TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

روزوں کا بیان - روزوں کا بیان - Book 7 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 7 of Mishkat, with 9 chapters and 153 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

153 Hadith · 9 Chapters
بَاب لَيْلَة الْقدر
شب قدر کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ نزل جِبْرِيل عَلَيْهِ السَّلَام فِي كُبْكُبَةٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُصَلُّونَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ قَائِمٍ أَوْ قَاعِدٍ يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدِهِمْ يَعْنِي يَوْمَ فِطْرِهِمْ بَاهَى بِهِمْ مَلَائِكَتَهُ فَقَالَ: يَا مَلَائِكَتِي مَا جَزَاءُ أَجِيرٍ وَفَّى عَمَلَهُ؟ قَالُوا: رَبَّنَا جَزَاؤُهُ أَنْ يُوَفَّى أَجْرَهُ. قَالَ: مَلَائِكَتِي عَبِيدِي وَإِمَائِي قَضَوْا فَرِيضَتِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ خَرَجُوا يَعُجُّونَ إِلَى الدُّعَاءِ وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَكَرَمِي وَعُلُوِّي وَارْتِفَاعِ مَكَاني لأجيبنهم. فَيَقُول: ارْجعُوا فقد غَفَرْتُ لَكُمْ وَبَدَّلْتُ سَيِّئَاتِكُمْ حَسَنَاتٍ. قَالَ: فَيَرْجِعُونَ مَغْفُورًا لَهُمْ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبریل ؑ فرشتوں کی جماعت میں تشریف لاتے ہیں تو وہ اللہ عزوجل کے ذکر میں مصروف ہر کھڑے بیٹھے شخص پر رحمت بھیجتے ہیں ، جب ان کی عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے اپنے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے : میرے فرشتو ! اس مزدور کی کیا جزا ہونی چاہیے جو اپنا کام پورا کرتا ہے ؟ وہ عرض کرتے ہیں ، پروردگار ! اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے فرشتو ! میرے بندوں اور میری لونڈیوں نے میری طرف سے ان پر عائد فریضے کو پورا کر دیا پھر وہ دعائیں پکارتے ہوئے نکلے ہیں ، مجھے میری عزت و جلال ، میرے کرم و علو اور اپنے بلند مقام کی قسم ! میں ان کی دعائیں قبول کروں گا ، وہ فرماتا ہے : واپس چلے جاؤ ، میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہاری خطاؤں کو نیکیوں میں بدل دیا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ اس حال میں واپس آتے ہیں کہ ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ۔
Takhreej
اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۳۷۱۷) * فیہ اصرم بن حوشب : کذاب ۔
2096
Zaeef
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بعده
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں فوت کر لیا ، پھر آپ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۲۶) و مسلم (۵ / ۱۱۷۲) ۔ 2784
2097
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَان وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرّيح الْمُرْسلَة
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ خیر و بھلائی میں سب سے زیادہ سخی تھے ، اور جب رمضان میں جبریل ؑ آپ ﷺ سے ملاقات کرتے تو آپ ﷺ کی سخاوت بڑھ جاتی ، وہ رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات کرتے تو نبی ﷺ انہیں قرآن سنایا کرتے تھے ، جب جبریل آپ سے ملاقات کرتے تو آپ خیر و بھلائی اور سخاوت کرنے میں کھلی ہوا (تیز رفتار آندھی) سے بھی بڑھ کر ہوتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶ ، ۱۹۰۲) و مسلم (۵۰ / ۲۳۰۸) ۔ 8009
2098
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: كَانَ يعرض على النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ وَكَانَ يَعْتَكِفُ كُلَّ عَامٍ عَشْرًا فَاعْتَكَفَ عِشْرِينَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کو ہر سال ایک مرتبہ قرآن سنایا جاتا تھا ، اور جس سال آپ کی جان قبض کی گئی اس سال دو مرتبہ سنایا گیا ، اور آپ ہر سال دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کی جان قبض کی گئی اس سال آپ نے بیس روز اعتکاف فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۴۹۹۸) ۔
2099
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ أَدْنَى إِلَيَّ رَأَسَهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لحَاجَة الْإِنْسَان
