TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ - نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ - Chapters on medicine - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 42 of Chapters on medicine in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 42 of 45 · 6 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ،‏‏‏‏ وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “The Prophet (ﷺ) used to like good signs and hate bad omens.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک فال ( اچھے شگون ) اچھی لگتی تھی، اور فال بد ( برے شگون ) کو ناپسند فرماتے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۰۶۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب ۴۳ (۵۷۵۴)،۴۴ (۵۷۵۵)، صحیح مسلم/السلام ۳۳ (۲۲۲۰)
3536
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ،‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ،‏‏‏‏ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ .
It was narrated that Anas said: “The Prophet (ﷺ) said: ‘There is no ‘Adwa* and no omen, but I like Al-Fa’l As-Salih.”**
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الطب ۴۵ (۵۷۷۶)، صحیح مسلم/السلام ۳۴ (۲۲۲۴)،(تحفة الأشراف:۱۲۵۹)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ۲۴ (۳۹۱۶)، سنن الترمذی/السیر ۴۷ (۱۶۱۵)، مسند احمد (۳/۱۱۸،۱۵۴،۱۳۰،۱۷۸،۲۵۱،۱۷۳،۲۷۵)
3537
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ زِرٍّ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا،‏‏‏‏ وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ .
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The omen is polytheistic deed and anyone of us may think he sees an omen but Allah will dispel it by means of relying upon Him.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطب ۲۴ (۳۹۱۰)، سنن الترمذی/السیر ۴۷ (۱۶۱۴)، تحفة الأشراف (۹۲۰۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۳۸۹،۴۳۸،۴۴۰)
Explanation
یعنی اللہ کے اوپر بھروسہ کرنے سے یہ وہم جاتا رہے گا، انسان کو چاہئے کہ اگر ایسا وہم کبھی دل میں آئے، تو اس کو بیان نہ کرے، اور منھ سے نہ نکالے،اور اللہ پر بھروسہ کرے، جو وہ چاہے وہ ہو گا، امام بخاری نے کہا: سلیمان بن حرب کہتے تھے کہ میرے نزدیک یہ قول: «ومامنا۔۔۔» اخیر تک ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، بلکہ اکثر حفاظ نے اس کو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام کہا ہے۔
3538
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،‏‏‏‏ عَنْ سِمَاكٍ،‏‏‏‏ عَنْ عِكْرِمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ،‏‏‏‏ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no ‘Adwa, no omen, no Hamah and no Safar.”*
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات ۱؎ اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۱۲۶، ومصباح الزجاجة:۱۲۳۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۶۹،۳۲۸)
Explanation
چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے، رسول اکرم ﷺ نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اسی طرح صفر کے مہینے کو عوام اب تک منحوس جانتے ہیں، صفر کے مہینے کے پہلے تیرہ دن جس میں رسول اکرم ﷺ بیمار ہوئے تھے ان ایام کو تیرہ تیزی کہتے ہیں، ان میں عورتیں کوئی بڑا کام جیسے شادی بیاہ وغیرہ کرنے نہیں دیتیں،یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے
3539
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي جَنَابٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا عَدْوَى،‏‏‏‏ وَلَا طِيَرَةَ،‏‏‏‏ وَلَا هَامَةَ ،‏‏‏‏ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ الْبَعِيرُ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ،‏‏‏‏ فَتَجْرَبُ بِهِ الْإِبِلُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ .
