TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نکاح متعہ منع ہے - نکاح متعہ منع ہے - The chapters on marriage - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 44 of The chapters on marriage in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 44 of 63 · 3 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ وَالْحَسَنِابْنَيْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ:‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ .
It was narrated from 'Ali bin Abu Talib that: The Messenger of Allah forbade on the Day of Khaibar, the temporary marriage of women and (he forbade) the flesh of domestic donkeys.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے، اور پالتو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/المغازي ۳۸ (۴۲۱۶)، النکاح ۳۱ (۵۱۱۵)، الذبائح ۲۸ (۵۵۲۳)، الحیل ۴ (۶۹۶۱)، صحیح مسلم/النکاح ۳ (۱۴۰۷)، الصید ۵ (۱۴۰۷)، سنن الترمذی/النکاح ۲۸ (۱۱۲۱)، الأطعمة ۶ (۱۷۹۴)، سنن النسائی/النکاح ۷۱ (۳۳۶۷)، الصید ۳۱ (۴۳۳۹)،(تحفة الأشراف:۱۰۲۶۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ۱۸ (۴۱)، مسند احمد (۱/۷۹،۱۰۳،۱۴۲)، سنن الدارمی/النکاح ۱۶ (۲۲۴۳)
Explanation
متعہ: کسی عورت سے ایک متعین مدت تک کے لیے نکاح کرنے کو متعہ کہتے ہیں، جب مقررہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو ان کے درمیان خودبخود جدائی ہو جاتی ہے، متعہ دو مرتبہ حرام ہوا اور دو ہی مرتبہ مباح و جائز ہوا، چنانچہ یہ غزوہ خیبر سے پہلے حلال تھا پھر اسے غزوہ خیبر کے موقع پر حرام کیا گیا، پھر اسے فتح مکہ کے موقع پر مباح کیا گیا اور عام اوطاس بھی اسی کو کہتے ہیں اس کے بعد یہ ہمیشہ ہمیش کے لیے حرام کر دیا گیا جیسا کہ امام نووی نے بیان فرمایا ہے۔ لیکن علامہ ابن القیم کی رائے یہ ہے کہ متعہ غزوہ خیبر کے موقع پر حرام نہیں کیا گیا بلکہ اس کی حرمت فتح مکہ کے سال ہوئی، اور یہی رائے صحیح ہے، اس سے پہلے مباح و جائز تھا، اور علی رضی اللہ عنہ نے متعہ کی حرمت اور گھریلو گدھے کی حرمت کو جو ایک ساتھ جمع کر دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ان دونوں کو مباح و جائز سمجھتے تھے تو علی نے نبی اکرم ﷺ سے ان دونوں کی تحریم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تردید میں بیان کی ہے، اور پالتو گدھے کی حرمت غزوہ خیبر میں ہوئی تھی، اور اس کی تحریم کے لیے غزوہ خیبر کے دن کو بطور ظرف ذکر کیا ہے، اور تحریم متعہ کو مطلق بیان کیا ہے، صحیح سند سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کو حرام قرار دیا، نیز عورتوں سے متعہ کو بھی حرام کیا، اور ایک روایت میں «حرم متعة النساء وحرم لحوم الحمر الأهلية» کے الفاظ بھی ہیں جس سے بعض راویوں نے یہ سمجھا کہ ان دونوں کو خیبر کے روز ہی حرام کیا گیا تھا، تو انھوں نے دونوں کو خیبر کے روز ہی سے مقید کر دیا، اور بعض راویوں نے ایک کی تحریم پر اقتصار کیا اور وہ ہے گھریلو گدھے کی تحریم، یہیں سے وہم ہوا کہ دونوں کی تحریم غزوہ خیبر کے موقع پر ہوئی، رہا خیبر کا قصہ تو اس روز نہ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہودی عورتوں سے متعہ کیا، اور نہ ہی اس بارے میں رسول اللہﷺ سے انھوں نے اجازت طلب کی اور نہ ہی کسی نے کبھی اس غزوہ میں اس کو نقل کیا ہے اور نہ اس متعہ کے فعل یا اس کی تحریم کا حتمی ذکر ہے بخلاف فتح مکہ کے، فتح مکہ کے موقع پر متعہ کے فعل اور اس کی تحریم کا ذکر مشہور ہے اور اس کی روایت صحیح ترین روایت ہے۔ (ملاحظہ ہو: زاد المعاد)
1961
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْعُزْبَةَ قَدِ اشْتَدَّتْ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ فَأَتَيْنَاهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْكِحْنَنَا، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ نَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَهُ بُرْدٌ وَمَعِي بُرْدٌ وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْنَا عَلَى امْرَأَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ بُرْدٌ كَبُرْدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتَزَوَّجْتُهَا فَمَكَثْتُ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ غَدَوْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَيُّهَا النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ أَلَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُخْلِ سَبِيلَهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا .
