TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

روزوں کا بیان - روزوں کا بیان - Book 7 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 7 of Mishkat, with 9 chapters and 153 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

153 Hadith · 9 Chapters
بَاب رُؤْيَة الْهلَال
رؤیت ہلال کا بیان
وَعَن أم سَلمَة قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو شعبان کے علاوہ دو ماہ لگاتار روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۳۳۶) و الترمذی (۷۳۶ وقال : حسن) و النسائی (۴ / ۱۵۰ ح ۲۱۷۷) و ابن ماجہ (۱۶۴۸) ۔
1976
Sahih
بَاب رُؤْيَة الْهلَال
رؤیت ہلال کا بیان
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدَ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
عمار بن یاسر ؓ بیان کرتے ہیں جس شخص نے شک کے دن کا روزہ رکھا تو اس نے ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۳۳۴) و الترمذی (۶۸۶ وقال : حسن صحیح) و النسائی (۴ / ۱۵۳ ح ۲۱۹۰) و ابن ماجہ (۱۶۵۴) و الدارمی (۲ / ۲ ح ۱۶۸۹) * ابو اسحاق عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
1977
Zaeef
بَاب رُؤْيَة الْهلَال
رؤیت ہلال کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ يَعْنِي هِلَالَ رَمَضَانَ فَقَالَ: «أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «يَا بِلَالُ أَذِّنْ فِي النَّاسِ أَن يَصُومُوا غَدا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے کہا : میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۳۴۰) و الترمذی (۶۹۱) و النسائی (۴ / ۱۳۱ ۔ ۱۳۲ ح ۲۱۱۴ ۔ ۲۱۱۵) و ابن ماجہ (۱۶۵۲) و الدارمی (۲ / ۵ ح ۱۶۹۹) * سماک ثقۃ صدوق لکن سلسلۃ سماک عن عکرمۃ : سلسلۃ ضعیفۃ ، انظر سیر اعلام النبلاء (۵ / ۲۴۸) و غیرہ ۔
1978
Zaeef
بَاب رُؤْيَة الْهلَال
رؤیت ہلال کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ فَأَخْبَرْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں لوگ چاند دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ میں نے اس کو دیکھ لیا ہے ، آپ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۳۴۲) و الدارمی (۲ / ۴ ح ۱۶۹۸) ۔
1979
Sahih
بَاب رُؤْيَة الْهلَال
رؤیت ہلال کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَالَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ. ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ شعبان کی گنتی کا دیگر مہینوں کی نسبت زیادہ اہتمام کیا کرتے تھے ، پھر آپ رمضان کا چاند نظر آنے پر روزہ رکھتے ، اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو آپ تیس دن کی گنتی فرماتے پھر روزہ رکھتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۳۲۵) ۔
1980
Sahih
بَاب رُؤْيَة الْهلَال
رؤیت ہلال کا بیان
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ تَرَاءَيْنَا الْهِلَالَ. فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ. وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. فَقَالَ: أَيُّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ. قَالَ: أَهَلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِن الله تَعَالَى قد أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوالبختری ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم عمرہ کے لیے روانہ ہوئے ، جب ہم نے بطن نخلہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو ہم چاند دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوئے ، تو کچھ لوگوں نے کہا : یہ تیسری رات کا ہے ، کسی نے کہا : دوسری رات کا ہے ، ہم ابن عباس ؓ سے ملے تو ہم نے کہا : ہم نے چاند دیکھا تو کسی نے کہا : وہ تیسری رات کا ہے اور کسی نے کہا : دوسری رات کا ہے ، انہوں نے فرمایا : تم نے کس رات اسے دیکھا تھا ؟ ہم نے کہا : فلاں فلاں رات ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اس (رمضان) کی مدت اس کی رؤیت مقرر کی ہے ، وہ (رمضان) اس رات سے شروع ہوتا ہے جس رات تم اسے دیکھو ۔ اور ابوالبختری ؒ کی ایک دوسری روایت میں ہے : انہوں نے کہا : ہم نے ذات عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا ، تو ہم نے مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ایک آدمی کو ابن عباس ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے اس (شعبان) کو اس (ہلال رمضان) کی رؤیت تک دراز کیا ہے ، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی کو مکمل کر لو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۹ ۔ ۳۰ / ۱۰۸۸) ۔ 2529-2530
1981
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بركَة»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۲۳) و مسلم (۴۵ / ۱۰۹۵) ۔ 2549
1982
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ» . رَوَاهُ مُسلم
عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۴۶ / ۱۰۹۶) ۔ 2550
1983
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ سَهْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ»
سہل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک لوگ افطاری کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے وہ خیر و بھلائی پر رہیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۱۹۵۷) و مسلم(۴۸ / ۱۰۹۸) ۔ 2554
1984
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْل من هَهُنَا وَأدبر النَّهَار من هَهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ»
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب رات اس طرف سے آ جائے اور دن اس طرف پلٹ جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار کو چاہیے کہ وہ افطار کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۵۴) و مسلم (۵۱ / ۱۱۰۰) ۔ 2558
