TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 696 - مسجد نبوی اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔ - The book of the masjids - Sunnan Nisai in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 3 in this chapter
مسجد نبوی اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ .
It was narrated that 'Abdullah bin Zaid said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The area between my house and my Minbar is one of the gardens of Paradise.'
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جو حصہ میرے گھر ۱؎ اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے  ۱؎۔
696
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 695 In-book reference : Book 8, Hadith 8 English translation : Vol. 1, Book 8, Hadith 696
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 696
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ۵ (۱۱۹۵)، صحیح مسلم/الحج ۹۲ (۱۳۹۰)، موطا امام مالک/القبلة ۵ (۱۱)، (تحفة الأشراف: ۵۳۰۰)، مسند احمد ۴/۳۹، ۴۰، ۴۱ (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: گھر سے مراد حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے جس میں آپ کی قبر شریف ہے، طبرانی کی روایت میں «ما بين المنبر وبيت عائشة» ہے، اور بزار کی روایت (کشف الاستار۲/۵۶)میں «ما بين قبري ومنبري» ہے۔ ۲؎: اس کی تاویل میں کئی اقوال وارد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اتنی جگہ اٹھ کر جنت کی ایک کیاری بن جائے گی، دوسرا قول یہ ہے جو شخص یہاں عبادت کرے گا جنت میں داخل ہو گا، اور جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری پائے گا، تیسرا قول یہ ہے کہ یہ حصہ جنت ہی سے آیا ہوا ہے، چوتھا قول یہ ہے کہ اس میں حرف تشبیہ محذوف ہے «ای کروضۃ فی نزول الرحمۃ والسعادۃ بما یحصل من ملازمۃ حلق الذکر لا سیما فی عہدہ صلی اللہ علیہ وسلم»  یعنی رحمت و سعادت کے نازل ہونے میں روضہ کی طرح ہے، ذکر کے حلقات کی پابندی سے ۔

Related Chapters

2,145
1
Chapter: The virtue of praying in the Masajid of Makkah and Al-Madinah
مکہ اور مدینہ کی دونوں مسجدوں(مسجد حرام اور مسجد نبوی )میں نماز پڑھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
2
مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
3
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
6
نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
7
جب فتنوں کا اندیشہ ہو تو عورتوں کو مسجد میں نہ جانے دینے کا بیان اورگھروں میں ان کی نماز کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
8
مسجد ِ اقصی میں نماز کی ادائیگی کی نذر ماننے کو یہ عمل کافی ہو گا کہ وہ مسجد ِ حرام یا مسجد ِ نبوی میں نماز پڑھ لے
Musnad Ahmad
9
باب ہشتم: مسجد نبوی کی فضیلت کا بیان اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: فضیلت مسجد نبوی
Musnad Ahmad
10
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
Musnad Ahmad
11
(36) CHAPTER. (The reward of a person) who waits for As-Salat (the prayer) in the mosque and the superiority of mosques.
جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت
Sahih Bukhari
12
Chapter: The virtue of the Masjid of Quba', and the virtue of praying therein and visiting it
مسجد قباء اس میں نماز پڑھنے اور اس کی زیارت کرنے کی فضیلت
Sahih Muslim
13
CHAPTER: What Has Been Narrated Regarding The Rewards Of Walking To The Prayer.
باب: نماز کے لیے مسجد چل کر جانے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: What Has Been Narrated About (The Blessings Of) Walking To The Masjid In Darkness.
