أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى .
It was narrated from 'Abbad bin Tamim, from his paternal uncle, that he saw the messenger of Allah (ﷺ) lying on his back in the Masjid, placing one leg on top of the other.
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اپنے ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھ کر چت لیٹے ہوئے دیکھا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة ۸۵ (۴۷۵)، اللباس ۱۰۳ (۵۹۶۹)، الاستئذان ۴۴ (۶۲۸۷)، صحیح مسلم/اللباس ۲۲ (۲۱۰۰)، سنن ابی داود/الأدب ۳۶ (۴۸۶۶)، سنن الترمذی/الأدب ۱۹ (۲۷۶۵)، موطا امام مالک/السفر ۲۴ (۸۷)، (تحفة الأشراف: ۵۲۹۸)، مسند احمد ۴/۳۸، ۳۹، ۴۰، سنن الدارمی/الاستئذان ۲۷ (۲۶۹۸) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: زمیں پر پیٹھ رکھ کر گُدّی کے بل لیٹنے کو «استلقاء» کہتے ہیں، اس روایت سے «استلقاء» کا جواز ثابت ہوتا ہے، ایک روایت میں اس کی ممانعت آئی ہے، دونوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جواز والی روایت دونوں پیر پھیلا کر اس طرح سونے پر محمول ہو گی کہ شرمگاہ کے کھلنے کا اندیشہ نہ ہو، اور نہی (ممانعت) والی روایت کو انہیں کھڑا کر کے سونے پر محمول ہو گی جس میں شرمگاہ کے کھل جانے کا خدشہ رہتا ہے۔
722
Sahih