TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جو داغ لگوائے اس کے حکم کا بیان - جو داغ لگوائے اس کے حکم کا بیان - Chapters on medicine - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 24 of Chapters on medicine in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 24 of 45 · 3 Hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ،‏‏‏‏ قال:‏‏‏‏ سَمِعَتُ عَمِّي يَحْيَى،‏‏‏‏ وَمَا أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنَّا بِهِ شَبِيهًا يُحَدِّثُ النَّاسَ،‏‏‏‏ أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ وَهُوَ جَدُّ مُحَمَّدٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ،‏‏‏‏ أَنَّهُ أَخَذَهُ وَجَعٌ فِي حَلْقِهِ يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ الذُّبْحَةُ،‏‏‏‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَأُبْلِغَنَّ أَوْ لَأُبْلِيَنَّ فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا ،‏‏‏‏ فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ،‏‏‏‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مِيتَةَ سَوْءٍ لِلْيَهُودِ،‏‏‏‏ يَقُولُونَ:‏‏‏‏ أَفَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ،‏‏‏‏ وَمَا أَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِي شَيْئًا .
Muhammad bin ‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin Zurarah Al-Ansari said: “I heard my paternal uncle Yahya – and I have not seen a man among us like him – tell the people that Sa'd bin Zurarah, who was the grandfather of Muhammad through his mother, was suffering from pain in his throat, known as croup. The Prophet (ﷺ) said: ‘I shall do my best for Abu Umamah.’ Such that I will be excused (i.e., free of blame if he is not healed). And he cauterized him with his own hand, but he died. The Prophet (ﷺ) said: ‘May the Jews be doomed! They will say: “Why could he not avert death from his Companions?” But I have no power to do anything for him or for my own self.’”
محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا یحییٰ بن اسعد بن زرارہ سے سنا، اور ان کا کہنا ہے کہ اپنوں میں ان جیسا متقی و پرہیزگار مجھے کوئی نہیں ملا لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ سعد بن زرارہ ۱؎ ( جو محمد بن عبدالرحمٰن کے نانا تھے ) کو ایک بار حلق کا درد ہوا، اس درد کو «ذُبحہ» کہا جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ابوامامہ ( یعنی! اسعد رضی اللہ عنہ ) کے علاج میں اخیر تک کوشش کرتا رہوں گا تاکہ کوئی عذر نہ رہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغ دیا، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود بری موت مریں، اب ان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ساتھی کو موت سے کیوں نہ بچا لیا، حالانکہ نہ میں اس کی جان کا مالک تھا، اور نہ اپنی جان کا ذرا بھی مالک ہوں ۲؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۸۲۱، ومصباح الزجاجة:۱۲۱۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ۵ (۱۳)
Explanation
اسعد بن زرارہ یا سعد بن زرارہ اس کے لئے دیکھئے: تحفۃ الاشراف والاصابہ۔ ۲؎: اسعد بن زرارہ انصار کے سردار تھے، بڑے مومن کامل تھے، آپ ﷺ نے جہاں تک ہو سکا ان کا علاج کیا، لیکن موت میں کسی کا زرونہیں چلتا، رسول اکرم ﷺ کو بھی یہ اختیار نہ تھا کہ کسی کی موت آئے اور وہ روک دیں، لیکن یہودیوں کو جو شروع سے بے ایمان تھے، یہ کہنے کا موقع ملا کہ اگر یہ سچے رسول ہوتے تو اپنے ساتھی سے موت کو دور کر دیتے، آپ ﷺ نے ان کا رد کیا، اور فرمایا: رسول کو اس سے کیا علاقہ؟ مجھ کو خود اپنی جان پر اختیار نہیں ہے، تو بھلا دوسرے کی جان پر کیا ہو گا، اور افسوس ہے کہ یہودی اتنا نہ سمجھے کہ اگلے تمام انبیاء و رسل جب ان کی موت آئی فوت ہو گئے بلکہ ہارون علیہ السلام جو موسیٰ کے بھائی تھے، موسیٰ کی زندگی میں فوت ہوئے اور موسیٰ علیہ السلام ان کو نہ بچا سکے،بھلا امر الٰہی کو کوئی روک سکتا ہے، ولی ہوں یا نبی، اللہ تعالی کے سامنے سب عاجز بندے اور غلام ہیں۔
3492
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَرِضَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا،‏‏‏‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَبِيبًا،‏‏‏‏ فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ .
