The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
بھڑکتی ہوئی آگ میں
Tap any part above to see where else it appears
اَلسَّعْرُ: کے معنیٰ آگ بھڑکنے کے ہیں۔ اور سَعَرْتُ النَّارَ وَاَسَعَرْتُھَا کے معنیٰ آگ بھڑکانے کے۔ مجازاً لڑائی وغیرہ بھڑکانے کے لئے استمعال ہوتا ہے۔ جیسے اِسْتَعَرَا لْحَرْبُ: لڑائی بھڑک اٹھی اِسْتَعَرَ اللصُّوصُ: ڈاکو بھڑک اٹھے۔ یہ اِشْتَعَلَ کے ہم معنیٰ اور نَاقَۃٌ مَسْعُوْرَۃٌ کے معنیٰ دیوانی اونٹنی کے ہیں جیسے مُوقَدَۃٌ وَمُھَیَّجَۃٌ کا لفظ اس معنیٰ میں بولا جاتا ہے۔ اَلْمِسْعَرُ: آگ بھڑکانے کی لکڑی (کہرنی) لڑائی بھڑکانے والا۔ اَلسُّعَارُ: آگ کی تپش کو کہتے ہیں اور سَعَرَالرَّجُلُ کے معنیٰ آگ یا گرم ہوا سے جھلس جانے کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (وَ سَیَصۡلَوۡنَ سَعِیۡرًا) (۴:۱۰) اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ (وَ اِذَا الۡجَحِیۡمُ سُعِّرَتۡ ) (۸۱:۱۲) اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی۔ (عذاب السعیر) (۶۷:۵) دہکتی آگ (کا عذاب) تیار کررکھا ہے۔ تو یہاں سَعِیْرٌ بمعنیٰ مَسْعُوْرٌ ہے۔ نیز قرآن پاک میں ہے: (اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍ ) (۵۴:۴۷) بے شک گنہگار لوگ گمراہی اور دیوانگی میں (مبتلا) ہیں۔ السِّعْرُ کے معنیٰ مروجہ نرخ کے ہیں اور یہ استعارہ النار (آگ کا بھڑکنا) کے ساتھ تشبیہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔
16 results