TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

روزوں کا بیان - روزوں کا بیان - Book 7 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 7 of Mishkat, with 9 chapters and 153 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

153 Hadith · 9 Chapters
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» فَقُلْنَا: لَا قَالَ: «فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ» . ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ: «أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا» فَأَكَلَ. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ ایک روز میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کوئی چیز ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا ، نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں پھر روزہ سے ہوں ۔‘‘ پھر آپ کسی روز ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمیں حیس (کھجور ، گھی اور پنیر سے تیار کردہ حلوہ) ہدیہ کیا گیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے دکھاؤ ، میں نے صبح روزہ رکھا ہوا تھا ۔‘‘ آپ نے (اسے) کھا لیا ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۷۰ / ۱۱۵۴) ۔ 2715
2076
Sahih
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ فَقَالَ: «أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ» . ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ فَدَعَا لأم سليم وَأهل بَيتهَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ ام سلیم ؓ کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے کھجور اور گھی آپ کی خدمت میں پیش کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گھی اور کھجوریں واپس اُن کے برتن میں ڈال دو کیونکہ میں روزہ سے ہوں ۔‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے اور گھر کے ایک کونے میں نفل نماز ادا کی اور ام سلیم ؓ اور ان کے اہل خانہ کے لیے دعا فرمائی ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۱۹۸۲) ۔
2077
Sahih
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَإِن كَانَ مُفطرا فيطعم» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے جبکہ وہ روزہ سے ہو تو وہ کہے :’’میں روزہ سے ہوں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے ، اگر وہ روزے سے ہو تو وہ دعا کرے اور اگر روزے سے نہ ہو تو کھانا کھا لے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۵۹ / ۱۱۵۰) ۔ 2702
2078
Sahih
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَلَى يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ لَهَا: «أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟» قَالَتْ: لَا. قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَالتِّرْمِذِيِّ نَحْوُهُ وَفِيهِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ: «الصَّائِم أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أفطر»
ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں ، جب فتح مکہ کا دن تھا تو فاطمہ ؓ آئیں اور رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب بیٹھ گئیں ، جبکہ ام ہانی ؓ آپ کے دائیں جانب تھیں ، پس لونڈی برتن میں مشروب لائی اور اسے آپ کی خدمت میں پیش کیا ، آپ نے اس سے نوش فرمایا ، بعد ازاں آپ نے برتن ام ہانی کو دیا تو انہوں نے اس سے پیا پھر انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے تو روزہ توڑ لیا ہے ، میں تو روزے سے تھی ، آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ کیا تم کوئی قضا دے رہی تھیں ؟‘‘ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر نفلی تھا تو پھر تمہارے لیے مضر نہیں ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، دارمی ۔ احمد اور ترمذی کی ایک روایت اسی طرح ہے اور اس میں ہے : انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں تو روزہ سے تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نفلی روزہ دار اپنے نفس کا امیر ہے ، وہ اگر چاہے تو رکھے (یعنی پورا کرے) اور اگر چاہے تو افطار کر لے ۔‘‘ ضعیف ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۴۵۶) و الترمذی (۷۳۱ ۔ ۷۳۲) و الدارمی (۲ / ۱۶ ح ۱۷۴۳۰) و احمد (۶ / ۳۴۱ ح ۲۷۴۳ ، ۲ / ۳۴۳ ح ۲۷۴۴۸) * یزید بن ابی زیاد ضعیف و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
2079
Zaeef
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ فَعَرَضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَكَلَنَا مِنْهُ فَقَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَكَلَنَا مِنْهُ. قَالَ: «اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ مَكَانَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ جَمَاعَةً مِنَ الْحُفَّاظِ رَوَوْا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَائِشَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يذكرُوا فِيهِ عَن عُرْوَة وَهَذَا أصح وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ زُمَيْلٍ مَوْلَى عُرْوَةَ عَن عُرْوَة عَن عَائِشَة
