حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا، فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَفَعَلُوا.
It was narrated from Anas that some people from ‘Urainah came to the Messenger of Allah (ﷺ) but they were averse to the climate of Al- Madinah. He (ﷺ) said:
“Why don’t you go out to a flock of camels of ours, and drink their milk and urine.” And they did that.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے ( تو اچھا ہوتا ) ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الوضوء ۶۷ (۲۳۷)، الزکاة ۶۸ (۱۵۰۱)، الجہاد ۱۵۲ (۳۰۱۸)، المغازي ۳۷ (۴۱۹۲،۴۱۹۳)، الطب ۵ (۵۶۸۵)،۶ (۵۶۸۶)،۲۹ (۵۷۲۷)، الحدود ۱ (۶۸۰۲)،۲ (۶۸۰۳)،۳ (۶۸۰۴)،۴ (۶۸۰۵)، الدیات ۲۲ (۶۸۹۹)، صحیح مسلم/القسامة ۲ (۱۶۷۱)، سنن الترمذی/الحدود ۳ (۴۳۶۴)، الأطعمة ۳۸ (۱۸۴۵)، الطب ۶ (۲۰۴۲)، سنن النسائی/الطہارة ۱۹۱ (۳۰۶)،(تحفة الأشراف:۷۲۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۶۱،۱۶۳،۱۷۰،۲۳۳)
Explanation
اونٹ کے پیشاب سے علاج کو آپ ﷺ نے مباح قرار دیا، لہذا ونٹ کے پیشاب کو شراب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شراب کے حرام ہونے اور اونٹ کے پیشاب کے مباح ہونے کے سلسلہ میں احادیث الگ الگ وارد ہیں۔
3503
Sahih