جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان - جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان - Chapters on medicine - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Chapter 34 of Chapters on medicine in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It as narrated from Abu Bakr bin Muhammad that Khalidah bint Anas, the mother of Banu Hazm As-Sa’idiyyah, came to the Prophet (ﷺ) and recited a Ruqyah to him, and he told her to use it.
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۸۲۳، ومصباح الزجاجة:۱۲۲۶)
It was narrated that Jabir said:
“There was a family among the Ansar, called Al ‘Amr bin Hazm, who used to recite Ruqyah for the scorpion sting, but the Messenger of Allah (ﷺ) forbade Ruqyah. They came to him and said: ‘O Messenger of Allah! You have forbidden Ruqyah, but we recite Ruqyah against the scorpion’s sting.’ He said to them: ‘Recite it to me.’ So they recited it to him, and he said: ‘There is nothing wrong with this, this is confirmed.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا آل عمرو بن حزم نامی گھرانہ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک کرنے سے منع فرمایا تھا، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ہم لوگ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جھاڑ پھونک ( منتر ) مجھے سناؤ ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ تو «اقرارات ہیں» ( یعنی ثابت شدہ ہیں ) ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/السلام ۲۱ (۲۱۹۹)،(تحفة الأشراف:۲۳۰۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۰۲،۳۱۵)
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) allowed Ruqyah for the scorpion’s sting, the evil eye, and Namlah (sores or small pustules ulcers or sores on a person’s sides).
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
Takhreej
«صحیح مسلم/السلام ۲۱ (۲۱۹۶)، سنن الترمذی/الطب ۱۵ (۲۰۵۶،۲۰۵۷)،(تحفة الأشراف:۱۷۰۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۱۸،۱۱۹،۱۲۷)
Explanation
نملہ: ایک بیماری ہے جس کے سبب پسلی میں دانے نکل آتے ہیں، اور زخم پڑ جاتے ہیں