امام زہری ، عروہ سے اور وہ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میں اور حفصہ ؓ روزہ سے تھیں ، ہمیں کھانا پیش کیا گیا تو ہمیں اس کی خواہش ہوئی تو ہم نے اس میں سے کھا لیا ، حفصہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم دونوں روزہ سے تھیں ، ہمیں کھانا پیش کیا گیا تو ہمیں اس کی خواہش ہوئی تو ہم نے اس میں سے کھا لیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی جگہ کسی اور دن سے قضا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔ ترمذی اور انہوں نے حفاظ کی جماعت کا ذکر کیا ، انہوں نے زہری عن عائشہ ؓ کی سند سے مرسل روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں عروہ کا ذکر نہیں کیا ، اور یہی زیادہ صحیح ہے ، اور امام ابوداؤد نے اسے عروہ کے آزاد کردہ غلام زمیل عن عروہ عن عائشہ ؓ کی سند سے روایت کیا ہے ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۷۳۵) و ابوداؤد (۲۴۵۷) * جعفر : صدوق یھم فی حدیث الزھری و الزھری مدلس و عنعن ۔
2080
Zaeef
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
وَعَن أم عمَارَة بنت كَعْب إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَهَا: «كُلِي» . فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي
ام عمارہ بنت کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے آپ کے لیے کھانا منگوایا تو آپ ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ کھاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، میں روزہ سے ہوں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب روزہ دار کے پاس کھایا جائے تو فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ کھانے والے (کھانے سے) فارغ ہو جاتے ہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ احمد (۶ / ۳۶۵ ح ۲۷۵۹۹) و الترمذی (۷۸۵ وقال : حسن صحیح) و ابن ماجہ (۱۷۴۸) و الدارمی (۲ / ۱۷ ح ۱۷۴۵) ۔
2081
Sahih
بَاب فِي الافطار من التَّطَوُّع
گزشتہ ابواب سے متعلق متفرق مسائل کا بیان
عَن بُرَيْدَة قَالَ: دَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَدَاءَ يَا بِلَالُ» . قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَأْكُلُ رِزْقَنَا وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ أشعرت يَا بِلَال أَن الصَّائِم نُسَبِّح عِظَامه وَتَسْتَغْفِر لَهُ الْمَلَائِكَةُ مَا أَكَلَ عِنْدَهُ؟» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں، بلال ؓ ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ناشتہ کر رہے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلال ! ناشتہ کر لو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں روزہ سے ہوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہم اپنا رزق کھا رہے ہیں جبکہ بلال کا عمدہ رزق جنت میں ہے ، بلال ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب روزہ دار کے پاس کھایا جائے تو اس کی ہڈیاں تسبیح بیان کرتی ہیں اور فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔
Takhreej
اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۳۵۸۶) [و ابن ماجہ : ۱۷۴۹] * فیہ محمد بن عبد الرحمن من شیوخ بقیۃ : کذبوہ ۔
2082
Zaeef
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ من رَمَضَان» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۰۱۷) ۔
2083
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَن ابْن عمر قَالَ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْمَنَامِ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِر»
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے چند صحابہ کو شب قدر بحالت خواب رمضان کے آخری ہفتہ (سات ایام) میں دکھائی گئی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری ہفتہ میں متفق و موافق ہیں ، پس جو شخص اسے تلاش کرنا چاہے تو وہ اسے آخری ہفتے ہیں تلاش کرے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۱۵) و مسلم (۲۰۵ / ۱۱۶۵) ۔ 2761
2084
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ: فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى فِي سَابِعَةٍ تَبْقَى فِي خَامِسَةٍ تَبْقَى. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس (شب قدر) کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو ، شب قدر باقی رہنے والی نویں رات ، ساتویں رات ، پانچویں رات (یعنی اکیسویں ، تئیسویں اور پچیسویں رات) میں ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۰۲۱) ۔