باب: اندھیرے میں نماز کے لیے مسجد جانے کی فضیلت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
Chapter: Staying In The Mosques And Awaiting The Prayer
مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
16
مسجد قباء میں نماز کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
17
جامع مسجد میں نماز کی فضیلت
Sunnan Ibn e Maja
18
مسجد الاقصیٰ (بیت المقدس) اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: مسجد الحرام میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Salat For The Deceased In The Masjid
باب: مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About The Scaredness Of Salat
باب: نماز کے تقدس و فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
Mishkat
34
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
Musnad Ahmad
35
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
36
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
Musnad Ahmad
37
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
38
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
39
نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
40
فجر اور عشا کی نمازوں کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
41
نمازِ فجر سے طلوع آفتاب تک (جائے نماز پر) بیٹھے رہنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
42
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
43
نمازی کا نماز کے بعد نماز والی جگہ میں ہی بیٹھنے رہنا، اس کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
44
نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے
Musnad Ahmad
45
نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
46
رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
Musnad Ahmad
47
یہ باب نماز تروایح کی فضیلت کے بارے میں ہے اور اس بارے میں کہ نماز تراویح سنت ہے واجب نہیں ہے
Musnad Ahmad
48
نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
49
عورتوں کے مسجد کے لیے نکلنے اور اس میں نماز پڑھنے کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
50
دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,233
Sahih Muslim
3368
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ»
AbduUah b. Zaid al-Mazini (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: That which is between my house and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise.
عبد اللہ بن ابوبکر نے عباد بن تمیم سے انھوں نے عبد اللہ بن زید ( بن عاصم ) مازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو ( جگہ ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے ، وہ جنت کے باغوں میں ایک سے باغ ہے ۔
Sunnan Nisai
1512
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ .
It was narrated from Abdullah bin Abi Bakr that: He heard Abbad bin Tamim said: The Messenger of Allah (ﷺ) went out and prayed for rain, and he turned his rida' around when he turned to the Qiblah.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ( جائے نماز کی طرف )  نکلے، تو آپ نے استسقاء کی نماز پڑھی، اور جس وقت آپ قبلہ رخ ہوئے اپنی چادر پلٹی۔
Jam e Tirmazi
1893
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَشَرِبَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) was brought some milk which was mixed with some water. On his right was a Bedouin and on his left was Abu Bakr. So he drank, then he gave it to the Bedouin and said: 'The right, then the right.' He said: There are narrations on this topic from Ibn 'Abbas, Sahl bin Sa'd, Ibn 'Umar, and 'Abdullah bin Busr. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، آپ کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں ابوبکر رضی الله عنہ، آپ نے دودھ پیا، پھر ( بچا ہوا دودھ ) اعرابی کو دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا زیادہ مستحق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، سہل بن سعد، ابن عمر اور عبداللہ بن بسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2607
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ كَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَكْرٍ:‏‏‏‏ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الزَّكَاةِ وَالصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَن الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرَوَى عِمْرَانُ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثٌ خَطَأٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ خُولِفَ عِمْرَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ مَعْمَرٍ.
Narrated Abu Hurairah: said: When the Messenger of Allah (ﷺ) died and Abu Bakr became the Khalifah after him, whoever disbelieved from the Arabs disbelieved, so Umar bin Al-Khattab said to Abu Bakr: 'How will you fight the people while the Messenger of Allah has said: 'I have been ordered to fight the people until they say La Ilaha Illallah, and if they say that, then their blood and wealth will be protected from me, except what it makes obligatory upon them, and their reckoning is with Allah?' So Abu Bakr said: 'By Allah I will fight whoever differentiates between Salat and Zakat. For indeed, Zakat is the right due upon wealth. And by Allah! If they withhold even (camel) tethers which they used to give to the Messenger of Allah (ﷺ) I will fight them for withholding it.' So Umar bin Al-Khattab said: 'By Allah! I saw that Allah had opened Abu Bakr's chest to fighting, so I knew that it was correct.