It was narrated from 'Amr bin 'Abasah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
Whoever builds a Masjid in which Allah is remembered, Allah, (the Mighty and Sublime) will build for him a house in Paradise.
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی مسجد بنائی جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
It was narrated that Ibrahim said:
I used to recite Qur'an to my father on the road, and if I recited a verse in which prostration was required, he would prostrate. I said: 'O my father, do you prostrate on the street?' He said: 'I heard Abu Dharr say: I asked the Messenger of Allah (ﷺ): 'Which Masjid was built first?' He said: 'Al-Masjid Al-Haram.' [1] I said: 'Then which?' He said: 'Al-Masjid Al-Aqsa.' [2] I said: 'How long was there between them?' He said: 'Forty years. And the earth is a Masjid (or a place of prostration) for you, so wherever you are when the time for prayer comes, pray.' [1] In Makkah. [2] Furthest Masjid , meaning the Masjid in Jerulsalem.
ابراہیم تیمی کہتے ہیں کہ گلی میں راستہ چلتے ہوئے میں اپنے والد ( یزید بن شریک ) کو قرآن سنا رہا تھا، جب میں نے آیت سجدہ پڑھی تو انہوں نے سجدہ کیا، میں نے کہا: ابا محترم! کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں؟ کہا: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الاقصیٰ ۱؎ میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا، اور پوری روئے زمین تمہارے لیے سجدہ گاہ ہے، تو تم جہاں کہیں نماز کا وقت پا جاؤ نماز پڑھ لو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ۱۰ (۳۳۶۶)،۴۰ (۳۴۲۵)، صحیح مسلم/المساجد ۱ (۵۲۰)، سنن ابن ماجہ/المساجد ۷ (۷۵۳)، (تحفة الأشراف: ۱۱۹۹۴)، مسند احمد ۵/۱۵۰، ۱۵۶، ۱۵۷، ۱۶۰، ۱۶۶، ۱۶۷ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یہاں ابراہیم علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کا مسجد بنانا مراد نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ کا فاصلہ ہے، بلکہ مراد آدم علیہ السلام کا بنانا ہے، ابن ہشام کی کتاب التیبحان میں ہے کہ آدم علیہ السلام جب کعبہ بنا چکے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس جانے اور ہاں ایک مسجد بنانے کا حکم دیا، چنانچہ وہ گئے اور جا کر وہاں بھی انہوں نے ایک مسجد بنائی،(کذا فی زہرالربی)، حافظ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ ۱؍۱۶۲) میں لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کا کہنا ہے کہ مسجد الاقصیٰ کی تعمیر پہلے یعقوب علیہ السلام نے کی ہے، اگر یہ قول صحیح ہے تو ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہما السلام کے خانہ کعبہ کی تعمیر اور یعقوب علیہ السلام کے مسجد الاقصیٰ کی تعمیر میں چالیس سال کا فاصلہ ہو سکتا ہے۔ تاریخ انسانی میں ایسا دوسری بار ہوا تھا۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that Maimunah the wife of the Prophet (ﷺ) said:
Whoever prays in the Masjid of the Messenger of Allah (ﷺ) (that is good), for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ' One prayer offered there is better than a thousand prayers offered elsewhere, except the Masjid of the Ka'bah.'