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں، جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف فرمایا کرتے تو آپ اپنا سر مبارک میرے قریب کر دیتے جبکہ آپ مسجد میں ہوتے تھے ، میں آپ کے کنگھی کر دیتی اور آپ صرف انسانی حاجت کے تحت ہی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۲۹) و مسلم (۶ / ۲۹۷) ۔ 684
2100
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِد الْحَرَام؟ قَالَ: «فأوف بِنَذْرِك»
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ، میں نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۳۲) و مسلم (۲۷ / ۱۶۵۶) ۔ 4292
2101
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا. فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمقبل اعْتكف عشْرين. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ رمضان کے آخری دس دن میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، لیکن آپ نے ایک سال اعتکاف نہ کیا تو پھر آئندہ سال آپ نے بیس روز کا اعتکاف کیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۸۰۳ وقال : حسن غریب صحیح) [و ابوداؤد (۲۴۶۳) و ابن ماجہ (۱۷۷۰)] * و صححہ ابن خزیمۃ (۲۲۲۶) و للحدیث شواھد کثیر ۔
2102
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي بن كَعْب
امام ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اسے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۴۶۳) و ابن ماجہ (۱۷۷۰) [و صححہ ابن خزیمۃ (۲۲۲۵) و ابن حبان (الموارد : ۹۱۷) و الحاکم (۱ / ۴۳۹) و وافقہ الذھبی] ۔
2103
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ فِي مُعْتَكَفِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے تو آپ ﷺ نماز فجر ادا کرتے اور پھر اپنے اعتکاف کی جگہ میں تشریف لے جاتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۲۴۶۴) و ابن ماجہ (۱۷۷۱) [و الترمذی (۷۹۱) و البخاری (۲۰۳۳) و مسلم (۱۱۷۳)] ۔
2104
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ فَلَا يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ حالت اعتکاف میں مریض کی عیادت کر لیا کرتے تھے ، آپ ﷺ اپنے حال میں چلتے جاتے اور رکے بغیر اس کا حال دریافت کر لیتے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۴۷۲) و ابن ماجہ (لم اجدہ) و جاء فی ھامش الھندیۃ :’’ قولہ و ابن ماجہ لا یوحد ھذا فی اکثر النسخ المصححۃ ، و یوجد فی نسخۃ واحدۃ و کذاما و جدتہ فی سنن ابن ماجہ فی ابواب الاعتکاف ، ص (۱۸۳ حاشیہ : ۸) * فیہ لیث بن ابی سلیم ضعیف ۔
2105
Zaeef
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَن عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا قَالَتْ: السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدُ جِنَازَةً وَلَا يَمَسُّ الْمَرْأَةَ وَلَا يُبَاشِرُهَا وَلَا يَخْرُجُ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لابد مِنْهُ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، اعتکاف کرنے والے کے لیے مسنون یہی ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت کرے نہ جنازے میں شرکت کرے ، عورت سے جماع کرے نہ اسے گلے لگائے اور کسی بہت ہی ضروری کام کے علاوہ اعتکاف کی جگہ سے باہر نہ نکلے نیز روزے کے بغیر اعتکاف ہے نہ جامع مسجد کے بغیر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۴۷۳) * الزھری مدلس و عنعن ۔
2106
Zaeef
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ طُرِحَ لَهُ فِرَاشُهُ أَوْ يُوضَعُ لَهُ سَرِيرُهُ وَرَاءَ أسطوانه التَّوْبَة. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
عبداللہ بن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ اعتکاف فرماتے تو توبہ کے ستون کے پیچھے آپ ﷺ کے لیے بستر بچھا دیا جاتا یا چار پائی لگا دی جاتی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ (۱۷۷۴) ۔
2107
Sahih
بَاب الِاعْتِكَاف
اعتکاف کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكَفِ: «هُوَ يَعْتَكِفُ الذُّنُوبَ وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَات كلهَا» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا :’’ وہ گناہوں سے رکا رہتا ہے اور تمام نیکیاں کرنے والے کی طرح اسے نیکیوں کا ثواب ملتا رہتاہے ۔‘‘ (جن کو وہ پہلے کای کرتا تھا ) اسنادہ ضعیف ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۱۷۸۱) * عبیدۃ بن بلال : مجھول الحال و فرقد بن یعقوب السبخی : ضعیف ۔
2108
Zaeef