It was narrated from Rabi'bin Sabrah that his father said : We went out with the Messenger of Allah on the Farewell pilgrimage, and they said : 'O Messenger of Allah, (ﷺ) celibacy has become too difficult for us'. He said : 'Then make temporary marriages with these women'. So we went to them, but they insisted on setting a fixed time between us and them. They mentioned that to the Prophet and he said : 'Set a fixed time between you and them.' So I went out with a cousin of mine. He had a cloak and I had a cloak, but his cloak was finer than mine, and I was younger than him. We came to a women and she said: 'One cloak is like another.' So I married her and stayed with her that night. Then the next day I saw the Messenger of Allah standing between the Rukn (corner) and the door (of the Ka'bah), saying : 'O people, I had permitted temporary marriage for you, but Allah has forbidden it until the Day of Resurrection. however had any temporary wives, he should let them go, and do not take back anything that you had given to them.'
سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! عورت کے بغیر رہنا ہمیں گراں گزر رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے متعہ کر لو ، ہم ان عورتوں کے پاس گئے وہ نہیں مانیں، اور کہنے لگیں کہ ہم سے ایک معین مدت تک کے لیے نکاح کرو، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اور ان کے درمیان ایک مدت مقرر کر لو چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد بھائی دونوں چلے، اس کے پاس ایک چادر تھی، اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی، لیکن اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی، اور میں اس کی نسبت زیادہ جوان تھا، پھر ہم دونوں ایک عورت کے پاس آئے تو اس نے کہا: چادر تو چادر کی ہی طرح ہے ( پھر وہ میری طرف مائل ہو گئی ) چنانچہ میں نے اس سے نکاح ( متعہ ) کر لیا، اور اس رات اسی کے پاس رہا، صبح کو میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن ( حجر اسود ) اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے فرما رہے تھے: اے لوگو! میں نے تم کو متعہ کی اجازت دی تھی لیکن سن لو! اللہ نے اس کو قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا ہے، اب جس کے پاس متعہ والی عورتوں میں سے کوئی عورت ہو تو اس کو چھوڑ دے، اور جو کچھ اس کو دے چکا ہے اسے واپس نہ لے ۔
Takhreej
صحیح مسلم/النکاح ۳ (۱۴۰۶)، سنن ابی داود/النکاح ۱۴ (۲۰۷۲)، سنن النسائی/النکاح ۷۱ (۳۳۷۰)،(تحفة الأشراف:۳۸۰۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۰۴،۴۰۵)، سنن الدارمی/النکاح ۱۶ (۲۲۴۲)
1962
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا وَلِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ خَطَبَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ حَرَّمَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَمَتَّعَ وَهُوَ مُحْصَنٌ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنِي بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَحَلَّهَا بَعْدَ إِذْ حَرَّمَهَا .