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھی تو میں نے اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ: اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے، سوائے خانہ کعبہ کے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ۹۴ (۱۳۹۶) (وعندہ ’’عن ابن عباس عن میمونة، وھو الصواب کما في التحفة، (تحفة الأشراف: ۱۸۰۵۷)، مسند احمد ۶/۳۳۳، ویأتی عند المؤلف في المناسک ۱۲۴ (برقم: ۲۹۰۱) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: خانہ کعبہ کی ایک رکعت مسجد نبوی کی سو رکعت کے برابر ہے، ابن عمر رضی اللہ عنہم کی حدیث میں ہے «صلاۃ فی مسجدي ہذا أفضل من ألف صلاۃ في غیرہ إلا المسجدالحرام فإنہ أفضل منہ بمائۃ صلاۃ» میری مسجد (مسجد نبوی) میں نماز دوسری مسجدوں سے ہزار گنا افضل (بہتر) ہے، ہاں، مسجد الحرام میں نماز اس (مسجد نبوی) سے سو گنا افضل (بہتر) ہے ۔
It was narrated from Salim that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) entered the House (the Ka'bah), with Usamah bin Zaid, Bilal and 'Uthman bin Talhah, and they locked the door behind them. When the Messenger of Allah (ﷺ) opened it, I was the first one to enter. I met Bilal and asked him: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) pray inside?' He said: 'Yes, he prayed between the two Yemeni columns.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
When Sulaiman bin Dawud finished building Bait Al-Maqdis, he asked Allah for three things: Judgement that was in harmony with His judgement, and he was given that. And he asked Allah for a dominion that no one after him would have, and he was given that. And when he finished building the Masjid he asked Allah, the Mighty and Sublime, that no one should come to it, intending only to pray there, but he would emerge free of sin as the day his mother bore him.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داود علیہما السلام نے جب بیت المقدس کی تعمیر فرمائی تو اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، اللہ عزوجل سے مانگا کہ وہ لوگوں کے مقدمات کے ایسے فیصلے کریں جو اس کے فیصلے کے موافق ہوں، تو انہیں یہ چیز دے دی گئی، نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی سلطنت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ ملی ہو، تو انہیں یہ بھی دے دی گئی، اور جس وقت وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز کے لیے آئے تو اسے اس کے گناہوں سے ایسا پاک کر دے جیسے کہ وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة ۱۹۶ (۱۴۰۸)، (تحفة الأشراف: ۸۸۴۴)، مسند احمد ۲/۱۷۶ (صحیح)
It was narrated from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman and Abu 'Abdullah Al-Agharr, the freed slave of the Juhanis - better of whom were companions of Abu Hurairah - that they heard Abu Hurairah say:
One prayer in the Masjid of the Messenger of Allah (ﷺ) is better than one thousand prayers offered in other mosques, except Al-Masjid Al-Haram, for the Messenger of Allah (ﷺ) was the last of the prophets and his Masjid was the last of the Masjids. Abu Salamah and Abu 'Abdullah said: We do not doubt that Abu Hurairah was speaking on the basis of the Hadith of the Messenger of Allah (ﷺ), but we could not verify that Hadith with Abu Hurairah before he died. Then we remembered that and we blamed one another for not having spoken to Abu Hurairah about that, so that he could attribute it to the Messenger of Allah (ﷺ) if he had indeed heard it from him. While we were arguing, we went and sat down with 'Abdullah bin Ibrahim bin Qariz, and we told him about the Hadith and how we had been negligent in not checking it with Abu Hurairah. 'Abdullah bin Ibrahim said to us: 'I bear witness that I heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: I am the last of the prophets and it is the last of the Masjids.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا افضل ہے سوائے خانہ کعبہ کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ۱؎ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ کہتے ہیں: ہمیں شک نہیں کہ ابوہریرہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی بیان کرتے تھے، اسی وجہ سے ہم نے ان سے یہ وضاحت طلب نہیں کی کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے یا خود ان کا قول ہے، یہاں تک کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو ہم نے اس کا ذکر کیا تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم نے اس سلسلے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کیوں نہیں گفتگو کر لی کہ اگر انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو اسے آپ کی طرف منسوب کریں، ہم اسی تردد میں تھے کہ ہم نے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کی مجالست اختیار کی، تو ہم نے اس حدیث کا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث پوچھنے میں جو ہم نے کوتاہی کی تھی دونوں کا ذکر کیا، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہم سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: بلاشبہ میں آخری نبی ہوں، اور یہ ( مسجد نبوی ) آخری مسجد ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: من طریق عبداللہ بن إبراہیم بن قارظ عن أبي ہریرة أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ۹۴ (۱۳۹۴)، (تحفة الأشراف: ۱۳۵۵۱)، مسند احمد ۲/۲۵۱، ۲۷۳، ومن طریق أبي عبداللہ (سلمان الأغر) عن أبي ہریرة قد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ۱ (۱۱۹۰)، صحیح مسلم/الحج ۹۴ (۱۳۹۴)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۲۶ (۳۲۵)، سنن ابن ماجہ/إقامة ۱۹۵ (۱۴۰۴)، موطا امام مالک/القبلة ۵ (۹)، مسند احمد ۲/۲۵۶، ۳۸۶، ۴۶۶، ۴۷۳، ۴۸۵، سنن الدارمی/الصلاة ۱۳۱ (۱۴۵۸)، (تحفة الأشراف: ۱۳۴۶۴)، وحدیث أبي سلمة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ۱۴۹۶۰) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یعنی ان تینوں مساجد میں جن کی فضیلت کی گواہی دی گئی ہے مسجد نبوی آخری مسجد ہے، یا انبیاء کی مساجد میں سے آخری مسجد ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
It was narrated that 'Abdullah bin Zaid said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The area between my house and my Minbar is one of the gardens of Paradise.'