It was narrated that Jabir said: “Ubayy bin Ka’b fell sick, and the Prophet (ﷺ) sent a doctor to him who cauterized him on his medical arm vein.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایک بار بیمار پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کے ہاتھ کی رگ پر داغ دیا۔
Takhreej
«صحیح مسلم/السلام ۲۶ (۲۲۰۷)، سنن ابی داود/الطب ۶ (۳۸۶۴)،(تحفة الأشراف:۲۲۹۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۰۳،۳۰۴،۳۱۵،۳۷۱)
3493
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،‏‏‏‏ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ مَرَّتَيْنِ .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) cauterized Sa’d bin Mu’adh on his medial arm vein, twice.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ والی رگ میں دو مرتبہ داغا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۷۶۲، ومصباح الزجاجة:۱۲۱۸)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ۲۶ (۲۲۰۸)، سنن ابی داود/الطب ۷ (۳۸۶۶)، سنن الترمذی/السیر ۲۹ (۱۵۸۲)، مسند احمد (۳/۳۶۳)، سنن الدارمی/السیر ۶۶ (۲۵۵۱)
Explanation
رسول اکرم ﷺ سے علاج و معالجہ کے لئے اعضاء بدن کو داغنے کے سلسلہ میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جو بظاہر باہم متعارض نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سے اس مسئلہ میں علماء کے مابین اختلافات ہیں۔ ۱۔ بعض احادیث سے اعضاء جسم کو داغنا ثابت ہے جیسے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے زخم کو داغنے کا واقعہ۔ ۲۔ بعض میں اس سلسلہ میں آپ کی ناپسندیدگی کا ذکر ہے۔ ۳۔ بعض میں اس کے چھوڑ دینے کی تعریف کی گئی ہے۔ ۴۔ بعض احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ واضح رہے کہ جن احادیث میں اعضاء جسم کو داغنے سے علاج اور شفاء کی بات آئی ہے اس سے اس کے جواز و مشروعیت کا ثبوت ملتا ہے، اور رسول اکرم ﷺ کے اس کو ناپسند کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کام ممنوع ہے، بلکہ اس کا معاملہ «ضب» کے ناپسند ہونے کی طرح ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اسے نہ کھایا، لیکن یہ آپ ﷺ کے دسترخوان پر کھائی گئی، اور آپ نے اس پر سکوت اختیار کیا، اور اس کی حلت کا اقرار فرمایا، اور آپ کے «ضب» نہ کھانے کا تعلق آپ کی ذاتی ناپسندیدگی سے ہے جس کا «ضب» کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس کے ترک کر دینے پر پسندیدگی سے پتہ چلتا ہے کہ اعضاء جسم کو داغ کر علاج نہ کرنا زیادہ بہتر بات ہے۔ اور ممانعت کی احادیث کراہت کے قبیل سے ہیں، یا ایسی صورت سے ممانعت کی بات ہے جس کی ضرورت و حاجت نہ ہو، بلکہ بیماری کے لاحق ہونے کے خوف کی بنا پر ہو۔ اس تفصیل سے پتہ چلا کہ اعضاء جسم کے داغنے کے ذریعہ علاج بلا کراہت دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، ایک یہ کہ اس علاج کے علاوہ اور کوئی صورت علاج کی باقی نہ ہو، بلکہ متعین طور پر اس علاج ہی کی تشخیص کی گئی ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اعضاء جسم کا داغنا شفا اور علاج کا مستقل سبب نہیں ہے، بلکہ اس کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے جو شفا دینے والا ہے، جب دوسری صورتیں علاج کی موجود ہوں تو آگ سے داغنے کا علاج مکروہ ہو گا۔ خلاصہ یہ کہ علمائے دین نے اعضاء جسم کو داغ کر اس سے علاج کے جواز کی بات کہی ہے کہ یہ بھی علاج و معالجہ کا ایک مجرب طریقہ ہے، بعض علماء نے اس اعتقاد سے صحت مند آدمی کو داغنے سے منع کیا ہے کہ وہ اس کے بعد دوبارہ بیمار نہ ہو، تو ایسی صورت حرام اور ممنوع ہے، اور دوسری علاج کی صورتیں جن میں زخم کے فساد کا علاج یا اعضاء جسم کے کٹنے کے بعد اس کے علاج کا مسئلہ ہو جائز ہے۔ یہ واضح رہے کہ زمانہ جاہلیت میں (اور آج بھی لوگوں میں یہ رواج ہے) لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ صحت مند آدمی کو اس واسطے داغتے تھے کہ وہ اس کے بعد بیمار نہ ہو، اگر یہ صورت ہو تو احادیث نہی اس طرح کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، اسلام نے اس اعتقاد کو باطل قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی شافی و کافی ہے۔ «إذا مرضت فهو يشفين» اوپر کی وضاحت کا خلاصہ یہ ہوا کہ اعضاء جسم کے داغنے کا طریقہ علاج مختلف صورتوں میں مختلف احکام رکھتا ہے، نہ تو ہمیشہ اس کا ترک صحیح ہے، اور نہ اس علاج کا ہمیشہ اختیار کرنا ہی صحیح ہے، کبھی کراہت کے ساتھ یہ جائز ہے، کبھی یہ علاج مکروہ ہے، اور کبھی یہ حرمت کے دائرہ میں آ جاتا ہے، جواز کی صورت اس کی ضرورت کے پیش نظر ہے، بایں طور کہ علاج کی دوسری صورت باقی نہ ہو بلکہ متعین طور پر کسی بیماری میں یہی علاج موثر ہو جیسے تیزی سے جسم سے خون کے نکلنے میں داغنے کے علاوہ کوئی اس کو روکنے کی ترکیب نہ ہو، ورنہ بیمار کے مر جانے کا خدشہ ہو، اس صورت میں اس علاج کو اپنانا ضروری ہے، چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جسم سے خون نہ رکنے کی صورت میں ان کی ہلاکت کے خوف سے ان کے جسم کو داغا۔ یہ واضح رہے کہ اس علاج میں یہ اعتقاد بھی ہونا چاہئے کہ یہ ایک سبب علاج ہے، اصل شافی اللہ تعالیٰ ہے۔ کراہت کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ دوسرے علاج کی موجودگی میں یہ علاج کیا جائے، اس لئے کہ اس علاج میں مریض کو سخت درد بلکہ اصل مرض سے زیادہ سخت درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کراہت کی ایک صورت یہ ہے کہ بیماری آنے سے پہلے حفظان صحت کے لئے یہ طریقہ علاج اپنایا جائے، اس لئے کہ اس میں اللہ پر توکل و اعتماد میں کمی اور کمزوری آ جاتی ہے، اور مرض کے واقع ہونے سے پہلے ہی داغنے کے درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صرف اس خدشہ سے کہ ایسا مستقبل میں ممکن ہے، آگ کا عذاب اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اس لئے اس صورت میں اس پر حرمت کا اطلاق بھی ہو سکتا ہے، داغنے کے علاج میں شفا ڈھونڈھنے میں غلو اور مبالغہ کی صورت میں آدمی حقیقی مسبب الاسباب یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو بھول جاتا ہے، اور دنیاوی اسباب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، اور یہ معلوم ہے کہ اسباب کی طرف توجہ و التفات توحید میں شرک ہے۔ امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ صحیح احادیث میں علاج کا حکم ہے، جو توکل کے منافی نہیں ہے، جیسے بھوک، پیاس، سردی اور گرمی کو اس کے اضداد کے ذریعہ دور کیا جائے، بلکہ توحید کی حقیقت کا اتمام اسی وقت ہو گا جب آدمی اللہ تعالیٰ کی شریعت میں اور سنن کونیہ (کائناتی نظام) میں نتائج تک پہنچنے کے لئے جو اسباب فراہم کئے ہیں ان کو استعمال کرے، اور ان شرعی اور کونی اسباب کو معطل کر دینا دراصل نفس توکل میں قدح ہے۔ اور ایسے ہی امر الٰہی اور حکمت ربانی کا قادح اور اس میں کمزوری پیدا کرنے والا ہے کیونکہ ان اسباب کو معطل کرنے والا یہ گمان کرتا ہے کہ ان کا ترک توکل کے باب میں زیادہ قوی اور مضبوط ہے۔ پس ان اسباب کا ترک عاجزی ہے، جو اس توکل کے منافی ہے جس کی حقیقت ہی یہ ہے کہ بندہ کا دل اللہ تعالیٰ پر اپنے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں اور دینی و دنیاوی نقصانات سے دور رہنے میں اعتماد کرے۔ اس اعتماد و توکل کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسباب کو اختیار کیا جائے، ورنہ آدمی حکمت الٰہی اور شریعت کے اوامر کو معطل کرنے والا ہو گا، لہذا آدمی اپنی عاجزی کو توکل نہ بنائے، اور نہ ہی توکل کو عاجزی کا عنوان دے۔ (زاد المعاد: ۴؍۱۵) (حررہ الفریوائی)
3494
Sahih

Chapters

45
01
اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو
4 Hadith
02
مریض اگر کسی چیز کی خواہش کرے تو کیا کیا جائے؟۔
2 Hadith
03
(کھانے پینے میں) پرہیز اور احتیاط کا بیان
2 Hadith
04
مریض کو کھانے پر مجبور نہ کرنے کا بیان۔
1 Hadith
05
حریرہ کا بیان
2 Hadith
06
کلونجی کا بیان
3 Hadith
07
شہد کا بیان
3 Hadith
08
کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان
4 Hadith
09
سنا اور سنوت کا بیان
1 Hadith
10
نماز کے شفاء ہونے کا بیان
1 Hadith
11
ناپاک دواؤں سے علاج کرنے کی ممانعت
2 Hadith
12
دست لانے والی دوا کا بیان
1 Hadith
13
حلق کے ورم کی دوا کا بیان اور حلق دبانے کی ممانعت
1 Hadith
14
عرق النسا کی دوا کا بیان
1 Hadith
15
زخم کے علاج کا بیان
2 Hadith
16
طب نہ جانتے ہوئے علاج معالجہ کرنے والے کا بیان
1 Hadith
17
ذات الجنب کی دوا کا بیان
2 Hadith
18
بخار کا بیان
2 Hadith
19
بخار جہنم کی بھاپ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو
5 Hadith
20
حجامت (پچھنا لگوانے) کا بیان
5 Hadith
21
حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان
5 Hadith
22
کن دنوں میں پچھنا لگوایا جائے؟۔
3 Hadith
23
آگ یا لوہا سے بدن داغنے کا بیان
3 Hadith
24
جو داغ لگوائے اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
25
اثمد کا سرمہ لگانے کا بیان۔
3 Hadith
26
سرمہ طاق لگانے کا بیان
2 Hadith
27
شراب سے علاج منع ہے
1 Hadith
28
قرآن سے شفاء حاصل کرنے کا بیان
1 Hadith
29
مہندی کا بیان
1 Hadith
30
اونٹ کے پیشاب کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
31
برتن میں مکھی گر جائے تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
32
نظر بد کا بیان
4 Hadith
33
نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان
3 Hadith
34
جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان
4 Hadith
35
سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان
3 Hadith
36
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان
6 Hadith
37
بخار میں پڑھی جانے والی دعا کا بیان
2 Hadith
38
دم (جھاڑ پھونک) کرتے وقت پھونکنے کا بیان
2 Hadith
39
تعویذ لٹکانے کا بیان
2 Hadith
40
آسیب (جن) کا بیان
2 Hadith
41
دو دھاری سانپ کو قتل کر دینے کا بیان
2 Hadith
42
نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ
6 Hadith
43
جذام (کوڑھ) کا بیان
3 Hadith
44
جادو کا بیان
2 Hadith
45
گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟۔
3 Hadith
No chapter matched that.