It was narrated that Ibn 'Umar said: When 'Umar bin Khattab was appointed caliph, he addressed the people and said: 'The Messenger of Allah permitted temporary marriage for us three times, then he forbade it. By Allah, If I hear of any married person entering a temporary marriage, I will stone him to death, unless he can bring me four witnesses who will testify that the Messenger of Allah, allowed it after he forbade it'.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے، تو انہوں نے خطبہ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو تین بار متعہ کی اجازت دی پھر اسے حرام قرار دیا، قسم ہے اللہ کی اگر میں کسی کے بارے میں جانوں گا کہ وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے متعہ کرتا ہے تو میں اسے پتھروں سے رجم کر دوں گا، مگر یہ کہ وہ چار گواہ لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دینے کے بعد حلال کیا تھا۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۵۷۶، ومصباح الزجاجة:۶۹۵)
1963
Sahih

Chapters

63
01
نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
02
کنوارا رہنا منع ہے۔
2 Hadith
03
شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
2 Hadith
04
بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
3 Hadith
05
بہترین عورت کا بیان۔
3 Hadith
06
نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
07
کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
08
آزاد اور جننے والی عورتوں سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
09
جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
3 Hadith
10
مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے۔
3 Hadith
11
کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان۔
3 Hadith
12
باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
13
باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے
2 Hadith
14
نابالغ لڑکی کا نکاح باپ کے علاوہ کوئی اور کرائے تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
15
بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان
4 Hadith
16
نکاح شغار کی ممانعت
3 Hadith
17
عورتوں کے مہر کا بیان
5 Hadith
18
ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟
1 Hadith
19
خطبہ نکاح کا بیان
3 Hadith
20
نکاح کے اعلان کرنے کا بیان
2 Hadith
21
(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان
5 Hadith
22
ہیجڑوں کا بیان
3 Hadith
23
نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان
2 Hadith
24
ولیمہ کا بیان
6 Hadith
25
(ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان
3 Hadith
26
کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت
2 Hadith
27
بیوی سے پہلی ملاقات پر کون سی دعا پڑھے؟۔
2 Hadith
28
جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان
3 Hadith
29
عورتوں سے دبر میں جماع کرنے کی ممانعت۔
3 Hadith
30
عزل کا بیان
3 Hadith
31
بھتیجی اور پھوپھی یا بھانجی اور خالہ کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت
3 Hadith
32
ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
2 Hadith
33
حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر وارد وعید کا بیان
3 Hadith
34
رضاعت (دودھ پلانے) سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں
3 Hadith
35
ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
3 Hadith
36
بڑے آدمی کے دودھ پینے سے حرمت کے حکم کا بیان
2 Hadith
37
دودھ چھٹنے کے بعد پھر رضاعت ثابت نہیں ہے
3 Hadith
38
دودھ مرد کی طرف سے ہے
2 Hadith
39
آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں دو سگی بہنیں ہوں تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
40
آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
41
نکاح میں شرط کا بیان
2 Hadith
42
آدمی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے شادی کر لے
3 Hadith
43
غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے
2 Hadith
44
نکاح متعہ منع ہے
3 Hadith
45
حالت احرام میں نکاح کا حکم۔
3 Hadith
46
(شادی میں) کفو کا بیان
2 Hadith
47
عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان
3 Hadith
48
عورت کا اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
49
نکاح کرانے کے لیے سفارش کا بیان
2 Hadith
50
عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان
6 Hadith
51
عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان
4 Hadith
52
بالوں کو جوڑنے اور گودنا گودنے والی عورتوں پر وارد وعید کا بیان
3 Hadith
53
دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟۔
2 Hadith
54
مرد اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس کو کوئی چیز ہدیہ نہ کی ہو اس کا بیان
1 Hadith
55
جن چیزوں میں برکت اور نحوست کی بات کہی جاتی ہے ان کا بیان
3 Hadith
56
غیرت کا بیان
4 Hadith
57
جس عورت نے اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا اس کا بیان
2 Hadith
58
آدمی کا اپنے لڑکے میں شک کرنے کا بیان
2 Hadith
59
بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی
4 Hadith
60
میاں بیوی میں سے کوئی دوسرے سے پہلے مسلمان ہو تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
61
مدت رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان
2 Hadith
62
شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان
2 Hadith
63
حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا
1 Hadith
No chapter matched that.