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حصہ میرے گھر ۱؎ اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ۵ (۱۱۹۵)، صحیح مسلم/الحج ۹۲ (۱۳۹۰)، موطا امام مالک/القبلة ۵ (۱۱)، (تحفة الأشراف: ۵۳۰۰)، مسند احمد ۴/۳۹، ۴۰، ۴۱ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: گھر سے مراد حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے جس میں آپ کی قبر شریف ہے، طبرانی کی روایت میں «ما بين المنبر وبيت عائشة» ہے، اور بزار کی روایت (کشف الاستار۲/۵۶)میں «ما بين قبري ومنبري» ہے۔ ۲؎: اس کی تاویل میں کئی اقوال وارد ہیں ایک قول یہ ہے کہ اتنی جگہ اٹھ کر جنت کی ایک کیاری بن جائے گی، دوسرا قول یہ ہے جو شخص یہاں عبادت کرے گا جنت میں داخل ہو گا، اور جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری پائے گا، تیسرا قول یہ ہے کہ یہ حصہ جنت ہی سے آیا ہوا ہے، چوتھا قول یہ ہے کہ اس میں حرف تشبیہ محذوف ہے «ای کروضۃ فی نزول الرحمۃ والسعادۃ بما یحصل من ملازمۃ حلق الذکر لا سیما فی عہدہ صلی اللہ علیہ وسلم» یعنی رحمت و سعادت کے نازل ہونے میں روضہ کی طرح ہے، ذکر کے حلقات کی پابندی سے ۔
It was narrated from Ibn Abi Sa'eed Al-Khudri that his father said:
Two men argued about the Masjid which was founded on piety from the first day. [1] One man said that it was the Masjid of Quba', and the other said that it was the Masjid of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'It is this Masjid of mine.' [1] At-Tawbah 9:108.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی اس بارے میں لڑ پڑے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو ایک شخص نے کہا: یہ مسجد قباء ہے، اور دوسرے نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری یہ مسجد ہے ( یعنی مسجد نبوی ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ۹۶ (۱۳۹۸)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة ۱۰ (۳۰۹۹)، (تحفة الأشراف: ۴۱۱۸)، مسند احمد ۳/۸، ۸۹ (صحیح)
It was narrated that Ibn 'Umar said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to come to Quba' riding and walking. [1] Quba' is about three miles to the south of the Prophet's Masjid. This area is named after in that district.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء ( کبھی ) سوار ہو کر اور ( کبھی ) پیدل جاتے تھے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ۹۷ (۱۳۹۹)، موطا امام مالک/السفر ۲۳ (۷۱)، (تحفة الأشراف: ۷۲۳۹)، مسند احمد ۲/۵، ۳۰، ۵۷، ۵۸، ۶۵ (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: صحیحین کی روایت میں ہے کہ آپ ہر ہفتہ مسجد قباء آتے اور وہاں دو رکعتیں پڑھتے۔
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said:
My father said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever goes out to his Masjid - the Masjid of Quba' and prays therein, that will be equivalent to 'Umrah.'
