے آنے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک گائے قربان کرنے والے کی طرح ہے، پھر جو اس کے بعد آئے وہ ایک مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ہے ، یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا  ( بھی )  ذکر کیا۔
Sunnan Nisai
5651
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي الْأَزْرَقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ سِقَاءٌ نَنْبِذُ لَهُ فِي تَوْرِ بِرَامٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّقِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ .
It was narrated that Jabir said: (Fruit) would be soaked for the Messenger of Allah [SAW] in a water skin, and if he did not have a water skin, it would be made for him in a small vessel of stone. And the Messenger of Allah [SAW] forbade Ad-Dubba' (gourds), An-Naqir, and Al-Muzaffat.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکیزہ میں نبیذ تیار کی جاتی تھی، جب مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کے برتن میں تیار کی جاتی، اور آپ نے کدو کی تونبی، لکڑی کے برتن اور روغنی برتن سے روکا۔
Jam e Tirmazi
1157
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abu Hurairah narrated that The Messenger of Allah said: “The child is for the bed, and for the fornicator is the stone.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ صاحب فراش ( یعنی شوہر یا مالک ) کا ہو گا ۱؎ اور زانی کے لیے پتھر ہوں گے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عثمان، عائشہ، ابوامامہ، عمرو بن خارجہ، عبداللہ بن عمر، براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