2085
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوَّلَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ ثُمَّ أَطْلَعَ رَأسه. فَقَالَ: «إِنِّي اعتكفت الْعشْر الأول ألتمس هَذِه اللَّيْلَة ثمَّ اعتكفت الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ ثُمَّ أُتِيتُ فَقِيلَ لِي إِنَّهَا فِي الْعشْر الْأَوَاخِر فَمن اعْتَكَفْ مَعِي فَلْيَعْتَكِفِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ فَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ مِنْ صَبِيحَتِهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَالْتَمِسُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ» . قَالَ: فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَكَانَ الْمَسْجِدُ عَلَى عَرِيشٍ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فَبَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى جَبْهَتِهِ أَثَرُ المَاء والطين وَالْمَاء مِنْ صَبِيحَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ فِي الْمَعْنَى وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ إِلَى قَوْلِهِ: فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعشْر الْأَوَاخِر . وَالْبَاقِي للْبُخَارِيّ
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا ، پھر آپ نے درمیانے عشرے میں ایک چھوٹے سے خیمے میں اعتکاف کیا ، پھر آپ نے اپنا سر باہر نکال کر فرمایا :’’ میں نے پہلا عشرہ اعتکاف کیا ، میں اس رات کو تلاش کرنا چاہتا تھا ، پھر میں نے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا ، پھر میرے پاس فرشتہ آیا تو مجھے کہا گیا کہ وہ آخری عشرے میں ہے ، جو شخص میرے ساتھ اعتکاف کرنا چاہے تو وہ آخری عشرہ اعتکاف کرے ، مجھے یہ رات دکھائی گئی تھی ، پھر مجھے بھلا دی گئی ، میں نے اس کی صبح خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ، اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے ہر طاق رات میں تلاش کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، اس رات بارش ہوئی ، مسجد کی چھت شاخوں سے بنی ہوئی تھی وہ ٹپکنے لگی ، میری آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ کی پیشانی پر کیچڑ کا نشان تھا اور یہ اکیسویں کی رات (یعنی اکیسویں تاریخ) تھی ۔ متفق علیہ ۔ معنی کے لحاظ سے بخاری ، مسلم ، اس پر متفق اور ((فقیل لی انھا فی العشر الا واخر)) تک مسلم کے الفاظ ہیں ، جب کہ باقی صحیح بخاری کے الفاظ ہیں ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۱۶) و مسلم (۲۱۳ / ۱۱۶۷) ۔ 2771
2086
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: «لَيْلَة ثَلَاث وَعشْرين» . رَوَاهُ مُسلم
عبداللہ بن انیس کی روایت میں ہے ، فرمایا : تیئسویں رات ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۱۸ / ۱۱۶۸) ۔ 2775
2087
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقُلْتُ إِنَّ أَخَاكَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ. فَقَالَ C أَرَادَ أَنْ لَا يَتَّكِلَ النَّاسُ أَمَا إِنَّهُ قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ثُمَّ حَلَفَ لَا يَسْتَثْنِي أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ. فَقُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ؟ قَالَ: بِالْعَلَامَةِ أَوْ بِالْآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا تَطْلُعُ يَوْمَئِذٍ لَا شُعَاعَ لَهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
زرّ بن حبیش بیان کرتے ہیں ، میں نے ابی بن کعب ؓ سے دریافت کیا : آپ کے بھائی ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جو شخص پورا سال تہجد پڑھے گا وہ شب قدر پا لے گا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ اس پر رحم فرمائے انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ لوگ اس پر ہی اعتماد نہ کر لیں ، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ (شب قدر) رمضان میں ہے اور آخری عشرے میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے ، پھر انہوں نے ان شاء اللہ کہے بغیر قسم اٹھا کر کہا وہ ستائیسویں شب ہے ، میں نے کہا : ابومنذر ! آپ یہ کیسے کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : اس کی علامت یا نشانی کی بنا پر جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتائی تھی کہ اس روز سورج طلوع ہو گا تو اس کی شعائیں نہیں ہوں گی ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۷۹ / ۷۶۲) ۔ 2777
2088
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيره. رَوَاهُ مُسلم