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( اپنے گھر سے ) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة ۱۹۷ (۱۴۱۲)، (تحفة الأشراف: ۴۶۵۷)، مسند احمد ۳/۴۸۷ (صحیح)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
Mounts are not saddled for except to (travel to) three Masjids: Al-Masjid Al-Haram, this Masjid of mine, and Al-Masjid Al-Aqsa.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ثواب کی نیت سے ) صرف تین مسجدوں کے لیے سفر کیا جائے: ایک مسجد الحرام، دوسری میری یہ مسجد ( مسجد نبوی ) ، اور تیسری مسجد اقصی ( بیت المقدس ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مسجد مکة ۱ (۱۱۸۹)، صحیح مسلم/الحج ۹۵ (۱۳۹۷)، سنن ابی داود/الحج ۹۸ (۲۰۳۳)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: ۱۳۱۳۰)، مسند احمد ۲/۲۳۴، ۲۳۸، ۲۷۸، ۵۰۱، سنن الدارمی/الصلاة ۱۳۲ (صحیح)
It was narrated that Talq bin 'Ali said:
We went out as a delegation to the Prophet (ﷺ); we gave him our oath of allegiance and prayed with him. We told him that in our land there was a church that belonged to us. We asked him to give us the leftovers of his purification (Wudu' water). So he called for water, performed Wudu' and rinsed out his mouth, then he poured it into a vessel and said to us: 'Leave, and when you return to your land, demolish your church, and sprinkle this water on that place, and take it as a Masjid.' We said: 'Our land is far away and it is very hot; the water is far away and it is very hot; the water will dry up.' He said: 'Add more water to it, for that will only make it better.' So we left and when we came to our land we demolished our church, then we sprinkled the water on that place and took it as a Masjid, and we called the Adhan in it. The monk was a man from Tayy', and when he heard the Adhan, he said: 'It is a true call.' Then he headed toward one of the hills and we never saw him again.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وفد کی شکل میں نکلے، ہم نے آ کر آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور آپ کو بتایا کہ ہماری سر زمین میں ہمارا ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کی درخواست کی، تو آپ نے پانی منگوایا وضو کیا، اور کلی کی پھر اسے ایک برتن میں انڈیل دیا، اور ہمیں ( جانے ) کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جاؤ اور جب تم لوگ اپنے علاقے میں پہنچنا تو گرجا ( کلیسا ) کو توڑ ڈالنا، اور اس جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اسے مسجد بنا لینا ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا ملک دور ہے، اور گرمی سخت ہے، پانی سوکھ جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں اور پانی ملا لیا کرنا کیونکہ تم جس قدر ملاؤ گے اس کی خوشبو بڑھتی جائے گی ؛ چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ اپنے ملک میں آ گئے، تو ہم نے گرجا کو توڑ ڈالا، پھر ہم نے اس جگہ پر یہ پانی چھڑکا اور اسے مسجد بنا لیا، پھر ہم نے اس میں اذان دی، اس گرجا کا راہب قبیلہ طے کا ایک آدمی تھا، جب اس نے اذان سنی تو کہا: یہ حق کی پکار ہے، پھر اس نے ہمارے ٹیلوں میں ایک ٹیلے کی طرف چلا گیا، اس کے بعد ہم نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Al-Madinah, he alighted in the upper part of Al-Madinah among the tribe called Banu 'Amr bin 'Awf and he stayed with them for fourteen nights. Then he sent for the chiefs of Banu An-Najjar, and they came with their swords by their sides. It is as if I can see the Messenger of Allah (ﷺ) on his she-camel with Abu Bakr riding behind him (on the same camel) and the chiefs of Banu An-Najjar around him, until he dismounted in the courtyard of Abu Ayyub. The Prophet (ﷺ) used to offer the prayer wherever he was when the time for prayer came, and he would pray even in sheepfolds. Then he ordered that the Masjid be built. He sent for the chiefs of Banu An-Najjar, and when they came, he said: 'O Banu An-Najjar, name me a price for this grove of yours.' They said: 'By Allah, we will not ask for its price except from Allah.' Anas said: In (that grove) there were graves of idolators, ruins and date-palm trees. The Messenger of Allah (ﷺ) ordered that the graves of the idolators be dug up, the ruins be leveled and the date-palm trees be cut down. The trunks of the trees were arranged so as to form the walls facing the Qiblah. The stone pillars were built at the sides of its gate. They started to move the stones, reciting some lines of verse, and the Messenger of Allah (ﷺ) was with them when they were saying: 'O Allah! There is no good except the good of the Hereafter. So bestow victory on the Ansar and the Muhajirin.'