1985
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ. فَقَالَ لَهُ رجل: إِنَّك تواصل يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبَيْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي ويسقيني
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے روزوں میں وصال کرنے سے منع فرمایا ، تو کسی آدمی نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو وصال فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کون میری طرح ہے ؟ میں رات کو سوتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۹۶۵) و مسلم (۵۷ / ۱۱۰۳) ۔ 2566
1986
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
عَن حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ يَجْمَعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمَيُّ وَقَالَ أَبُو دَاوُد: وَقفه على حَفْصَة معمر والزبيدي وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَيُونُسُ الَأَيْلِيُّ كُلُّهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ
حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، دارمی اور ابوداؤد نے فرمایا : معمر ، زبیدی ، ابن عیینہ اور یونس ایلی نے اس حدیث کو حفصہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے اور ان سب نے زہری سے روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۳۰) و ابوداؤد (۲۴۵۴) و النسائی (۴ / ۱۹۶ ح ۲۳۳۴) و الدارمی (۲ / ۶ ۔ ۷ ح ۱۷۰۵) * ابن شھاب الزھری مدلس و عنعن و الموقوف صحیح، انظر سنن النسائی (۲۳۳۸ ، ۲۳۴۵) ۔
1987
Zaeef
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِنَاءُ فِي يَدِهِ فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اذان (فجر) سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اسے نیچے رکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۳۵۰) ۔
1988
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فطرا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے اپنے وہ بندے زیادہ محبوب ہیں جو ان میں سے افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۰۰ ۔ ۷۰۱ وقال : حسن غریب) * الولید بن مسلم و الزھری مدلسان و عنعنا ۔
1989
Zaeef
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ. وَلَمْ يَذْكُرْ: «فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ» غَيْرُ التِّرْمِذِيِّ
سلمان بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی افطار کرے تو وہ کھجور سے افطار کرے کیونکہ وہ باعث برکت ہے ، اگر وہ نہ پائے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ وہ باعث طہارت ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، دارمی ، لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا :’’ کیونکہ وہ باعث برکت ہے ۔‘‘ صرف امام ترمذی نے یہ الفاظ ایک دوسری روایت سے نقل کیے ہیں ۔ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۴ / ۱۷ ۔ ۱۸ ح ۱۶۳۲۶ ، ۱۶۳۲۸ ، ۱۶۳۳۲) و الترمذی (۶۵۸ وقال : حسن) و ابوداؤد (۲۳۵۵) و ابن ماجہ (۱۶۹۹) و الدارمی (۲ / ۷ ح ۱۷۰۸) ۔
1990
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رطبات فَإِن لم تكن فتميرات فإنلم تكن تُمَيْرَات حسى حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيب
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نماز (مغرب) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے ، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو پھر چند چھوہاروں سے اور اگر چھوہارے نہ ہوتے تو پھر پانی کے چند گھونٹ پی لیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، ابوداؤد اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۶۹۶) و ابوداؤد (۲۳۵۶) ۔
1991
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَمُحْيِي السّنة فِي شرح السّنة وَقَالَ صَحِيح
زید بن خالد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے یا کسی مجاہد کی تیاری کرا دے تو اسے بھی اس (روزہ دار یا مجاہد) کی مثل اجر ملتا ہے ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور محی السنہ نے شرح السنہ میں روایت کیا اور انہوں نے کہا یہ روایت صحیح ہے ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۳۹۵۳ ، نسخۃ محققۃ : ۳۶۶۷ ، السنن الکبریٰ لہ ۴ / ۲۴۰) و البغوی فی شرح السنۃ (۶ / ۳۷۷ ح ۱۸۱۸ ۔ ۱۸۱۹) * سفیان الثوری مدلس و عنعن و للحدیث شواھد عند الترمذی (۸۰۷ ، ۱۶۳۰) و ابن حبان (الاحسان : ۴۶۱۱ / ۴۶۳۰) و غیرہ ۔
1992
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ الله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی ﷺ روزہ افطار کرتے تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ پیاس جاتی رہی ، رگیں تر ہوگئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۳۵۷) ۔
1993
Sahih
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ مُعَاذٍ بْنِ زُهْرَةَ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ صَمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد مُرْسلا
معاذ بن زہرہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جب افطار کرتے تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا ۔‘‘ ابوداؤد نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۳۵۸) * السند مرسل ۔
1994
Zaeef
بَاب فِي مسَائِل مُتَفَرِّقَة من كتاب الصَّوْم
روزے سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِأَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے دین غالب رہے گا کیونکہ یہود و نصاریٰ (افطار کرنے میں) تاخیر کرتے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۲۳۵۳) و ابن ماجہ (۱۶۹۸) ۔
1995
Sahih