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی الله عنہ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے جنگ ( جہاد ) کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لا إلہ الا اللہ»،‏‏‏‏ تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ۱؎، اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے“، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو ہر اس شخص کے خلاف جہاد کروں گا جو صلاۃ و زکاۃ میں فرق کرے گا، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی! اگر انہوں نے ایک رسی بھی دینے سے انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( زکاۃ میں ) دیا کرتے تھے تو میں ان کے اس انکار پر بھی ان سے جنگ ( جہاد ) کروں گا۔ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے دیکھا: اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی الله عنہ کے سینے کو جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور میں نے جان لیا کہ یہی حق اور درست ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے اور عبداللہ نے ابوہریرہ رضی الله عنہم سے روایت کی ہے، ۳- عمران بن قطان نے یہ حدیث معمر سے، معمر نے زہری سے، زہری نے انس بن مالک سے، اور انس بن مالک نے ابوبکر سے روایت کی ہے، لیکن اس حدیث ( کی سند ) میں غلطی ہے۔ ( اور وہ یہ ہے کہ ) معمر کے واسطہ سے عمران کی روایت کی مخالفت کی گئی ہے۔
Jam e Tirmazi
2638
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَهْلًا لِمَ تَبْكِي ؟ فَوَاللَّهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَطَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ كَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالصُّنَابِحِيُّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَبْلَ نُزُولِ الْفَرَائِضِ وَالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ سَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَإِنْ عُذِّبُوا بِالنَّارِ بِذُنُوبِهِمْ فَإِنَّهُمْ لَا يُخَلَّدُونَ فِي النَّارِ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ،‏‏‏‏ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ سورة الحجر آية 2 قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا أُخْرِجَ أَهْلُ التَّوْحِيدِ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُدْخِلُوا الْجَنَّةَ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ.
Narrated As-Sunabihi: from Ubadah bin As-Samit, he said: I entered upon him while he was dying, so I cried, and he said: There now, why are you crying? For by Allah, if I am a martyr , then I will intercede for you, and if I can I will benefit you,' then he said: 'By Allah! There is no Hadith which I heard from the Messenger of Allah (ﷺ) which is good for you but I narrate it to you today, while I am near death. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Whoever testifies to La Ilaha Illallah and that Muhammad is the Messenger of Allah, then Allah has forbidden the fire for him.
صنابحی سے روایت ہے کہ میں عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کے پاس اس وقت گیا جب وہ موت کی حالت میں تھے، میں ( انہیں دیکھ کر ) رو پڑا، انہوں نے کہا: ٹھہرو ٹھہرو، روتے کیوں ہو؟ قسم اللہ کی! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں ( آخرت میں ) تمہارے ایمان کی گواہی دوں گا، اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا تو میں تمہاری سفارش ضرور کروں گا اور اگر مجھے کچھ استطاعت نصیب ہوئی تو میں تمہیں ضرور فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو مگر میں نے اسے تم لوگوں سے بیان نہ کر دیا ہو، سوائے ایک حدیث کے اور آج میں اسے بھی تم لوگوں سے بیان کیے دے رہا ہوں جب کہ میری موت قریب آ چکی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو گواہی دے کہ کوئی معبود ( برحق ) نہیں سوائے اللہ کے اور گواہی دے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر آگ کو حرام کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ آدمی ہیں اور حدیث میں مامون ( قابل اعتماد ) ہیں، ۳- صنابحی سے مراد عبدالرحمٰن بن عسیلہ ابوعبداللہ ہیں ( ابوعبداللہ کنیت ہے ) ، ۴- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، جابر، ابن عمر، اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- زہری سے مروی ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «من قال لا إله إلا الله دخل الجنة» ”جس نے «لا إله إلا الله» کہا وہ جنت میں داخل ہو گا“ کے متعلق پوچھا گیا ( کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا: یہ شروع اسلام کی بات ہے جب کہ فرائض اور امر و نہی کے احکام نہیں آئے تھے، ۶- بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ اہل توحید ( ہر حال میں ) جنت میں جائیں گے اگرچہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ کی سزا سے بھی کیوں نہ دوچار ہونا پڑے، کیونکہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے ۱؎، ۷- عبداللہ بن مسعود، ابوذر، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، انس بن مالک رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایسا ہو گا کہ توحید کے قائلین کی ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہو گی“ ۲؎، ایسا ہی سعید بن جبیر ابراہیم نخعی اور دوسرے بہت سے تابعین سے مروی ہے، یہ لوگ آیت «ربما يود الذين كفروا لو كانوا مسلمين» ”وہ بھی وقت ہو گا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے“ ( الحجر: ۲ ) ، کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ جب اہل توحید جہنم سے نکالے اور جنت میں داخل کئے جائیں گے تو کافر لوگ آرزو کریں گے اے کاش! وہ بھی مسلمان ہوتے۔
Sunnan Nisai
311
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قالت:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ ذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، ‏‏‏‏‏‏ فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ أَلَا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَمَا مَنَعَنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَةَ التَّيَمُّمِ . فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ:‏‏‏‏ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ.