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ جس قدر آخری عشرے میں (عبادت و سخاوت کرنے کی) کوشش کرتے تھے وہ اس کے علاوہ کسی اور وقت نہیں کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۸ / ۱۱۷۵) ۔ 2788
2089
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا ليله وَأَيْقَظَ أَهله
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ ﷺ (عبادت کے لیے) کمر بستہ ہو جاتے ، شب بیداری فرماتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی بیدار رکھتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۲۴) و مسلم (۷ / ۱۱۷۴) ۔ 2787
2090
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: قُولِي: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعَفُ عَنِّي . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه وَالتِّرْمِذِيّ وَصَححهُ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر میں جان لوں کہ کون سی رات شب قدر ہے تو میں اس میں کیا دعا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو :اے اللہ ! بے شک تو درگزر فرمانے والا ہے ، درگزر کو پسند فرماتا ہے پس مجھ سے بھی درگزر فرما ۔‘‘ احمد ، ابن ماجہ ، ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۶ / ۱۵۱ ح ۲۵۸۹۸) و ابن ماجہ (۳۸۵۰) و الترمذی (۳۵۱۳) * عبداللہ بن بریدۃ لم یسمع من عائشۃ رضی اللہ عنھا کما قال الدارقطنی (السنن ۳ / ۲۳۳ ح ۳۵۱۷) و البیھقی (۱۱۸۷) / و دفاع ابن الترکمانی باطل لان الخاص مقدم علی العام و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
2091
Zaeef
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْتَمِسُوهَا يَعْنَى لَيْلَة الْقدر فِي تسع بَقينَ أَو فِي سبع بَقينَ أَو فِي خمس بَقينَ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ شب قدر کو اکیسویں یا تیئسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا انتیسویں رات میں تلاش کرو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۷۹۴ وقال : حسن صحیح) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۱۷۵) و ابن حبان (الاحسان : ۳۶۷۸) و الحاکم (۱ / ۴۳۸) و وافقہ الذھبی] ۔
2092
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: «هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَقَالَ: رَوَاهُ سُفْيَان وَشعْبَة عَن أبي إِسْحَق مَوْقُوفا على ابْن عمر
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے شب قدر کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ پورے رمضان میں ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے فرمایا : سفیان اور شعبہ نے ابواسحاق کی سند سے ابن عمر سے موقوف روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۱۳۸۷) * ابو اسحاق عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
2093
Zaeef
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي بَادِيَةً أَكُونُ فِيهَا وَأَنا أُصَلِّي فِيهَا بِحَمْد الله فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَالَ: «انْزِلْ لَيْلَة ثَلَاث وَعشْرين» . قيل لِابْنِهِ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُ لِحَاجَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ فَإِذَا صَلَّى الصُّبْحَ وَجَدَ دَابَّتَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ عَلَيْهَا وَلحق بباديته. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
عبداللہ بن انیس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اپنے جنگل میں رہتا ہوں ، اور میں الحمد للہ وہیں نماز پڑھتا ہوں ، آپ مجھے ایک رات کے متعلق حکم فرمائیں کہ میں اس رات اس مسجد میں قیام کروں ، آپ نے فرمایا :’’ تئیسویں رات کو قیام کر ۔‘‘ ان کے بیٹے سے پوچھا گیا ، آپ کے والد کیسے کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے بتایا : جب آپ عصر پڑھ لیتے تو مسجد میں داخل ہو جاتے اور پھر آپ کسی حاجت کے لیے وہاں سے نہ نکلتے حتیٰ کہ نماز فجر پڑھ لیتے ، جب فجر پڑھ لیتے تو وہ مسجد کے دروازے پر اپنی سواری پاتے اور اس پر سوار ہو کر اپنے جنگل میں آ جاتے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۱۳۸۰) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۲۰۰) و اصلہ عند مسلم (۱۱۶۸)] ۔
2094
Sahih
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: «خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَة وَالْخَامِسَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ شب قدر کے متعلق ہمیں بتانے کیلئے تشریف لائے تو دو مسلمان باہم جھگڑ رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں تمہیں شب قدر کے متعلق بتانے کے لیے آیا تھا ، لیکن فلاں اور فلاں باہم جھگڑ پڑے تو وہ مجھ سے اٹھا لی گئی اور ممکن ہے کہ تمہارے لیے بہتر ہو ، لہذا تم اسے اکیسویں ، تیئسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۰۲۳) ۔
2095
Sahih