The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلْمَشْیُ: (ض) کے معنی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف قصد اور ارادہ کے ساتھ منتقل ہونے کے ہیں۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (کُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَہُمۡ مَّشَوۡا فِیۡہِ ) (۲۔۲۰) جب بجلی چمکتی اور ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں۔ (فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّمۡشِیۡ عَلٰی بَطۡنِہٖ الایۃ) (۲۴۔۴۵) ان میں سے بعض ایسے جو پیٹ کے بل چلتے ہیں۔ (یَمۡشُوۡنَ عَلَی الۡاَرۡضِ ہَوۡنًا) (۲۵۔۶۳) جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں۔ (فَامۡشُوۡا فِیۡ مَنَاکِبِہَا) (۶۷۔۱۵) تو اس کی راہوں میں چلو پھرو۔ اور کنایۃ کے طور پر مَشْیٌ کے معنی مسہل پینا بھی آتے ہیں۔ چنانچہ محاورہ ہے۔شَرِبْتُ مَشْیًا وَمَشْواً : میں نے مسہل دوا پی۔ اَلْمَاشِیَۃُ: مویشی یعنی بھیڑ بکری کے ریوڑ کو کہتے ہیں۔ اور اِمْرَأ ۃٌ مَّاشِیَۃٌ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے بچے بہت ہوں۔
21 results