TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی - بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی - The chapters on marriage - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 59 of The chapters on marriage in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 59 of 63 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سَعْدٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ:‏‏‏‏ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهَهُ بِعُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ .
It was narrated that 'Aishah said: Ibn Zam'ah and Sa'd (Ibn Abu Waqqas) referred a dispute to the Prophet concerning the son of Zam'ah's slave woman. Sa'd said : O Messenger of Allah my brother (Utbah bin Abu Waqqas) left instructions in his will that when I come to Makkah, I should look for the son of the slave woman of Zam'ah and take him into my care. 'Abd bin Zam’ah said: He is my brother and the son of the slave woman of my father; he was born on my father's bed. The Prophet ffi saw that he resembled 'Utbah, and said: He belongs to you, O 'Abd bin Zam'ah. The child is for the bed. Observe Hijab before him, O Saudah. (sahih)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے بھائی ( عتبہ بن ابی وقاص ) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں، اور اس کو لے لوں، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا: عبد بن زمعہ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے ( گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے ) بچہ صاحب فراش ( شوہر یا مالک ) کا ہوتا ہے ۱؎، سودہ تم اس سے پردہ کرو ۲؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/البیوع ۳ (۲۰۵۳)،۱۰۰ (۲۲۱۸)، الخصومات ۶ (۲۴۲۱)، العتق ۸ (۲۵۳۳)، الوصایا ۴ (۲۷۴۵)، المغازي ۵۳ (۴۳۰۳)، الفرائض ۱۸ (۶۷۴۹)،۲۸ (۶۷۶۵)، الحدود ۲۳ (۶۸۱۷)، الأحکام ۲۹ (۷۱۸۲)، صحیح مسلم/الرضاع ۱۰ (۱۴۵۷)، سنن ابی داود/الطلاق ۳۴ (۲۲۷۳)، سنن النسائی/الطلاق ۴۹ (۳۵۱۷)،(تحفة الأشراف:۱۶۴۳۵)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ۲۱ (۲۰)مسند احمد (۶/۱۲۹،۲۰۰،۲۷۳)، سنن الدارمی/النکاح ۴۱ (۲۲۸۱)
Explanation
یعنی زانی کا بچہ نہیں کہلائے گا، گو اس کے نطفہ سے پیدا ہو، بلکہ بچہ عورت کے شوہر یا مالک کا ہو گا اگر عورت لونڈی ہو۔ ۲؎: ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا زمعہ کی بیٹی تھیں، تو یہ بچہ جب زمعہ کا ٹھہرا، تو سودہ کا بھائی ہوا، لیکن چونکہ اس کی مشابہت عتبہ سے پائی گئی، اس لیے احتیاطاً آپ ﷺ نے ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا۔
2004
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ .
It was narrated from 'Umar that: the Messenger of Allah ruled that the child belonged to the bed.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے صاحب فراش کے لیے بچے کا فیصلہ کیا ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۶۷۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۵)
Explanation
«فراش» سے مراد صاحب فراش یعنی شوہر یا مولیٰ ہے کیونکہ یہ دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں «وللعاهرالحجر»یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کے نسب کا الحاق ہو گا اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے، اور یہ بھی دعوی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے، اس بچے کی مشابہت بھی اسی کے ساتھ ہو، اور صاحب فراش کے مشابہ نہ ہو، اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کا الحاق صاحب فراش کے ساتھ کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہو گا، اور یہ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش اس کی نفی نہ کرے اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچے کا الحاق ماں کے ساتھ ہو گا، اور وہ بچہ ماں کے ساتھ منسوب ہو گا،زانی سے منسوب نہیں ہو گا۔
2005
Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ .
It was narrated from Abu Hurairah that: the Prophet said: The child is for the bed (i.e., belongs to the husband) and the fornicator gets nothing!'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے ۔
Takhreej
صحیح مسلم/الرضاع ۱۰ (۱۴۵۸)، سنن الترمذی/الرضاع ۸ (۱۱۵۷)، سنن النسائی/الطلاق ۴۸ (۳۵۱۲)،(تحفة الأشراف:۱۳۱۳۴)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفرائض ۱۸ (۶۷۴۹)، مسند احمد (۲/۲۳۹،۲۸۰،۳۸۶،۴۰۹،۴۶۶،۴۷۵،۴۹۲)، سنن الدارمی/النکاح ۴۱ (۲۲۸۱)
2006
Sahih
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ .