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو اس کے ایک کنارے بنی عمرو بن عوف نامی ایک قبیلہ میں اترے، آپ نے ان میں چودہ دن تک قیام کیا، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلا بھیجا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، آپ ان کے ساتھ چلے گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر ہیں، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنی نجار کے لوگ آپ کے اردگرد ہیں، یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے، جہاں نماز کا وقت ہوتا وہاں آپ نماز پڑھ لیتے، یہاں تک کہ آپ بکریوں کے باڑوں میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نجار کے لوگوں کو بلوایا، وہ آئے تو آپ نے فرمایا: بنو نجار! تم مجھ سے اپنی اس زمین کی قیمت لے لو ، ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم ہم اس کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کرتے ہیں، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس میں مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجور کے درخت تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو مشرکین کی قبریں کھود ڈالی گئیں، کھجور کے درخت کاٹ دیئے گئے، اور کھنڈرات ہموار کر دیئے گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھجور کے درختوں کو مسجد کے قبلہ کی جانب لائن میں رکھ دیا، اور چوکھٹ کے دونوں پٹ پتھر کے بنائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پتھر ڈھوتے، اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ تھے، وہ لوگ کہہ رہے تھے: اے اللہ! بھلائی صرف آخرت کی بھلائی ہے، انصار و مہاجرین کی تو مدد فرما۔
Ubaidullah bin 'Abdullah reported that 'Aishah and Ibn 'Abbas said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) was on his deathbed, he had a Khamisah over his face. When his temperature rose, he would uncover his face. When his temperature rose, he would uncover his face. While he was like that he said: 'May Allah curse the Jews and Christians, for they took the graves of their Prophets as places of worship.'
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آیا تو آپ اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈالتے، اور جب دم گھٹنے لگتا تو چادر اپنے چہرہ سے ہٹا دیتے، اور اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۵۵ (۴۳۵)، أحادیث الأنبیاء ۵۰ (۳۴۵۳)، المغازي ۸۳ (۴۴۴۲، ۴۴۴۳)، اللباس ۱۹ (۵۸۱۶)، والحدیث عند صحیح البخاری/الجنائز ۶۱ (۱۳۳۰)،۹۵ (۱۳۹۰)، صحیح مسلم/المساجد ۳ (۵۳۱)، مسند احمد ۱/۲۱۸ و ۶/۳۴، ۲۲۸، ۲۷۵)، (تحفة الأشراف: ۵۸۴۲، ۱۶۳۱۰)، ویأتی عند المؤلف سنن الدارمی/الصلاة ۱۲۰ (۱۴۴۳) (صحیح)
It was narrated from 'Aishah that Umm Habibah and Umm Salamah mentioned a church that they had seen in Ethiopia, in which there were images. The Messenger of Allah (ﷺ) said:
Those people, if there was a righteous man among them, when he died they built a place of worship over his grave and made those images. They will be the most evil of creation before Allah on the Day of Resurrection.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم دونوں نے ایک کنیسہ ( گرجا گھر ) کا ذکر کیا جسے ان دونوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصویریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان میں کا کوئی صالح آدمی مرتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے، اور اس کی مورتیاں بنا کر رکھ لیتے، یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
When a man goes out of his house to his Masjid, one foot records a good deed and the other erases a bad deed.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت بندہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف نکلتا ہے تو ایک قدم پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور دوسرے قدم پر ایک برائی مٹا دی جاتی ہے ۔
It was narrated from Salim that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When the wife of any one of you asks for permission to go to the Masjid, do not stop her.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت چاہے تو وہ اسے نہ روکے ۔
It was narrated that Jabir said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever eats of this plant' - the first time he said 'garlic' then he said, 'garlic, onions and leeks' [1] - 'let him not approach us in our Masjids, for the angels are offended by that which offends mankinds.' [1] In Fath, Al-Bari, Ibn Hajar is of the opinion that it was Ibn Juraij who was talking, explaining that 'Ata' - who reported it from Jabir - narrated it both ways.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اس درخت میں سے کھائے، پہلے دن آپ نے فرمایا لہسن میں سے، پھر فرمایا: لہسن، پیاز اور گندنا میں سے، تو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے، کیونکہ فرشتے بھی ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جن سے انسان اذیت و تکلیف محسوس کرتا ہے ۔