| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
--- |
--- |
--- |
--- |
--- |
--- |
اَلْجُنْدُ کے اصل معنی سنگستان کے ہیں بمعنی غلظت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جُنْدٌ کہا جانا لگا ہے۔ اور مجازاً ہر گروہ اور جماعت پر جُندٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے (حدیث میں ہے(1) ) اَلْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُّجَنَّدَۃً: کہ ارواح کے بھی گروہ اور جماعتیں ہیں، قرآن پاک میں ہے: (وَ اِنَّ جُنۡدَنَا لَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ) (۳۷:۱۷۳) اور ہمارا لشکر غالب رہے گا۔ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ) (۴۴:۲۴) (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ اور جُند کی جمع اَجْنَادٌ وَجُنُودٌ آتی ہے، قرآن میں ہے: (وَ جُنُوۡدُ اِبۡلِیۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ ) (۲۶:۹۵) اور شیطان کے لشکر سب کے سب داحل جہنم ہوں گے۔ (وَ مَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ) (۷۴:۳۱) اور تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور آیت کریمہ: (اذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ جَآءَتۡکُمۡ جُنُوۡدٌ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا وَّ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا) (۳۳:۹) خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جو (اس نے) تم پر (اس وقت کی) جب فوجیں تم پر (حملہ کرنے کو) آئیں تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل کئے) جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے۔ میں پہلے جُنُوْد سے مراد کفار کی فوجیں ہیں اور دوسرے سے فرشتوں کے لشکر مراد ہیں، جو انہیں نظر نہیں آتے تھے۔
Surah:27Verse:18 |
اور اس کے لشکری
and his hosts
|
|
Surah:27Verse:37 |
کچھ لشکر
with hosts
|
|
Surah:28Verse:6 |
اور ان دونوں کے لشکروں کو
and their hosts
|
|
Surah:28Verse:8 |
اور ان کے دونوں کے لشکر
and their hosts
|
|
Surah:28Verse:39 |
اور اس کے لشکروں نے
and his hosts
|
|
Surah:28Verse:40 |
اور اس کے لشکروں کو
and his hosts
|
|
Surah:33Verse:9 |
لشکر
(the) hosts
|
|
Surah:33Verse:9 |
اور کچھ لشکر
and hosts
|
|
Surah:36Verse:28 |
لشکر
host
|
|
Surah:36Verse:75 |
لشکر ہیں
(are) host(s)
|