Shurahbil bin Muslim said: I heard Abu Um Amah Al-Bahili say: 'I heard the Messenger of Allah say: The child is for the bed and the fornicator gets nothing.
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۸۸۵، ومصباح الزجاجة:۷۱۳)
Explanation
«وللعاهرالحجر» یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «حجر» (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
2007
Sahih

Chapters

63
01
نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
02
کنوارا رہنا منع ہے۔
2 Hadith
03
شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان۔
2 Hadith
04
بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان۔
3 Hadith
05
بہترین عورت کا بیان۔
3 Hadith
06
نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
07
کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
08
آزاد اور جننے والی عورتوں سے شادی کرنے کا بیان۔
2 Hadith
09
جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
3 Hadith
10
مسلمان بھائی کے شادی کے پیغام پر پیغام نہ دے۔
3 Hadith
11
کنواری اور غیر کنواری دونوں سے شادی کی اجازت لینے کا بیان۔
3 Hadith
12
باپ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کر دے تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
13
باپ نابالغ بچیوں کا نکاح کر سکتا ہے
2 Hadith
14
نابالغ لڑکی کا نکاح باپ کے علاوہ کوئی اور کرائے تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
15
بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان
4 Hadith
16
نکاح شغار کی ممانعت
3 Hadith
17
عورتوں کے مہر کا بیان
5 Hadith
18
ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟
1 Hadith
19
خطبہ نکاح کا بیان
3 Hadith
20
نکاح کے اعلان کرنے کا بیان
2 Hadith
21
(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان
5 Hadith
22
ہیجڑوں کا بیان
3 Hadith
23
نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان
2 Hadith
24
ولیمہ کا بیان
6 Hadith
25
(ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان
3 Hadith
26
کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت
2 Hadith
27
بیوی سے پہلی ملاقات پر کون سی دعا پڑھے؟۔
2 Hadith
28
جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان
3 Hadith
29
عورتوں سے دبر میں جماع کرنے کی ممانعت۔
3 Hadith
30
عزل کا بیان
3 Hadith
31
بھتیجی اور پھوپھی یا بھانجی اور خالہ کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت
3 Hadith
32
ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
2 Hadith
33
حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر وارد وعید کا بیان
3 Hadith
34
رضاعت (دودھ پلانے) سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں
3 Hadith
35
ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
3 Hadith
36
بڑے آدمی کے دودھ پینے سے حرمت کے حکم کا بیان
2 Hadith
37
دودھ چھٹنے کے بعد پھر رضاعت ثابت نہیں ہے
3 Hadith
38
دودھ مرد کی طرف سے ہے
2 Hadith
39
آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں دو سگی بہنیں ہوں تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
40
آدمی اگر اسلام لائے اور اس کے نکاح میں چار سے زائد عورتیں ہوں تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
41
نکاح میں شرط کا بیان
2 Hadith
42
آدمی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے شادی کر لے
3 Hadith
43
غلام کا نکاح مالک کی اجازت کے بغیر ناجائز ہے
2 Hadith
44
نکاح متعہ منع ہے
3 Hadith
45
حالت احرام میں نکاح کا حکم۔
3 Hadith
46
(شادی میں) کفو کا بیان
2 Hadith
47
عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان
3 Hadith
48
عورت کا اپنی باری سوکن کو ہبہ کرنے کا بیان
3 Hadith
49
نکاح کرانے کے لیے سفارش کا بیان
2 Hadith
50
عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان
6 Hadith
51
عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان
4 Hadith
52
بالوں کو جوڑنے اور گودنا گودنے والی عورتوں پر وارد وعید کا بیان
3 Hadith
53
دلہن کی رخصتی کا بہتر وقت کون سا ہے؟۔
2 Hadith
54
مرد اپنی بیوی کے پاس جائے اور اس کو کوئی چیز ہدیہ نہ کی ہو اس کا بیان
1 Hadith
55
جن چیزوں میں برکت اور نحوست کی بات کہی جاتی ہے ان کا بیان
3 Hadith
56
غیرت کا بیان
4 Hadith
57
جس عورت نے اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا اس کا بیان
2 Hadith
58
آدمی کا اپنے لڑکے میں شک کرنے کا بیان
2 Hadith
59
بچے کا حقدار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی
4 Hadith
60
میاں بیوی میں سے کوئی دوسرے سے پہلے مسلمان ہو تو اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
61
مدت رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان
2 Hadith
62
شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان
2 Hadith
63
حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا
1 Hadith
No chapter matched that.