It was narrated that 'Aishah said: We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on one of his journeys, and when we were in Al-Baida' or Dhat Al-Jaish, a necklace of mine broke and fell. The Messenger of Allah (ﷺ) stayed there looking for it and the people stayed with him. There was no water near them, and they did not have water with them. The people came to Abu Bakr, may Allah be pleased with him, and said: 'Do you see what 'Aishah has done? She has made the Messenger of Allah (ﷺ) and the people stop and they are not near any water and they do not have water with them.' Abu Bakr, may Allah be pleased with him, came while the Messenger of Allah (ﷺ) was resting his head on my thigh and had gone to sleep. He said: 'You have detained the Messenger of Allah (ﷺ) and the people, and they are not near any water and they do not have any water with them.' 'Aishah said: Abu Bakr rebuked me and said whatever Allah willed he would say. He started poking me on my hip, and the only thing that prevented me from moving was the fact that the Messenger of Allah (ﷺ) was resting on my thigh. The Messenger of Allah (ﷺ) slept until morning when he woke up without any water. Then Allah, the Mighty and Sublime revealed the verse of Tayammum. Usaid bin Hudair said: 'This is not the first time we have been blessed because of you, O family of Abu Bakr!' She said: Then we made the camel that I had been riding stand up, and we found the necklace beneath it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے، تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے، آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، نہ وہاں پانی تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا، تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے کہنے لگے کہ عائشہ نے جو کیا ہے کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس ہی پانی ہے، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے، تو وہ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے، نہ ہی ان کے پاس پانی ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری سرزنش کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کہلوانا چاہا انہوں نے کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، میں صرف اس وجہ سے نہیں ہلی کہ میری ران پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہو گئی، پھر اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے آل ابوبکر! یہ آپ کی پہلی ہی برکت نہیں، پھر ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا، تو ہمیں ہار اسی کے نیچے ملا۔
Sunnan Nisai
722
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى .
It was narrated from 'Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that he saw the messenger of Allah (ﷺ) lying on his back in the Masjid, placing one leg on top of the other.
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنے ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے دیکھا ۱؎۔
Sunnan Nisai
1511
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اسْتَسْقَى وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ .
It was narrated from 'Abbad bin Tamim, from his paternal uncle that: The Prophet (ﷺ) prayed for rain, and prayed two rak'ahs, and turned his rida' around.
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے لیے نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، اور اپنی چادر پلٹی۔
Sunnan Nisai
1939
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ،‏‏‏‏ فَيَرْجِعُ اثْنَانِ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى وَاحِدٌ عَمَلُهُ .
It was narrated that 'Abdullah bin Abi Bakr said: I heard Anas bin Malik say: The Messenger of Allah said: 'The dead person is followed by three: His family, his wealth and his deeds. Then two of them come back: His family and his wealth, and there remain only his deeds. '
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردے ( کے ساتھ ) تین چیزیں ( قبرستان تک ) جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال، اور اس کا عمل، ( پھر ) دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال لوٹ آتے ہیں، اور ایک باقی رہ جاتا ہے اور وہ اس کا عمل ہے“۔