Ibn ‘Umar said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘There is no ‘Adwa, no omen, and no Hamah.’ A man stood up and said: ‘O Messenger of Allah, what if a camel has mange and another camel gets mange from it?’ He said: ‘That is the Divine decree. Who causes the mange in the first one?’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت چھات، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اٹھ کر بولا: اللہ کے رسول! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہو جاتی ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی تو تقدیر ہے، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا ۲؎۔
Takhreej
«انظر حدیث رقم:(۸۶)،(تحفة الأشراف:۸۵۸۰، ومصباح الزجاجة:۱۲۳۵)
Explanation
مطلب یہ کہ امراض متعدی بھی ہوتے ہیں۔ ۲؎: اور جو ڈاکٹر یا حکیم ہمارے زمانے میں بعض بیماری میں عدوی بتلاتے ہیں، ان سے جب یہ اعتراض کرو کہ بھلا اگر عدوی صحیح ہوتا تو جس گھر میں ایک شخص کو ہیضہ ہو تو چاہیے کہ اس گھر کے بلکہ اس محلہ کے سب لوگ مر جائیں، تو اس کا کوئی معقول جواب نہیں دیتے، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ بعض مزاجوں میں اس بیماری کے قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے تو ان کو بیماری لگ جاتی ہے، بعض مزاجوں میں یہ مادہ نہیں ہوتا تو ان کو باوجود قرب کے بیماری نہیں لگتی، ہم یوں کہتے ہیں کہ مادے کا مزاج میں پیدا کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ، تو پھر سب امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوئے اسی کی مرضی اور تقدیر سے پھر عدوی کا قائل ہونا کیا ضروری ہے؟۔
3540
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A man with sick camels should not let them graze or drink alongside healthy ones.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۰۷۵)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ۳۳ (۲۲۲۱،۲۲۲۳)، سنن ابی داود/الطب ۲۴ (۳۹۱۱)، مسند احمد (۲/۴۳۴)
Explanation
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری متعدی ہوتی ہے، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے تندرست اور غیر مریض جانوروں کو مریض اونٹوں کے قریب لے جانے سے منع کیا، بلکہ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ایسا سابقہ تقدیر اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہو جاتا ہے، تو جانورں کا مالک تعدی کے ناحیہ سے فتنہ اور شک میں مبتلا ہو سکتا ہے، اس وجہ سے آپ نے دور رکھنے کا حکم دیا۔
3541
Sahih

Chapters

45
01
اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو
4 Hadith
02
مریض اگر کسی چیز کی خواہش کرے تو کیا کیا جائے؟۔
2 Hadith
03
(کھانے پینے میں) پرہیز اور احتیاط کا بیان
2 Hadith
04
مریض کو کھانے پر مجبور نہ کرنے کا بیان۔
1 Hadith
05
حریرہ کا بیان
2 Hadith
06
کلونجی کا بیان
3 Hadith
07
شہد کا بیان
3 Hadith
08
کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان
4 Hadith
09
سنا اور سنوت کا بیان
1 Hadith
10
نماز کے شفاء ہونے کا بیان
1 Hadith
11
ناپاک دواؤں سے علاج کرنے کی ممانعت
2 Hadith
12
دست لانے والی دوا کا بیان
1 Hadith
13
حلق کے ورم کی دوا کا بیان اور حلق دبانے کی ممانعت
1 Hadith
14
عرق النسا کی دوا کا بیان
1 Hadith
15
زخم کے علاج کا بیان
2 Hadith
16
طب نہ جانتے ہوئے علاج معالجہ کرنے والے کا بیان
1 Hadith
17
ذات الجنب کی دوا کا بیان
2 Hadith
18
بخار کا بیان
2 Hadith
19
بخار جہنم کی بھاپ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو
5 Hadith
20
حجامت (پچھنا لگوانے) کا بیان
5 Hadith
21
حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان
5 Hadith
22
کن دنوں میں پچھنا لگوایا جائے؟۔
3 Hadith
23
آگ یا لوہا سے بدن داغنے کا بیان
3 Hadith
24
جو داغ لگوائے اس کے حکم کا بیان
3 Hadith
25
اثمد کا سرمہ لگانے کا بیان۔
3 Hadith
26
سرمہ طاق لگانے کا بیان
2 Hadith
27
شراب سے علاج منع ہے
1 Hadith
28
قرآن سے شفاء حاصل کرنے کا بیان
1 Hadith
29
مہندی کا بیان
1 Hadith
30
اونٹ کے پیشاب کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
31
برتن میں مکھی گر جائے تو کیا کرے؟۔
2 Hadith
32
نظر بد کا بیان
4 Hadith
33
نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان
3 Hadith
34
جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان
4 Hadith
35
سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان
3 Hadith
36
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان
6 Hadith
37
بخار میں پڑھی جانے والی دعا کا بیان
2 Hadith
38
دم (جھاڑ پھونک) کرتے وقت پھونکنے کا بیان
2 Hadith
39
تعویذ لٹکانے کا بیان
2 Hadith
40
آسیب (جن) کا بیان
2 Hadith
41
دو دھاری سانپ کو قتل کر دینے کا بیان
2 Hadith
42
نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ
6 Hadith
43
جذام (کوڑھ) کا بیان
3 Hadith
44
جادو کا بیان
2 Hadith
45
گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟۔
3 Hadith
No chapter matched that.